Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary NovelR50719 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Last Episode
Rate this Novel
Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 01 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 02 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 03 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 04 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 05 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Last Episode (Watching)
Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Last Episode
مریم نے جلدی سے چادر اوڑهی موبائل اٹهایا اور دبے قدموں سے چلتی دیوار تک آئی. وہاں پڑی بالٹی کو اس نے الٹا کیا اور اس پہ چڑه کر دیوار پهلانگ گئی. گلی بلکل سنسان پڑی تهی وہ تیزی سے چلنے لگی گهر پیچهے چهوٹ رہا تها وہ آگے بڑه رہی تهی خوف سے بار بار پیچهے دیکه رہی تهی کتوں کے بهونکنے کی آوازیں خاموشی میں ارتعاش پیدا کرتی تو وہ اور بهی خوف زدہ ہو جاتی میں دوبارہ اس گهر میں نہیں سکوں گی.. کاش میں بغاوت نا کرتی کاش میں بهی ثمینہ کی طرح رو رو کر خاموش ہو جاتی. اس کے دل سے ہر منفی خیال نکلتا جا رہا تها گلی ختم ہو رہی تهی اور مریم کی واپس جانے کی ہر امید بهی ختم ہونے لگی تهی. گلی کے نکڑ پہ پہنچ کر اس نے گهر کی جانب دیکها اس کے آنسو نہیں رک رہے تهے سائبان سر سے ہٹنے والا تها وہ دنیا کی تپتی دهوپ میں جلنے کے لیے خود کو پیش کر چکی تهی اس نے موت کے بدلے میں اذیت بهری بے رحم زندگی چن لی تهی اور تب کون سوچتا ہے اذیت کیا ہے جب موت سر پہ ناچ رہی ہو.
####
موبائل کی سکرین جگمگائی اس نے جلدی سے گلی میں نظر دوڑائی یہ مین گلی تهی جو ایک چوک سے جا ملتی تهی. مریم نے کال رسیو کی تبهی اس کی نظر گاڑی پہ پڑی وہ تیزی سے اس کی طرف بڑهنے لگی گهر پچهتاوا ڈر سب جیسے گم ہو گئے بس اسے اس گاڑی تک پہنچنا تها جلد از جلد کسی کے آنے سے پہلے.
وہ گاڑی کے پاس آ کے رکی فرنٹ سیٹ کا ڈور اوپن ہوا وہ جهجکتی ہوئی گاڑی میں بیٹه گئی. زرگل نے ڈور لاک کیا اور تیزی سے گاڑی وہاں سے نکال کے مین روڈ پہ لے آیا.
تم ٹهیک ہو؟زرگل نے فکرمندی سے پوچها
جی. مریم اتنا ہی کہہ سکی اس شخص کو وہ نہیں جانتی تهی آج وہ اس کے ساته اس اندهیری رات میں گاڑی میں بیٹهی تهی بے بس لاچار اور مجبور. وہ چاہے اسے جہاں لے جاتا جہاں رک جاتا جہاں اتار دیتا اس پہ تها مریم اپنے پیچهے ساری کشتیاں جلا چکی تهی
عمیر کو پتا ہے میں تمہارے ساته ہوں. مریم نے ڈرتے ڈرتے سوال کیا
نہیں فی الحال اس کو بتانے کا ٹائم نہیں تها پہلے کسی محفوظ جگہ تمہیں پہنچا دوں پهر اس سے بات کر لیں گے. وہ تیزی سے گاڑی انجان رستوں پہ بهگا رہا تها مریم کا رواں رواں کانپ رہا تها آگے اس کی زندگی کے ساته کیا ہونے والا تها وہ نہیں جانتی تهی اس نے جوا کهیلا تها اور اس میں اپنا سب کچه لگا دیا تها اب یہ اس کی قسمت کہ وہ جیت جاتی یا پهر ہار کر پورے وجود کے ساته منہ کہ بل گرا دی جاتی
________
شومی بهاگ گئی…. ہر طرف ایک ہی بات گردش کر رہی تهی گهر میں سوگ کی سی کیفیت تهی. سب لڑکیاں سہمی ہوئیں تهیں کہ اب کیا ہو گا؟ اب کیا ہونا چاہیے. عباس صاحب کمرہ بند کیئے بیٹهے تهے. وہ کہیں نکلنے کے قابل ہی کہاں رہے تهے. جن کی بیٹی شادی سے ایک دن پہلے گهر سے بهاگ جائے وہ باپ باہر نکلنے کے قابل رہتے ہی کہاں ہیں. دنیا تو کہتی ہے انہیں ڈوب کے مر جانا چاہیے ان کی بیٹی بهاگ گئی… بهاگ گئی… بهاگ گئی… ہر طرف ایک ہی پکار ہوتی ہے معنی خیز ہنسی… قہقے… جملے… طعنے… نظروں میں چهپی حقارت…. تربیت پہ اٹهتے سوال…. لعن طعن کرتے کچه غیرت مند اپنے….. ہاں یہی سب ہوتا ان باپ بهائیوں کے ساته جن کی بیٹیاں بہنیں گهر سے بهاگ جائیں. کڑوا لگتا ہے نا یہ سننا؟ “بهاگ گئی” ہاں یہ بالنا بہت کڑوا ہوتا ہے مگر یہ سننا مر جانے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے… کبهی سوچا یہ بهائی یہ باپ غیرت کے نام پہ قتل کیوں کر دیتے ہیں؟؟ کیا اس لیے کہ وہ بهاگ گئی؟ نہیں… اس لیے کہ وہ بار بار ہمارے منہ پہ گندگی کا ڈهیر ملتی ہوئی نا جائے. … بار بار ہمیں زلت کا سامنا نا کرنا پڑے… بیٹیاں تو سب کی سانجهی ہوتی ہیں. … سب کو پیاری ہوتی ہیں… بس کچه والدین سے ان کی تربیت کرنے میں غلطی ہو جاتی ہے…. ہاں بلکل والدین کی تربیت میں کہیں غلطی ہو جاتی ہے…. یہ قدم رانی نے کیوں نا اٹهایا؟ یہ قدم ثمینہ نے کیوں نا اٹهایا؟ ایک بدصورت لڑکی کو ہی نا محرموں نے کیسے سہارا دیا؟….. کیونکہ اس نے باہر سہارا ڈهونڈا…. کبهی ضد میں…. کبهی خود کے لیے کچه اچهے لفظ سننے کے لیے… اور کبهی موت جیسی تکلیف سے بچنے کے لیے…. اسے رانی اور ثمینہ کے جیسی محبت ملی ہوتی وہ بهی اپنے پیاروں کے لیے سوچتی…. اور ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا… کوئی ظلم اور تلخ رویوں پہ رو رو کر اند ہی گهٹ کر مر جاتا ہے اور کوئی بغاوت پہ اتر آتا ہے اور بغاوت تو ہے ہی بری چیز چاہے بیٹی کرے یا بیٹا. باغی لوگ نا اپنے لیے کچه چهوڑتے ہیں نا دوسروں کے لیے.
یہی مریم نے کیا بجائے سسک سسک کے رونے کے اس نے بغاوت کی مگر بغاوت ہر رشتہ نگل جاتی ہے مگر باغی اس نقصان کے بعد بهی بعض نہیں آتا مریم بهی نہیں آئی.
شہباز غصے سے مارا مارا پهر رہا تها وہ اسے ہر جگہ ڈهونڈ چکا تها مگر مریم کا کہیں پتا نا چل سکا. گهر میں طئے ہوا کہ آج ہی سادگی سے دونوں کے نکاح کر کہ رخصی کر دی جائے. اور دونوں لڑکیاں رخصت ہو کہ اپنے گهروں میں آگئیں. شہباز کی دلہن اور منور کی دلہن
####
فام ہاؤس کے ایک خوبصورت اور نفاست سے ڈیکوریٹ کیے گئے اس کمرے میں ہر چیز بہت اچهے سے سجائی گئی تهی کمرے میں ائیر فریشنر کی خوشبو پهیلی ہوئی تهی. رات ہی اسے زرگل یہاں لے آیا تها اس نے موبائل آف کر رکها تها کہ کہیں گهر والے موبائل کے ذریعے اس تک نا پہنچ جائیں.
یہ لو ناشتہ کر لو. زرگل اس کے سامنے ناشتہ رکها اور خود صوفہ پہ جا کر بیٹه گیا.
عمیر سے بات ہوئی. مریم نے ناشتہ کی طرف ہاته نہیں بڑهایا.
نہیں ہو رہی اس کا موبائل آف ہے رات تک بات ہو جائے گی تم فکر نہیں کرو. زرگل خان نے اسے تسلی دی
مریم اور کچه نا بول سکی. پہلی بار وہ کسی غیر محرم کے ساته اسطرح اکیلی تهی 20 سال کی عمر میں اس نے اپنی لائف کے ساته کیا کیا کر لیا تها. اور اب وہ افسوس بهی زائل ہونے لگا تها جو کل رات اسے اندر ہی اندر کاٹ رہا تها. بهاڑ میں جائیں سب… اب میں بهی اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزاروں گی اس نے طئے کر لیا تها. عمیر سے نکاح کر کے چلی جاوں گی پهر بس یہ لوگ مجهے ڈهونڈ بهی نہیں پائیں گے وہ سوچ کر مطمئن ہو گئ……. مگر ٹهیریں….. یہ فلم نہیں… یہ کسی ناول کی سٹوری نہیں کہ بهاگ گئی ہیرو مل گیا ہنسی خوشی رہنے لگے…. نہیں اصل زندگی میں یہ نہیں ہوتا… اصل زندگی تو بہت بهیانک ہوتی ہے ان لڑکیوں کے لیے جو کسی نا محرم کے سائبان میں ہوں. باپ ظالم ہوتا ہے بهائی ظالم ہوتا ہے مگر عزت کے رکهوالے ہوتے ہیں. جیسے بهی ہوں بهائی بهائی ہوتے ہیں ہمیں دنیا کی میلی نظروں سے بچا کے رکهنے والے….آہ کہ یہ معصوم لڑکیاں کچی عمروں میں نا محرموں کو سر کا سائبان سمجهنے لگتی ہیں یہ سوچے بغیر کے باہر ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے… ہاں ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے…. جو چکانی پڑتی ہے آپ چاہو تب بهی آپ نا چاہو تب بهی… ہر حال میں چکانی پڑتی ہے… مریم نے بهی چکائی…. زرگل کے احسانوں کا بدلا اسے بهی چکانا پڑا… کوئی نامحرم ہیرو نہیں ہوتا… اکیلی عورت کے لیے ہر نامحرم مرد بهیڑیا ہے… زرگل بهی بن چکا تها…..
#####
مجهے کسی دارالامان میں چهوڑ دو. مریم اب یہاں ایک لمحہ بهی نہیں رکنا چاہتی تهی
مریم مجهے معاف کر دو شیطان نے میرے دل و دماغ پہ قبضہ کر لیا تها میں بہت شرمندہ ہوں. زرگل نے اس کے آگے ہارته جوڑ لیے.
مجهے کسی دارالامان میں چهوڑ دو بس. میں وہی رہوں گی اب. مریم نے دوٹوک لہجے میں کہا…. رکیے…. روئی تو مریم آج بهی نہیں تهی…. ہاں…. وہ تو اب بهی نہیں روئی تهی وہ کس مٹی کی بنی تهی؟
تم عمیر سے تو بات کر لو. ایسے کیسے تم دارالامان میں رہو گی تم نہیں جانتی وہ کیسی جگہ ہوتی ہے. زرگل نے اسے اس بچگانہ فیصلے پہ روکنا چاہا
اب مجهے اس بهی بات نہیں کرنی مجهے تم وہاں چهوڑ دو. ویسے بهی عمیر کیا کر لے گا نا میرے پاس میرا شناختی کارڈ ہے نا پاسپورٹ بنا اور جب تک بنتے ہیں مجهے وہاں چهوڑ دو. مریم نے اپنی چادر لپیٹ لی.
مریم میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں. زرگل نے ایک اور فیصلہ کر لیا ایک دم سے.
مجهے اس پچهتاوے میں جلنے کے لیے مت چهوڑو کہ میں نے کسی مجبور لڑکی کے ساته ظلم کیا پلیز مجه سے نکاح کر لو.زرگل کے چہرے پہ شرمندگی کے آثار صاف نظر آرہے تهے مگر مریم کے لیے وہ چہرہ اب دیکهنا بهی نہیں تها
تم مجهے چهوڑ آو گے یا نہیں بس یہ بتاو. مریم نے بات ختم کر دی
میں چهوڑ آوں گا مگر یہ ایک اور غلط فیصلہ ہوگا تمہارا تم وہاں نہیں رہ سکتی تم نہیں جانتی ایسے اداروں کی حقیقت. زرگل نے آخری بار اسے سمجهانا چاہا
حقیقت تو کسی کی نہیں جان سکتی میں. جب گهر سے نکل آئی ہوں تو اب ڈرنا کیسا اب یہی ہونا ہے میرے ساته. مریم نے قدم آگے بڑها دئیے. ناچار زرگل کو بهی اس کا ساته دینا پڑا.
تمہیں کبهی بهی ضرورت پڑے مجهے کال کر لینا میں ہمیشہ تمہارا ساته دوں گا یہ ایک پٹهان کا وعدہ ہے میں تم سے ہمیشہ نکاح کے لیے تیار ہوں گا. زرگل نے ساری کاغذی کاروائی پوری کردی اور جاتے وقت آخری بار مریم کو پهر یقین دلایا. مریم کچه کہے بغیر اندر چلی گئی ایک نئی دنیا کی طرف ایک نئی دوزخ کی طرف.
###
وہ کسی دارالامان میں ہے کچه دن سے. میں نے پتا کروایا ہے میرے ساته چلو اسے لینے. شہباز نے باپ کو اطلاع دی وہ جانتا تها مریم اس کے ساته نہیں آئے گی اس لیے باپ کو ساته لے جانا چاہا
میں نہیں جاوں گا وہی رہے یہاں بهی تو اس نے مرنا ہے وہی مر جائے بہتر ہے. عباس صاحب اس کے ارادوں سے خوفزدہ تهے.
نہیں مرتی وہ بے فکر رہیں وہاں تو ہماری عزت نا رولتی پهرے گهر سے باہر نہیں نکل سکتا میں. وہ لڑکا جو اس کے ساته تها کل ملک چهوڑ کے چلا گیا ہے وہ جان چکا تها ہم اس کے پیچهے ہیں. کم از کم اب اسے گهر تو لے آو. شہباز باپ پہ چلا اٹها
میں نہیں جاوں گا مجه میں اتنی ہمت نہیں رہی جون اولاد کے جنازے دیکهوں تم بهی اس کا پیچها چهوڑ دو میری بیٹی ہے میں جانو یا وہ. عباس صاحب کمرے سے نکل گئے شہباز نے دروازے کو زور سے ٹهوکر ماری اور بستر پہ سر پکڑ کر بیٹه گیا
###
اور وہی ہوا شہباز جب بهی اسے ملنے گیا اس نے ملنے سے انکار کر دیا اور آج یہی ارادہ لے کر وہ اپنی پهپهو کے پاس آیا.
میں تمہارے ساته چلوں مگر کیا گیرنٹی ہے کہ تم اسے مارو گے نہیں. بیٹا تمہاری تکلیف ہم سب سمجهتے ہیں مگر تمہارا باپ ٹهیک کہتا ہے تمہارے ہاتهوں مرنے سے بہتر ہے وہ وہیں کہیں مر جائے. پهپهو نے اپنے بهتیجے کو ترحم بهری نظروں سے دیکها جو کسی کے سامنے سر اٹهانے کے قابل نہیں رہا تها
وہ ٹهیک کہتی تهی اس نے میرے ساته ایسا کیا کہ میں لوگوں سے نظریں چراتا پهر رہا ہوں پهپهو. میں اسے کچه نہیں کہوں گا میں بس اس کی شادی کر کے اسے رخصت کردوں گا چند سال بعد لوگ یہ بات بهی بهول جائیں گے. پهپهو وہ ہماری عزت ہے وہ کب تک دربدر پهرتی رہے گی. شہباز کی آنکهوں کے سرخ ڈورے گواہ تهے کہ اس نے سونا چهوڑ دیا ہے وہ کس تکلیف میں ہے.
تم یہ بات قرآن پاک پہ ہاته رکه کر کہہ سکتے ہو کہ تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاو گے پهر میں تمہارے ساته چلنے کو تیار ہوں. پهپهو نے اس کی سچائی کی ضمانت چاہی. شہباز کچه دیر ان کا چہرہ زخمی نظروں سے دیکهتا رہا
ہاں میں قرآن پاک پہ ہاته رکه کر قسم کهانے کو تیار ہوں میں اسے کچه نہیں کہوں گا. شہباز نے ضمانت دے دی ایسی ضمانت جس کے بعد شک کی گنجائش نہیں رہتی
####
دیکهو بیٹا یہاں رہنا بہت مشکل ہے کب تک تم یہاں رہو گی تمہارا بهائی نے مجهے یقین دلایا یے قرآن کو گواہ بنا کر کہ وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا وہ باہر آیا ہوا ہے تم میرا یقین کرو میرے ساته میرے گهر چلو. پهپهو نے اسے سمجهایا مگر یہاں آکر تو وہ کوئی اور ہی مریم تهی وہاں موجود عورتوں کے جیسے انداز کهلی زبان گالی گلوچ اور فخر سے اکڑی ہوئی گردن دهٹائی سے تنے ابرو. وہاں سب ہی ایسی عورتیں تهیں اور مریم بهی ان کا رنگ پکڑ چکی تهی
ٹهیک ہے مگر میں تمہارے ساته تمہارے گهر جاوں گی اس (گالی) کے گهر ہرگز نہیں جاوں گی. مریم نے اپنا فیصلہ سنایا پهپهو کے لیے یہی بہت تها کہ وہ مان گئی تهی.
###
آپ کے گهر کیوں اسے کہیں اپنے گهر چلے. شہباز نے نفرت سے اس کو دیکها. بے شک اسے اپنی قسم کا پاس تها مگر وہ اس سے اپنی نفرت تو ختم نہیں کر سکتا تها
تمہارے ساته بلکل نہیں جاوں گی اگر تمہیں لگتا ہے تم دهوکے سے مجهے لے جاو گے گهر تو تمہاری غلط فہمی ہے. مریم نے تپا دینے والی مسکراہٹ سے کہا اس کے چہرے پہ کسی شرمندگی کے کوئی آثار نا تهے اسے زمانے کی تلخیوں نے مزید تلخ کر دیا تها
بیٹا تم کیوں بحث کر رہے ہو میرے گهر رہے یا تمہارے بات تو ایک ہی ہے بس تم ابهی اپنے گهر جاو بعد میں یہ بات کریں گے. پهپهو نے ان دونوں کا دهیان ایکدوسرے سے ہٹانا چاہا. شہباز اسے زہرخند نظروں سے گهورتا ہوا واپس چلا گیا
###
مگر وہ روز وہاں جاتا مریم کو سمجهاتا اور وہ انکار کر دیتی آخر ایک دن مریم پگهل گئی اور اس کے ساته اپنے گهر آگئی. ثمینہ رخصت ہوچکی تهی بهابهی گهر میں آچکی تهی گهر کا ماحول بدل چکا تها بهابهی نے سب اپنی مٹهی میں لے لیا تها اور مریم پہ واضح کر دیا تها کہ اب تمہاری حکمرانی اس گهر پہ ختم ہو گئی. مگر وہ مریم تهی ضدی اور ہٹ دهرم ہر غلط بات پہ چپ ہو جاتی مگر بہنوں کے ساته زیادتی وہ اب بهی نا سہہ پاتی اور بهابهی اسی انتظار میں ہوتی کب وہ گالیاں بکے کب بهائی کو برا بهلا کہے اور کب وہ 2 باتوں کو چار کر کے شہباز کے کان میں ڈال دے. اور مریم نے کبهی غلط بات کو کلئیر کیا ہی نہیں وہ کیوں ایسے بهائی کا دل صاف کرے جو کبهی اس کے پاس آکر یہ نہیں پوچهتا تها کہ تم نے ایسا کیوں کہا وہ بس گالیاں بکتا تها ہاں اب وہ ہاته نہیں اٹهاتا تها
###
اور ایسا ہی اک برا دن پهر طلوع ہوا جب مریم کہ پیٹ میں درد اٹها اور بهابهی نے ایک غلط رنگ دے کر اسے شہباز کے کان میں ڈال دیا اور شہباز نے اسے خوب پیٹا اس دن وہ چیخی چلائی اسے دل کهول کر بد دعائیں دیں مگر اس نے آج بهی غلط بات کی وضاحت نہیں دی وہ اسے اب اس قابل سمجهتی ہی نہیں تهی کہ وضاحت دے
تم اس لڑکے کو کال کرو اور کہو کہ تم سے نکاح کرے اور تمہیں لے جائے. ابو اور شہباز نے اسے ایک اور موقع دیا اور مریم بهی اب تنگ آچکی تهی اس نے عمیر کو کال کی.
مریم یہ ان سب کی چال ہے وہ مجهے وہاں بلا کر مار دیں گے اور تمہیں بهی. عمیر نے خدشہ ظاہر کیا
کچه نہیں کہیں گے تم بتاو تم مجه سے نکاح کرو گے یا نہیں. مریم نے واضح اور دو ٹوک بات کی.
میں کروں گا مگر میں وہاں نہیں آوں گا تم انہیں کہو وہ تمہیں کراچی ائرپورٹ تک چهوڑ دیں میں فون پہ نکاح کرنے کو تیار ہوں اور تمہیں اپنے پاس یہاں رکهوں گا. عمیر اب کوئی رسک نہیں لے سکتا تها وہاں جا کر
تم نے بے وقوف سمجه رکها ہے انہیں. میں گهر سے بهاگ گئی پهر بهی موقع دے رہے ہیں وہ. مریم نے غصے سے کہا
مریم تم مجه سے پوچه کر نہیں بهاگی تهی. مجهے تم بتاتی تو میں تمہیں کبهی یہ مشورہ نا دیتا کہ تم گهر سے بهاگ جاو. اس کے باوجو میں تم سے نکاح کو تیار ہوں مگر جان بوجه کے موت کے حوالے خود کو نہیں کرسکتا وہاں آکر. اور اگر وہ نہیں مانتے تو تمہیں یہی مشورہ دوں گا اپنی زندگی کو اور خراب مت کرو جہاں وہ کہیں شادی کر لو. عمیر نے بات ختم کر دی مریم نے کال کاٹ دی
###
اس نے بے غیرت سمجه رکها ہے مجهے کہ اسے وہاں چهوڑ آوں وہ اس سے نکاح تک کرنے یہاں نہیں آیا جس کے لیے اس نے بهائی باپ کہ منہ پہ کالک مل دی یہ تمہاری بهول ہے کہ میں یہ کروں گا. بہت موقع دے چکا اب تم ندیم سے ہی شادی کرو گی. شہباز کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا پیچهے چیختی چلاتی گالیاں بکتی مریم کی آوازیں اس کے دماغ پہ ہتهوڑے کی طرح برستی رہیں
تم مرد بنو بیغیرت نا بنو مار اس کی مانتے جا رہے ہو وہ کوئی حج کر کے نہیں آئی کہ سب اس کی ماننے پہ مجبور ہو ندیم سے شادی کرو اسکی ورنہ مار ڈالو. سب تایا چچا اس کو لعن طعن کر رہے تهے کہ اس نے مریم کو سر پہ بٹها لیا بجائے اسے ٹهوکر پہ رکهنے کے.
####
کهانا کها لو. سائرا نے شہباز کا دهیان دوبارا کهانے کی طرف دلایا. مگر وہ خاموش چت لیٹا چهت کو گهور رہا تها اس کی آنکهیں سرخ تهیں.
کیا سوچ رہے ہو ؟ سائرا کو اسے پهر مخاطب کرنا پڑا. صبح کے گیارا بج رہے تهے وہ بنا کچه بولے بیڈ سے اٹها اور قدم قدم چلتا بہنوں کے کمرے کی طرف آیا روبینہ اور ثمینہ اپنی کتابیں لے کے بیٹهی تهیں اس نے آہستہ سے ان کے کمرے کا دروازہ بند کیا اور باہر سے کنڈی لگا دی.
اب اس کا رخ اپنے کمرے کی طرف تها سائرا کچن میں جا چکی تهی اس نے آہستہ سے الماری کا لاک کهولا گن نکالی. اور اسے سیلف لوڈڈ کیا. اور گن چهپا کے باہر نکلا. کچن کی طرف بڑها جہاں سائرا برتن دهونے میں مصروف تهی اس نے کچن کا دروازہ بند کیا اور باہر سے لاک کر دیا. سائرا نے اس سے وجہ پوچهی مگر وہ آگے بڑهتا گیا. اس کا دماغ تهک چکا تها اس کی برداشت ختم ہو چکی تهی اس نے مریم کے کمرے کا دروازہ کهولا مریم نیچهے کارپٹ پہ بیٹهی روبینہ کی شرٹ سلائی کر رہی تهی. شہباز کو سر اٹها کر دیکها اسے شہباز کے چہرے پہ کچه غیر معمولی سا لگا وہ چونک گئی.
تم چاہتی تهی نا تمہیں مار ڈالوں… شہباز نے گن آگے کی… اج تمہاری یہ خواہش پوری کر دیتا ہوں… اس نے گن مہارت سے ہاتهوں میں پکڑی ٹریگر پہ انگلی رکهی…. وہ چاہتا تها وہ اس کی منت کرے اس سے معافی مانگے…. مگر وہ تو اس کی بہن تهی اس کے جیسی…. اس نے ایک لفظ بهی نہیں کہا مگر موت کا خوف اس کے چہرے کو سفید کر گیا اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا اس نے ترحم بهری نظروں سے اپنے سامنے کهڑے اس بهائی کو دیکها جو اس کا قاتل بننے کے لیے سامان تیار کر چکا تها
شہباز کا دل دکهنے لگا پسیج گیا اس کا خوف دیکه کر اس کے ہاته کانپے. مگر اگلے ہی پل اس کا چہرہ بدل گیا… ترس کی جگہ وحشت نے لے لی، رحم کی جگہ سختی نے لے لی اور جب دل سخت کر دیئے جائیں تو کچ نہیں بچتا…. اس نے ٹریگر پہ انگلی کا دباؤ بڑها دیا…. تپتی ہوئی لوہے کی سلاخ اس کے جسم میں گهستی چلی گئی…. اس نے پهر ٹریگر دبایا دو… تین…. چار…. پانچ….چه… سات…. آٹه اس نے انگلی ہٹا لی اور خون میں لت پت اس بہن کو سفاکیت سے دیکها جو ماں بن کر ان کا گهر سمبهالتی آئی تهی اس کا دل رو رہا تها مگر اس کا دماغ مطمئن تها.. وہ وہیں کهڑا رہا وہ تڑپتی رہی پهر وہ کمرے سے نکلا باری باری دونوں دروازے کهول دیئے جہاں وحشت زدہ بہنیں کهڑی تهیں.
جاو اس کے پاس اب تم سب کو سبق مل جائے گا کہ بهائیوں کی عزت کو رسوا کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے. وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا روبینہ بهاگ کے کمرے میں گئی جہاں مریم خون سے لت پت پڑی تهی اس کا جسم حرکت نہیں کر رہا تها روبینہ نے اس کا سر اپنی گود میں لیا مگر تب تک وہ آخری سانس بهی لے چکی تهی اس کی روح پرواز کر چکی تهی ہر برائی اس کے ساته مٹ چکی تهی روبینہ نے آنسوؤں سے بهری آنکھوں سے اسے دیکها جس کی ٹهوڑی پہ گولی لگی تهی وہ اور بهی خوفناک لگ رہی تهی بدصورت لڑکی…..
شہباز گلی سے گزرتے ہوئے ابا کی دکان کے سامنے رکا.
جاو تمہاری بیٹی کو مار کے جا رہا ہوں جاو تم بهی دیکه لو. وہ بے رحمی سے کہتا ہوا آگے بڑه گیا اسے کہیں جا کے چهپنا تها پولیس کے آنے سے پہلے. عباس صاحب کو لگا چهت ان پر آگری ہے وہ لڑکهڑاتے ہوئے اٹهے ان کی آنکھوں کے سامنے اندهیرا چها گیا انہوں نے دیوار کا سہارا لیا اور بے اختیار بلند آواز میں رونے لگے شہباز تجهے اللہ غارت کرے میری بیٹی کی جان لے لی تم نے وہ پوری گلی میں روتے ہوئے دیوار کے سہارے چلتے جا رہے تهے بدعائیں دیتے روتے پیٹے…… مگر جانے والی جا چکی تهی… باغی اپنے انجام کو پہنچ چکی تهی برائی جڑ سے ختم ہو گئی تهی….
وہ ایک کچی سی عمر والی کے فلسفے کوکوئی نا سمجها
جب اس کے کمرے سے لاش نکلی خطوط نکلے تو لوگ سمجهے
ختم شد
