Magroor Muhabbat By Anabiya Shah Readelle50227

Magroor Muhabbat By Anabiya Shah Readelle50227 Last updated: 10 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Magroor Muhabbat

By Anabiya Shah

غازی جی ایک بات پوچھوں آپ سے وہ شورما کھاتے ہوئے بولی غازیان نے چائے کا ایک سپ لے کر گردن اثبات میں ہلائی آپ کیا داؤد بھائی کو ڈانٹے گے یہ پھر سزا دیگے دونوں کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس نے تحمل سے جواب دیا نگاہیں سامنے بیٹھی اس پری پیکر پر تھی جس کو دیکھ کر وہ گرین مونسٹر اپنا دل ہار بیٹھا تھا لیکن وہ اس کے سامنے کبھی قبول نہیں کرے گا یہ بھی وہ۔جانتا تھا سن کر اس کی آنکھیں پریشانی کے باعث چھوٹی ہوئی لیکن یہ سب تو داؤد بھائی نے ایان بھائی کے لئے کیا ھے نہ تو آپ میرے بھائی کو سزا کیوں دے رہے ھے اس نے شوارما سائیڈ پر رکھتے ہوئے کہاں یعنی ہانم کے لئے یہ بہت سیریس مسلہ تھا جس کی وجہ سے اس نے اپنا کھانا سائیڈ پر رکھ دیا تھا آپ داؤد بھائی کو کچھ نہیں بولے گے غازی جی پلیز لیکن میں ایسا کیوں کرو گا کیونکہ میں بول رہی ہوں تو پھر ایک کام کرتے ھے اگر اتنی ہمدردی اور سائیڈ لینا آرہی ھے تو اس کی جگہ تم سزا بھگت لینا آپ ایسے کرے گے اس نے نم لحجہ میں کہاں تو غازیان بے بس ہو نےلگا ہانم تم جانتی ہوں نہ تمھارے داؤد بھائی نے تمھارے ایان بھائی کے ساتھ کیا حرکت کریں ھے وہ تو انہوں نے ان کی۔محبت جگانے کے لئے کی تھی دیکھیں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو میمو جان نہیں مانتی اور تو آور ایان بھائی بھی اپنی فیلنگ ایکسیپٹ نہیں کرپاتے اگر داود ایک بار مجھ سے شئیر کر لیتا تو کچھ چلا نہیں جاتا اس کا غازیان نےغصہ سے کہاں اگر آپ سے بولتے تو آپ ان کو ڈانٹنے ایسی بات کیوں کررہے ہوں ہانم تم کچھ زیادہ ہی نہیں بولنے لگی ہوں غازیان نے ائی برو اٹھا کر اس سے بولا تو وہی وہ گڑبڑائی نہ۔۔۔نہیں میں تو اتنا ہی بولتی تھی پہلے بھی ہمم۔ جلدی ختم کرو پھر اندر چلے گے سردی ہورہی ھے یہاں اس۔نے نگاہ دوسری طرف کرتے ہوئے کہاں تو پھر آپ داؤد بھائی کو کچھ نہیں بولے گے اس نے اپنا شوارما ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا پلیز غازی جی میرے لئے آپ سب کو اس دفعہ چھوڑ دے پلیز اس نے تھوڑی منت کرتے ہوئے کہاں غازیان نے اس کی معصوم سی آنکھوں میں دیکھا تو اس کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا اس نے سرعت سے اپنی نگاہیں ہٹائی ہٹائی نہ غازی جی ہانم نے اپنا ہاتھ غازیان کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہاں تو اس کی نظر مہندی سے سجے ہاتھوں پر گئی اور پھر نگاہ اس کے کانوں میں پہنے جھمکوں پر اور پھر اس کی معصوم آنکھوں پر ہمم کچھہ نہیں کہوں گا اس نے کسی ٹرانس کی کیفیت میں کہاں تھا تھینک یو غازی جی آپ کو پتہ ھے آپ بہت بہت ذیادہ اچھے ھے مجھے بھی آپ بہت بہت زیادہ اچھے لگتے ھے اس نے چہک کر کہاں اور اپنا شوارما کھانے لگی غازیان کے انابی لب مسکراہٹ میں ڈھلے اور اس کے معصوم سے چہرے کو اپنی نگاہوں کے حصار میں لیا ہانم کھاتے کھاتے ایک دم روکی اور اس کی طرف دیکھا غازی جی ایک بات پوچھوں اس نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے پوچھا ہمم کیا غازیان نے اس سے نگاہ نہیں ہٹائی تھی وہ ابھی اس کی معصوم سی صورت دیکھنے میں مگن تھا آپ کو ۔۔۔میں ۔۔کیسی لگتی ہوں غازیان نے اچھنبے سے اس کی جانب دیکھا اور تھوڑا روب سے پوچھا ہانم تم سے زرنش کوئی بکواس کرکے گئی ھے نہیں نہیں انہوں نے تو کچھہ بھی نہیں کہاں وہ تو بہت اچھی ھے اس نے فورا غازیان کی بات کی نفی کی مبادہ کہی وہ اس کو فون ہی نہ کر دے تو پھر یہ سوال کیوں وہ تو میں نے ایسے ہی پوچھ لیا آپ نے دیکھا ایان بھائی نے بلکل ناول کے ہیرو کی طرح زویا کو ایمریس کیا ھے یقیناَ انہوں نے بھی کوئی ناول پڑھا ہوگا اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہاں لیکن میں ایسا کچھ نہیں کرو گا کیوں آپ کو میں اچھی نہیں لگتی ہانم نے تھوڑا بجھے ہوئے لحجہ میں کہاں اچھا ایک بات بتاؤ تم میری کون ہوں ہانم نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا مطلب یار تمھارا میرے سے کیا رشتہ ھے اچھا ویسے میں تو آپکی بیوی ہوں اور زویا کون ھے ایان کی اس نے دلچسپی سے اس سے سوال کیا ابھی تو وہ کوئی بھی نہیں ھے لیکن میمو جان نے کہاں ھے نہ سادگی سے تھوڑے دن میں نکاح ہوگا تم صرف ابھی کا۔بتاو ابھی وہ ایان کی کون ھے ابھی تو وہ کچھہ بھی نہیں ھے ان کی بلکل صحیح ابھی اس کو کسی رشتے سے دیکھا جائے تو وہاں بھی اس کی منگیتر ھے اور تم میری بیوی اور بیوی پر حق جمایا جاتا ھے اس کو بولا نہیں جاتا کہ تم۔مجے اچھی لگتی ہوں کہ تم سے مجھے محبت ھے بیوی کو عمل کرکے بتایا جاتا ھے کہ مجھے تم سے کتنی محبت ھے غازیان نے معنی خیزی سے کہاں تو ہانم سرخ سی پڑنے لگی تھی اس کی بات کا ۔مطلب سمجھ کر غازیان نے اس کا لال ٹماٹر چہرہ دیکھا اور مسکراتے ہوئے نگاہیں نیچے کریں جلدیں کھاؤ ہانم اندر چلے تمھارے لئے یہ جگہ سیف نہیں ھے اس نے ارد گیرد نگاہ گھماتے ہوئے فکرمند لحجہ میں کہاں و بھی جلدی جلدی اپنا شوارما ختم کرنے لگی ۔۔۔ ۔۔۔