61.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

“کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا؟ کیا تم حائقہ کی اس حالت کا ذمہ دار مجھے ٹھہرا رہے ہو؟” ارسم امین غصے سے جھٹپٹائے۔
“میں ایسا کچھ نہیں کہہ رہا انکل!۔۔۔ اگر پھر بھی آپ کو میری بات بری لگی تو چلے میں اپنا سوال تھوڑا بدل کر پوچھتا ہوں۔۔۔ آپ کا اور حائقہ کی مدر کا آپسی تعلق کیسا تھا؟۔۔۔ آخر کیوں حائقہ رشتوں کو لے کر اتنی ٹچی ہے؟۔۔۔ آخر کچھ نا کچھ تو ضرور ہوا ہوگا نا جو وہ ایسی بن گئی یا وہ شروع سے ایسی ہی تھی؟”
“وہ شروع سے ایسی نہیں تھی جبران، میں جانتی ہوں اسے۔۔۔” طاہرہ بیگم تیزی سے بولی۔
“آپ کو جبران کو سب بتادینا چاہیے۔۔۔ وہ حائقہ کا شوہر ہے بہتر طریقے سے اسے ہینڈل کرلے گا!” طاہرہ بیگم فوراً ارسم کی جانب مڑی۔
ارسم امین نے گہری سانس خارج کی، ایک نظر جبران پر ڈالے وہ بولنا شروع ہوئے۔
“حائقہ کی ماں۔۔۔ زرتاج میری ماموں زاد تھی۔۔۔ تھی تو وہ میری کزن مگر عجیب تھی۔۔۔ وہ مجھ سے محبت کا دعوٰی کرتی۔۔۔ کبھی بھی اپنی محبت کا اظہار کرنے سے پیچھے نہ ہٹتی۔۔۔ یہ نہیں تھا کہ مجھے وہ بری لگتی تھی یا میں پہلے محبت کا اظہار کرنے والی عورتوں کو برا سمجھتا ہوں مگر وہ مجھ پر بنا کسی رشتے کے ایک زبردستی کا حق جماتی جو مجھے بالکل پسند نہ تھا مگر وہ میرے ماں باپ کی پسندیدہ تھی، میری زندگی میں بھی کوئی شامل نہ تھا تو میں نے ماں باپ کی رضامندی کو قبول کیے زرتاج کو اپنا لیا۔۔۔ مگر میرے لیے اس کی محبت اب پاگل پن اور جنون کی اونچائیوں کو چھو چکی تھی۔۔۔ بات بات پر جھگڑے، ہسپتال میں کام کرتی فیل میل امپلائیز کو لے کر مجھ پر شک کرنا۔۔۔ ان سب نے نہ صرف مجھ پر بلکہ حائقہ پر بھی برا اثر دکھایا تھا۔۔۔ قسم خدا کی جبران یہ نہیں تھا کہ میں نے اس رشتے کو نبھانے کی یا موقع دینے کی کوشش نہیں کی، میں نے اپنا سو فیصد دیا مگر زرتاج کا پاگل پن قابو میں آنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔ خود ایک سائیکائٹرسٹ ہوکر بھی میں اس کی دماغی حالت کو سمجھ نہ سکا۔۔۔ مگر میں نے سب کچھ کیا، اپنی بیٹی اپنی حائقہ کے لیے۔۔۔ میں نے اپنے کرئیر کو کئی پیچھے چھوڑ دیا صرف اس لیے کہ میں ایک اچھی زندگی گزار سکوں، آ ہیپی لائف۔۔۔ مگر زرتاج ہمارے رشتے کو لے کر ہمیشہ شک میں مبتلا رہی۔۔۔میں مزید اس عورت کے ساتھ نہیں رہ سکتا تھا اور آٹھ سال بعد بلآخر میں نے اسے چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔۔۔ طاہرہ حائقہ کی کلاس ٹیچر تھی، حائقہ کے حوالے سے ہی ہماری اکثر ملاقات ہوا کرتی تھی۔۔۔ یہ ملاقاتیں کب پسندیدگی سے محبت میں بدلی علم نہ ہوا اور آخرکار کئی سالوں بعد مجھے ایک ایسا ہمسفر ملا جس کی میں نے ہمیشہ سے تمنا کی تھی۔۔۔”
“اوہ تو اب میں سمجھا، آپ نے حائقہ کی مدر کو چیٹ کیا خالہ امی کے لیے۔۔۔ اور اب آپ گلٹی تھے حائقہ کو لے کر کہ وہ آپ سے نفرت کرتی ہے تو مجھے بلی کا بکرا بنا ڈالا” جبران ان کی بات کاٹ کر بولا۔
“ایسا نہیں ہے جبران!۔۔۔ زرتاج اور میری طلاق کا طاہرہ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میں نے زرتاج کو کوئی دھوکا دیا۔۔۔ میں اسے طاہرہ کے آنے سے پہلے ہی اپنے فیصلے سے آگاہ کرچکا تھا۔۔۔ اور جہاں تک بات رہی میرے اور تمہاری خالہ امی کے رشتے کے حوالے سے تو حائقہ کو معلوم تھا اس بارے میں۔۔۔ وہ بہت خوش تھی، وہ ایک سمجھدار بچی تھی۔۔۔۔ بس میری زندگی کی ایک غلطی تھی جو میں نے اس کی بات مان کر اسے اس کی ماں کے پاس رہنے دیا!” انہوں نے افسوس سے سر نفی میں ہلایا۔
“میں نے تمہیں کسی گلٹ کے سبب حائقہ سے شادی کرنے پر فورس نہیں کیا تھا۔۔۔ حائقہ سے میری محبت سچی اور خالص ہے، سارہ سے بڑھ کر ہے وہ مجھے۔۔۔ میں ہمیشہ سے تمہارے لیے حائقہ کو سوچا تھا مگر تمہیں انیلہ پسند تھی، حائقہ کی ذولقرنین سے محبت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔۔۔ مگر پھر سب بدل گیا، حائقہ بدل گئی، اس بچی نے زندگی میں بہت سی مشکلات جھیلی ہیں۔۔۔ اور ایسے میں تم مجھے وہ انسان لگے جو واقعی اسے زندگی کی وہ خوشیاں دے سکے جن پر ان کا حق ہے۔۔۔ اس لیے کبھی بھی حائقہ کو لے کر میری نیت پر شک مت کرنا!”طاہرہ بیگم کی آنکھوں میں نمی آگئی تھی۔
“حائقہ کی مدر کا رویہ اس کے ساتھ کیسا تھا؟” جبران نے گلا کھنکھارے اگلا سوال کیا۔
“بہت برا، نہایت وحشیانہ!” اس نے آنکھیں موندی۔
“جب آپ کو علم تھا تو کچھ کیا کیوں نہیں؟ اور حائقہ کو دیکھ کر تو میں مان نہیں سکتا کہ وہ آپ کے خالہ امی کے رشتے کو لے کر خوش تھی۔۔۔” جبران کا لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہوگیا تھا۔
“کیوں کہ میں لاعلم تھا، حائقہ نے کبھی اپنی ماں کے حوالے سے مجھے کچھ بتایا ہی نہیں اور زرتاج کا رویہ حائقہ کے ساتھ ہمیشہ سے اچھا تھا، وہ حائقہ سے بہت محبت کرتی تھی۔۔۔اور جہاں تک بار رہی حائقہ کے رویے کی تو حائقہ کو اس کی ماں برین واش کرچکی تھی ہمارے خلاف وہ حائقہ جو ہماری شادی کا سن کر سب سے زیادہ خوش تھی وہی حائقہ اب یہ سمجھتی ہے کہ میرا اور اس کی ماں کا رشتہ شاید طاہرہ کی وجہ سے ختم ہوا ہے۔۔۔ حائقہ مجھ سے نفرت کرتی ہے کیونکہ وہ یہی سمجھتی ہے کہ میں نے اس کی ماں کو دھوکا دیا!۔۔۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔” ارسم امین کی بات پر جبران نے گہری سانس بھری۔
“میں جانتا ہوں جبران کہ میں بہت اچھا باپ نہیں بن سکا مگر میں ہرگز برا نہیں ہوں!” انہوں نے سر نفی میں ہلایا۔
“آپ کو حائقہ کو سارہ سے معافی مانگنے کا نہیں کہنا چاہیے تھا انکل وہ بھی تب جب آپ اس بات سے آشنا تھے کہ اس نے اپنی مدر کو کھویا ہے۔۔۔ شی لوو ہر سو مچ!” جبران کے کہنے پر ان کے چہرے پر شرمندگی در آئی۔
“میں جانتا ہوں اور تاعمر اس پر افسوس رہے گا مجھے۔۔۔” ان کی آواز مدھم ہوگئی تھی۔
“میرے خیال سے اب ہمیں چلنا چاہیے رات کافی ہوچکی ہے۔۔۔” کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد اپنی جگہ سے اٹھتے وہ بولے۔
باقی سب بھی ارسم امین کی تقلید میں اٹھے تھے۔
“سارہ اور میسم کوشش کرنا کہ تم لوگ اب یہاں نہ آؤ۔۔۔ خاص طور پر تم سارہ میں مزید تم دونوں کی وجہ سے اپنے گھر کو خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتا!” جبران کا لہجہ حد درجہ سخت اور سپاٹ تھا۔
“فکر مت کرو یہ نہیں آئے گے!” طاہرہ بیگم سارہ کو غصیلی نگاہوں سے گھورتی بولی۔
جبران ان سب کو باہر تک چھوڑے اندر آیا۔
پہلا رخ بچوں کے کمرے کی جانب تھا، بچوں کا سوچ کر ہی اس کا ہاتھ اپنے ماتھے پر گیا جو ہلکا سا سوجھ گیا تھا، دھیمے سے مسکرائے وہ کمرے میں داخل ہوا مگر وہاں دونوں کو نا پاکر اسے جھٹکا لگا، فوراً دوڑ اپنے کمرے کی جانب لگائی، دروازہ کھولا تو شاک کے ساتھ ساتھ چہرے پر سکون کی لہر بھی دوڑی۔
جہاں آدم پیٹ کے بل پورے کا پورا حائقہ پر سویا ہوا تھا وہی معیز اس کے بازو پر سر رکھے اپنی ایک ٹانگ اس کی ٹانگ پر رکھے سویا ہوا تھا۔
جبران نے مسکرا کر انہیں دیکھا، کمرے کا دروازہ بند کیے وہ گیسٹ روم میں جاچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“گڈ مارننگ ایوری وان!” خوشبو میں بسا وہ چہچہاتی آواز میں انہیں وش کیے ڈائنگ ٹیبل پرآیا تھا۔
مگر جواب میں صرف خاموشی کا سامنا کرنا پڑا اسے۔
حائقہ نے زور سے اپنا کافی مگ ٹیبل پر پٹخا تھا۔
ایک نظر ان تین سنجیدہ شکلوں پر ڈالتا وہ کندھے اچکائے اپنا پراٹھا پلیٹ میں نکال چکا تھا۔
ناشتہ کیے اس کی نظر اچانک وال کلاک پر گئی۔
“نو بج گئے؟” ٹائم دیکھ کر اس کی آنکھیں پھیلی۔
“یار معیز نو بج گئے ہے، سکول نہیں جانا؟” جبران نے معیز سے سوال کیا مگر جواب دیے بنا اس نے مزے سے ناشتہ کیا تھا۔
“میں تم سے سوال کررہا ہوں جواب دو!” جبران نے دوبارہ پوچھا۔
ایک سنجیدہ مگر غصیلی نگاہ اپنے باپ پر ڈالے وہ دوبارہ ناشتے میں مگن ہوگیا تھا۔
“ماما ناشتہ کرلے پھر ہم پارک میں جائے گے، یہاں بہت بڑا پارک ہے اور بہت سارے جھولے بھی بہت مزہ آئے گا!” معیز مسکرا کر حائقہ سے بولا تو جبران کو زور دار کھانسی آئی۔
اس نے حیرت سے حائقہ کو دیکھا جس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔
“ماما؟ یہ کایا پلٹ کب ہوئی؟” جبران نے حیرانگی سے سوال کیا۔
ایک بار پھر اسے کوئی جواب نہیں ملا۔
“اور صرف ہم تینوں جائے گے، کوئی انجان نہیں!” معیز نے ناپسندیدہ نگاہوں سے جبران کو دیکھا، جسے شاک لگا۔
“میں انجان ہوں؟” جبران نے شاک سے اپنی جانب انگلی کی۔
پھر سے کوئی جواب نہ ملنے پر وہ حائقہ کی جانب مڑا۔
“حائقہ میں انجان ہوں؟” جبران نے اب کی بار حائقہ سے پوچھا۔
“اپنے باپ سے کہوں میرے منہ نہ لگے!” وہ غصے سے بولی۔
“کہنے کی ضرورت نہیں سن لیا ہے انہوں نے۔۔۔” معیز نے بھی وہی بیٹھے کندھے اچکائے۔
“یہ کیا چل رہا ہے؟ مسئلہ کیا ہے؟۔۔۔ یوں کیوں نظرانداز کررہے ہو مجھے سب؟” جبران کو اب غصہ آنے لگا تھا۔
“جواب کیوں نہیں دے رہے بولو کچھ؟”
“آپ نے ہم سے کچھ کہاں؟” معیز نے معصومیت سے سوال کیا تو جبران کا دماغ گھوم گیا۔
“جی آپ سے کہاں۔۔۔ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے یہ؟۔۔۔ اور کس بات پر منہ بنایا ہوا ہے تم تینوں نے؟” جبران نے ان تینوں کے چہروں کی جانب اشارہ کیا تھا۔
مگر جواب میں پھر سے خاموشی ملی جس نے اس کا دماغ گھمادیا تھا۔
“کیا کوئی مجھے جواب دے گا؟” جبران نے اب کی بار آواز اونچی کی۔
“ہم انجان لوگوں سے بات نہیں کرتے!” ایک بار پھر معیز بولا۔
“یہ کیا انجان انجان لگا رکھا ہے؟۔۔ میں باپ ہوں تمہارا!” جبران بھڑکا۔
“آپ نے اپنے رشتے داروں کی وجہ سے ہماری ماما کو گھر چھوڑنے کا بولا تو آپ ہمارے لیے انجان ہوئے۔۔۔” معیز نے ٹھہر ٹھہر کر بات مکمل کی تھی۔
“میں نے تمہاری ماں کو کب گھر چھوڑنے کو کہاں؟” جبران کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اس الزام پر۔
“بولو اب جواب بھی دو؟”
“میں جھوٹوں سے بات نہیں کرتا!” معیز نے کلس کر جواب دیا۔
“میں نے کب جھوٹ بولا؟” جبران کا یہ شریف بچہ آج اس کا دماغ گھومانے پر آیا ہوا تھا۔
“آپ جھوٹے ہیں۔۔۔ کل جب ماما نے خالہ نانو کی فیملی کو جانے کو کہاں تو آپ نے روک دیا اور ماما نے جب کہاں وہ جارہی ہے تو آپ نے جانے دیا۔۔۔ جھوٹے۔۔۔آپ نے ہماری ماما کو گھر سے جانے کو بولا اس لیے اب ہم آپ سے بات نہیں کرے گے ہے نا آدم؟” اس نے سیریلیک کھاتے آدم سے سوال کیا جس نے چمچ اٹھائے اس کا ساتھ دیا۔
اب جبران کو تمام کہانی سمجھ میں آئی تھی، ایک چور نگاہ اپنی بیوی پر ڈالی جہاں غصے سے زیادہ ناراضگی تھی۔
“اہمم!۔۔۔ بیگم!” نہایت پیار اور محبت سے حائقہ کو پکارا جس نے شعلہ نگاہوں سے جبران کو گھورا۔
“بیگم بات تو سنے۔۔۔” شیریں لہجہ اپنایا گیا۔
“بیگم میرا ایسا کوئی مطلب نہیں تھا۔۔۔”
“اب ان باتوں کا مقصد؟۔۔۔ ویسے بھی تم کل رات ہی مجھے بتاچکے ہو کہ تمہاری زندگی میں میری کیا اہمیت ہے۔” حائقہ نے سر جھٹکا۔
“ایسا نہیں ہے!” جبران کے لہجے میں بےبسی در آئی۔
“تو کیسا ہے؟۔۔۔ ایسا ہی ہے ورنہ تم انہیں جانے کو کہتے مجھے نہیں۔۔۔” وہ غصے سے بولی۔
“حائقہ!۔۔۔ کسی وجہ کی بنا پر ہی روکا تھا میں نے انہیں۔۔۔”
“اچھا کس وجہ کی بنا پر؟” دونوں بازو سینے پر باندھے اس نے آنکھیں چھوٹی کیے سوال کیا۔
“وہ۔۔۔وہ میں نے ڈانٹا انہیں، ہاں میں لڑا تمہارے لیے، ان کو سنائی بہت۔۔۔ وہ ایسے کیسے میری بیوی کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرسکتے ہیں وہ بھی اسی کے گھر میں؟” زبان لبوں پر پھیرے وہ بولا۔
“اچھااا؟۔۔۔ایسا کیا؟۔۔۔ اور میں کیسے مان لوں؟۔۔۔ نہ تو میں وہاں تھی اور نہ ہی بچے۔۔۔”
“نسرین تھی وہاں!۔۔۔ بتائیے نسرین کیا میں نے انکل کو نہیں کہاں کہ وہ غلط ہے؟۔۔ میں نے تو سارہ اور میسم کو بھی منع کردیا کہ میرے گھر نہ آئے وہ اب۔۔۔ پوچھ لو نسرین سے بےشک!” جبران نے فوراً نسرین کو پکارا۔
“سچ میں؟” حائقہ نے نسرین کو دیکھا۔
نسرین جس کا سر اثبات میں ہلنے کو تیار تھا حائقہ کی وارننگ پر فوراً اس نے سر نفی میں ہلایا۔
“نہیں میں تو نہیں تھی وہاں۔۔” حائقہ کی وارننگ کارآمد ثابت ہوئی، نسرین کھڑے پیر مکر گئی۔
“نسرین۔۔۔” جبران کو جھٹکا لگا۔
“چلے ماما؟۔۔۔ دیکھے میں نے آدم کا فیس صاف کردیا ہے۔۔۔” معیز نے فخریہ انداز میں اپنی کارگردگی کے بارے میں بتایا۔
“میرا بیٹا!” حائقہ نے اس کا سر تھپکا۔
“چلو۔۔۔ صرف ہم تینوں!”
‘ہم تینوں’ پر زور دیے وہ جبران کو جلا دینی والی نگاہوں سے دیکھتی وہاں سے نکلی۔
“یار میں باپ ہوں تمہارا۔۔۔” جبران اب بچوں کی جانب متوجہ ہوا۔
معیز منہ بناتا آگے بڑھا جبران نے آدم کی جانب آنکھیں پٹپٹائے دیکھا۔
آدم مسکرایا باپ کی جانب ہاتھ بڑھائے، جبران کا سینہ خوشی سے پھولا، اس نے محبت سے آدم کو باہوں میں اٹھایا۔
مگر یہ کیا، اگلے ہی لمحے آدم کا مکا جبران کی آنکھ کو سلامی دے چکا تھا۔
“آہ!” جبران چلایا۔
فوراً آدم کو زمین پر چھوڑا جو اب غصیلی نگاہوں سے باپ کو گھور رہا تھا۔
“چلو آدم ہماری ماما ویٹ کررہی ہے ہمارا!” آدم کا ہاتھ تھامے معیز بولا۔
“ماں کے کچھ لگتوں بھولو مت میں نا ہوتا تو یہ ماں بھی نہ ہوتی۔۔۔ غضب خدا کا کل کی آئی ماں کی خاطر برسوں پرانا باپ چھوڑ رہے ہو۔۔۔یہ جو اتنی ماما ماما لگا رکھی ہے نا میری وجہ سے ملی ہے یہ ماما تم ناشکروں کو۔۔۔ ناشکری اولاد! ۔۔۔” جبران ایموشنل ہوتا اونچی آواز میں چلایا۔
مگر زبان کو بریک لگی جب سپاٹ چہرے لیے حائقہ کو اپنی جانب دیکھ اس کے ہاتھ پیر پھولے۔۔۔
“وہ بیگم ۔۔ وہ میں تو۔۔۔” زبان کو تالے لگے۔
جبران کے نزدیک ٹیبل پر موجود اپنا موبائل اٹھائے حائقہ یہ جا وہ جا تھی، کب سے رکی ہوئی سانس جبران کی بحال ہوئی۔
“اس کو ابھی نہ منایا تو پوری زندگی ذلیل ہونا پڑے گا جبران، اکیلا مت چھوڑ ان دو غداروں (معیز اور آدم) کے ساتھ۔۔” خود سے بڑبڑائے وہ بھی ان کے پیچھے بھاگے۔
“چلے ماما؟” آدم کو بےبی سیٹ پر بٹھایا تھا حائقہ نے، معیز بھی اس کے ساتھ ہی پیچھے بیٹھ چکا تھا جب وہ حائقہ سے بولا۔
سر ہلائے حائقہ ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہوئی، گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلے ہی جبران فرنٹ سیٹ سنبھال چکا تھا۔
حائقہ نے چونک کر جبکہ معیز نے غصے سے اسے دیکھا۔
“آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟” معیز نے سوال کیا۔
“کیا مطلب کیا کررہا ہوں، ساتھ جارہا ہوں تم لوگوں کے۔۔۔” جبران نے تیزی سے سیٹ بیلٹ باندھی۔
“جی نہیں آپ کہی نہیں جارہے، ہم آپ کو کہی نہیں لے کر جارہے۔۔۔” معیز چٹخ کر بولا۔
“تم سے اجازت مانگ کر جاؤں گا؟” جبران نے بھی اسی انداز میں جواب دیا۔
“فضول کے ڈرامے مت کرو جبران اور گاڑی سے اترو۔۔۔ بچوں کے پارک میں تمہارا کوئی کام نہیں۔۔۔”
“تو تمہارا بھی نہیں ہے، آئیڈیا! بچوں کو نسرین کے ساتھ بھیج دیتے ہیں خود میں، میری بیگم اور لانگ ڈرائیو کیا خیال ہے؟” جبران کے ہونٹ مشرق سے مغرب تک پھیلے۔
“گاڑی سے اترو فوراً” حائقہ نے آنکھوں کے ذریعے اشارہ کیا۔
“نہیں اتروں گا، بالکل بھی نہیں ۔۔۔ جو جی میں آئے کرکے دیکھ لو۔۔” دونوں پاؤں اوپر اٹھائے، اس نے کس کر سیٹ بیلٹ تھام لی تھی۔
اس کی ضد پر گھٹنے ٹیکے وہ گاڑی سٹارٹ کیے راستے پر نکال چکی تھی۔
ترچھی نگاہ اپنے شوہر پر ڈالی جو فرنٹ مرر میں نظر آتے معیز کو بار بار زبان چڑائے جارہا تھا، اور معیز کے ماتھے پر ننھے بل مزید گہرے ہوتے جارہے تھے۔
سر جھٹکے بامشکل حائقہ نے اپنی مسکان روکی تھی۔
جاری ہے۔