Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary NovelR50719 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 01
Rate this Novel
Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 01 (Watching)Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 02 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 03 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 04 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 05 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Last Episode
Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 01
گهرمیں ایک ہنگامہ مچا تها ہر کوئی بهاگم بهاگی میں لگا تها کسی کو سکول جانے کی جلدی تهی کسی کو ناشتہ بنانے کی فکر تو کسی کے گهر کے باقی کام وقت پہ کرلینے کی فکر.
ایسے میں بس ایک فرد جو اپنی جگہ پہ خاموش تهی آتے جاتے دوڑتے بهاگتے سب کو دیکه رہی تهی. اس کی نظروں میں ان سب لوگوں کے لیے کچه بهی نہیں تها نا پیار، نا غصہ نا ہمدردی…..
بلکل ویسے ہی جیسے باقی سب کو اس کی کوئی پرواہ نہیں تهی. گهر کے ایک کونے میں پڑی ہوئی پڑی ہوئی بےکارچیز جو کسی کے کام کی نہیں تهی کسی کو اس کی ضرورت نہیں تهی. ہوتی بهی کیوں؟ گهنے گهنگرالے بال جو ہر وقت کهلے رہتے خود سے بے نیاز میلے کچیلے حلیے میں رہنے والی اس پر اسرار لڑکی میں کوئی دلچسپی لیتا بهی کیسے جس سے اگر بهولے سے بات کر لی جاتی تو وہ کاٹ کهانے کو دوڑتی. سارا دن کمرے کے ایک کونے میں پڑی رہتی کوئی کہتا اس پہ پراسرار سایہ ہے کوئی کہتا اس کمرے میں بهوتوں کا بسیرا ہے اور یہ ان کی سہیلی ہے. مگر اس کو ان باتوں کی پرواہ نہیں تهی یا شاید اس نے پرواہ کرنا چهوڑ دی تهی
####
سکول سے واپسی پر گرمی سے تهکی ہاری وہ چاروں بہنیں بستر پر گئیں.
اٹه روبینہ مجهے پانی پلا. سب سے بڑی بہن رانی نے اپنی چوتهے نمبر کی بہن روبینہ کو حکم دیا
کیا ہے باجی میں بهی تو تهک کر آئی ہوں. خود اٹه کر پی لو نا تم. روبینہ نے سستی سے کہا
تم اٹه رہی ہو کہ لگاوں ایک تهپڑ تمہیں؟ رانی نے اسے گهورتے ہوئے اپنے بڑے ہونے کا فائدہ اٹهایا اور روبینہ برے برے منہ بناتی اٹه گئی.
باجی وہ لڑکا تمہیں کیسے گهور رہا تها اور ہے بهی کتنا پیارا نا. تیسرے نمبر والی ثمینہ نے حسرت اور اشتیاق سے کہا
میں ہوں ہی اتنی پیاری کہ کوئی بهی پاگل ہو سکتا ہے وہ تو عام سا لڑکا ہے. رانی نے فخر سے کہا 20 سال کی رانی بے حد خوبصورت نا سہی مگر اتنی پیاری تهی کہ یہاں کے گهٹن ذدہ ماحول میں جہاں لڑکیوں کا گهر سے باہر نکلنا گناہ سمجها جاتا ہو ایک گوری چٹی جوانی کے اوائل مراحل سے گزرنے والی لڑکی کسی کی بهی توجہ کا مرکز بن سکتی تهی.تعلیم چونکہ وہاں غیر ضروری چیز سمجهی جاتی تهی اس لیے اب تک وہ 8th میں تهی ایک تو وہ پہلی لڑکی تهی جو سکول گئی اس پہ اکلوتا بهائی اور بے رحم باپ کی اجازت میں کئی سال سکول کی شکل نا دیکه پائی
ہاں باجی تم ہو تو بہت پیاری. ثمینہ نے حسرت کی نگاہ اپنی بہن پہ ڈال کر سادہ لہجے میں کہا. اور اپنے سانولے ہاتهوں کو دیکها شاید جب وہ باجی کی عمر کو پہنچ جائے تو وہ بهی پیاری دکهنے لگے. اس نے باجی کے گورے چٹے ہاتهوں کو دیکه کر سوچا
ہاں وہ لڑکا مجهے کہتا ہے اپنی باجی کو خط دے آو. میں تو ڈر کر بهاگ گئی روبینہ نے پانی کا گلاس رانی کو تهمایا.
کیا؟ اس نے تجهے ایسا کہا؟ اچها کیا بهاگ ائی بهائی کہیں دیکه لیتا ہمیں زندہ نا چهوڑتا اس کے پاس نا جایا کر. رانی نے سختی سے اسئ منع کیا مگر دل میں لڈو پهوٹنے لگے کوئی اسے اہمیت دے رہا تها پہلی بار کا احساس پہلی بار بہار کی دستک.
یہ شومی کدهر ہے. رانی نے بات بدلنے کو اپنی پانچویں نمبر والی بہن کا ذکر کیا جس کا نام تو مریم تها مگر اسے مریم کہتا کون؟ ظاہر ہے ایسی بدصورت لڑکیوں کے نام بهی ایسے بے تکے بولنے چاہیئے
اس نے کہاں ہونا ہے پڑی ہے اسی بهوتوں والے کمرے میں بال بکهیرے. نا سکول جاتی ہے نا گهر کا کام کرتی ہے. روبینہ نے اپنی چهوٹی سے ناک نخوت سے چڑهائی
اس نے سکول جا کر کرنا بهی کیا ہے اس کو کون سا کسی نے میم لگا دینا ہے شکل بهی دیکهتے ہیں لوگ پڑهنے سے کیا ہوتا ہے. رانی نے تمسخرانہ ہنستے ہوئے کہا اور وہ دونوں بهی خوب انجوائے کر کے ہنسنے لگی.
کیا کهی کهی لگا رکهی ہے تم لوگوں نے یہ لڑکیوں کے طریقے ہوتے ہیں؟ تمہاری آواز کمرے سے باہر تک جا رہی ہے تمہیں ہزار بار کہہ چکا ہوں مت ہنسا کرو اب جب جوتے سے تم لوگوں کا منہ لال کر دوں گا تب سمجه آئے گی میری بات؟ شہباز بهائی اچانک سے کمرے میں آئے اور ان پر برس پڑے ان سب نے جلدی سے دوپٹہ اپنے سر پر لیااور کمرے میں موجود تینوں نے جیسے اپنی سانس بهی روک لی کہ کہیں سانس لینے پر بهائی پٹائی نا کر دیں.
آئیندہ میں نے تم لوگوں کو ہنستے دیکها تو وہ حشر کروں گا کہ پهر ہنسنا بهول جاو گی. شہباز نے انگل اٹها کے دهمکی تهی اس کی بڑی بڑی آنکهیں غصے سے سرخ اور کربناک ہو رہی ےتهی.وہ بکتا جهکتا کمرے سے نکل گیا اور سب کی جان میں جان آئی. جب کہ دوسرے کمرے میں موجود مریم دل ہی دل میں ان خوش ہوئی
####
وہ چهے بہنیں کا اکلوتا بڑا بهائی تها ماں باپ نے پورا گهر کا نظام اس کے ہاته میں دے رکها تها آخر وہ اکلوتا بیٹا تها اور اس کو اف بهی نہیں کہا جا سکتا تها نا ماں باپ کی طرف سے اور بہنوں کی طرف سے تو ناممکن سی بات تهی اس سے نظر ملانا بهی.
وہ گهر میں سب بہنوں کو قرآن خود پڑهاتا تها. کسی مدرسہ میں جانے کی اجازت نہیں تهی کیونکہ وہ گهر سے بہت دور تهے اور کسی مولوی صاحب کے حوالے وہ بہنوں کو ہرگز نہیں کرسکتا تها. اس لیے خود پڑهانے لگا.
مگر ان سب کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا تهاایک تو اس کا خوف ہوتا تها اور وہ بات بات پہ ایک زور دار تهپڑ رسید کرتا اس لیے کہیں اٹکے تو تهپڑ کهانا پڑے گا. ان سب میں ایک مریم تهی جو تهپڑ کهانے کے بعد بهی ری ایکٹ نہیں کرتی تهی جیسے اس کے لیے یہ معمولی بات تهی.
####
روکو بات سنو! سکول سے واپسی پہ ایک قدرے تنگ اور ویران گلی میں وہ ان کے پیچهے آیا اور انہیں مخاطب کیا
وہ لوگ ڈر کے مارے اور تیز چلنے لگی. رانی نے اسے پیچهے مڑکر دیکها اس نے ہاته کی طرف اشارہ کیا. اس کے ہاته میں ایک خط تها رانی نے جلدی سے چہرہ موڑ لیا اور گلی کا موڑ مڑ کر رک گئی.
دیکهو وہ آرہا ہے؟ رانی نے ادهر ادهر دیکهتے ہوئے روبینہ سے کہا.
نہیں رکا ہوا ہے ادهر. روبینہ نے گلی سے جهانکتے ہوئے کہا. جب کے اس لڑکا نے ان کے رکنے پر وہ کاغذ وہیں ایک دیوار میں پهنسا دیا اور خود تهوڑا دور ہٹ گیا
اس نے خط وہیں رکه دیا ہے. روبینہ نے پهر سے نظر ڈالتے ہوئے خبر دی
جاو بهاگ کے جاو لے کر آو خط. رانی نے اسے جلدی سے دهکا دیا اور روبینہ بهاگتے ہوئے خط نکال کے گلی کا موڑ مڑ کر پیچهے دیکها وہ لڑکا مسکراتا ہوا اب واپس مڑ گیا
رانی نے جلدی سے کاغذ جهپٹ کر مٹهی میں دبوچ لیا کانپتے ہاتهوں اور دهڑکتے دل کے ساته وہ تیز تیز قدم اٹهانے لگی
_________
رانی نے کمرے آتے ہی بیگ اتارا عبایا اتار کے پهینکا ہاته میں مڑے تڑے کاغذ کو اس نے جلدی سے کهولا اور پڑهنے لگی جس میں اس کی آنکھوں کی تعریفیں اپنی محبت کے اظہار وعدے قسمیں سب کچه ہی تها جو رانی کے دماغ کو راہ سے بهٹکانے کے لیے کافی تها. اپنی خوبصورتی پہ پہلے ہی وہ غرور تها اب اسے لگنے لگا اس کے جیسا شاید ہی کوئی اس دنیا میں ہو. اس نے روبینہ اور ثمینہ کو بهی وہ خط پڑهوایا تاکہ انہیں بهی پتا چلے ان کی بہن کیسے کسی پہ جادو کر سکتی ہے. وہ اس لڑکے کو اچهے سے جانتی تهی گهر کی پچهلی گلی میں رہنے والا ایک آوارہ اور نکما لڑکا. مگر اسے بهی ہر لڑکی کی طرح ایک قبول صورت سٹائلش لڑکا متاثر کر سکتا تها اور ایک یہی نہیں اسے ہر سمارٹ لڑکا متاثر کر سکتا تها.
تم لوگوں نے کهانا نہیں کهایا آج. امی ایک دم سے دروازہ کهول کر اندر آئی.
جی امی بس آرہے کهانے. رانی نے جلدی سے خط تکیے کے نیچے دبا دیا مگر ماں کی نظر جوان بیٹیوں پر ہمیشہ رہتی ہے
یہ کیا چهپایا ہے تم نے؟ امی نے سخت لہجے میں کہا
کچه نہیں امی وہ بس… رانی سے کوئی جواب نا بن پڑا تو چپ ہو گئی. جبکہ امی نے تکیہ کے نیچے سے کاغذ گهسیٹ لیا
یہ کیا ہے ان کی چهٹی حس نے انہیں بہت کچه سمجها دیا تها.
کچه نہیں امی یہ شاعری لکهی تهی وہی ہے رانی نے سکه کا سانس لیا کہ امی پڑهی لکهی نہیں تهیں ورنہ آج اس کی خیر نہیں تهی
چلو تم لوگ کهانا کها لو. اس جنات کی ماری کو تو کہنا بےکار ہے بهوک لگے گی تو ٹهونس لے گی. ان کا لہجہ ایکدم مریم کے زکر پہ بدل گیا جیسے کوئی کڑوی گولی کها لی ہو. ان کو اپنے وہی بچے پسند تهے جو پیارے تهے اور مریم.. سوائے پرکشش آنکھوں کے کچه بهی تو نہیں تها اس میں.
رانی نے ان سے کاغذ جهپٹ کر بیگ میں رکه دیا.
مریم اپنے لیے بولے گئے ان ارشادات پہ تپ گئی.
نہیں کهانا مجهے کوئی کهانا اپنی شہزادیوں کو کهلاو مجهے تو تم نے کسی کچرے کے ڈهیر اٹهایا تها. مریم وہی سے چیخ کر بولی
تو بی بی تمہارے اندر کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں شکل تو خدا نے بنائی ہی منہوس تهی تمہارے اس پہ تمہارے یہ چلن لوگ تمہیں جنات کی سہیلی کہنے لگے ہیں. اماں نے ہر لحاظ بالائے طاق رکهتے ہوئے کہا اور یہ پہلی بار نہیں تها ہر بار یہی ہوا تها
تو گلہ گهونٹ دیتی میرا مار دیتی مجهے بدصورت تهی میں اگر میری بهی جان تمہارے جیسی ماں کے ہاتھوں عذاب نا بنتی. مریم جیختی ہوئی کمرے سے نکل آئی
زبان چلاتی ہے ماں کے سامنے بے غیرت تجهے پیدا کیا یہی میری غلطی تهی. اماں کے ہاته میں گلاس آیا اور انہوں نے وہی اٹها کے پهینکا مریم چونکہ اس کے لیے تیار نہیں تهی گلاس سیدها اس کے اوپرے ہونٹ پر لگا گلاس کے تیز کنارے نے اس کے ہونٹ پہ کٹ لگایا اور خون تیزی سے اس کے ہونٹ سے بہہ کر نیچے گرنے لگا. پانچوں لڑکیاں انکهیں پهاڑے ماں اور بہن کی لڑائی دیکه رہی تهی مریم نے زمین پہ گرتے خون کے قطروں کو حیرت سے دیکها اور واش روم کی طرف بهاگی
###
ایک تو پہلے ہی حور پری تهی اوپر سے اماں نے اور بدصورت بنا دیا. وہ تینوں مریم کے سوجے ہوئے ہونٹ کو دیکه کر چپکے سے ہنس رہی تهی جبکہ مریم جانتی تهی اس پہ کمنٹس ہو رہے اس کا دل غصہ سے جل رہا تها دل کیا ان تینوں کے منہ نوچ لے ان کی ہنسی اس کے دل پہ نشتر چلا رہی تهی تبهی رانی نے عادت کے مطابق زور سے قہقہہ لگایا اور اس بار مریم کی برداشت ختم ہو گئی اور وہ رانی پر ٹوٹ پڑی اس نے اپنے نوکیلے میلے ناخنوں سے رانی کا منہ نوچ لیا رانی نے سمبهلتے ہوئے اس کے بال مٹهی میں لے لیے مگر تب تک اماں وہاں پہنچ چکی تهی انہوں نے مریم کو کهینچ کے اپنی “پیاری” بیٹی سے الگ کیا اور دو تین تهپڑ اسے جڑ دیئے مریم اس نا انصافی پہ تلملا کے رہ گئ اس کے ہاته میں جهاڑو ایا جو اس نے امی کو مارنے کے لیے اوپر اٹهایا مگر اس کا ہاته ہوا میں رک گیا ناصرہ بیگم نے خوف سے اس کی آنکھوں کو دیکها کیا نہیں تها ان میں وحشت، غصہ، نفرت جو کہ بدل کر شکوہ بن گیا ایک ماں سے اس کی نا انصافیوں پہ کیا گیا شکوہ.
اس نے جهاڑو زور سے زمین پر پٹخا اور تیز تیز قدم اٹهاتی اپنے اسی کمرے میں چلی گئی جو اس کی اماجگاہ تها. یہاں کوئی نہیں تها اس پہ ہنسنے والا اس کا مذاق اڑانے والا.
جب کے ناصرہ بیگم حیران کهڑی تهیں وہ اور بهی بدصورت دکهنے لگی تهی اور ایسا رویہ کون کرے گا اس سے شادی. انہوں نے نخوت سے سوچا
###
وہ لڑکا جس کا نام بلال تها گلی میں ان کا منتظر تها رانی نے روبینہ کو اشارہ کیااور روبینہ نے جلدی سے ہاته میں پکڑا لیٹر اس لڑکے کو تهما دیا. اس نے ہنستے ہوئے رانی کو دیکها جواباً وہ بهی ہنسی اور آگے بڑه گئی. اس نے یہ خط رات ہی بیٹه کر لکها تها اس کی کی گئی تعریفوں کے جواب میں اسے اپنی “فیلنگز” بتانے لگی جو کہ ایک ہی دن میں اپنی تعریفیں سن کر پیدا ہو گئی تهی. اور یہ سلسلہ یہی نہیں رکا خطوں کا تبادلہ ہوتا رہا اور اب وہ ان کے گهر کے باہر گیٹ پہ آکے کهڑا ہو جاتا اور رانی اور چهت سے اس کو دیدار کا شرف بخشتی یہ سوچے سمجهے بغیر کے وہ اپنے دوستوں میں بیٹه کر اس کے خط پڑه کر کتنا ہنستا ہو گا
####
شہباز قرآن پڑهانے میں مصروف تها اور اماں اس کے لیے نت نئی ڈشز بنانے میں مصروف تهی ان کی کل کائنات یہی بیٹا تها گهر میں موجود ہر اچهی چیز پہلے بیٹے کو دیتی اور جو بچ جاتا بیٹیوں کو ملتا اور بیٹیوں میں یقیناً مریم شامل نہیں تهی.
مریم اور رانی قرآن تو مکمل کر چکی تهی .گر وہ سب سے روز قرآن سنا کرتا تها یا شاید اسے پسند تها ان پہ رعب بنائے رکهنا
ہا باجی تم نے بهائی کی تصویر کیوں کاٹ دی. رانی اپنی اور بهائی کی تصویر کاٹ کر الگ کر رہی تهی جب روبینہ نے حیران ہو کر کہا یا شاید اس کے منہ سے پهسل گیا بس پهر کیا تها شہباز نے او دیکها نا تاو رانی پہ تهپڑوں کی بارش کر دی اور ہمیشہ کی طرح ناصرہ بیگم نے بیچ بچاو کیا اور اس کے سامنے رانی کو ڈانٹنے لگی جبکہ دل میں انہیں اپنی پیاری بیٹی کی پٹائی پہ دکه ہو رہا تها شہباز اسے گهورتا ہوا باہر نکل گیا. مریم یہ سب تماشا کسی نارم روٹین کی طرح دیکه رہی تهی یہ ان کے گهر میں عام سی بات تهی اسے نا اپنی بہن سے ہمدردی تهی نا وہ خوش ہوئی تهی. اس گهر میں سوائے دادی کے اور کوئی نہیں تها جن سے وہ پیار کرتی تهی اور جو اس سے پیار کرتی تهیں
###
تم جانتی ہو میں اس کے بارے میں آج کیا سن رہا ہوں؟ شہباز غصہ سے دندناتا ہوا گهر میں آیا اور طوفان مچا دیا
کیا ہوا بیٹا مجهے تو بتاو کیوں اپنی بہن خی جان لینے پہ تلے ہوئے ہو. ناصرہ بیگم نے کسے انجانے خوف سے پوچها
اس بیغیرت سے پوچهو اماں کیا کرتی پهر رہی ہے ہماری عزت گلیوں میں رولتی پهر رہی ہے اس آوارہ بلال کے ساته چکر چل رہا ہے اس کا. میں اج اسے چهوڑوں گا نہیں وہ رانی کی طرف لپکا مگر رانی بهاگ کے کمرے میں گهس گئی اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا
کیا تماشا لگا رکها ہے تم لوگوں نے گهر میں باہر تک آوازیں آرہی ہیں. عباس صاحب جو کے گهر کے پاس ہی ایک دکان چلاتے تهے شور سن کر اندر آگئے
آ ابا تو بهی سن لے اپنی لاڈلی کے کارنامے سکول جانے کے نام پر کیا کالک مل رہی ہے ہمارے منہ پر یہ. اس نے ابا کو دیکه کر آواز اور بهی بلند کر لی
تجهے شوق تها نا پڑهنے دو پڑهنے دو اب دیکهو یہ پڑه کر آئی ہے یہ. میں تم دونوں کو بتا رہا ہوں اس کی سکول سے بس کرواو ورنہ میں اس کو زندہ نہیں چهوڑوں گا. وہ انگلی اٹها کر امی ابو کو دهمکی دیتے یوئے گهر سے باہر نکل گیا اور عباس ساحب نے الجهی ہوئی نظروں سے اپنی بیوی کی طرف دیکها جو سر جهکا گئیں
###
رانی کا سکول جانا بند ہو گیا مگر خط و کتابت بند نا ہوئی روبینہ کے ذریعے وہ اب بهی اس کو پیغام بهجوا اور منگوا رہی تهی. یہ باتوں کا سحر یہ لفظوں کا جال ہے ہی ایسی چیز جو اس جیسی کم عمر لڑکیوں پہ اپنا ایسا اثر دکهاتا ہے جو مرنے کا خوف بهی ختم کرنے لگتا ہے. مرد لفظوں کا جادوگر کہلاتا ہے اور اس پہ یہ جادو چلنے لگا تها اور اسی جادو کے اثر نے اس سے ایک اور غلط کام کروا دیا.
اج بلال نے اسے ملنے کو کہا تها کہیں جانا تو رانی کے لیے ناممکن تها اس نے بلال کی ضد پر اسے گهر ہی بلوا لیا. جیسے جیسے رات کی سیاہی چهانے لگی تهی رانی کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی تهی. تبهی اسے دیوار سے ایک سایہ نطر آیا اور سایہ اس کے گهر کے صحن میں کودا اور تیزی سے رانی کے کمرے کی طرف بڑهنے لگا جہاں دروازے کی درز سے وہ جهانکتی ہوئی اس کی منتطر تهی.بلال جلدی سے کمرے کے اندر آگیا اس کے چہرے پہ کوئی ڈر یا خوف نہیں تها جبکہ رانی کے ہاته پیر بےجان ہو رہے تهے اسے کمرے میں سوئی بہنوں کا کوئی ڈر تها وہ اٹه بهی جاتی تو کسی کو کچه نا بتاتی مگر رانی کے جسم سے جان تب نکلی جب کمرے کا دروازہ پہ کهٹکا ہوا اس کا چہرہ لٹهے کی طرح سفید پڑ گیا بلال جلدی سے الماری میں چهپ گیا جہاں ان لوگوں کے بستر رکهے ہوتے تهے.
رانی نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کهولا باہر مریم کهڑی تهی چہرے پہ ہمیشہ کی طرح کرختگی بال بکهرے ہوئے. بنا کچه کہے وہ اندر آئی اور بستروں والی الماری کی طرف بڑه گئی رانی کو لگا اس کے جسم سے کسی نے جان کهینچ لی ہے وہ مریم کے پیچهے لپکی مگر تب تک وہ الماری کهول چکی تهی یہ بهی غنیمت تها کہ کمرے کی لائٹ آف تهی مریم نے بستر نکالا اور کرنٹ کها کے پیچهے ہٹی اس کے ہاته کو کسی کا ہاته ٹط ہوا.
کیا ہوا؟ رانی نے جلدی سے پوچها جبکہ مریم نے جواب دینے کے بجائے اسے گهورا اور بستر نکال کر باہر نکل گئی رانی اندهیرے کہ وجہ سے اندازہ نہیں کر پائی اس کے تاثرات کیا تهے.
اس نے جلدی سے بلال کو وہاں سے نکل جانے کو کہا بلال محتاط سا چلتا ہوا باہر نکلا اور دیوار کے پاس پہنچا رانی دروازے کے درز سے اسے جاتا دیکه رہی تهی اور دل ہی دل میں دعا نانگ رہی تهی کہ وہ جلدی چلا جائے.
بلال جیسے ہی دیوار کے پاس پہنچا کسی کے چلانے کی آواز شروع ہو گئی. شہباز ابو جلدی آئیں گهر میں چور ہے. بلال نے مڑ کر دیکها صحن کے بیچوں بیچ کهڑی وہ پر اسرار سی خوفناک حلیے میں کهڑی مریم تهی.جو اسے دیکه کر چلا رہی تهی. رانی نے جلدی سے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اس کے ہاته پاوں بے جام ہونے لگے
