61.6K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17 Part 1

از قلم قانتہ خدیجہ
“ہاں میں بس آدھے گھنٹے میں پہنچ جاؤں گی۔۔۔” کال پر بات کیے اس نے گاڑی میسم ولا کے باہر روکی تھی۔
حائقہ کو ایک میجر ایوینٹ آرگنائز کروانے کا کانٹریکٹ ملا تھا۔
اس حوالے سے ڈئزائنز کی ایک اہم فائل تھی جو میسم ولا میں چھوڑ آئی تھی وہ۔اور اب وہی لینے وہ یہاں موجود تھی۔
جبران کے جاتے ہی اسے وانیہ کی کال آئی تھی، وہ اس وقت یہاں آنا نہیں چاہتی تھی بچوں کو چھوڑ کر مگر وہ اس پارٹی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔
صبح سویرے اس کی میٹنگ تھی اور روٹ بالکل مختلف تھا، وہ پہلے میسم ولا آکر میٹنگ اٹینڈ کرنے جاتی تو دیر ہوجاتی اسی لیے اس وقت وہ فائل لینے آپہنچی تھی۔
مگر ڈرائیووے میں موجود جبران کی گاڑی دیکھ کر وہ چونکی تھی، جبران کو تو آفس میں ایک اہم کام تھا نا؟ تو اس کی گاڑی یہاں؟
کیا وہ اس سے کچھ چھپا رہا تھا؟۔۔۔ مگر کیا؟
“کیا جبران آیا ہے؟” اس نے چوکیدار سے سوال کیا جس نے سر اثبات میں ہلائے جواب دیا تھا۔
“اوہ!” بھنویں اچکائے وہ اندر داخل ہوئی۔
پہلا سامنا سارہ سے ہوا، جسے دیکھ کر وہ مسکرائی اور اپنا گال کھجائے اسے چڑھایا۔
سارہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا، اس نے اپنے اس گال پر ہاتھ رکھا جہاں حائقہ نے دو بار اسے تھپڑ مارے تھے۔
اپنے کمرے میں داخل ہوئے حائقہ کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا، اس کے جانے کے بعد بھی کمرہ ویسا ہی تھا، ہر شے اپنی جگہ پر موجود تھی۔
کبرڈ کی ڈرا میں سے فائل نکالے وہ کمرے سے باہر نکلی، ارادہ اب سیدھا گھر جانے کا تھا مگر تجسس کے مارے اس نے وہاں موجود نوکرانی کو مخاطب کیا۔
“سنو؟۔۔۔ جبران سر کہاں ہے؟” سارہ کو نظرانداز کیے اس نے سوال کیا۔
“وہ ارسم سر کے روم میں ہے۔۔۔” عام لہجے میں اس نے جواب دیا تھا۔
سر ہلائے حائقہ ان کے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔
مگر جو الفاظ اسے سننے کو ملے تھے اس کے قدم زمین پر جم گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔
سر جھکائے جبران نے گہری سانس خارج کی اور سر نفی میں ہلایا۔
“آپ اور ذولقرنین دونوں ہی اس سے محبت کے دعویدار تھے، دونوں نے ایک عرصہ اس کے ساتھ گزارا، ایک آپ جو اس کے باپ کے عہدے پر فائز ہے حائقہ کے اس دنیا میں آنے کی وجہ ہے اور دوسرا وہ جو اس کے ساتھ دنیا کے سب سے خوبصورت تعلق میں تھا، جو شادی سے چار سال پہلے سے اسے جانتا تھا مگر پھر بھی آپ دونوں اسے سمجھ نہیں پائے؟۔۔۔ نہیں سمجھ پائے اس کی سائیکی کو؟۔۔۔سمجھ نہیں پائے کہ وہ محبت اور وقت کی ترسی ہوئی ہے؟ چلے ذولقرنین کو دفع کرے مگر آپ؟۔۔۔ آپ باپ تھے اس کے؟۔۔۔ باپ نہ سہی ایک سائکائٹرسٹ ہوکر بھی اس کی دماغی حالت کو سمجھ نہیں پائے آپ؟۔۔۔ ٹھیک ہے مان لیا کہ حائقہ کی مدر ایک بری عورت تھی مگر اچھے باپ تو آپ بھی نہیں بن سکے۔۔۔” اس کے لہجے میں کرواہٹ در آئی۔
“جبران۔۔۔”
“کیا جبران خالہ امی؟۔۔۔ حائقہ کو میری زندگی میں آئے چند ماہ ہوئے ہیں، میں اسے سمجھ گیا، ارے مجھے چھوڑے میرے بچے سمجھ گئے۔۔۔ ڈیڑھ سال کا آدم سمجھ گیا کہ جس چیز کی اسے ضرورت ہے وہ ہے اپنوں کا وقت اور محبت۔۔۔ ہم سمجھ گئے مگر یہ نہیں سمجھ پائے۔۔۔ اور رشتہ کیا ہے ان کا؟۔۔۔ خود کو باپ کہتے ہیں اس کا؟” نظریں طاہرہ بیگم پر جبکہ انگلی ارسم امین پر اٹھائی تھی اس نے۔
“ڈاکٹر ارسم امین۔۔۔ اس شہر کے سب سے بڑے، نایاب اور مایاناز سائکائٹرسٹ جن کی اپنی بیٹی مینٹلی طور پر سٹیبل نہیں؟۔۔۔ آپ اپنی اولاد کو سمجھ نہیں پائے تو دوسروں کا کیا خاک علاج کیا ہوگا آپ نے؟۔۔۔ چھ سال!۔۔۔ چھ سال وہ اس گھر میں، اس چھت تلے آپ کے ساتھ رہی مگر کبھی جاننے کی کوشش کی کہ وہ کس کرب، کس تکلیف میں مبتلا تھی؟۔۔۔ کتنے آرام سے آپنے حائقہ کی دماغی حالت کا تمام ملبہ آپ نے اپنی بیوی پر ڈال دیا۔۔۔ ایک پل کو یہ نہ سوچا کہ آپ بھی اتنے ہی قصوروار تھے؟”
“میں بتاؤ اصلیت کیا ہے؟۔۔۔ یہ جو آپ سب کے سامنے کہتے ہیں نا کہ حائقہ آپ کی اولاد ہے آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟۔۔۔ سب جھوٹ ہے، کوئی محبت نہیں آپ کو اس سے۔۔۔ ہوگی بھی کیوں؟۔۔۔ زبردستی کی مسلط کی گئی بیوی سے ہونے والی اولاد سے کون سا مرد محبت کرتا ہے؟۔۔۔ ” وہ طنزیہ ہنسا
“یہ سچ نہیں ہے” ان کی آواز اونچی ہوئی۔
“آواز اونچی کردینے سے سچ بدل نہیں جائے گا!۔۔۔ اور سچ یہی ہے آپ نے کبھی حائقہ کو اپنی اولاد نہیں سمجھا آپ نے ہمیشہ اسے پہلے زرتاج آنٹی کی بیٹی سمجھا پھر اپنی۔۔۔ زرتاج آنٹی کا بدلا آپ نے حائقہ سے لیا!”
“اپنے بھانجے کی زبان بند کرواؤ۔۔۔ بکواس کیے جارہا ہے یہ۔۔۔” وہ طاہرہ بیگم سے بولے۔
“جبران تم جانتے بھی ہو تم کیا بولے جارہے ہو؟” طاہرہ بیگم نے اسے جھڑکا۔
“مجھے اچھے سے معلوم ہے کہ میں بول رہا ہوں۔۔۔ اور آپ بھی جانتے ہیں کہ میں سچ بول رہا ہوں!” وہ طنزیہ انداز میں مسکرایا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے؟”
“تو پھر کیسا ہے؟۔۔۔ چھ سال انکل!۔۔۔ چھ سال آپ کی بیٹی آپ کے پاس رہی، جب وہ آپ کے پاس آئی تو اپنی محبت، اپنا بچہ سب کھوکر آئی تب کیا کیا آپ نے؟۔۔۔ کیا آپ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا؟۔۔۔ اسے دلاسہ دیا کہ آپ ہے اس کے ساتھ؟۔۔۔ اگر یہی اس کی جگہ سارہ ہوتی تو؟”
“سارہ کو بیچ میں مت لاؤ جبران۔۔۔ ذولقرنین حائقہ کی پسند تھا، میں نے اسے وارن کیا تھا کہ وہ اچھا انسان نہیں مگر تب اس پر محبت کا بھوت سوار تھا۔۔۔ اس نے اپنا کیا بھگتا!” سارہ کے ذکر پر وہ بھڑکے۔
جبران ہنس دیا، طنزیہ ہنسی۔
“ذولقرنین ایک اچھا شخص نہیں تھا، آپ نے حائقہ کو وارن کیا تھا!۔۔۔ سیریسلی؟ وارن کیا تھا؟۔۔۔ ایک شخص جو آپ کی بیٹی کے قابل نہیں اس پر آپ نے اپنی بیٹی کو صرف وارن کیا، اسے روکا نہیں کہ مت کرو اس انسان سے شادی؟۔۔۔ اگر حائقہ کی جگہ سارہ ہوتی تب بھی آپ صرف وارن کرتے؟۔۔۔ سارہ کو روکتے نہیں؟” جبران نے افسوس سے انہیں دیکھا۔
اس خبر پر طاہرہ بیگم نے بھی حیرانگی سے اپنے شوہر کو دیکھا۔
وہ جانتے تھے وہ غلط ہے مگر اعتراف نہیں کررہے تھے۔
“میں نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی مگر تب وہ اپنی ماں کی باتوں کے زیرِاثر تھی، اسے لگتا تھا کہ میں اس کے ساتھ منصف نہیں۔۔۔ اور یہ تم بار بار سارہ کو بیچ میں لاکر ثابت کیا کرنا چاہتے ہو؟” وہ غصہ ہوئے۔
“میں سارہ کو بیچ میں نہیں لارہا اسے ہمیشہ آپ لائے ہیں۔۔۔۔ نو سال سے لے کر پندرہ سال کی حائقہ کی برتھڈے پارٹی پر نہ جانے کی وجہ ہمیشہ وہی تو رہی ہے!”
“سیریسلی؟۔۔۔ برتھڈے پارٹی؟۔۔۔ حائقہ نے کیا اول فول بکواس کی ہے تم سے؟۔۔۔ تم جانتے بھی ہو اس برتھڈے پارٹی پر نہ جانے کی وجہ؟۔۔۔ سارہ بخار سے تڑپ رہی تھی، مر جاتی وہ!”
“ہر سال؟۔۔۔ ہر سال بخار ہوجاتا تھا آپ کی سارہ کو؟۔۔۔ نہیں ہرسال ایسا نہیں تھا، کبھی سارہ کو پلےلینڈ جانا ہوتا، تو کبھی سارہ آپ کے ساتھ سونے کی ضد کرتی، کبھی اسے میکڈونلڈز جانا ہوتا تو کبھی کچھ۔۔۔ اور آپ ہر بار اس کی باتیں مان کر حائقہ کو نظرانداز کردیتے؟۔۔۔ آپ نے ہمیشہ سارہ کو حائقہ پر ترجیح دی، اور دیتے بھی کیوں نا؟۔۔۔ آپ کی محبوب بیوی کی اولاد جو ٹھہری، حائقہ کون تھی؟۔۔ ایک زبردستی مسلط کی گئی عورت کے باطن سے پیدا ہونے والی اولاد؟۔۔۔ مجھے تو شک ہے کہ آپ نے کبھی اسے اپنی اولاد مانا بھی کہ نہیں؟”
“جبران!” وہ دھاڑے
“کیا جبران؟۔۔۔ ارے سارہ تو بس ایک بار بیمار ہوئی،مری نہیں تھی وہ اور آپ کی پوری دنیا لٹنے کو تھی اور وہ جو اتنے سالوں سے روز مررہی تھی اس کا کبھی خیال نہیں آیا ذہن میں؟۔۔۔ کبھی سوچا کہ وہ کس اذیت، کس تکلیف میں ہوگی؟۔۔۔ کیا کچھ نہیں کھویا اس نے اپنی زندگی میں؟۔۔۔ آپ جانتے تھے کہ اپ کی بیوی پاگل ہے مگر پھر بھی آپ نے اپنی بیٹی کو اس عورت کے پاس رہنے دیا؟۔۔۔ وہ حائقہ کو مارتی پیٹتی مگر آپ کو خبر نہ ہوئی؟۔۔۔ کیسےنہیں ہوئی؟۔۔۔ آپ اس لیے لاعلم نہیں تھے کہ حائقہ نے کچھ بتایا نہیں آپ اس لیے لاعلم رہے کیوںکہ آپ نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی، کوشش کرنی ہی کیوں تھی؟۔۔۔ آپ تو خوش تھے نا اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ تو حائقہ کا کیا؟۔۔۔ وہ جیے مرے کیا فرق پڑتا ہے؟ ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں؟” اس نے گہری سانس بھری۔
“اس نے کبھی آپ سے اس لیے نفرت نہیں کی کہ آپ نے اس کی ماں کو چھوڑ کر دوسری شادی کرلی۔۔۔ آپ دونوں کی شادی سے اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا، اگر تھا بھی تو وقت کے ساتھ ساتھ تو وہ ختم ہوگیا۔۔۔ اسے بس آپ سے ایک شکایت تھی آپ نے کبھی اسے وقت کیوں نہیں دیا؟۔۔۔ بس اتنی سی شکایت تھی اسے، مگر اس کی شکایت کو دور کرنے کی بجائے آپ نے اپنا آپ اس سے دور کردیا؟”
“اور جانتے ہیں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اتنا کچھ سہنے کے بعد بھی اس کی آزمائشیں ختم نہیں ہوئیں۔۔۔” جبران کی آنکھوں میں نمی در آئی۔
چند لمحے خاموشی چھائی رہی کوئی کچھ نہ بولا۔
“حائقہ کو بچے کی خواہش ہے، وہ اولاد چاہتی ہے۔۔۔ اس کے لیے اپنی سیگرٹ نوشی جیسی بری عادت بھی ترک کردی اس نے، وہ بہت ایکسائیٹیڈ ہے اس کو لے کر، ہم ڈاکٹر کے پاس گئے کچھ ٹیسٹ کروانے کو کہاں ڈاکٹر نے۔۔۔ اور آپ جانتے ہیں وہاں مجھے کیا معلوم ہوا؟ کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی۔۔۔ فرسٹ مسکیریج کے وقت وہ اپنی ماں بننے کی صلاحیت کھوچکی تھی۔۔۔ یہ خبر مجھے اس کے ایکس ہزبینڈ نے دی میں نے اس شخص پر یقین نہ کیا کچھ بعید نہ تھی کہ وہ جھوٹا ہوتا، بعد میں اس کی سالگرہ والے دن رپورٹس ملی مجھے اس میں بھی یہی آیا مجھے پھر تسلی نہیں ہوئی، اس کی ڈاکٹر سے خود پرسنلی ملنے گیا، لیب سے معلوم کروایا سب کا جواب ایک ہی تھا۔۔۔ اب اسے یہ خبر دینی ہے مجھے، ہمت نہیں پڑرہی میری، کیسے بتاؤں گا اسے؟۔۔۔ اور کیا بتاؤں گا اسے؟۔۔۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش، سب سے بڑی خوشی تھی یہ۔۔۔وہ تو یہاں سے بھی خالی ہاتھ رہ گئی۔۔۔ نہ ماں باپ کا پیار، نہ اولاد کی خوشی کچھ نہیں ملا اسے۔۔۔ میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے مگر کیا صرف میری محبت اس خالی پن کو بھردے گی؟۔۔۔ میں کیا کروں اب؟” سر ہاتھوں میں گرائے وہ بےبسی سے بولا۔
“آپ آگاہ تھے اس سچ سے؟” اس نے دونوں میاں بیوی سے سوال کیا، دونوں کے سر نفی میں ہلے۔
“ہاں آگاہی آتی بھی کیسے۔۔۔ آپ تو اس کو ہسپتال میں دیکھنے تک نہیں گئے تھے، بس ڈسچارج کروا کر لے آئے، اس کے ڈاکٹر سے کوئی سوال جواب کیے بنا؟۔۔۔ کس قسم کے باپ ہے آپ؟” جبران کا جی چاہا وہ چلا اٹھے۔
کچھ گرنے کی آواز پر سر اٹھائے دروازے کی جانب دیکھا، سامنے کھڑی حائقہ کو دیکھ کر وہ چونک کر اٹھا۔
“حائقہ؟” اس کے لب ہلے۔
حائقہ کے ہاتھ میں موجود فائل زمین پر جاگری تھی۔
قدم زمین پر جم گئے تھے۔
گلے میں ابھرتی گلٹی معدوم ہوئی۔
“حائقہ۔۔۔”
“میں ماں نہیں بن سکتی؟۔۔۔ کبھی بھی نہیں؟” حائقہ کے لب ہلے۔
ہونٹوں پر تلخ مسکراہٹ در آئی۔
لب کچلے اس نے قدم پیچھے کو اٹھائے۔
“حائقہ لسن ٹو می۔۔۔”
“سننے کو کچھ بچا ہی کہاں ہے جبران!” وہ ہنسی، مگر اس میں موجود درد وہاں موجود ہر نفس میں محسوس کیا۔
تیزی سے فائل اٹھائے وہ الٹے قدم باہر کو بھاگی۔
“حائقہ!” جبران اس کے پیچھے لپکا۔
“یہ اب آپ کی بیوی کو کون سا دورہ پڑگیا ہے؟” سارہ اسے یوں تیزی سے بھاگتے دیکھ منہ بنائے بولی تھی۔
“اپنی زبان کو لگام ڈالنا سیکھ لو سارہ ورنہ کاٹ ڈالوں گا!” اسے انگلی دکھائے جبران تیزی سے حائقہ کے پیچھےبھاگا تھا۔