Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

غازیان آفس میں انٹر ہوا تو پورے آفس میں سناٹا سا چھ گیا اور سب کے سلام کا جواب سر
کے اشارے سے دیتا ہوا اپنے آفس میں چلا گیا جہاں پہلے سے ایگل بیٹھی ہوئی تھی اس کو
دیکھ کر کھڑی ہوئی اور سلام کیا اسلام علیکم بھائی کیسے ھے اور مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھیا
اس نے ہاتھ ملایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا کیسا ھے میرا بچہ میں بلکل ٹھیک بھائی آپ
کیسے ھے اور اکیلے اکیلے شادی بھی کرلی میں تو بلکل ٹھیک ہوں اور شادی بھی بس ہوگئی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہاں ایگل نے آنکھیں گھمائی سب
پتہ ھے مجھے ہانم کو آپ نے کالج کے باہر دیکھا تھا اور جب سے لٹو تھے اور بس ایان کے ذریعہ
موقع مل گیا سب دیکھا تھا میں نے اس کی بات سن کر اس نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا لیکن
ایگل نے بول کر قہقہ لگایا ساری باتوں کو چھوڑو یہ بتاؤ پھپھو کیسی ھے اور انکل کیسے ھے سب
بلکل ٹھیک ھے اور ماما بابا آپکو بہت یاد کررہے ھے ایک بار ان سے ملنے اجائے آنا تو ہے تمھاری اور
داؤد کی چھوٹی سی ہی منگنی ضرور کرو گا غازیان نے بول کر اپنی رضائی بہن کی جانب
دیکھا داؤد سے پوچھ لیا ھے آپ نے اس نے بول کر ائی برو اٹھائی کے اس کا کیا ارادہ ھے اس کی
اتنی جرآت نہیں ھے میرے سامنے انکار کرے غازیان نے ناگواریت سے کہاں دیکھ لے اگر انکار
کردیا تو سب چیزے چھوڑو تم بتاؤ میری گڑیا کو پسند ھے وہ کس کو نہیں ہوگا یہ میری گیرانٹی
ھے زبردستی ہی کیوں۔نہ کرنی پڑے سب کرو گا ایک اچھا انسان ھے اس میں ایک انسانیت
دیکھتی ھے جو مجھے اپنے آئیڈیل میں چائیے اور ہوسکتا ھے کہ مجھے اس سے محبت بھی ہوگئی
ہوں اتنا وقت ہوگیا ھے خود سے نام جڑتے ہوئے اس نے بول کر گلاس ونڈو کے باہر دیکھا تو پھر
داؤد میری گڑیا کا ھے ٹینشن لینے کی کوئی ضرورت نہیں ھے دلاور خان کی کیا خبر ھے اس
نے اس کو تھوڑا پریشان ہوتا دیکھا تو بات کا رخ ہی بدل دیا اندر سے خبر ملی ھے شیپ کے ذریعے
لڑکیاں اسمگل کررہا ھے ایگل نے غصہ سے کہاں ہر بار بچ جاتا ھے کمینہ یہ پتہ نہیں کون کام کرتا
ھے اس کے پیچھے اس کا نام تک نہیں اتا
بس لڑکیاں سیف رہے باقی میں اس کو دیکھ لو گا
انشاء اللہ بھائی سب ٹھیک رہے گا آپ یہ بتائیں آپکی ایک دن کی دلہن کیسی ھے آئی مین ہانم
کیسی ھے اس کو گھر لیکر گئے اس نے آرام سے پوچھا تو اس نے گردن اثبات میں ہلائی ہاں لیکر
گیا تھا لیکن اس کے باپ نے ایکسیپٹ نہیں کیا غازیان نے ناگواریت سے کہاں گڑیا میرا بس چلے
نہ اس آدمی کو میں زندہ نہ چھوڑو آسان نہیں ھے اس کا باپ ھے اتنا ردعمل تو بنتا ھے اور ہانم
بھی خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی خاور ملک کو بھی سب کی طرح یہ لگا کہ ہانم بھاگ
گئی ھے ہاتھ اٹھایا تھا اس نے ہانم پر کیا اس نے کسی خدشہ کے طور پر پوچھا اور جواب توقع
کے مطابق ملا ہاں ایک لفظی جواب پھر آپ اس کو گھر لے آئے ہاں ایک بار پھر ایک لفظی جواب ہانم نے
کچھ کہاں آپ سے اس نے اچھنبے سے پوچھا
اس کو الجھا دیا ھے میں نے بہت معصوم ھے
میری باتوں میں ہی الجھ گئی اس نے سن کر قہقہ لگایا چلے میں چلتی ہوں کل اس شیپ سے
لڑکیاں بازیاب کروانی ھے اور جتنے بھی لوگ شیپ میں ہونگے سب کو ختم کرنا ھے یہ آڈر
جاری کردئیے گا لازمی بھائی ہمم ملک کے ناسور لوگوں کو بچنا نہیں چاہے تم ٹینشن نہ۔لو گڑیا
سب انڈر کنٹرول رہے گے غازیان نے ایک عزم سے کہاں بس آپ ایک بار گھر اجائے ماما سے ملنے ان
کو بھی سکون مل جائے ہاں ہاں پھپھو سے کہو میں جلد او گا میں چلتی ہوں بھائی پھر ملاقات ہوگی اللہ حافظ
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بائیک ہواؤں سے باتیں کرتی ہوئی گھر کی طرف روانہ تھی اسے جلد سے جلد اپنے گھر جانا تھا
کیونکہ آج صدیقی صاحب نے آنا تھا اور بار بار فوزیہ بیگم کی کال پر کال آرہی تھی اس لئے جتنا جلدی ہوسکے گھر پہچنے کی تگ دو میں
تھی ایک دم بائیک جھٹکا کھانے لگی نو نو پلیز اے روکیو مت تیرے کو تیرے باپو کا واسطہ لیکن
بائیک نے کسی کی نہیں سنی اور ایک جھٹکے کے ساتھ روکی اس کو بھی ابھی بند ہونا تھا روڈ
کے بیچ و بیچ گاڑی بند ہوئی تھی اے ہیرو مرنے کا زیادہ شوق ھے گاڑی سائیڈ پر کر
ایک لڑکے نے روحہ کے گیٹیپ کی وجہ سے کہاں اے سالے ایڑے روک تیرے کو بتاتی ھے جتنے میں
وہ گاڑی سے اتری وہ اپنی بائیک بھگاتا ہوا لے گیا ایک بار پھر فوزیہ بیگم کی کال دیکھ کر بدمزہ
ہوئی ہاں ہیلو کہاں مری ہوئی ہوں گھر آنے کی توفیق نہیں ھے تمھیں تمھارا باپ کب سے آیا ہوا
ھے اور تمھاری وجہ سے کھانا بھی نہیں کھایا میرے باپ کو بول ماں کھانا کھ لے سالا گاڑی
خراب ہوگئی ھے پتہ نہیں کتنا وقت لگے گا مجھے جھوٹ مت بولو روحہ جن کاموں میں تم ملواث
ہورہی ہوں نہ میں تمھیں چھوڑو گی نہیں سیدھی شرافت سے گھر مرو ارے آری ھے میں
کائے کو دماغ چاٹ رہی ھے اس نے سارے لحاظ بلائے طاق رکھ کر کہاں تو آجا پھر بتاتی ہوں
کسی طریقے سے ماں سے بات کرتے ھے اور کھٹ کر کے فون بند کردیا اس نے ادھر اُدھر نگاہ
گھمائی اور بائیک کو سائیڈ پر لگایا اور نیچے بیٹھ کر چیک کرنے لگی کیا پروبلم ہوئی ھے داؤد
گھر کی طرف ہی جارہا تھا سامنے کسی کو بائیک سے ساتھ پریشان ہوتے دیکھا تو اپنی نیچر کی
وجہ سے روک گیا اور گاڑی سے اتر کر اس کی طرف ایا کوئی مدد چائیے آپ کو وہ بولا تو روحہ
نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا اے چکنے تو روحہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا اور ہاتھ جھاڑ کر
اس کی جانب آئی کیسا ھے اور گاڑی ٹھیک ھے تیری داؤد جو سکتے میں تھا اس کے ہاتھ لہرانے
پر ہوش میں ایا ہائے کیسی ھے آپ روحہ اپن اچھی تو بتا تو کیسا ھے جی میں بھی اچھا ہوں
اپکی بائیک میں کوئی پروبلم ہوگئی ھے ہاں یار پتہ نہیں اپنی شبنم کو آج کیا ہوگیا ھے شبنم
کون داؤد نے اچھنبے سے پوچھا ارے یہ اپن کی شبنم اس نے بائیک کی طرف اشارہ کر کے بتایا
میں آپکی کچھ ہلیپ کردو اس نے تاسف سے سر ہلا کر کہاں یہ پھر آپ کو ڈراپ کردیتا ہوں قدرت
نے مجھے اپنا ادھار اترنے کا موقع دیا ھے اس نے مسکرا کر کہاں نہیں نہیں ڈراپ نہیں یار اپنی جو
ماتاری ھے بڑی چوکس رہتی ھے اپن کے معاملے میں کے کہاں الےری ھے کہاں جاریلی ھے لیکن
اپن کا جو باپو ہوں وہ اچھا ہے وہ نہیں کرتا یہ سب وہ بولتا ھے جو کرنے کا ھے کر باقی میں
دیکھ لے گا لیکن ماتاری زندگی جھنڈ کردیتی ھے دومنٹ میں یعنی آپکی والدہ سٹریکٹ ھے بہت
سٹریکٹ ھے میں دیکھتا ھوں آپکی بائیک کو ہاں دیکھ لے اگر تیرے کو سمجھ آتی ھے تو داؤد نے
دیکھا اور کم ازکم دس منٹ بعد کھڑاہوا روحہ آپ اسٹارٹ کرکے دیکھے روحہ نے اسٹارٹ کری تو
پہلے کیک پر ہی اسٹارٹ ہوگئی الی مائلا ہوگئی اسٹارٹ بہت بہت تھینک یو سو مچ تیرا ماتاری
کا بھی بار بار فون آرا ھے میں چلتی ھے پھر ملے گی تجھ سے جی ضرور ہم لوگوں کی دوسری
ملاقات ھے تو کرتا کیا ھے یہ پھر کچھ نہیں کرتا بس باپ کے پیسہ اڑاتا رہتا ھے باپ کے نام پر داؤد
کے چہرے پر ایک سایہ سا اکر گزرا لیکن خود کو کمپوز کر کے بولا میں ایک ڈاکٹر ہوں اچھا اچھا
میں سمجھی پائیلٹ ھے داؤد نے نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا آرے مطلب وہ والا پائیلٹ
جو باپ کا پیسہ اڑاتے ھے اور بول کر خود ہی قہقہ لگایا اور داؤد نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا
چلے میں چلتا ہوں زندگی رہی تو ہم دوبارہ ضرور ملے گے خدا حافظ بول کر دھول اڑاتا ہوا چلا گیا
میں اتنا کائے کو اس کے ساتھ فری ہوگئی ہنس ہنس کے باتیں کی اپن کھسک تو نہیں گئی اور
کنپٹی پر تھپڑ مار کر بائیک پر بیٹھی اور خود سے ہی بڑابڑاتی ہوئی بائیک اسٹارٹ کرنے لگی
سب چھوڑ روحہ نکل اس سے پہلے ماتاری یہی ایچ آکر جوتی سے مارے بول کر جلدی سے بائیک پر بیٹھی اور بائیک گھر کی طرف بھاگئی
()()()()()()()()()()()()
ایان زویا مدثر تینوں مینشن میں داخل ہوئے تو سامنے ہی اماں بی مالی کو جھاڑ رہی تھی بیچ
میں زویا اور سائیڈوں پر یہ دونوں کھڑے ہوئے تھے اور اب تینوں فرصت سے مالی کی۔شامت
دیکھ رہے تھے کتنی بار کہاں ھے پودوں کو پانی دیا۔کرو یہ دیکھوں زرہ کیا کاٹائی کررہے ھوں آنے
دو داؤد بیٹے کو تمھاری چھٹی کرواتی ہوں حد ہوتی ھے نکمے پن کی کھڑے ہوئے کیوں ہوں کام
کرو کام چور اور جیسی مڑکر واچ مین کی طرف جانے لگی سامنے ہی یہ تینوں کھڑے ہوئے تھے ان
دونوں کا ہاتھ زویا کے شولڈر پر تھا اور زویا نے ہاتھ باندھے ہوئے تھے آپ تینوں کب آئے اماں بی
خوش ہوکر ان کی طرف بڑھی جیسی ان کے قریب ائی زویا نے جھنجلا کر ان کے ہاتھ ہٹائے
اور اماں بی سے گلے مل کر ملی کیسی ھے آپ اماں بی میں ٹھیک ہوں زویا بیٹی آپ کیسی ہوں
انہوں نے پیار سے پوچھا میں ابھی وہ جملہ مکمل کرتی ایان بیچ میں کودا اس کو کیا ہونا ھے
صیحح ھے سموسہ ٹھوس کر آئی ھے آپ کو یقین نہیں تو مدثر سے پوچھ لے اس نے ناگواریت سے
ایان کی۔جانب دیکھا اور واپس اماں بی کی جانب مڑی اماں بی مجھے بھابھی کے روم۔تک لے
چلے اس پر آپ دیھان نہ دے کیوں کیوں تم اکیلی کیوں ملوگی ایان پھر اس کے راستہ میں
آیا او پلیز دماغ چاٹنے کی ضرورت نہیں ھے غازیان بھائی کو ایک کال کرو گی اور تمھاری
واٹ لگ جائے گی سمجھ آئی آرے تو زویا باجی ایان اور میں نہ ملے بھابھی سے اچھا بھائی چلو
اس نے کفت سے کہاں اور مینشن کے اندر بڑھے ایان نے آنکھیں گھمائی میری بھابھی کو یہ رٹو
طوطی اپنے وش میں کررہی ھے کچھ گڑبڑ ھے اے آجا کیا مجنوں کی طرح اکیلے اکیلے
باتیں کررہا ھے مدثر نے تھوڑا اگا جاکر جب پیچھے دیکھا تو ایان۔کو خود کے ساتھ بڑبڑاتے
دیکھا ہاں ہاں آرا ہوں وہ بھی اس کے پیچھے بھاگا یہ تینوں اماں بی کے ہمراہ ہی ہانم کے کمرے
میں گئے جہاں وہ بلکل گم سم بیٹھی ہوئی تھی اور کسی غیر مرئی نقتے کو گھور رہی تھی کہ
کتنے مزہ سے وہ زندگی گزار رہی تھی اچانک یہ سب کیا ہوگیا ابھی وہ انہیں باتو کو سوچ رہی
تھی کہ گیٹ نوک ہوا ہانم نے بیٹھے بیٹھے ہی بولی اجائے بس یہ سننا تھا اور مدثر ایان کھلے
سانڈ کی طرح کمرے میں انٹر ہوئے جتنی تیزی سے یہ دونوں انٹر ہوئے تھے اتنی تیزی سے ایک
دوسرے کے پاؤں میں اٹک کر زمین پر اوندھے منہ گیرے اور ان دونوں کی یہ حالت دیکھ کر ہانم کو
بھی بے اختیار ہنسی آئی اور زویا تو قہقہ لگاکر ہنسی اماں بی بھی نیچے منہ کر کے ہنسی روکنے
کی کوشش کرنے لگی جب ان دونوں نے اپنا مذاق بنتے دیکھا تو ایک دم۔سیدھے کھڑے ہوئے ایان نے
زویا کو پاگلوں کی طرح ہنستے دیکھا تو ایک دم ڈھیروں شرم آئی کیا ہوگیا ھے اتنا بھی کوئی
مزاحیہ سین نہیں تھا جو تمھاری ہنسی نہیں روک رہی ھے مدثر نہ بھی اس چشمش کو گھورا
بس کردو زویا اتنا بھی واقع کوئی مزاحیہ سین نہیں ھے جو تم ہنسے ہی جارہی ھوں اچھا اچھا
سوری لیکن تم دونوں آرام سے بھی انٹر ہوسکتے تھے کمرہ یہ بھابھی بھاگ تھوڑی رہی ھے بول کر
ایک بار پھر قہقہ لگا یا ہانم تو ان تینوں کو ہونق بنی دیکھ رہی تھی ابھی جو تھوڑی دیر پہلے وہ
اداس تھی اب حیرانی سے ان۔سب کو دیکھ رہی تھی اور تم ایان کچھ بولنا لگا زویا نے بیچ میں
ہی اس کا فقرہ اچک لیا میں بہت خوبصورت ہوں اور مجھے خوبصورت لوگوں سے ملنے دو
اسلام علیکم بھابھی میں زویا ایان کی دوست اور غازیان بھائی کی پیاری سی چھوٹی بہن
کیسی ھے آپ زویا اتنی اپنائیت سے بولی ایان نے بے ساختہ اس کی جانب دیکھا اور دل ایک رفتار
سے دھڑکا لیکن انگنور کردیا آرے ہٹ بھی جاؤ مجھے بھی بھابھی سے ملنا ھے اسلام علیکم
بھابھی میں مدثر ایان کا دوست اور غازیان بھائی کو چھوٹا بھائی ایان نے وہی حرکت دوبارا
کی سر اٹھا کر مدثر کی جانب دیکھا اور دل کے مقام پر ہاتھ رکھا لیکن دل دھڑکا نہیں اور ان
دونوں کی طرف دیکھا بات سنو تم لوگ میری اگر تو میرے بھائی کی چھوٹی بہن ھے اور تو
میرے بھائی کا چھوٹا بھائی ھے تو میں کون ہوں میں کرواتا ہوں بھابھی ان دونوں کا تعارف آپ
سے ہانم کو ایان بہت اچھا لگا تھا صبحِ کتنے پیار سے وہ اس کو ناشتہ کروارہا تھا وہ شوق سے اس
کی جانب دیکھنے لگی تو بھابھی یہ ہے ہمارے یونیورسٹی کی ٹوپر سر حیدر کی ایک لوتی
بیٹی جس کو انہوں نے کچرے سے اٹھایا تھا اور ایک نمبر کی چڑیل اور جگہ جگہ کھڑی ہوکر
فلسفہ دیتی ھے میرا تجربہ کہتا ھے اور بول کر قہقہ لگایا ہانم نے بھی چھوٹا سا قہقہ لگایا اور
زویا نے مارنے کے لئے کتاب ہاتھ میں اٹھا ئیں تو ایان ہانم کے پیچھے ہوگیا بھابھی بھابھی بچایا
اس چشمش سے پلیز زویا رہنے دے ایان بھائی مذاق کررہے ھے ہانم نے پیار سے زویا کا ہاتھ پکڑ
کر کہاں ایان جو پیچھے کھڑا اپنا بچاؤ کررہا تھا ایک دم سامنے آیا بھابھی اپنے کیا بولا تھا مجھے
ابھی ہانم نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا زویا اور مدثر نے ایک دوسرے کی جانب مسکرا
کر دیکھا ایان کو بچپن سے ایک بہن کی خواہش رہی تھی لیکن اس کو کوئی بھائی ہی نہیں بناتا
تھا ایک تو اس کی شرارتی نیچر اوپر سے اتنے ڈیشنگ لڑکے کو کون پاگل بھائی بنائے گا بولے نہ
بھابھی ابھی اپنے اس زوئی چوئی کو کیا کہاں تھا ایان بھائی کو نہیں مارے ہانم۔نے ناسمجھی
سے اپنا جملہ دھرایا بھابھی آپ مجھے آیان بھائی بولے گی ہانم نے اثبات میں سر ہلایا بھابھی
سچی نہ آپ ایان بھائی ہی بولے گی جی ہانم نے آب کے قدرے حیرت سے کہاں بھابھی بھابھی
ایان ہانم کو کندھے سے پکڑ کر پورا گھمادیا ہانم کو چھوڑ کر مدثر کے گلے لگا ہانم کو زویا نے پکڑا
ورنہ پکا وہ بھی ان دونوں کی طرح زمین دوز ہوتی مدثر اللہ نے مجھے ایک چھوٹی بہن دیدی
پھر ایک دم اس کو چھوڑ کر ہانم کی طرف مڑا بھابھی لیکن آپ تو مجھ سے روتبے میں بڑی ھے
تو آپ مجھے ایان کہے ایان بھائی نہیں غازیان بھائی غصہ کرے گے اس نے تھوڑا دھیمے لہجے
میں کہاں وہ کچھ کیوں کہے گے میں بول رہی۔ھوں آپ کو ایان بھائی وہ تھوڑی بول رہے ھے
زویا اور مدثر ہانم کی طرف مسکرا کر دیکھ رہے تھے تھینک یو بھابھی زویا ایک دم بڑھکیں میں
کرنے آئی ہوں بھابھی سے باتیں تم کیا ان کو باتوں میں لگا رہے ھوں تمھارے گھر ہی رہے گی ہمیں باتیں
کرنے دو بلکہ تم۔دونوں جاو میں اور بھابھی تھوڑی باتیں کرلے زویا نے ہانم کے گلے میں ہاتھ
ڈال کر کہاں جی۔نہیں یہ گندا ہاتھ ہٹاؤ ہم بھی یہی بیٹھے گے اور سب مل کر باتیں کرے گے اگر
منظور ھے تو صحیح ورنہ سب نیچے چلو میری بھابھی آرام کرے گی زویا نے اس ڈھیٹ کو گھورا
اور جل کر بولی لڑکیوں کی اپنی باتیں ہوتی ھے پلیز ایان مجھے تھوڑی بہت تو بات کرنے دو
تمھارے تو گھر میں ہوگی تم کرلینا اس نے اتنی عاجزی سے بولا لیکن ایان ابھی کچھ بولتا اس
سے پہلے ہانم بولی ایان بھائی پلیز میرے لیے چلے جائے میں تھوڑی دیر زویا سے باتیں کرلو اس نے
معصومیت سے کہاں تو آیان نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا اور مدثر کے ساتھ باہر کی۔جانب
چلا گیا ہانم زویا کے سامنے بیڈ پر بیٹھ گئی اور زویا کاوچ پر ۔۔۔