Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 03

میں جان نا لے لوں اس ندیم کی وہی تیلی پہلوان رہ گیا تها میرے لیے جس کو کوئی بیٹی نہیں دیتا تها. میں جتنی بهی بدصورت ہوں اس ڈیڑه ہڈی سے ہرگز شادی نہیں کروں گی. مریم برتن اٹها اٹها کر پٹخنے لگی اس کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تها جب کہ ثمینہ ایک کونے میں سمٹی آنکھوں میں ڈهیروں آنسوں لیے اسے دیکهتی رہی وہ تو چیخ چلا بهی نہیں سکتی تهی. اسے سمجه نہیں آیا اسے زیادہ دکه کس بات کا ہے پڑهائی چهوڑنے کا اتنی سی عمر میں شادی کرنے کا یا پهر اس سانڈ جیسے منور سے شادی کرنے کا. اس کا ڈیل ڈول ہی اتنا بهاری تها کہ وہ شکل سے خرانٹ اور بڑی عمر کا دکهنے لگا تها
تم کیوں رو رہی ہو میں ابهی زندہ ہوں ان کا منہ نوچ لوں گی ہمیں بهیڑ بکریاں سمجه لیا ہے نا مانے تو زہر کهلا دوں گی تم سب کو بهی اور خود بهی کها لوں گی. مریم نے اسے روتا ہوا دیکه کر غصے سے کہا ثمینہ نے اپنا چہرہ بازوؤں میں چهپا لیا وہ جانتی تهی مریم کچه نہیں کر سکتی ان سب کے ساته یہی ہونا تها یہی ان کی قسمت میں تها.
کیا کرو گی تم زرا مجهے بهی بتاو کیا اعتراض ہے تمہیں اس پہ کیا خرابی ہے ان دونوں میں. شہباز اچانک سے کمرے میں آیا وہ یقیناً سب سن چکا تها لڑکیاں اپنی جگہ سہم گئیں.
تو خوبیاں کونسی نظر آئیں تمہیں ان نمونوں میں. تمہیں شوق ہے اس توتلی سے شادی کرنے کا تو شوق سے کرو ہم نہیں دیں گی یہ قربانی. مریم نے بنا کسی خوف کے کہا مگر وہ اس کی آنکھوں میں دیکه کر یہ سب نا کہہ پائی اندر دل دهک دهک کر رہا تها
میں تم دونوں کے لیے کر رہا ہوں یہ شادی اپنی فیملی ہے تمہیں اعتراض نہیں ہونا چاہیے بجائے انہیں سمجهاو الٹا ان کو بهڑکا رہی ہو تم. شہباز نے اسے سمجهانا چاہا
جو بهی کہو میں اس سے شادی کسی قیمت پہ نہیں کروں گی مارنا ہے تو مار ڈالو مجهے. مریم کہتے ہوئے کمرے سے چلی شہباز دانت پیسنے اور مٹهیاں بهینچنے کے علاوہ کچه نا کر سکا. ثمینہ نے سہمی ہوئی نظروں سے ان دونوں کو دیکها اور مزید سمٹ گئی
_______
گهر کا ماحول بہت گهٹن زدہ ہو رہاتها شہباز بهائی نے ثمینہ کو سکول جانے سے روک دیا تها. اس کی گهٹی گهٹی سسکیاں مریم کے دل پہ ہتهوڑے کی طرح لگتی تهی اور اس کا دل کرتا تها وہ اس گهر کو آگ لگا دے اس میں ایک ایک فرد جل جائے تڑپے، چیخے لوگوں کو مدد کے لیے آوازیں دے مگر کوئی ان کی ہیلپ نا کرے بلکل ایسے جیسے ان پر ہونے والے ہر ظلم پہ ان کے چچا تایا کی فیملیز خاموش رہتی تهی.
شہباز نے سادہ سی منگنی کی تقریب رکه دی جس میں تینوں کو رسم کی انگوٹھی پہنائی جانی تهی. سارا ایک جهگڑالو تیز طرار مزاج کی لڑکی تهی اور زبان سے تهوڑی توتلی. شہباز نے اپنی خواہشات اپنے چوائس سائیڈ پہ رکه دی اگر اس کی دو بہنوں کی شادی اپنی ہی فیملی میں ہو جاتی تو اسے اس پہ بهی کوئی اعتراض نہیں تها اور اس میں کوئی شک نہیں تها وہ بلاشبہ ایک خوبصورت مرد تها.
###
تم لوگوں کی شاپنگ ہم نے کر لی ہے تم لوگ دیکه لو کیسی ہے. ثمینہ اور مریم کی ساس ان کو منگنی کی شاپنگ دکهانے کے لیے آئیں ہوئیں تهیں اور ایک ایک چیز جو کہ سستی سے سستی لی گئی تهی انہیں فخر سے دکها رہی تهی
اٹهاو یہ گند یہاں سے اور نکلو ادهر سے. مریم نے نیچے پڑے شاپنگ بیگز کو پیر سے ٹهوکر ماری.
یہ کیا کر رہی ہو بے وقوف لڑکی شگن کی چیزوں کے ساته ایسا کرتے ہیں. مریم کی ساس جو پہلے ہی خوفزدہ تهیں اس کے رویے سے بوکهلا گئیں اور چیزیں سمیٹنے لگیں
اس شگن کو آگ نا لگا دوں میں. اور سوچنا بهی مت میں تمہارے اس چهچهوندر بیٹے سے شادی کروں گی. اگر ہو بهی گئی اس کا بهی گلا دبا دوں گی اور تمہارا بهی. مریم کسی شیرنی کی طرح غرائی.
لڑکی ہوش کے ناخن لو کیا بکے جا رہی ہو کوئی لحاظ نہیں تمہیں بڑے چهوٹے کا. اب کے ثمینہ کی سانس نے اس بدتمیزی پہ اسے ٹوکا جتنی بدتمیز وہ تهی اس سے بعید نہیں تها کہ دهلائی بهی کر دیتی ساس کی.
کونسے بڑے؟ تم جیسے ہوتے ہیں بڑے کبهی آ کر پوچها ہم کیسے رہ رہے ہیں یتیموں کے جیسی زندگی ہم گزار ہے ہیں میری ماں ہمیشہ چپ رہی اور تم لوگوں نے اسے دبائے رکها سوچنا بهی نہیں کہ میرے ساته وہی کرو گی اٹهو نکلو ادهر سے ورنہ یہ سب اٹها کے گلی میں پهینک دوں گی. مریم نے انگلی اٹها کے دهمکی دی.
کیا تماشا لگا رکها ہے گهر میں. شہباز اچانک کمرے میں داخل ہوا
بیٹا یہ تو پاگل ہو گئی ہے اسے لگام لگا کے رکهو ورنہ کوئی گل کهلائے گی بڑی بہن کی طرح. ہم تو یہ چیزیں دکهانے آئے تهے اس نے اٹها اٹها کے پٹخنا شروع کر دیا. چچی نے تنک کر کہا
تمہارا دماغ اب تک ٹهکانے نہیں لگا. میں تمہارا لحاظ کر رہا ہوں تم الٹی منہ کو آرہی ہو. شہباز نے دانت پیس کر کہا
تم ہوتے کون ہو میرا دماغ ٹهکانے لگانے والے شروع سے ہم پر حکومت کرتے آئے ہو تم. ہم تمہیں بهیڑ بکریاں لگتی ہیں جیسے چاہو ویسے رکهو جہاں چاہو بانده دو. مریم نے ہر خوف لحاظ بالائے طاق رکه دیا
زبان چلاتی ہو میرے سامنے. شہباز نے اس کے منہ پہ تهپڑ دے مارا وہ لڑکهڑا کر دروازے سے ٹکرائی
دفع ہو جاو میرے سامنے سے میں تمہیں مارنا نہیں چاہتا تم مجهے مجبور مت کرو. شہباز نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا وہ اس کو مارنا نہیں چاہتا تها یہ وہ بہن تهی جس نے ان کے گهر کو ایک ماں کی طرح سنمبهالا تها.
تم دیکهو اب میں تم لوگوں کے ساته کرتی کیا ہوں مجهے رانی مت سمجه لینا. مریم کی آنکھوں میں بغاوت تهی غصہ تها وحشت تهی مگر آنسو نہیں تهے. ہاں وہ روتی نہیں تهی کبهی وہ برے سے برے رویے دیکهتی آ رہی تهی مگر وہ روتی نہیں تهی وہ آج بهی نہیں روئی تهی. دروازہ کو زور سے ٹانگ مار کر اس نے شہباز کو دیکها اور کمرے سے نکل گئی. شہباز سن کهڑا تها وہ کیا بتا گئی تهی؟ وہ کیا جتا گئی تهی؟ وہ سمجه کر بهی سمجهنا نہیں چاہ رہا تها کبوتر کی طرح آنکهیں بند کر لینا چاہتا تها آج اس کے دل میں کسی نئے نقصان کا ڈر پیدا ہوئے اس نے ساکن نظروں سے دروازے کو دیکها جو اس کی ٹهوکر سے اب بهی حرکت کر رہا تها آگے پیچهے.. ……
####
مریم کافی دیر سے سامنے موجود اس گهر کو گهور رہی تهی اس کا ذہن کہیں اور تها مگر اس کی نظریں اس گهر پہ ٹکی تهی اس کی سانس تیز چل رہی تهی ثمینہ کو اس سے خوف محسوس ہونے لگا وہ آج اسے وہی پرانی آسیب زدہ شومی لگ رہی تهی.
یہ لڑکا اب نہیں آتا یہاں. مریم نے اچانک روبینہ سے پوچها وہ اس بے تکے سوال پہ بری طرح چونکی
کون عمیر؟ روبینہ نے الجهتے ہوئے پوچها جبکہ مریم بنا جواب دیئے خاموشی سے اس گهر کو گهورتی رہی
اب وہ شام میں آتا ہے جب شہباز بهائی گهر پہ نہیں ہوتے تب ہماری بات ہوتی ہے. روبینہ نے نا سمجهنے والے انداز میں بتایا
کیسے بات کرتے ہو؟ مریم نے سوال کیا مگر نظریں نہیں ہٹائیں
خط کے ذریعے اور کبهی اشاروں سے. روبینہ اس کو سمجه نہیں پا رہی تهی
اسے کہو موبائل بهجوائے ایک. مریم نے ٹهنڈے لہجے میں اس پہ حیرت کا پہاڑ توڑا
تم پاگل ہو گئی ہو؟ تم ہم سب کو مروانا چاہتی ہو؟ اب کے ثمینہ بولی
تو جو زندگی تم گزار ہو رہی ہو اس سے بری ہو گی موت. مریم نے طنزیا نظروں سے ثمینہ کو دیکها.
شومی بس کر دو یہی ہماری قسمت ہے مان لو ایسا کچه مت کرو جس سے نقصان صرف ہمارا ہو خدا کے لیے رحم کرو خود پر بهی اور ہم پر بهی. ثمینہ نے اس کے آگے ہاته جوڑ دئیے وہ جانتی تهی اس کی بغاوت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا وہیں جو طئے ہو چکا ہے. مریم نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموشی سے اس گهر کو دیکهنے لگی.
####
عمیر کو حیرت کا جهٹکا لگا وہ اسے کیا کہہ رہی تهی. عمیر روبینہ سے بات کر رہا تها جب مریم وہاں آئی اور اسے اشارے سے موبائل بهجوانے کو کہا.
وہ کبهی مریم کو دیکهتا اور کبهی روبینہ کو دیکه رہا تها
اسے لکه کے بهیجو میں نے اس سے بات کرنی ہے مجهے موبائل بهجوائے. مریم نے روبینہ کو کہا اور روبینہ بنا کسی بحث کے لکهنے لگی اور کاغذ اس کی طرف اچهالا عمیر نے جلدی سے کاغذ اٹهایا اور اس پہ لکهی تحریر پڑهی اس سمجه میں نہیں آرہا تها وہ کیا کہے. اس نے میکانکی انداز میں اسے لکها میں بهجوا دوں گا کل تک. جسے پڑه کر مریم اسے دیکه کر مسکرائی اسے حیرت کا ایک اور جهٹکا لگا آج مریم اسے حیران کرنے پہ تلی ہوئی تهی جب کہ وہ اندر کمروں میں غائب ہو چکی تهی
###
تم کرنا کیا چاہتی ہو کل منگنی ہے تم دونوں کی تمہیں یاد ہے نا. روبینہ کو اس کا دماغی
توازن بگڑا ہوا لگ رہا تها نا وہ اب شہباز سے جهگڑا کر رہی تهی نا منگنی کے نام پہ چراغ پا ہو جاتی. شہباز مطمئن ہو گیا کہ شاید وہ سمجه گئی ہے
کچه نہیں کر رہی بس زندگی کو انجوائے کرنا چاہتی ہوں کهل کے جینا چاہتی ہوں تهوڑی خوشی چاہتی ہوں. اور ویسے بهی تم ہی کہتی ہو کہ تهوڑا انجوائے کر لینا چاہیے رہی بات منگنی کی تو وہ بهی ہو جائے گی کونسا شادی ہو رہی. مریم نے مسکرا کے بہنوں کودیکها
انجوائے کر رہی ہو تو ٹهیک ہے میں بهی تمہارے ساته ہوں روبینہ نے لیٹتے ہوئے کہا اور دونوں قہقہہ لگا کر ہنس دی. جبکہ ثمینہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتی رہی
تم کرنے کیا والی ہو ویسے. روبینہ نے اسے دیکهتے ہوئے پوچها
کچه نہیں اس سے بات کروں گی تهوڑا انجوائے ہو جائے گا اسے بهی بیوقوف بنا لیں گے. وہ دونوں ہاته پہ ہاته مار کر قہقہہ لگا کے ہنس دیں
###
عمیر نے موبائل بهجوا دیا تها اور اس میں اپنا نمبر بهی سیو کر دیا تها. مریم نے بہنوں کے ساته بیٹه کر اسے کال کی.
ہیلو! اس نے کال رسیو کی
ہیلو عمیر کیسے ہو؟ مریم نے نرم لہجے میں کہا وہ تینوں اس کو توجہ سے سن رہیں تهیں
میں ٹهیک ہوں چڑیل تم کیسی ہو؟ جواباً عمیر نے شرارت سے کہا
میں تو بہت بری ہوں بلکل چڑیلوں جیسی خون پینے والی. مریم نے ہنستے ہوئے بہنوں کو دیکها
ہاں وہ تو مجهے دیکه کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے جهانسی کی رانی بنی پهرتی ہو گهر میں. عمیر نے محظوظ ہوتے ہوئے کہا
تم بهی بچ کے رہو تمہارا نمبر نا آجائے. مریم نے شرارت سے روبینہ کو دیکها
ارے بچنا کون چاہتا ہے ہم تو چڑیل کی آنکھوں کے شکار کب کے ہو چکے عمیر نے شوخی سے جواب دیا
پهر تو تمہارے مرنے کے دن قریب ہیں تیار رہو. مریم کو بڑا اچها لگ رہا تها یہ نیا مذاق
میں تو شروعات کر چکا ہوں اس کا ثپوت تمہارے ہاته میں ہے. عمیر نے ٹکڑا لگایا
میری بات کرواو بهی. روبینہ نے موبائل جهپٹ لیا
موٹ تم میرے دوست ہو اور گفتگو چڑیل سے فرما رہے ہو. روبینہ نے شکوہ کیا. مریم نے لمبی سانس لی جیسے آزاد ہونے لگی ہو کمرے سے باہر نکلی تو نظر سامنے کهڑے عمیر پہ پڑی جو موبائل کان سے لگائے کهڑا تها مریم.نے اسے دیکه کر ہاته ہلایا جواباً اس نے بهی مسکرا کے ہاته ہلایا
________
چهوٹی سی منگنی کی تقریب منعقد کی گئی جس میں ساری فیملی نے شرکت کی. دونوں کی ساس نے ان کے انگلیوں میں انگهوٹیاں ڈال دی. گویا ان کے قیدی ہونے پہ مہر لگا دی گئی تهی. ثمینہ تو پوری رات روتی رہی مگر مریم نہیں روئی وہ رونا جانتی ہی نہیں تهی. اور روئے بهی کیوں؟ کیا اس کے رونے سے کچه بدل جانا تها؟ کیا گهر والوں کو اس پہ رحم آجانا تها وہ جانتی تهی وہ کچه نہیں کر سکتی ابهی سو اس نے اس ڈرامہ میں اپنا کردار بهرپور طریقے سے ادا کیا.
###
تمہاری منگنی ہو گئی؟ عمیر نے اچنبھے سے پوچها
ہاں منگنی ہو گئی اور شادی کی تیاریوں کا سلسلہ بهی زور پکڑے گا اب. مریم نے لاپرواہی سے کہا
تم سے شادی پہ راضی کون ہو گیا چڑیل؟ مخهے تو اس بیچارا پہ ابهی سے ترس آرہا ہے. عمیر نے چڑانے والے انداز میں کہا
آنا بهی چاہیئے اور جتنی اس کی صحت ہے وہ میرا ایک تهپڑ پہ نہیں سہہ سکے گا. مریم کو اس کا مذاق بلکل برا نہیں لگا
تم اپنے مجازی خدا کو تهپڑ مارو گی شرم کرو لڑکی. عمیر نے اسے ٹوکا
اللہ کرے کبهی بنے نا اگر بن گیا اس کے ساته کیا کروں گی یہ وہ بهی نہیں سوچ سکتا. مریم نے بظاہر ہنستے ہوئے کہا مگر عمیر چونک گیا
تم خوش ہو اس شادی سے. عمیر نے اس کے لہجے سے چونکا
نہیں میں ہرگز خوش نہیں ہوں اس شادی سے میرے لیے ایسے ہے یہ جیسے کوئی جنازہ ہوتا ہے شادی نہیں. مریم نے واضح دو ٹوک کہا کوئی وضاحت نہیں کی کوئی گلہ نہیں کیا
مریم؟؟؟ عمیر نے بهرپور حیرت کا اظہار کیا.اسے سمجه میں نہیں آیا وہ مذاق کر رہی ہے یا سیریس ہے
ہاں ہاں بلکل سیریس ہوں میں میں اس کی پٹائی کرنے سے بهی نہیں رکوں گی اگر شادی ہو گئی تو. مریم نے مزے سے چاولوں کا چمچہ منہ میں رکهتے ہوئے کہا
زرا باہر آو. عمیر ایکدم سے سیریس ہو گیا مریم کمرے سے باہر نکل آئی سامنے کهڑے عمیر کو دیکه کے مسکرا کے ہائے کیا جواباً عمیر مسکرا نہیں سکا
تم خوش کیوں نہیں ہو اس شادی سے. عمیر نے نظریں اس پر سے نہیں ہٹائیں وہ اس کے تاثرات جانچ رہا تها مگر اسے کہیں دکه یا کوئی آنسو نظر نہیں آئے.
کیونکہ مجهے وہ بلکل پسند نہیں اس کی جگہ کسی سے بهی میری شادی کر دیں وہ بدصورت ہو وہ زیادہ دولتمند نا ہو. وہ میرے لیے دنیا نا چهوڑ دے محبتوں کے دعوے نا کرے بے شک کیونکہ مجهے محبت وحبت میں کوئی دلچسپی نہیں. مگر وہ مرد ہو.. ایک بهرپور مرد بہادر،خود اعتماد اچهی سوچ رکهنے والا جسے میں بهیڑ بکری نا لگوں. مگر جو میرے لیے چنا ہے میرے باپ بهائی نے اسے تو میں تهپڑ بهی مار دوں اس میں اتنی ہمت نہیں کہ دوبارہ مار سکے مجهے وی شوہر نہیں چاہیے جس کی حفاظت مجهے کرنی پڑے بلکہ وہ چاہیئے جو میرا محافظ ہو. بس اور کچه نہیں چاہتی تهی میں. مگر ہم سے کسی نے یہ نہیں پوچها کہ تم کیا چاہتی ہو ہمیں تو ہمیشہ کی طرح حکم سنا دیا گیا. مریم نے زہریلے لہجے میں وہ سب کہہ دیا جو وہ اپنی بہنوں کو بهی نہیں بتا سکی. بعض اوقات لڑکیاں اس لیے بهی غیر محرم کے پیچهے چل پڑتی ہیں کہ انہیں محرم کی طرف سے دهتکار ملتی ہے اور نا محرم کے دو میٹهے بول اس کی روح سرشار کر دیتے ہیں
مریم مجهے اندازہ نہیں تها تم اتنے دکه رکهتی ہو دل میں. مجهے افسوس ہو رہا تمہاری فیملی کی سوچ پر. عمیر کو واقعی اس بظاہر چڑیل اور ہٹلر نظر آنے والی لڑکی سے ہمدردی ہو
اور تمہاری بہن خوش ہے؟ عمیر کو اچانک اس کی بہن کا خیال آیا
وہ اتنی خوش ہے کہ پوری رات رو کے گزار دیتی ہے اور سارا دن خاموشی سے ایک کونے میں پڑی رہتی ہے میسنی بن کے. مریم کے لاپرواہی سے کہے گئے ان لفظوں میں کتنا دکه تها عمیر اندازہ لگا سکتا تها اس کا دل ان کے لیے دکهنے لگا اس نے خاموشی سے کال کاٹ دی مگر مریم پہ سے نظریں نہیں ہٹا سکا. جو اشارے سے کال کاٹنے کی وجہ پوچه رہی تهی مگر وہ کچه نا کہہ سکا وہ کچه کہنے کے موڈ میں نہیں تها وہ رخ موڑ کے سیڑهیاں اترتا گیا
###
مریم بیٹا یہ سارا سامان بوریوں میں بهر دو دهو کر میں لڑکا کو بهیجتا ہوں بوریاں اٹهانے ائے گا دکان پہ رکهوا دے گا اس سے پہلے تم جلدی سے یہ دهو لو. ابا نے ساری دکان کے لیے لائی ہوئی سبزی بوریوں سی نکالنی شروع کی اور مریم کو ہدایت دینے لگے. مریم ان کے ہر کام میں ہاته بٹاتی تهی بلکل اپنی ماں کی طرح. کام بڑا ہو یا چهوٹا وہ اعتراض نہیں کرتی تهی دادی اور اماں کے گزر جانے کے بعد اس نے گهر کو بہت اچهے سے سنبهال لیا تها 19 سال کی عمر میں وہ ایک سمجهدار عورت کی طرح گهر کو سلیقے اور قرینے سے سنبهالتی آئی تهی عباس صاحب کو ایکدم سے وہ بہت پیاری وہ گئی تهی .ابا کہہ کر دکان کے لیے باہر نکل گیا تهوڑی دیر بعد ندیم گهر میں داخل ہوا اور اسے دیکه کر اس کی باچهیں کهل گئیں جبکہ مریم نے ناگواری سے اسے دیکها اور اپنے کام میں مصروف ہو گئی
کیا کر رہی ہو؟ ندیم نے اس کے سامنے کهڑے ہوتے ہوئے پوچها
تمہاری میت کا سامان اکهٹا کر رہی ہوں. مریم نے کام کرتے کرتے جواب دیا
میں ابهی نہیں مرنے والا ابهی کل تو ہماری منگنی ہوئی ہے. وہ چچهورپن سے ہنسا
بڑا کارنامہ ہو گیا یہ تو تمہاری بهی اب منگنی ہونے لگی. اور مرو گے تم واقعی نہیں تمہارے جیسوں کی ہڈی بڑی دیر تک ساته دیتی ہے . مریم نے سامان بوریوں میں ڈالنا شروع کیا
تم خوش ہو ہماری منگنی پہ. ندیم نے کمال ہیرو بنتے ہوئے پوچها دانت اب بهی اس کے باہر تهے
واہ صدقے جاوں تمہارے اس سوال پوچهنے پہ. منگنی کا مطلب یہ نہیں ہوتا تم شاہ رخ خان بن گئے میرے ساته زیادہ رانجها بننے کی ضرورت نہیں جتنی صحت ہے اتنی بات کرو. مریم نے اس کی بات پہ قہقہہ لگایا اور بہت دیر تک ہنستی رہی اور ندیم کهسیانی ہنسی ہنسنے لگا تبهی اس کی نظر سامنے والے گهر پہ پڑی جہاں عمیر کهڑاادهر ہی دیکه رہا تها
یہ کون ہے؟ ندیم نے چبهتے ہوئے لہجے میں پوچها
خود پوچه لو کون ہے. ویسے یہ میرا دوست ہے روز اس سے میری بات ہوتی ہے اب بهی اس لیے آیا ہوا ہے کہ تم جاو تو وہ مجه سے بست کرے. مریم نے عمیر کو دیکهتے ہوئے تپا دینے والی مسکراہٹ سے کہا
میں جانتا ہوں تم ایسی نہیں ہو. ندیم نے پهر اس کے سامنے ہیرو بننے کی بهونڈی کوشش کی.
میں کیسی ہوں ابهی تم جانتے نہیں بہت جلد جان جاو گے. ابهی تو یہ بوریاں اٹهاو اور نکلو یہاں سے. مریم نے ہاته روپٹے سے صاف کرتے ہوئے کہا ندیم جی بهر کے مایوس ہوا اس کے رویے سے کہاں وہ منگنی کا حق جتانے آیا تها اور مریم نے اسے گهاس نہیں ڈالی.
مریم اس کے جانے کے بعد کمرے میں آئی موبائل چیک کیا جس پہ عمیر کی مس کالز آئی ہوئی تهیں مریم نے اسے مس کال کی عمیر نے فوراً کال کی.
کیوں کال کر رہے ہو میرے دشمن بنے ہوئے ہو سب کے سامنے تانکا جهانکی کرنے میں لگے ہو. مریم کهڑکی میں آکهڑی ہوئی اور عمیر کو دیکهتے ہوئے موبائل کان سے لگا لیا
سب نہیں تمہارا وہ نمونہ منگیتر. عمیر نے اس کی بات کی تصیح کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *