No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
Episode no 13
ایان مدثر کو چھوڑ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا ہینڈل پر ہاتھ رکھنے والا ہی تھا کے اس کی نظر
ہینڈل پر پڑی تو چیخ کر پیچھے ہٹا ہانم جو ابھی صوفے پر بیٹھی تھی اس کی چیخ سن کر کمرے
سے باہر آئی تو ایان کو سامنے والے صوفے پر جوتے سمیت کھڑے دیکھا جو کشن سینے پر رکھا
ہوا تھا اماں بی اماں بی اور اونچی اونچی آواز میں چیخ رہا تھا ہانم گھبرا کر جلدی سے باہر
نکلی اور قریب آکر بولی ایان بھائی کیا ہوا ھے سب ٹھیک ھے نہ اس نے قدرے گھبراتے ہوئے
پوچھا بھابھی وہ۔۔۔وہ۔۔۔کیا وہ ہانم اب کے جھنجلا کر بولی بھابھی وہاں چھپکلی ھے بس یہ
سننے کی دیر تھی اور ہانم بھی سامنے ٹیبل پر چڑھی کہ۔۔۔کہاں ھے بھائی وہ سامنے دروازے پر
ھے داؤد جو ابھی چینج کرکے واشروم سے کمرے میں آئے تھا اور ریلکس ہوکر لیپ ٹاپ پر کام کرنے
کی گرز سے صوفے پر بیٹھا تھا شور کی آواز سن کر اوپر کی جانب بھاگا اس نے اوپر کے پورشن
میں قدم رکھا ہی تھا سامنے ایان صوفے پر کھڑا ہوا تھا اور ہانم ٹیبل پر کھڑی زارو قطار رورہی
تھی اور ایان پاگلوں کی طرح چیک رہا تھا اماں بی پلیز اجائے یار بھابھی آپ روئے مت آپ کا یہ
بھائی آپ کو کچھ نہیں ہونے دیگا ہلکہ وہ بھائی خود ڈر رہا تھا داؤد نے اس نوٹنکی کو گھورا ایان
کیا پاگل پن ھے نیچے اترو جوتے سمیت صوفے پر کھڑے ہوئے ہوں اور بھابھی آپ کیوں رورہی ھے
نیچے آئے آپ کو لگ جائے گی قریب آکر بولا بھائی وہاں چھپکلی ھے دیکھے ایان بھائی بول رہے ھے
داؤد بھونچکا کر رہ گیا مطلب اتنا شور ایک چھپکلی کی وجہ سے دونوں نے مچایا اس کو
پکا یقین ہوگیا تھا دونوں واقع پکے پاٹنر بنے گے ایان نیچے اتر صوفے سے داؤد نے غصہ سے کہاں
نہ۔۔۔نہیں بھائی پہلے آپ اس چھپکلی کو مارے ایان نے فورا اس کی بات کی نفی کی اچھا داؤد
نے دیکھا وہ نہیں مان رہا ھے تو ہانم کو کہاں کیونکہ وہ ٹیبل پر کھڑی تھی اس کو لگ سکتی
تھی بھابھی آپ اجایے یار آپ کو لگ جائے گی اور آپ روئے مت داؤد نے عاجزی سے کہاں پلیز
بھائی نہیں پہلے اپ اس کو مارے وہ یہاں اجائے گی پلیز ماردے اچھا اچھا آپ روئے مت میں مارتا
ہوں اتنے میں اماں بی بھی آگئی تھی کیا ہوا ایان بابا آپ اور دلہن بیگم ایسے کیو کھڑے ھے وہ
اماں بی وہاں چھپکلی ھے دیکھے نہ کدھر ھے آپ ڈرے نہیں میں دیکھتی ھوں ہاں یار آپ دیکھے
داؤد نے کہاں تو وہ دروازے کی طرف بڑھی اور ایک چھپکلی کا بچہ دیکھ کر تاسف سے دونوں
کی طرف دیکھا اور اپنی چپل سے مار کر بولی یہ تو اتنا چھوٹا تھا آپ دونوں اس سے ڈر گئے یہ
م۔۔۔مار گیا ھے نہ ایان نے ہکلاتے ہوئے پوچھا جی ایان بابا میں نے مار دیا ھے آپ نیچے اجائے اور
دلہن بیگم آپ بھی جی بھابھی آپ نیچے اجائے آپ کو لگ جائے گی داؤد نے بول کر ہاتھ بڑھایا
جس کو تھام کر ہانم نیچے اتری اور ایان۔بھی کالر ٹھیک کرتا ہوا اترا آرے بھابھی میں تو بول رہا تھا
آپ نہ ڈرے ایسے ہی ڈر گئی اور بول کر بال ٹھیک کرے ہانم جو اپنے آنسوں صاف کررہی تھی
حیرت سے اس کی جانب دیکھا اور داؤد تو ان سب کا آدی تھا وہ۔ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا سین
کرکے بلکل ایسے بیہو کرنا کے کچھ ہوا ہی نہ ہوں بھابھی آپ یہ سب چھوڑے یہ ایک نمبر کا
نوٹنکی ھے آپ یہ بتائے آپ تو کمرے میں آرام کرنے چلی گئی تھی پھر یہاں کیسے وہ بھائی
ایان بھائی بہت زور سے چیخے تھے تو میں دیکھنے آئی تھی انہوں نے بتایا وہاں ں چھپکلی
ھے اور مجھے بھی تھوڑا ڈر لگتا ھے زیادہ نہیں لگتا تھوڑا لگتا ھے داؤد کو اس کے بتانے کے
طریقہ پر بہت ہنسی آئی ایان بھی منہ ادھر ادھر کرکے ہنسنے لگا اچھا بھابھی آپ روم میں جاکر
ریسٹ کرلے ہم بھی چلتے ھے داود بول کر جانے لگا تو ہانم کے منہ سے بے ساختہ نکلا مجھے بھوک
لگ رہی ھے دوپہر کا کھانا نہیں کھایا ھے ابھی تک سو سو کر کے بولی داؤد ایک دم مڑا آپ نے
ابھی تک کچھ نہیں کھایا داؤد نے حیرت سے پوچھا ایان نے بھی گھڑی کی طرف دیکھا تو
شام کے پانچ بج رہے تھے تو اماں بی نے کھانا نہیں دیا آپ کو ہانم نے نفی میں گردن ہلائی اچھا
آئے ہمارے ساتھ مل کر کھاتے ھے ایان نے اپنائیت سے بولا اور داؤد بھائی آپ بھی چلے
تینوں کھاتے ھے ساتھ میں ہاں ہاں چلو اور اماں بی سے بھی پوچھتے ھے کھانا کیوں نہیں دیا
ہماری معصوم سی بھابھی کو ہاں بلکل پوچھے گے ایک ہی تو بھابھی ھے اور اب تو میری
چھوٹی بہن بھی ھے ایان نے مسکرا کر بولا اور میری ایک لوتی بہن بھوکی رہے یہ تو میں بلکل
بھی برداشت نہیں کرسکتا ہوں ہانم بھی روتے ہوئے مسکرائی تو داؤد بھی مسکرا کر نیچے کچن
کی جانب بڑھا اور ایان اور ہانم بھی مسکراتے ہوئے اس کے ہم قدم ہوئے
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
تیرے کو پتہ ھے باپو اپنا جو حماد ھےنہ جو اپنی ایٹم کے ساتھ آتا ھے نہ ہاں ہاں میں جانتا
ہوں اس کی لڑائی ہوئی تھی تو تم نے کچھ نہیں کہاں ریسٹورنٹ میں کیوں اتنا ہنگھاما کیا انہوں
نے ٹیبل پر کپ رکھتے ہوئے کہاں ارے میں نے سمجھا دیا ھے آیندہ خیال رکھے گا چلو پھر
ٹھیک ھے ویسے روحہ تم مجھے یہ بتاؤ تم کب تک اس ڈاکٹر کی اسیسٹنٹ رہوں گی ۔مطلب
میری ان بوڑھی ہڈیوں میں جان نہیں ھے کہ میں اکیلا اتنا بڑا ریسٹورنٹ چلاؤ ابے یار ماتاری کو
دیکھا کیسا تانا مارتی ھے میں کچھ نہیں کرتی تھوڑا بہت کرنے دے تھوڑا تمھاری آئٹم کا بھی
منہ بند ہوں جائے روحہ بری بات ایسے نہیں بولتے ماں ھے وہ تمھاری تو میں نے کب کہاں میری ماں
نہیں بچی ھے بول کر قہقہ لگایا روحہ انہوں نے تنبیہ کہاں اگر تمھاری ماں نے یہ سب باتیں
تمھارے منہ سے سن لیا تو پھر تم پر غصہ کرے گی آرے وہ بس غصہ ہی کرتی ھے اور کچھ نہیں
کرتی موبائل پر رنگ ہوئی تو ہستے ہوئے موبائل کو دیکھا وہاں چھوٹوں کالنگ ارہی تھی ہاں بول
چھوٹوں کیسے فون کیا اچھا اس کو بول اپن ارے لی ھے تھوڑی دیر میں ہاں ہاں افس میں
بیٹھا دے اچھا آللہ حافظ باپو کچھ لوگ آئے ھے ریسٹورنٹ میں اپن چلتی ھے کون آیا ھے میں
بھی چلتا ہوں کل سے تو جانا ہی ابھی چلتا ہوں روحہ کے چہرے پر ایک سایہ سا اکر گزرا نہ۔۔۔۔۔
نہیں باپو تو روک اور ریسٹ کر مادری کے ساتھ اپن بھی عشاء تک اجائے گی تو آج آرام کر میں
چلتی ھے جلدی سے بول کر نکلی صدیقی صاحب نے مشکوک نگاہوں سے اس کی پیٹ تقی دس
منٹ میں بائیک کو جہاز بناکر ہوٹل پہنچی تو سامنے ہی چھوٹوں کھڑا ہوا تھا ہاں کہاں ھے وہ
لوگ وہ باجی آپ کے آفس میں بیٹھا دیا ھے اچھا صیحح کیا یہ چابی لے اور میری شبنم کو صیحح
جگہ پر کھڑی کروادے گارڈ سے باجی وہ جو جانےلگی تھی اس کی پکار پر پلٹی کچھ چائے
وغیرہ بھیجوں نہیں ضرورت نہیں ھے اور بول کر اپنے آفس کی طرف بڑھی وہ جیسی انٹر ہوئی
سامنے ہی سرفراز بیٹھا ہوا تھا تیرے کو اور اس ڈی کے کو میں نے منا کیا ھے نہ اپن کی روزی
روٹی پر نہیں آیا کر کائے کو یہاں ائیلا ھے بھونک ان کے سامنے آکر غصہ سے دھاڑی اپن کل ہی ملی
تھی تیرے اس ڈی کے سے پھر یہاں کیا لینے آیا ھے میں کوئی نہیں آنا چاہتا تمھارا پاس یہ
ڈی کے نے یہ بتانے کے لئے بھیجا ھے جو لڑکیاں شیپ سے کل ڈیلور ہونی تھی اس میں تین اور
بڑھ گئی ھے وہ ہی بتانے آیا تھا اور ڈیلوری ہفتہ کو ہوگی آج جمعرات ھے تو سالے تو یہ بات فون
میں بھی بتاسکتا تھا یہاں مرنے کی کیا ضرورت تھی میرے باپ کے بہت سے وفادار ملازم کام
کرتے ھے اگر کیسی نے بھی اس کو بتادیا میں تو گئی پھر میرا باپ اپن کو گھر کے اندر گھسنے
نہیں دیگا سالے کتے مجھے تو وہ ابھی اپنا فقرہ مکمل کرتا اکمل صاحب (ریسٹورنٹ مینیجر) بھاگتے
ہوئے آئے میم وہ درانی انڈسٹری کے مالک آئے ھے وہ جو ابھی بتارہا تھا غازیان اور اس کی
سیکرٹری انٹر ہوئے روحہ غصہ میں کھڑی ہوئی اور وہ دونوں جو آرام سے بیٹھے ہوئے تھے گھبرا
کر کھڑے ہوئے تیرے کوتمیز نہیں ھے کسی کے بھی کمرے میں بغیر اجازت کے گھس جاتا ھے
میم آپ بیٹھ جائے ہمیں آپ سے بات کرنی ھے عروبہ نے تحمل سے کہاں غازیان صرف سرد
نگاہوں سے تینوں کو دیکھ رہا تھا میرے کو نہیں بیٹھنے کا ھے پہلے وقت لے میرے مینیجر سے
اس کے بعد تو اور یہ تیرا مالک اپن سے ملنا ابھی کلٹی شاہ کا نعرہ لگاو روحہ نے ہاتھ ہلا کر
بتمیزی کے سارے رکارڈ تورتے ہوئے کہاں مجھے بات کرنی ھے تم سے غازیان کی آواز کمرے میں
گونجی تو ایک منٹ کے لیئے آفس میں خاموشی سی ہوگئی اور اس خاموشی کو روحہ کی آواز نے
توڑا لیکن میرے کو کوئی بات نہیں کرنی ھے میرے کو پتہ ھے تو کیا بھونکے گا لیکن اپن تیرے سے
کوئی بات کرنے کے موڈ میں نہیں ھے نکل اب تو خاموش ایک دم وہ اتنی تیز ڈھاڑا روحہ تک کانپ
گئی اس کی دھار سے سرفراز نے بھی گھبرا کر اس بھپرے ہوئے شیر کو دیکھا میں تم سے کافی
دیر سے بول رہا ہوں نہ بات کرنی ھے سمجھ نہیں ارہا میرے کو تیری بات میں دلچسپی ایچ نہیں
ھے تو کیا بولتا ھے اپن کو فرق تک نہیں پڑتا روحہ ڈری ضرور تھی اس کی دھاڑ سے لیکن
واپس اپنے فوم میں واپس آئی اور دوبدو اس کو جواب دیا غازیان نے سرد سانس خارج کی اور عروبہ کو
اشارہ کیا کیونکہ وہ اس بتمیز لڑکی کے منہ نہیں لگنا چاہتا تھا میم ہم آپ کے پاس ایک ڈیل لیکر آئے
ھے ہم یہ ریسٹورنٹ پرچیس کرنا چاہتے ھےاوئے نکلوں یہاں سے کوئی میں اپنے باپ کا جما جمایا
بزنس نہیں بیچنا چاہتی نکلوں یہاں سے غازیان جیبوں میں ہاتھ ڈالے ادھر ادھر کا جائزہ لے رہا
تھا میم ہم اپکو اس کی ڈبل قیمت دینا چاہتے ھے عروبہ نے عاجزی سے کہاں آیک تو یہ لڑکی ہٹلر
کی ماں اور سامنے کھڑا ہٹلر کا باپ بیچاری صحیح پھنسی تھی تیرے کو اور تیرے اس ہری
آنکھوں والے بوس کو سمجھ نہیں آرہا ھے اپن نہیں بیچنا چاہتی ھے جو کرنے کا ھے کرلے عروبہ
کوکچھ بولتی غازیان نے اس کو ہاتھ کے اشارہ سے روکا اور خود آگے آیا تم بتاؤ کیا قیمت چاہتی
ھوں منہ بولی قیمت دینے کو تیار ہوں تیرے کو سمجھ نہیں آتا شانڑہ اپن کو بیچنے کا نہیں ھے
تم کو بیچنا ھے کہ نہیں مجھے اب یہ پسند ھے اور جو چیز مجھے پسند آجاتی ھے سمجھوں وہ
میری ہوجاتی ھے اس لئے نو آرگومنٹ اس نے بول کر اپنی طرف سے گویا بات ہی ختم کردی لیکن
سامنے بھی روحہ تھی مطلب کیا ھے تیری بات کا وہ بھی دوبدو ہوئی مطلب سیمپل ھے مجھے یہ
ہوٹل پسند ھے اور مجھے یہ چائیے اور تم کو پتہ بھی نہیں چلے گا میں یہ لے بھی لوں گا غازیان
نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہاں تو روحہ کے تو سر پر لگی اور تلوں پر بجھی چل میں تیرے
کو ایک چیلنج دیتی ھے تیرے میں ہمت ھے تو مجھ سے یہ ہوٹل لیکر دیکھا دونوں ایک دوسرے
کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے ایک کی آنکھوں میں نفرت تھی تو دوسرے کی آنکھوں
میں سب کچھ پالینے کی آگ چلوں ٹھیک ھے مجھے یہ چیلنج منظور ھے میں تم سے یہ
ریسٹورنٹ چھینو گا اور کوڑا کی دام میں یہ ریسٹورنٹ خریدو گا جسٹ ویٹ آیند واچ
بول کر دیوار کے ساتھ کھڑے سرفراز اور اس کے آدمی کو ایک نظر دیکھا اور واپس جیب میں ہاتھ
ڈال کر شان سے چلتا ہوا افس سے باہر کی جانب نکل گیا اور روحہ نے غصہ میں اٹھا کر کانچ کا
گلاس کھینچ کر زمین پر مارا اور سر تھام کر کرسی میں بیٹھ گئی دس منٹ تک کمرے میں
ایک دم سناٹہ سا ہوگیا موت جیسا سناٹہ اس سناٹہ کو سرفراز کے فون کی آواز نے ت تورا جی
بوس جی جی ہم نکل رہے ھے جی بوس میں نے ساری انفورمیشن روحہ جی کو دیدی ھے جی
میں آرہا ھوں اور فون رکھ کر روحہ کی جانب موڑا میں چلتا ہوں جو کام بولا ھے وہ ہوجائے
روحہ نے غصہ سے اس کی جانب دیکھا تو اولٹے پیر کمرے سے بھاگا وہ بھی غصہ سے واپس گھر
کی جانب نکلی۔۔۔
جاری ھے ❤️
