No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
وہ دونوں بھائی اس وقت اپنے گھر درانی مینشن کے لاونج میں بیٹھے ہوئے تھے اور غازیان درانی
کی گرین آنکھیں اس وقت خون چھلکانے کے در پر تھی اور اس کا بھائی داؤد بس اپنے بھائی کے
فیصلے کا انتظار تھا ورنہ جو حرکت ایس پی خاور مالک نے کی تھی وہ ناقابل فراموش تھی
غازیان درانی نے سرد سانس خارج کی اور اپنی گرین آنکھوں سے داؤد درانی کی طرف دیکھا کیا
بول رہا ہے وہ ایس پی بھائی وہ بول رہا ھے ایان کو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑو گا کس وجہ سے
اس نے ایان کو گرفتار کیا ھے غازیان درانی نے اپنی بھاری آواز میں استفار کیا داؤد کی غلٹی
ابھر کر معدوم ہوئی ایان کو ڈرگز سپلائے کے جھوٹے کیس میں پھسیا ھے ایک بار ایان نے ایک
ویڈیو بنالی تھی وہ رشوت لے رہا تھا اس وجہ سے وہ ایک ماہ کے لئے سیسپینڈ ہوگیا تھا جس
کا وہ اس سے ایسے بدلہ لے رہا ھے اس نے ایک ہی سانس میں بول دیا ورنہ اس گرین مونسٹر کا کیا
پتہ تھا اس معصوم کے ساتھ کیا کرتا ایس پی سے بات کی تم نے غازیان نے اپنی سرد آواز میں
پوچھا جی بھائی کی تھی اور معملات سلجھانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ مانا نہیں کون کون
ھے اس کے گھر میں غازیان نے پوچھا تو داؤد کو کچھ سمجھ نہیں آیا کیونکہ ان کا ایک اصول تھا
مسلہ کتنا بھی بڑا ہوں اس شخص کی فیملی کو
انواو نہیں کرتے تھے بھائی فیملی لیکن غازیان نے
اس کی بات کاٹتے ہوئے کہاں جتنا پوچھا ھے اتنا بتاو داؤد نے بھی رٹو طوطے کی طرح بولناشروع
کردیا اس کی فیملی میں اس کی بیوی اور دو بیٹیاں ھے ایک بیٹی انیس سال کی ھے اور دوسری بارہ سال کی ھے
بڑی بیٹی کا نام ہانیہ ھے
اور چھوٹی بیٹی کا نام انوشے ھے
بڑی بیٹی کالج جاتی ھے بی کام کے فرسٹ ائیر میں ھے اور چھوٹی والی اسکول جاتی ھے جو
ابھی سیون کلاس میں ھے وائف ہاوس وائف ھے
بس یہی فیملی ھےداود نے بول کر لمبی سانس
خارج کی غازیان نے داؤد کی طرف دیکھا اس کی بڑی بیٹی کی کالج کی چھٹی کتنے بجے ہوتی ھے
غازی بھائی یہی کوئی دوپہر دو بجے تک داؤد نے بول کر اس کی طرف دیکھا داؤد خاور مالک کو
فون ملا کر دو جی بھائی یہ لے اس نے کال ملا کر غازیان کے ہاتھ میں دی ہیلو غازیان درانی
اسپیکنگ ہیلو درانی صاحب مجھ نا چیز کو کیسے یاد کرلیا ایان کو کیوں اریسٹ کیا ھے
غازیان نے اس کی بات کو سرے سے نظر انداز کر کے اپنی بات پوچھی وہ کیا آپ کے دوسرے نمبر
والے بھائی نے نہیں بتایا کیا نام ھے ارے ہاں داؤد نے نہیں بتایا کہ آپ کے چھوٹے بھائی کو ڈرگز
سپلائے کے کیس میں پکڑا ھے خاور مالک تم بھی جانتے ہوں اور میں بھی جانتا ہوں ایان نے کچھ
نہیں کیا تو کس خوشی میں تم نے اریسٹ کیا ھے اس کو آرے آرے میں۔ نے کب کہاں غازیان درانی
صاحب کہ میں نہیں جانتا کہ میں نے کیوں تمھارے بھائی کو اریسٹ کیا ھے تمھارے بھائی
نے میری عزت دو کوڑی کی کردی تھی اور اب میں تمھاری عزت دو کوڑی کی کرو گا جب یہ
ہیڈلائن آئے گی کہ درانی ایمپائر کا چشم وچراغ ڈرگز سپلائے کرتا ہوا پولیس کے ہتھے چڑھ گیا
ھے تو کیسا محسوس ہوگا آپ کو تم سے ایک بات کہوں گا خاور مالک تم غلط بندے سے پنگا لے رہے
ہوں میں تمھیں ورن کررہا ھوں میری جان میرے بھائیوں میں ھےلاسٹ ٹائم ورن کرہا ھوں ایان کو
چھوڑ دو نہیں تو اس کی آواز میں ایسا روب اور دبدبا تھا خاور مالک ایک منٹ کے لئے گربڑا گیا
تھا اور ماتھے پر نھنھے پیسنے بھی چمک رہے تھے پھر خود کو کمپوز کیا اور اس کو بھی دوبدو
جواب دے دیا شاید یہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی تمھیں جو کرنا ھے کرلو
مجھے فرق نہیں پڑتا ھے غازیان نے یہ سنا اور کال رکھ دی داؤد کل اس کی بیٹی مجھے بیس
مینٹ میں چاہئیے وہ اپنی بھاری آواز میں بول کر اپنی روب دار پرسنیلٹی کے ساتھ اپنے کمرے کی
طرف بڑھ گیا پیچھے داؤد کا منہ کھلا ۔۔ درانی مینشن میں تین لوگ قیام پزیر تھے سب سے پہلے غازیان درانی 28 سال کا
روب دار شخصیت کا مالک اور بزنس کی دنیا کا بے تاج بادشاہ اس کی شخصیت بہت پراسرا تھی اس کے بعد داؤد درانی جو نہایت
شریف اور سلجھی ہوئی طبعیت کا مالک جو ابھی 26 سال کا ھے اور پیشہ کے حساب سے ایک
ڈاکٹر ھے اس کے بعد آیان درانی جو 24 سال کا ایک دم شرارتی اور یونی کے لاسٹ ائیر کا
سٹوڈنٹ اور اپنے دونوں بھائیوں کی جان لیکن غازیان کے سامنے ایک دم تیر کی طرح سیدھا
کیونکہ جو وہ سزا دیتا ھے اس سے تو شیطان بھی پناہ مانگتا ھے سامنے چاہیے پھر کوئی بھی
کیو نہ ہوں اس کی ڈکشنری میں سوری کا ورڈ نہیں ھے جو اس کی بلیک لیسٹ میں آجاتا اس
کے لئے بہت برا ثابت ہوتا ھے اور یہی چیز خاور مالک نے کی تھی جو اس کے لئے نہایت برا ثابت ہونے والا تھا
انو یہ میرا ہیر کلیپ ھے دو مجھے ہانیہ اس سے کب سے اپنا ہیر کلپ لینے کی جدو جہد کررہی
تھی کیونکہ ہانیہ کی تو جان بستی تھی ان کلپز میں نو ہانم آپی یہ میں آپ کو بلکل نہیں دو گی
بول کر کمرے سے بھاگ کر کچن میں آئی اور ہانیہ بھی اس کے پیچھے آئی ماما اس انو کی
بچی سے کہئے میرا کلپ دے یہ نہیں دے رہی ھے اس نے کسی چھوٹے بچے کی طرح منہ بسور کر
کہاں مسز خاور نے اپنی چھوٹی بیٹی کو گھورا
کیوں میری معصوم سی ہانم کے ساتھ اتنی گنڈا
گردی کررہی ھوں دو اسے واپس اب ہانم میڈم بھی فل رونے کی تیاری کر چکی تھی مسز خاور
نے جب اپنی بڑی بیٹی کی طرف دیکھا صاف دودھیا رنگت میں سرخ پن ہورہا تھا شاید بھاگنے
کی وجہ سے جھیل جیسی آنکھیں جو آنسوں سے لبا لب ہورہی تھی چھوٹی سی ناک اور انابی
ہونٹ جو اب باہر نکل رہے تھے رونے کے لئے ماما میرا کلپ دلوائے اس چھوٹی فتنی سے یہ ہمیشہ
ایسے ہی کرتی ھے وہ ایسی ہی تھی نازک سی معصوم سی اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر رودینے
والی جب انو نے آپی کو روتے دیکھا تو بھاگ کر ان کے پاس آئی
آرے میری پیاری آپی یہ لے میں تو مزاق کررہی تھی مجھے پتہ ھے میری آپی کی ان کلپز میں
جان ہوتی ھے میں تو مزاق کررہی تھی آپ سیریس ہوگئی انو نے اس کو کلپ دیا تو منہ
بسور کر لے لیا اچھا سوری نہ آئیندہ نہیں کرو گی
ویسے آپ کو پتہ ھے آپ بلکل لال ہورہی ھے
جیسے بندر کے گال لال ہوتے ھے نہ سیم ویسے ہی اور بول کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور ہانم
بھی اس کے پیچھے جانے لگی تو مسز خاور نے اس کو روکا ہانم تمھارے بابا کےانے کا ٹائم ہورہا
ھے لاونج کی صفائی کرو اور تم دونوں ان کے سامنے مت آنا بیٹا انہوں نے کہاں تو ہانیہ کی
آنکھوں میں نمی جما ہونے لگی تو پلکے جھپک کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اور وہاں روبینہ
بیگم بھی اپنے آنسو پی کر باقی کا کچن کا کام کرنے لگی یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا باہر برامدہ
اندر لاونج پھر ایک کمرہ مسز خاور اور خاور مالک کا اور دوسرا کمرا ہانیہ جس کو سب پیار
سے ہانم بولتے ھے اور انوشے کا جو سب کی انو ھے خاور مالک اپنی دونوں بیٹیوں کو بلکل پسند
نہیں کرتے ھے پتہ نہیں کیوں مگر وہ بلاوجہ ہی ان۔سے خار کھاتے ھے نہ ان کو باہر جانے دیتے ھے
نہ کہی گھومنے پھیرنے بس ہانیہ کی ایک دوست ھے جو کالج میں پڑھتی ھے فائزہ بس اس سے
ملنے کی اور بات کرنے کی اجازت ہے اور کسی اور سے نہیں شاید اسی وجہ سے وہ لوگوں کو کبھی
فیز نہیں کر پاتی ھے زرہ سی تیز آواز سے ایک دم سہم جانا فورا رونے لگ جانا وہ حدرجہ معصوم
اور بے وقوف تھی اس کو آسانی سے پاگل بنایا جا سکتا ھے فائزہ اگر کالج نہ جائے تو یہ بھی نہیں جاتی چائیے کچھ بھی ہو جائے
ایان نے پورا تھانہ سر پر اٹھایا ہوئے تھا اس کا ایک ہی راگ تھا مجھ غریب کام چور کے پاس
ڈرگز کہاں سے آئے گے میرا بھائی مجھے صرف مہینے کے دس ہزار دیتا ھے جس کو میں بڑی
مشکل سے چلاتا ہوں اللہ کے نام پے مجھے جانے دے دو اگر ان جلاد تک بات پہنچ گئی کے میرے
پاس ڈرگز نکلے ھے قسم سے الٹا لٹکا کر مارے گے پلیز جانے دے دو اللہ تم کو خوش رکھے گا مگر
اس بیچارے کو کیا پتہ اس جلاد کو معلوم ہوچکا ھے لیکن سزا اس بار اس کو نہیں کسی معصوم
کو ملی گی جس کا کوئی قصور بھی نہیں ہوگا ابھی دس منٹ ہوئے تھے اس کو چپ ہوئے پھر
اس کو دوبارا احساس ہوا اگر واقع اس جلاد کو پتہ چل گیا تو میں گیا اب کی بار وہ باقاعدہ ہاتھ
جوڑ رہا تھا اللہ کے واسطہ جانے دے دو مجھے میں باہر جاکر تم سب کو دس دس روپے دوگا
پلیز جانے دے دو تین گھنٹے ہوگئے ھے میرا بھائی مجھے نہیں چھوڑے گا کچا چبا جائے گا
اب وہاں کہ ایک کانسٹبل کی بس ہوئی تھی اور اٹھ کر ایک ہی ڈنڈا سلاخوں پر مارا تھا اور وہ
تیر کی طرح انسان بن کی پیچھے خاموشی سے
بیٹھ گیا تھا لیکن کب تکا پندرہ منٹ ہی ہوئے
ہوگے پاس کھڑے کانسٹبل کو انگلی کے اشارے سے پاس بولایا یار دیکھ تو بھی انسان ھے میں
بھی انسان ہوں خدا کے لئے مجھے کچھ کھانے کو ہی لادے میرے کو شوگر ھے جو منہ میں آیا بول
دیا میرے کو کھانا نہیں ملا گا تو میں بہوش ہوجاوگا اور دیکھوں اگر میں بہوش ہوا یہ مجھے
کچھ بھی ہوا سارا الزام تم سب کے سر آئے گا کہ ایک معصوم انسان کو مار دیا اس لئے کھانا لادو
اس نے بات ہی اس طرح سے کی کانسٹبل فورا گیا اور اپنے بڑے صاحب سے بات کر کے کھانے کو
لے آیا اب وہ صاحب مزہ سے بیٹھ کر بریانی سے انصاف کررہے تھے لیکن ایک ڈر تھا جو کنڈلی مار
کر بیٹھا ہوا تھا کہ غازی بھائی کو پتا چل گیا تو وہ جان لے لےگے۔۔
…………………………
داؤد درانی مینشن سے چھپ چھپاکر اکیلا آیان سے ملنے پولیس اسٹیشن جارہا تھا راستہ میں ہی
اس کی گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا تھا اور اس کو ٹائر چینج کرنا نہیں آتا تھا او شٹ اب اس کو کیا
مصیبت پڑی ھے وہ کافی بدمزہ ہوا تھا
کاش گھر سے کسی گارڈ کو ہی ساتھ لے آتا اور
کچھ پیسے دیکر اس کا منہ بند کروادیتا۔ لیکن سارے ڈیش ھے کوئی نہ کوئی گرین مونسٹر کو
بتا ہی دیتا میں ایان سے ملنا گیا ہوں اور گاڑی۔سے باہر نکلا اور اگر انہیں واقع پتا چل گیا تو
میں گیا کام سے ابھی وہ خود سے ہی باتیں کرہا تھا کہ پاس ایک ہیوی بائیک آکر رکی کوئی مدد
چائیے داؤد مڑا تو اپنے سامنے ایک لڑکی کو دیکھا جو ہیلمیٹ اتار رہی تھی وہ اس کو دیکھ کر ایک
دم۔سٹیل ہوگیا تھا بنا پلک جھپکائے اس کی طرف دیکھ رہا تھا بلیک پینٹ بلیک ہی لیدر کی
جیکیٹ بال کھلے ہوئے تھے گندمی رنگت وہ کسی کا بھی دل دھڑکا سکتی تھی داؤد تو ایک دم
سٹیل ہوکر صرف اسی کی طرف دیکھ رہا تھا
اس نے اس کے آگے ہاتھ لہرایا کوئی مدد چاہیے
تیرے کو تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا اور اس کی لینگویج پر تھوڑا حیران بھی ہوا
ہو۔ہاں وہ ٹائر پنچر ہوگیا ھے اچانک اب وہ اپنی ہیوی بائیک سے اتری اور تیرے کو چینج کرنا
نہیں آتا ھے تم ممی ڈیڈی بچوں کو یہی ایچ مسلہ ہوتا ھے بتا کہاں ھے ٹائیر داؤد تو اتنی
خوبصورت لڑکی کی اس طرح کی لینگویج سے غش کھانے کے در پر تھا اس کو ایک دفہ پھر
کھوتا دیکھ اب کے اس کو تپ چڑھی اے شاڑےکیا دیکھ رہا ھے مدد چاہیے کے میں جائے
اب وہ اس کے اس طرز مخاطب پر ہل کر رہ گیا جس لڑکی پر پہلی بار دل آیا اس کی لینگویج
وللہ آپ کو ٹائر چینج کرنا آتا ھے کیوں لڑکی ھے تو ایک ٹائر چینج نہیں کرسکتی تیرے کو کروانے
کا ھے تو بول ورنہ کام کر میں چلی نہیں نہیں آتا ھے تو کردے میرا وہ مطلب نہیں تھا وہ ایسی جگہ پر تھا نہ بندہ تھا نہ بندے کی ذات اگر گھر
سے بھی کسی کو بلاتا تو غازیان کو پتہ چل جاتا جو وہ افورڈ نہیں کرسکتا تھا تو اس کو یہی
گندی لینگویج والی لڑکی سمجھ آئی اس نے بیس منٹ میں ٹائیر چینج کردیا داؤد تو اس کو اتنی
مہارت سے چینج کرتے دیکھ حیران ہورہا تھا ایک لڑکی وہ بھی اتنی اسانی سے کرگئی وہ ایک
لڑکی اتنے آرام سے کرگئی اس کو ڈھیروں شرم آئی اب وہ چینج کرکے موڑی لے ہوگیا بول کر ہاتھ جھاڑے
Thank you so much for your help
آرے شاڑے میرے کو یہ انگریزی نہیں آتا ھے تو اردو میں بول کیا بول رہا ھے اس نے ہاتھ جھلا کر
کہاں داؤد نے ایک دم گڑبڑا کر دیکھا مطلب تھینک یو تک کا مطلب نہیں پتا جی آپ کا بہت
شکریہ آپ نے میری مدد کی ورنہ ایسے کون کس کی مدد کرتا ھے ویسے آپ کا کیا نام۔ھے
اپن تیرا کو کیونکر اپنا نام بتائے اس نے ناک چڑھا کر کہاں نہیں وہ بس میں نے ایسی ہی پوچھ لیا
تھا وہ تھوڑا شرمندہ ہوکر بولا روحہ کہتے ہے اپن کو چل میں چلتی ھے خیال رکھ اپنا تو اچھا لگا
اپن کو زندگی رہی تو تیرے سے پھر ملاقات ہوگی وہ جاتے جاتے پھر موڑی اے شاڑے تیرا کیا نام
ھے مجھے داؤد درانی کہتے ھے کبھی آپ کو میری ضرورت پڑے تو ضرور یاد کرنا چل دیکھے
گے اب میں نکلتی ھے خدا حافظ اور بول کر بائیک دھول اڑاتے ہوئے چلی گئی روحہ نائس نیم
لڑکی پیاری ھے پر تھوڑی بتمیز ھے اور بول کر ہلکا سا قہقہ لگایا اس نے اب گاڑی واپس موڑ لی تھی مینشن کی طرف
جاری ھے ❤️
