Man Maane Naw By Qaneeta Khadija Redelle50237 Episode 14 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14 Part 2
از قلم قانتہ خدیجہ
کی-چین انگلی میں گھمائے وہ ایگزیٹ کی جانب بڑھ رہا تھا جب ریسیپشن پر موجود ڈاکٹر کی آواز کانوں سے ٹکڑائی۔
“سسٹر یہ مسز جبران کی رپورٹ ابھی تک یہاں کیا کررہی ہے؟۔۔۔ کیا انہیں میسج نہیں کیا گیا؟” ڈاکٹر نے رپورٹ اٹھائے سوال کیا۔
“ان کے ہزبینڈ کو میسج کردیا گیا تھا میم، کال بھی کی مگر وہ ابھی تک نہیں آئے۔۔۔” نرس نے کندھے اچکائے جواب دیا۔
“اوہ! تو آپ ایسا کرے انہیں کورئیر کردے رپورٹ کافی انتظار تھا انہیں، شائد کوئی ایشو آگیا ہو اسی وجہ سے نہیں لینے آرہے ہو!” ڈاکٹر کی ہدایت پر نرس نے سر ہلایا۔
ڈاکٹر وہاں سے جاچکی تھی، ذولقرنین جو اپنی وائف کی ڈاکٹر سے ملنے آیا تھے اس کے قدم ریسیپشن کی جانب بڑھے۔
“ایکسکیوز می!” اس نے مسکرا کر نرس کو پکارا۔
۔۔۔۔۔۔۔
“ہیلو؟” مصروف انداز میں موبائل اس نے کان کو لگایا تھا۔
“جی؟” دوسری جانب سے ملی خبر پر حائقہ کی آنکھیں پھیلی تھیں۔
تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھتی وہ باہر کی جانب بھاگی، اس کے روم میں آتی وانیہ کے قدموں کو بریک لگی تھی۔
“میم؟” وانیہ نے اسے پکارا۔
“میں جارہی ہوں وانیہ کوئی ایشو ہو تو خود ہی ہینڈل کرلینا!” اس کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات نمایاں تھے۔
جلدی سے گاڑی میں بیٹھے وہ وہاں سے نکل چکی تھی۔
“مگر میم ہوا کیا ہے؟” وانیہ اس کی جلدبازی کو سمجھ نہیں پائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
گیٹ کی بیل پر جبران سر کھجائے باہر کی جانب بڑھا تھا، آج طبیعت کچھ بوجھل تھی جس کی بنا پر وہ گھر ہی تھا۔
گیٹ پر موجود کورئیر والے نے اسے بوکے اور کیک کا ڈبہ تھمایا تھا۔
حیرانگی سے دونوں چیزیں تھامے وہ اندر چلا آیا، کیک ابھی ٹیبل پر رکھا ہی تھا کہ طاہرہ بیگم کی اسے کال موصول ہوئی۔
“السلام علکیم جبران کیسے ہو؟”
“وعلیکم السلام خالہ امی میں بالکل ٹھیک آپ کیسی ہے؟”
“میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا نا؟” انہوں نے ساتھ ہی سوال پوچھ ڈالا تھا۔
“نہیں۔۔۔” ساتھ ہی جبران نے کیک کا ڈبہ کھولنے کی جانب ہاتھ بڑھائے۔
“چلو اچھا ہے ورنہ مجھے شک تھا کہی تم لوگ تیاری میں مصروف نہ ہو۔۔۔”وہ پرسکون لہجے میں بولی۔
“کون سی تیاری؟” جبران چونکا۔
“ارے بھئی برتھڈے پارٹی کی تیاری۔۔۔”
“برتھڈے پارٹی؟۔۔۔ کس کی برتھڈے؟ کون سی برتھڈے پارٹی؟”ساتھ ہی وہ کیک کا ڈبہ کھول چکا تھا۔
“حائقہ کی برتھڈے پارٹی کی بات کررہی ہوں جبران!۔۔۔ ایک منٹ! خدارا جبران یہ مت کہنا کہ تمہیں معلوم نہیں آج تمہاری بیوی کی سالگرہ ہے؟” طاہرہ بیگم تو کیا چونکاتی، چونکایا تو جبران کو کیک پر لکھے ‘ہیپی برتھڈے حائقہ’ نے تھا۔
“ارے کیسی بات کررہی ہے خالہ امی!۔۔۔ میری بیوی کی سالگرہ ہے آج مجھے اچھے سے یاد ہے، وہ تو میں آپ سے مزاق کررہا تھا!” جبران نے اٹکتے ہوئے بات مکمل کی۔
“چلو شکر ہے تمہیں معلوم ہے۔۔۔اور ہاں وہ کیک اور بکے بھیجا تھا مل گیا؟” وہ پرسکون ہوئی اور ساتھ ہی سوال کر ڈالا۔
“جی جی مل گیا!” وہ بوکے اور کیک پر نگاہیں گاڑھے بولا۔
“اچھا خالہ امی آج رات پارٹی کی تیاری کرنی ہے، مصروف ہوں بعد میں بات ہوتی ہے اور آپ سب انوائیٹیڈ ہیں!” وہ تیزی سے کال کاٹ چکا تھا۔
“عجیب! ابھی تو کہہ رہا تھا کہ مصروف نہیں ہوں!۔۔۔۔ جبران بھی نا!” انہوں نے سر جھٹکا تھا۔
طاہرہ بیگم کی کال بند ہوتے ہی اس کے ہاتھ پیر پھول گئے تھے، اس کی بیوی کی سالگرہ تھی، حائقہ کی سالگرہ! جبران کو کچھ کرنا تھا، اسے حائقہ کے لیے کچھ کرنا تھا۔۔۔ مگر شروعات کہاں سے کرے؟
“معیز!” دماغ میں بس اسی کا خیال آیا۔
آدم کو تیار کیے وہ خود بھی فریش ہوتا معیز کے سکول کو نکلا تھا۔
ہاف ڈے لیے وہ اب معیز کو گاڑی میں بٹھائے گاڑی میکڈونلڈز کی جانب بڑھا چکا تھا۔
“پاپا بتائے تو سہی ہوا کیا ہے؟ اور آپ نے مجھے ہاف ڈے کیوں کروایا؟” معیز نے فرائز کھائے دوبارہ سوال کیا تھا۔
“ابے یار بہت بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے تیرا باپ۔۔” جبران نے گہری سانس خارج کی۔
“مگر ہوا کیا ہے؟۔۔۔ مت کرو آدم۔۔۔” جبران سے سوال کیے ساتھ ہی کیچپ سے کھیلتے آدم کو ٹوکا۔
جبران اسے تمام ماجرہ سنا چکا تھا۔
اب تینوں باپ بیٹا سر جوڑے بیٹھے تھے۔
“تو آپ انہیں سرپرائز دینا چاہتے ہیں؟” معیز کی بات پر اس نے سر ہلایا۔
“مگر کیسے؟ وہ تو تھوڑی دیر میں گھر آجائے گی۔۔۔ پھر آپ کیسے کرے گے سب؟”
“یار وہی تو سمجھ نہیں آرہی” جبران جھنجھلا اٹھا۔
“اوئے چھوٹے توں ہی کوئی آئیڈیا دے دے، ویسے تو بڑا دماغ چلتا ہے تیرا!” جبران نے رخ اب آدم کی جانب کیا، جو کان لپیٹے مزے سے شیک پی رہا تھا۔
“الو کا پٹھا۔۔۔ یہ تو میری بےعزتی ہوگئی۔۔۔” آدم کو غصے سے گھورے وہ خود سے بڑبڑایا۔
میسج ٹون پر اس نے موبائل اٹھایا حائقہ کا میسج تھا وہ آج گھر رات تک آئے گی، یہ لکھا تھا۔۔۔ جبران نے سکون کی سانس خارج کی۔۔۔ لبوں پر مسکراہٹ در آئی۔
“چلو۔۔۔” آدم کو گود میں اٹھائے اس نے معیز کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
“کہاں؟”
“سرپرائز پلان کرنے۔۔۔” وہ مسکراتا انہیں لیے شاپنگ مال کی جانب بڑھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے شام اور شام سے رات اتر آئی تھی، برتھڈے پارٹی کی مکمل تیاری ہوچکی تھی۔
جبران خود تیار ہوئے دونوں بچوں کو بھی تیار کرچکا تھا اور اب اس نے طاہرہ بیگم کو کال کی تھی۔
“ہاں بس آدھے گھنٹے میں ہوگے تمہارے پاس!” انہوں نے جواب دیا جس پر جبران پرسکون ہوگیا تھا۔
حائقہ کو بھی میسج کیے آنے کا پوچھ چکا تھا وہ، جواب میں اس نے نو بجے کا بتایا تھا۔
ساڑھی کا پلو ٹھیک طاہرہ بیگم ڈائینگ حال کی جانب آئی جہاں اپنے دونوں بچوں کو اول جلول حلیے میں دیکھ کر ان کی آنکھیں پھیلی۔
“سارہ، میسم! یہ کیا تم دونوں ابھی تک تیار نہیں ہوئے؟۔۔۔ ہمیں نکلنا ہے جبران کی کال آئی ہے”
“میں کہی نہیں جارہی۔۔۔” سارہ نے موبائل استعمال کیے آنکھیں گھمائیں۔
“سیم!” میسم بھی سارہ کے پیچھے بولا۔
“سارہ اب کون سا نیا ڈرامہ لگانے کا ارادہ ہے تمہارا؟” طاہرہ بیگم کو اس پر غصہ آیا۔
“رئیلی مام ڈرامہ؟۔۔۔ میں ڈرامے لگاتی ہوں؟۔۔۔ فائن آپ کو جو سمجھنا ہے سمجھے مگر میں کہی نہیں جارہی۔۔۔”
“کون کہا نہیں جارہا!” ارسم امین جو ابھی آئے تھے انہوں نے سوال کیا۔
“کچھ نہیں ارسم آپ فریش ہوکر تیار ہوجائے اور تم دونوں بھی فوراً تیار ہوکر آؤ، دیر ہورہی ہے” انہوں نے اپنی اولاد کو آنکھیں دکھائی۔
“میں کہی نہیں جارہی ماما اور اس حائقہ کی برتھڈے پارٹی پر بالکل بھی نہیں۔۔۔” وہ غصے سے چلائی۔
“سارہ یہ کیسا لہجہ استعمال کررہی ہو بیٹا!۔۔۔ بڑی بہن ہے آپ کی” ارسم کے ماتھے پر بل پڑے۔
“نو ڈیڈ شی از ناٹ۔۔۔ آپ جانتے ہے اس نے کیا کیا میرے ساتھ؟” اس کی آنکھیں فوراً بھیگی۔
ارسم نے اسے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“اس نے مجھے تھپڑ مارا ڈیڈ، سب کے سامنے۔۔۔ ایون جبران بھائی بھی وہاں موجود تھے اور ماما چاہتی ہے کہ میں اس کی برتھڈے پارٹی اٹینڈ کروں؟۔۔۔ نو نیور! اسے مجھ سے معافی مانگنی ہوگی۔۔۔”
ارسم امین کی آنکھوں میں غصہ در آیا۔
“سارہ جاؤ تیار ہوجاؤ۔۔۔” وہ تھوڑی دیر بعد بس اتنا بولے۔
“مگر ڈیڈ؟”
“حائقہ تم سے معافی مانگے گی تم جاؤ تیار ہوکر آؤ!” ان کی بات سن کر سارہ کی آنکھیں چمکی تھی۔
میسم کو مسکراہٹ دے وہ کمرے میں جاچکے تھے، میسم بھی اس کے پیچھے ہی نکلا تھا۔
“ارسم آپ وجہ تو جان لے۔۔۔”
“نہیں طاہرہ جو بھی وجہ ہو مگر حائقہ کو سارہ پر ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔۔۔ اسے معافی مانگنی ہوگی۔۔۔” طاہرہ بیگم سے دو ٹوک انداز میں بات کیے وہ کمرے میں چلے گئے تھے۔
طاہرہ بیگم نے افسوس سے اپنی بیٹی کے کمرے کی جانب دیکھا جو انجانے میں باپ بیٹی کے درمیان ایک نئی دیوار حائل کرچکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
