Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

پورا کمرا سائے سائے کررہا تھا بس واشروم سے پانی گیرنے کی آواز آرہی تھی ایک کام کرو یہ
سب صوفے پر رکھ دو خادم اور ہاں کل والی جو میٹینگ ھے عروبہ سے بول کر فائینل کرواؤ اور
زرنش کو بھی انفورم کرو کے کل جانا ھے وہ ابھی اس کو ہدایت دےرہا تھا ہانم باہر آئی تو
سامنے ہی غازیان کھڑا ہوا تھا اور کے ساتھ ایک آدمی کو دیکھ کر واپس واش روم کے اندر ہوگئی چلو اب تم جاؤ
اور ہاں سب کام ہوجانے چائیے لازمی زرنش کو انفورم کردینا کل کی میٹنگ بہت امپورٹینٹ
ھے جی سر وہ اثبات میں سر ہلا کر باہر کی طرف بڑھا ہانم باہر آجاؤ وہ چلا گیا ھے یہ سننے
کی دیر تھی ہانم جھٹ سے باہر آئی اسلام علیکم اس نے اچھے بچوں کی طرح سلام کیا غازیان کو
اچھنبا تو ہوا لیکن انگنور کرکے سلام کا جواب دیا ہانم حیرت سے اتنے سارے شوپنگ بیگ دیکھ
رہی تھی وہ کوئی دس یہ پندرہ شوپنگ بیگ ہوگے کمرے کے ٹو سیٹر صوفے پر یہ سب تمھارے
لئے ھے یہ ڈریس کس نے دیا غازیان نے صبح اس کو یونیفارم میں دیکھا تھا اسلئے سب کچھ
عروبہ کے زریعہ مانگوالئے تھا اگر سائز کا مسلہ
ہوگا تو واپس کردیگا لیکن فلحل اس کو کپڑے کی اشد ضرورت تھی لیکن اس کے جسم پر الرڈی
ڈریس دیکھ کر اس کو حیرت ہوئی وہ زویا نے دیا ھے اپنا ڈریس ہمم اچھا اس کو تو میں بھول
ہی گیا تھا اور سامنے ڈریسنگ ٹیبل پرٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا ہانم کنفیوز سی انگلیاں مڑوڑنے میں
مصروف تھی اچھا ہاں مین چیزے ان میں ھے اس میں تمھاری بکس اس والے میں بیگ اور اس
میں تمھارا یونیفارم ھے ٹھیک ھے اور وہ والا یونیفارم پھینک دینا گندا ہوگیا ھے ہانم جو
نگاہیں نیچے کرکے کھڑی ہوئی تھی بے ساختہ اٹھائی مجھے نہیں جانا ھے کالج بھرائے ہوئے
لحجہ میں کہاں غازیان نے ناگواریت سے اس کی طرف دیکھا ایک بات یاد رکھنا ہانیہ میں یہ رونا
دھونا دیکھ کر پھگلو گا بلکل نہیں عزت کے دائرے میں صبح تیار ہوجانا ایان یونی ورسٹی
جاتے ہوئے تمھیں کالج ڈراپ کرے گا میں اس کو بول دوگا چھوڑنے میں تمھیں جاتا لیکن کل میری
بہت ضروری میٹنگ ھے جس کو میں کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کرسکتا اس لئے خاموشی
سے تیار ہوجانا صبح میں نہیں جاؤ گی چاہیے کچھ بھی ہوجائے وہ غم اور غصہ کی زیادتی سے
چلائی غازیان نے آنکھیں چھوٹی کرکے اس چیونٹی جتنی لڑکی کو گھورا آواز نیچے رکھ کر
بات کرو سمجھ آئی لڑکی میرا میٹر شاٹ ہونے میں دو منٹ لگتا ھے بہت الٹی کھوپڑی کا ہوں
میں میرے سامنے اپنی آواز کو دھیما ہی رکھنا اگر میرا وہ روپ تم نے دیکھ لیا جو میں تمھیں
نہیں دیکھنا چاہتا تو بہت پہچتاو گی ہانیہ درانی مجھے زہر لگتی ھے ایسی لڑکیاں جو بے مطلب
چیختی چلاتی ھے ائی
سمجھ اور یہ بتاؤ کیوں نہیں جانا تمھیں کالج مجھ سے نکاح سے پہلے نہیں جاتی تھی کیا یہی
تو مسلہ ھے پہلے آپ سے نکاح نہیں ہوتا تھا تو میں سکون سے فائزہ کے ساتھ بٹھتی تھی اگر
اب جاؤ گی تو بابا کی طرح سب مجھے بولے گے کالج میں بھی میں اپنے گھر سے بھاگ گئی اور
میری پیاری دوست بھی میرے ساتھ نہیں بیٹھے گی وہ اس کی باتوں سے بہت خوفزدہ ہوگئی
تھی اس لئے دھیمی آواز میں منمنائی اور
ہچکی لی آنسوں متواتر آنکھوں سے جاری تھے مجھے نہ آپ میرے گھر چھوڑ دے میں گیٹ پر
بیٹھے رہوگی تو بابا دروازہ کھول دیگے مجھے پتہ ھے وہ بہت پیار کرتے ھے مجھ سے بول کر اولٹی
ہتھیلی سے آنسو صاف کیے یعنی اس کا مطلب ھے تم دنیا فیز کرنے سے ڈر رہی ہوں غازیان نے
آئی برو اٹھا کر استفار کیا نہیں مگر سب باتیں کرے گے اور مجھے اچھا نہیں لگے گا سب چیزوں
کو چھوڑو یہ بتاؤ تمھیں پڑھنا پسند ھے نہیں مجھے نہیں اچھا لگتا پڑھنا دونوں ہاتھوں سے
آنسوں صاف کرکے سچائی سے کہاں غازیان نے دس سیکنڈ تک اس کو دیکھتا رہا کمرے میں
صرف ہانم کے رونے کی آواز آرہی تھی ٹھیک تمھیں پتہ ھے جب ایان چھوٹا تھا آٹھ کلاس میں
تھا تو سیم ایسے ہی رو رہا تھا کہ مجھے اسکول نہیں جانا مجھے پڑھنا اچھا نہیں لگتا ھے پتہ ھے
میں نے اس کے ساتھ کیا کیا تھا غازیان کی لب ولہجہ بلکل ٹھنڈا تھا ہر احساس سے عاری جس
ٹائیپ کی اس کی پرسنیلٹی تھی اونچا لمبا قد دودھیا رنگت گرین آنکھیں ہلکی بڑھی ہوئی
ڈارھی بال ترتیب سے بنے ہوئے کوئی بھی لڑکی اس کی پرسنیلٹی پر دل ہار سکتی تھی لیکن ہانم
کو صرف اس سے خوف محسوس ہوتا تھا جب سے ملی تھی پھر بھی ہمت کرکے بولی مجھے
فرق نہیں پڑتا آپ نے جو بھی میرے ایان بھائی کے ساتھ کیا ہوں لیکن میں نہیں جاؤ گی کالج
اس نے اپنے طور پر بہت بہادری دکھائی تھی جو ایسی کے گلے پڑنے والی تھی تھوڑی دیر میں
میرے ایان بھائی امپریسیو بہت دوستی ہوگی میرے بھائیوں سے وہ اچھے ھے آپ کی طرح غصہ
نہیں کرتے ھے نہ مارتے ھے وہ کھانا بھی دیتے ھے اور پیار سے بات بھی کرتے ھے اس نے آنکھیں
پٹپٹا کر بہت معصومیت سے کہاں غازیان کو وہ ایسے بولتی ہوئی بہت اچھی لگی لیکن اگر وہ
ابھی اس کو رعایت دیتا تو یہ کالج واقع ہی نہیں جاتی غازیان کے چہرے پر جو سکون تھا اچانک
اس کی جگہ پتھریلے پن نے لے لی تم کل کالج جاؤ گی کہ نہیں میں نے ابھی آپ کو بولا نہ ہانم
ابھی اپنا فقرہ مکمل کرتی اس کو بیچ میں ٹوک دیا تم کل کالج جاؤ گی کہ نہیں ہاں اور نہ میں
جواب دو ہانم میں نہیں جاؤ گی ہانم نے گھبراتے ہوئے بول دیا تو تم اتنی آسانی سے نہیں مانو گی
قسم سے میرا کوئی ارادہ نہیں تھا تمھارے ساتھ ایسا کرنے کا لیکن اب میں مجبور ہوں چلو میرے
ساتھ وہ درازہ کے قریب جاکر بولا تو ہانم نے ناسمجھی سے پوچھا آپ مجھے کہاں لیکر جارہے
ھے پھر ایک دم خوشی سے چہکی اپ۔مجھے بابا کے گھر لیکر جارہے ھے غازیان نے آنکھیں ضبط
سے بند کر کھولی اور پیچھے مڑا تمھیں پتہ ھے کب سے میں چارہا تھا تم میرے غصہ کو آواز مت
دو میں تمھیں اب صحیح سے لیکر جاؤ گا تمھارے باپ کے گھر بول کر اس کے بازو کو
درشتگی سے اپنی آہنی گرفت میں لئے اور تقریباً گھسیٹتے ہوئے جیم کی طرف ںڑھا ایان اور داؤد جو
واک کرکے آئے تھے باہر سے غازیان کو اتنے غصہ میں ہانم کو کھنچتا ہوا دیکھ اس کے پیچھے گئے
اور ہانم کو ٹیریڈ میل پر پھینکا وہ تو اس نے بر وقت اس کا ہنڈیل پکڑلیا ورنہ منہ اس کا سیدھا
ٹریڈمیل پر لگتا کھڑی ہوں اس پر ہانم مسلسل رورہی تھی اس کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا ابھی
تو بلکل ٹھیک بات چیت ہورہی تھی پھر کیوں ایسا کررہا ھے آواز آرہی ھے ہانم تمھیں میری
کھڑی ہوں ٹریڈ میل پر وہ اتنی تیز چیخا اس کو اپنے کان کے پردہ پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے
باقاعدہ جسم میں لرزہ طاری ہوگئی تھی کھڑی ہوں ٹریڈ میل پر فورآ ہانم وہا یک بار پھر دھاڑا
تو ہانم خوف زدہ ہوتے ہوئے جلدی سے اس پر کھڑی ہوگئی
اتنے میں داؤد اور ایان بھی جیم میں داخل ہوئے بھائی کیا ہوا ھے غازیان جو اس کی سپیڈ سیٹ
کرہا تھا داؤد کی آواز پر پلٹا یہاں کیا کرہے ھوں تم دونوں ایان کو کچھ سمجھ نہیں ایا تو بول
دیا ہم بھی ایکسسرسیز کرنے آئے داؤد نے اس ڈرپوک انسان کو گھورا ابھی تو ایک گھنٹہ ٹریک
پر بھاگ کر آئے تھے اب آتے ہی پھر سے ایکسرسائز شروع تو کرو میرا منہ کیا دیکھ رہے ھوں غازیان
نے ناگواریت سے کہاں اور واپس ہانم کی جانب متوجہ ہوا سپیڈ سیٹ کرکے کہاں بھاگوں ہانم
بھی تیز تیز چلنے لگی دس منٹ ہوئے ہوگے سپیڈ مزید بڑھا دی اب ہانم ننگے پیر فراق کے اندر
باقاعدہ تیز تیز بھاگ رہی تھی اور انسو متواتر جاری تھے داؤد اور ایان یہ سب بہت ضبط سے
دیکھ رہے تھے ایان سے بلکل برداشت نہیں ہورہا تھا تو ضبط کھوتے ہوئے بولا بھائی کیا ہوگیا ھے
آپ کیوں کررہے ھے ایسا وہ گیر جائے گی تھوڑی سپیڈ کم کردے دیکھے بھائی اب تو پاؤں سے بلڈ
آرہا ھے یہ جب تک ایسے ہی بھاگے گی جب تک یہ اپنے منہ سے یہ نہ بولے کے یہ روز صبح ٹائم سے
کالج جائے گی داؤد کو اب سمجھ آئی اس کی یہ سزا اور غازیان کا اتنا سرد رویہ اسے دوپہر میں
ہی اندازہ ہوگیا تھا ایسا سب ہوگا ضرور کیونکہ غازیان کو پڑھائی سے بھاگنے والے لوگ زہر سے بھی برے لگتے تھے تو ہانم بولوں
جاؤ گی کل کالج ہانم نے بھاگتے ہوئے ہی گردن اثبات میں ہلائیں اور بولی میں ٹائم سے جاؤ گی
پلیز اس کو روک دے میرے پاؤں میں درد ہوگیا ھے ایان بھی نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ
رہا تھا وہ بہت زیادہ حساس تھا اور ایک بہن نامی رشتہ کے لئے تو بے انتہا کا حساس تھا اور
صبح ہی تو اس نے اپنے لئے اتنی محبت سے بھائی ورڈ سنا تھا اور ابھی ایسے غازیان نے ہانم سے
سنتے ہی ٹریڈ میل بند کر دیا تھا ہانم لڑکھڑاتے ہوئے ٹریڈ میل سے نیچے گیرتی تو مظبوط بازوں
نے اس کو اپنے بانہوں کے حصار میں لیا تھا اور اوپر کی جانب بڑھا تھا ایان اور داؤد نے ایک
دوسرے کو دیکھا اور اپنے اپنے کمرے کی جانب چلے گئے داؤد کا روم نیچے تھا جبکہ ایان کا روم
اوپر والے پورشن میں ہی تھا نیچے بس داؤد کا روم ڈرائنگ روم لاونج اور گیسٹ رومز تھے اور
ڈئینگ ایریا بھی نیچے ہی تھا باقی اوپر ایان کا روم غازیان کا روم اور آیک لاونج اور ایک
خوبصورت گیلری تھی جہاں سے باہر پورا گارڈن دیکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
«««««««««««««««««
اس کو کمرے میں لیجانے کے بجائے وہ گیلری میں لایا تھا اور صوفے پر اتارا وہ کسی کبوتر کے
بچے کی طرح آنکھیں میچی ہوئی اور درد سے ہونٹ بیچے ہوئے تھے غازیان نے اس کی طرف
دیکھا اور اندر کی جانب گیا ہانم نے کسی کا وجود محسوس نہیں کیا تو ڈرتے ڈرے آنکھیں
کھولی تو خود کو اکیلا پایا نیچے جھک کر دیکھا تو پاؤں سے خون ریس رہا تھا دیکھ کر ہچکی لی
سب ایسے ہی کرتے ھے ہانم کے ساتھ کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا وہ خود سے بڑبڑانے لگی
غازیان جو فرسٹ ایڈ باکس لینے گیا تھا اس کی بڑابڑاہٹ سن کر گیٹ کے پاس ہی روک گیا بابا
ماما انو کو بھی میں یاد نہیں آرہی کے اس مینشن سے مجھے لیکر جائے لیکن وہ کیوں لیکر
جائے گے خود تو نکالا تھا اور وہ ہیری ہیری آنکھوں سے مجھے ڈراتے رہتے ھے اور اتنی زور
سے بولتے ھے میرے کان پھاڑ دیتے ھے اور اتنی زور سے میرا بازو پکڑا آرام آرام سے اس پر ہاتھ
پھیرتے ہوئے کہاں اور نیچے والے ہونٹ نکال کر بولی اللہ میاں ان کو بلکل نہیں چھوڑیں گا وہ
جب زینے سے اترے اور منہ کے بل گیر جائے اتنی زور سے پاؤں پر لگ گئی میرا معصوم پاؤں اللہ
جی کتنا خون آرہا ھے اور اولٹی ہتھیلی سے اپنے بھرے بھرے گال صاف کیئے غازیان کو اس کی
معصوم بددعا پر خوب ہنسی آئی لیکن مسکراہٹ روک کر بولا اگر مجھے بددعائیں دیکر تھک گئی
ہوں تو اپنا پاؤں میری تھائی پر رکھوں اس کے قدموں میں دو زانو بیٹھا ہانم نے گھبرا کر اپنے
پاؤں صوفے کے اوپر رکھے اور بڑی بڑی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی مطلب اس نے اس
کی ساری باتیں سن لی تھی آرے یہاں نہیں یہاں رکھوں اس کا پاؤں پکڑ کر اپنی تھائی پر رکھا
ہانم سانس روکے اس کو دیکھ رہی تھی جو بہت مہارت سے خود زخم دیکر صاف کرہا تھا ہانم نے
منہ بسور کر رخ موڑ لیا اس نے اس کی طرف دیکھا تو ہلکہ سا مسکرایا اور مرہم۔لگا کر پٹی
باندھ دی منہ ابھی بھی ہنوز موڑا ہوا تھا ہانم کھانا کھ لیا تم نے کوئی کھانا بھی نہیں دیتا ھے
مجھے مما بابا کم از کم کھانا تو دیتے تھے نہ منہ سے شکوہ پھسلہ چلو یہ بتاؤ کیا کھاؤ گی
تمھارے لئے اور ایان داؤد کے لئے بھی اڈر کردوگا اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہاں ویسے اس گھر میں
الاؤ نہیں ھے باہر سے کھانا پھر بھی چلو میری وجہ۔سے تمھیں لگی ھے تو میں اس کا ازالہ کرنے
کے لئے تیار ہوں اس نے کھڑے ہوتے ہوئے کہاں لیکن آپ کو پتہ ھے مجھے تو باہر کا فاسٹ فوڈ
ذیادہ پسند ھے مما مجھے اور انو کو ویک میں تین بار باہر سے فاسٹ فوڈ منگواکر دیتی تھی
اس نے بول کر غازیان کی گرین آنکھوں میں دیکھا لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔یہاں تمھیں
مہینہ میں ایک دفعہ ملا گا میں تمھارے باپ کے جتنا امیر نہیں ہوں ہانم نے اچھنبے سے اس کو
دیکھا اور ارد گرد دیکھ کر دوبارا اس کی طرف دیکھا تو یہ سب کیا کرائے پر لیا ہوا ھے اس نے
معصومیت سے پوچھا غازیان مسکرایا نہیں تھا لیکن سائیڈ والے گال پر گڑھا بنا یہ سب کرائے پر
نہیں ھے میں نے بنایا ھے تو پھر آپ کام کیا کرتے ھے کہی چوری کا تو نہیں ھے یہ سب اس نے
رازداری سے پوچھا تو غازیان نے اس بار اس کو گھورا ایسا کچھ نہیں ھے میری بس ایک معمولی
سی کمپنی ھے جیسے میں چلاتا ہوں ہانم نے ناسمجھی سے دیکھ کر بولی مطلب گھر اتنا
اچھا خود کی کمپنی تو پھر مہینے میں ایک دفعہ فاسٹ فوڈ اتنی کنجوسی یہ تو غلط بات ھے یہ
صحت کے لئے اچھا نہیں ہوتا ھے اور صرف تمھیں مہینے میں ایک دفعہ بھی با مشکل ملے گا
باقی جو تمھارا دل کرے اماں بی سے بول کر بنوالینا او نیچے چلتے ھے اپنی چوڑی ہتھیلی
سامنے پھیلئی ہانم نے غور سے اس کی پھیلی چوڑی ہتھیلی دیکھی آپ مجھے واقع مہینے میں
ایک دفعہ فاسٹ فوڈ منگواکر آڈر کر کے دیگے صرف ایک دفعہ ہانم نیچے چلو ابھی جو مل رہا ھے
خاموشی سے کھاؤ یہ نہ ہوں یہ بھی میسر نہ ہوں ہانم نے آنکھیں چھوٹی کرکے دیکھا اور پھر
اس کی چوڑی ہتھیلی تھام کر اس کے ہمراہ نیچے کی طرف بڑھی ۔۔۔
جاری ھے ❤️