Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary NovelR50719 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 05
Rate this Novel
Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 01 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 02 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 03 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 04 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 05 (Watching)Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Last Episode
Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 05
دو ہفتہ بعد شادی کی رسمیں شروع ہونے والی نے کہ شہباز نے ایک نیا شوشہ چهوڑ دیا. کہ نکاح کر لیا جائے پہلے. وہ کیا سمجه چکا تها کیا سوچ چکا تها یہ وہی بہتر جانتا تها مگر مریم کے لیے یہ خبر اچهی نہیں تهی. پہلے نکاح ہونے کا مطلب تها اس کے لیے سارے راستے بند کر دیئے جائیں اس کے پاس کوئی راستہ نا بچتا. تبهی مریم کو ایک انجان نمبر سے کال آئی. اس نے کال رسیو کی.
ہیلو مریم؟ دوسری طرف کوئی گهمبیر آواز مریم کے کانوں سے ٹکرائی جو اس کے لیے بلکل اجنبی تهی.
کون؟ مریم نے الجهے ہوئے لہجے میں پوچها
میں زرگل خان بات کر رہا ہوں عمیر کا دوست. مریم اسے جانتی تهی کئی بار اس کاسامنا بهی ہواتها اس سے. اس کیے فوراً پہچان گئی.
ہاں بولیں؟ مریم اس کی کال پہ حیران پہ تهی
تمہاری شادی کب ہے؟ اس نے ایسے پوچها جیسے صدیوں سے واقف ہو.
تمہیں کیسے پتا کہ میری شادی ہے. مریم نے مشکوک انداز میں پوچها
اوہ کم آن مریم. عمیر میرا جگری دوست ہے مجهے کیسے پتا… پاگلوں والے سوال نت پوچهو. زرگل نے ناک سے مکهی اڑائی
تو مجهے کال کیوں کی. مریم کا لہجہ اب نارمل تها
میں نے تمہیں کئی بار دیکها ہے آتے جاتے اچهی خاصی لڑکی ہو تمہاری فیملی تمہارے ساته جو کر رہی وہ اچها نہیں ہے. اس کے لہجے میں ہمدردی تهی یا دکهاوا مریم سمجهی نہیں اسے سمجهنے کی ضرورت بهی نہیں تهی.
اچها پهر.مریم کا لہجہ ٹهنڈا اور بے تاثر تها اس پہ ہمدردیاں اثر نہیں کرتی تهیں
پهر یہ کہ تمہیں پورا حق ہے تم اپنی لائف گزارو اپنی مرضی سے. تم عمیر کے ساته شادی کرنا چاہتی ہو تو میں کروا دوں گا. تم سب مجه پر چهوڑ دو بس. وہ مضبوط لہجے میں اپنی بات ایسے کر رہا تها جیسے یہ ایک عام سا قصہ ہو.معمول کی بات ہو.
مریم کو پہلی بار کسی نے ایسے امید دلائی تهی یا پهر پہلی بار کوئی اسے اس کے جیسا ملا تها
تو یہ سب مجهے عمیر بهی بتا سکتا تها تم نے کال کیوں کی. مریم نے مسکراہٹ دبا کے پوچها
کیونکہ وہ دوبئی جا رہا ہے… اس کے فادر کو سب پتا چل چکا سو وہ ایمرجنسی میں اسے ملک سے باہر بهیج رہا ہے تاکہ وہ اس معاملے سے دور رہے. زرگل نے نارمل سے لہجے میں مریم کے سر پہ بم پهوڑا
اور وہ مان گیا؟مریم نے بے یقینی سے پوچها
ہاں تو اور کیا کرسکتا ہے اس کے فادر کے آگے کسی کی جرآت نہیں بات کرے اور وہ تو ویسے بهی ڈرپاک بچہ ہے 22 سال کا. وہ ہنس رہا تها جب کہ مریم کی امید ختم ہو رہی تهی.
لیکن تم فکر نہیں کرو میں تمہیں اس کے پاس دبئی پہنچا دوں گا. زرگل نے ایک بات پہ اسے دهکا دیتا ایک کهائی میں اور دوسرے لمحے ہاته پکڑ کے واپس کهینچ لیتا
اس سے پہلے کہ مریم کچه کہتی عمیر کی کال آنے لگی. مریم نے کال رسیو کی
نمبر کیوں بزی تها تمہارا؟ عمیر نے چهوٹتے ہی پوچها
کال تهی کسی کی. مریم نے تپانے والے لہجے میں کہا
وہی تو پوچه رہا کس کی کال تهی. عمیر نے تحمل سے پوچها
تمہارے دوست کی کال تهی. مریم نے لہجہ نارمل رکها
میرا کونسا دوست؟ عمیر نے حیرت سے پوچها
زرگل خان. مریم نے بنا جهجک جواب دیا
اس نے تمہیں کال کیوں کی؟ عمیر حیران تها مگر پریشان نہیں
یہ تو تمہیں پتا ہو گا نمبر بهی تو تم نے دیا ہو گا. مریم محظوظ ہوئی
میں نے نمبر نہیں دیا مگر وہ میرا یہ نمبر جانتا ہے شاید اس نے مجهے کی ہو گی نمبر تمہارے پاس پہنچ گیا ہے. عمیر نے وضاحت دی. خود کو یا مریم کو یہ وہ خود بهی نہیں جانتا تها
تم دبئی جا رہے ہو میں نے سوچا اس سے بات کر لوں. مریم نے جتاتے ہوئے کہا
یہ بهی تمہیں اسی نے بتایا ہوگا. عمیر کو سمجهنے میں ٹائم نہیں لگا
کیا فرق پڑتا ہے تم نے تو نہیں بتایا. مریم نے طنز کیا
میں یہی بتانے کے لیے تو کال کی ہے. ابو بہت غصہ ہیں وہ مجهے بهیج کے ہی دم لیں گے. اور یہ ہمارے لیے اچها ہے یہاں ہم نہیں رہ سکیں گے وہاں کم از کم سکون سے رہ سکیں گے میں تب تک واپس نہیں آوں گا جب تک میری فیملی مان نا جائے اور تمہاری طرف بهی حالات ٹهیک ہو جائیں گے. عمیر نے اسے سمجهایا
تم نکاح کب کرو گے؟ مریم نے سرد لہجے میں پوچها
مریم میں یہاں نکاح نہیں کر سکتا میری بات سمجهو. تمہیں زرگل وہاں پہنچا دے گا پهر آگے کی دیکهیں گے. عمیر نے اس کی ساری امید ختم کر دی
جب اسی کے ساته جانا ہے تو نکاح بهی اسی سے کر لیتی ہوں تم سے بات کرنے کا فائدہ؟ . مریم نے شکوہ کیا
مریم میری بات سمجهو یہ سب اتنا آسان نہیں وہ ہمارا پیچها ہر جگہ کریں گے. مجهے وہاں جانے دو میں تمہیں بلوا لوں گا وہاں. عمیر نے اس سے ریکوئیسٹ کی.
میں ایسے نہیں آسکتی کہ پهر نا اپنے گهر کی رہوں اور نا تم ساته دو. مریم نے صاف انکار کر دیا.
مریم کیوں بدگمان ہو رہی ہو مجه سے میں تمہیں یقین دلا رہا ہوں نا. ساری پیپرز زرگل بنوا کے تمہیں بهیج دے گا میرے پاس……
اور تب تک میں تمہارے دوست کے سارته رہوں گی… مریم نے اس کی بات کاٹ کے بے دردی سے اسے سچ سنایا
تم کیوں اس کے ساته رہو گی جس دن آنا ہو گا وہ تمہیں بتا دے گا یار میں بهی تو کنکٹ میں رہوں گا ادهر. عمیر چڑ گیا
اسی ہفتے نکاح ہے میرا اگلے ہفتے شادی. مریم نے اس کے سر پہ بم پهوڑا.
واٹ؟؟ تم نے تو کہا تها ایک مہینہ بعد ہے تمہاری شادی؟ اور یہ نکاح کہاں سے آگیا؟ عمیر شاک میں بولا
شہباز نے فیصلہ سنایا. مریم نے کڑوے لہجے میں کہا
اس شہباز کو تو میں اب جان سے مار دوں گا. عمیر کی آواز قدرے اونچی ہو گئے
اور میں تمہارا قتل کردوں گی اگر میرے بهائی کے لیے پهر ایسی بات کی تو
واہ آج بهائی کی محبت جاگ گئی. ایسا ظالم بهائی کسی کو نے دے خدا. عمیر نے اسے چڑایا
وہ ظالم نہیں حالات ایسے بن گئے وہ بیچارا کیا کرے. مریم نے حقیقت پسندی سے کام لیا.
اب مجهے بتاو میں کیا کروں ایک ہفتے میں کیا کر سکتا ہوں. عمیر نے پریشانی سے کہا
یہ نہیں جانتی میں. مریم واقعی نہیں جانتی تهی اب کیا کرے
###
عمیر دبئی روانہ ہو چکا تها زرگل اس سے مسلسل رابطے میں تها اسے اس لڑکی سے مکمل ہمدردی تهی وہ اسے اس “ظلم” سے نکالنے کا یقین دلاتا رہا اور اسی طرح ایک اور برا دن مریم کے انتظار میں تها. جب شہباز کے ہاته اس کا موبائل لگ گیا. مگر اس بار اس نے مریم کو کچه نہیں کہا اور یہی چیز مریم کو ڈرا رہی تهی.
####
اور یہ بات مریم کو تب سمجه میں آئی جب اگلے ہی ہفتے ان دونوں کی شادی کی رسمیں شروع ہو گئیں. وہ زرگل سے کوئی رابطہ نہیں کر پا رہی تهی اور یہاں شادی کی رسمیں شروع ہو چکی تهی مہمان آنا شروع ہو چکے تهے. سب لڑکیاں ڈهولکی لے کر بیٹه گئیں. جب شہباز نے اسے الگ کمرے میں بلایا
میں نے تمہیں اس لیے بلایا ہے کہ تمہیں اچهی طرح یہ بات ذہن نشین کرا دوں کہ اگر تم نے اب کچه غلط کیا تو اس بار میں تمہیں چهوڑوں گا نہیں اور اسے دهمکی مت سمجهنا میری برداشت کا امتحان تم بہت لے چکی ہو اور اس بیغرت کا پتا بهی میں لگا چکا ہوں. اس کو تو میں دیکه لوں گا بس تمہیں اس گهر سے رخصت کر لوں.عمیر مدهم آواز میں اسے سمجها رہا تها. مریم خاموشی سے سر جهکائے کهڑی رہی.
تمہارے ہم پر بہت احسان ہیں مریم جو میں کبهی نہیں اتار سکتا. تم نے باہر کی دنیا نہیں دیکهی گهر سے باہر نکلو گی دربدر بهٹکو گی. ایسا کچه مت کرو جو ہم سب کو نقصان دے. شہباز نے اس کے سر پہ ہاته رکها اور اسے اپنے قریب کر لیا اس کے سر کو ہلکے سے چوما. مریم کا دل پگهلنے لگا کبهی شہباز نے اس کے سر پہ ہاته نہیں رکها تها کبهی اتنے پیار سے بات نہیں کی تهی. مجهے اپنے بهائی کے ساته ایسا نہیں کرنا چاہیے. مریم کی آنکهوں میں پانی تیرنے لگا مگر یہ پانی بس اس کی آنکھوں میں نہیں تها شہباز کی آنکهوں میں بهی تها. اس نے اپنی آنکهیں رگڑیں. یہ دونوں بہن بهائی ایک جیسے تهے برداشت میں بهی ضد میں بهی اور غصہ میں بهی
میں وعدہ کرتی ہوں میں کوئی غلط کام نہیں کروں گی. مریم نے شہباز کی طرف دیکهتے ہوئے کہا. شہباز کے دل میں ڈهیروں سکون اتر گیا وہ واقعی پیار سے سمجه گئی تهی اس کا اندازہ سہی تها.
مگر میں یہاں شادی نہیں کروں گی تم میری شادی کہیں بهی کر دو یہاں نا کرو. مریم نے صلح جو انداز میں کہا
تم پهر وہی بکواس کر رہی ہو مریم. شہباز کی آنکهیں ایکدم بدل گئیں
تمہاری شادی یہی ہو گی یہ سمجه لو اچهے سے ورنہ تمہارا وہ حشر کروں گا اس بار دنیا دیکهے گی تمہارا تماشہ. شہباز نے ایکدم سے رنگ بدل لیا
ٹهیک ہے تم میرا تماشہ دکهاو میں تمہارا دکهاوں گی یہاں شادی نہیں کروں گی. وہ بهی اس کی ہی بہن تهی اس کے جیسی پهر وہ کیسے اس کی طرح ری ایکٹ نا کرتی وہ.
چلو پهر دیکه لو اپنی کر کے بهی دیکه لو نتائج کی ذمہ دار تم خود ہو گی. شہباز نے اسے دهمکی دی. اور کمرے سے نکل گیا
####
لڑکیاں ثمینہ کو ابٹن لگا رہی تهی جبکہ مریم دوسرے کمرے میں منہ سر لپیٹے پڑی تهی اسے کسی بهی صورت زرگل خان سے رابطہ کرنا تها وہ یہاں اب ایک دن بهی نہیں رک سکتی تهی. تبهی لڑکیاں اس کے پاس پہنچ گئیں ابٹن لے کر.
چلو مریم ابٹن لگائیں تمہیں. مریم کی کزن نے اس کے پاس بیٹهتے ہوئے کہا
مجهے نہیں لگانا جاو تم لوگ یہاں سے. مریم نے سخت لہجے میں کہا
اٹه بهی جاو اب شومی تنگ نہیں کرو چلو میں لگاتی ہوں تمہیں پہلے. روبینہ نے اس کا ہاته کهینچا اور اسے ابٹن لگانا چاہا مگر مریم نے نا صرف ہاته کهینچا بلکہ ابٹن کا پیالہ اٹها کے دیوار پہ دے مارا پیالہ ٹوٹ کے گرا اور ابٹن زمین پہ آگرا
تم نے کیا تماشا شروع کر رکها ہے؟ شہباز تو جیسے اسی انتظار میں تها کہ وہ کچه کرے اور وہ کب کا چهپایا غصہ اس پہ نکال دے
تم جانتے ہو کیا تماشا ہے مریم نے اس سے زیادہ اونچی آواز میں کہا اور پاس رکها خشک ابٹن اٹها فضا میں اڑا دیا پورے کمرے میں ابٹن بکهر گیا. شہباز کے اندر ایک ابال اٹها اور اس نے بنا دیکهے اسے پیٹنا شروع کر دیا لاتیں گهوسے گالیاں وہ اپنا کنٹرول کهو چکا تها مگر مگر مریم کی آنکھوں میں وہ خوف نا لا سکا. پهپهو نے اس کو پکڑ کے کهینچا.
تم کیسی حرکتیں کر رہے ہو بہنوں پہ کوئی ہاته اٹهاتا ہے. پهپهو غصہ سے اس پہ چلائی مگر وہ بنا کچه کہے تیزی سے کمرے سے نکل گیا جبکہ مریم جواباً چلا رہی تهی چیخ رہی تهی بد دعائیں گالیاں اور عورت کے بس میں کیا ہے. مگر سب کی توقع کے برعکس شہباز اسی تیزی سے واپس اندر آیا مگر اس بار اس کے ہاته میں پسٹل تها اس کی آنکھوں میں وحشت تهی. نفرت تهی جنون تها.
اسے دیکهتے ہی سب چیخنے لگی اور اسے باہر گهسیٹا سب کزن تایا چچا اکهٹے ہو چکے تهے شہباز گالیاں بک رہا تها اور مریم اتنا ہی اس پہ چیخ رہی تهی
تم مجهے جان سے مار دو تمہاری بات اب ہرگز نہیں مانوں گی جنگلی انسان. تمہیں وہ سبق سکهاوں گی تم آئیندہ بہنوں پہ ہوته نہیں اٹهاو گی. وہ چیخ رہی تهی پهپهو اسے خاموش کرانے میں لگی تهی مگر آج شاید اس کی برداشت بهی ختم ہو چکی تهی
تمہیں میں زندہ چهوڑوں گا تب نا. تمہارے آج ٹکڑے کر دوں گا بهاڑ میں گئی اب شادی.شہباز دوسرے کمرے سے چلایا جہاں سب اسے گهسیٹ کے لے کر گئے تهے
بہتر ہو گا مار ڈالو ورنہ میں یہاں سے بهاگ جاوں گی سنا تم لوگوں نے میں بهاگ جاوں گی. مریم نے چیختے ہوئے دروازہ زور سے بند کیا
______
آج کی رات بہت خوفناک اور اندهیری تهی. کسی کہ دل میں اندهیر تها، کسی کی سوچ میں بغاوت، کسی کے دماغ میں چلتے خوفناک منصوبے ابلتا خون جاگتی غیرت، اور چند معصوم دلوں میں پلتا خوف. جو ہر کهٹکے پہ اور بڑه جاتا وحشت سی وحشت تهی کچه غلط ہوجانے کا ڈر کسی نقصان کے اندیشے. ساری لڑکیاں خوف سے سمٹ کر بستروں میں چلی گئیں تهیں سب کی آنکهیں بند تهیں مگر دل دماغ سب کے جاگ رہے تهے.
وہی ایک اور شخص بهی تها کمرے میں بلکل خاموش بیٹها کسی گہری سوچ میں گم تها. اس کے ضعیف جهریوں ذدہ چہرے پہ خوف کے گہرے سائے لہرا رہے تهے. شہباز کو تایا چچا اپنے ساته لے گئے تهے کہ کہیں وہ کچه غلط نا کر لے.
پہر بیتتے گئے سب کو ننید نے اپنی آغوش میں لے لیا…. ہاں نیند تو کانٹوں کے بستر پہ بهی آجاتی ہے چاہے رات کتنی خوفناک ہو کتنی لمبی ہو….آہ یہ رات لمبی کیوں ہوتی جا رہی تهی.
عباس صاحب آہستہ سے اٹهے بے جان قدموں سے چلتے ہوئے وہ ایک جگہ آکر رکے…بجلی کی لٹکتی تاروں کے پاس آئے جو دیوار کے ایک طرف کر کے عارضی جوڑ دی گئیں تهیں. کچه دیر وہ ان تاروں کو دیکهتے رہے پهر آگے بڑه کے سوئچ آف کیا. تار کا ایک سرا کهینچ کے نکالا جبکہ دوسرا سرا بورڈ میں رہنے دیا. انہوں نے تار کی لمبائی چیک کی اور تار کے اوپر ایک کپڑا لپیٹا اور اسے ہاته میں پکڑ کے سوئچ کا بٹن آن کر دیا
###
مگر اس بهیانک رات میں کوئی اور بهی جاگ رہا تها خوبصورت آنکھوں میں وحشت لیے چهت کو گهورتی. اس کے دماغ میں ہر چیز فلم کی طرح چل رہی تهی. اسے اپنے بهائی ہی ترس آنے لگا اسے اپنے باپ پہ ترس آیا اسے اپنی بہنوں کی آنے والی زندگی پہ ترس آیا…. مگر اسے خود پہ ترس نہیں آیا اسے کبهی خود پہ ترس نہیں آیا اس کی آنکهیں بلکل خشک تهیں ایک آنسو بهی نہیں نکلا تها کیا وہ اتنی ڈهیٹ تهی؟ کیا ضد ہر چیز پہ حاوی ہو جاتی ہے؟
نہیں بیٹیاں تو رحمت ہیں وہ کچه مانگنا نہیں جانتیں… وہ تو دینا جانتی ہیں بس… اپنے بابا کو مان، بهائی کی عزت کی حفاظت… وہ بهی بیٹی تهی ایک ایسی بیٹی جسے بچپن سے اب تک سوائے دهتکار اور بات بات پہ تهپڑ ذلت اور رسوائی کے کچه نہیں ملا تها. اسے کوئی ایسا لمحہ یاد کرنے پہ بهی یاد نا آیا جب اسے اماں ابا بهائی کسی نے پیار سے گود میں لیا ہو کبهی اماں نے اس کے بال سنوار کے ان میں پونی نہیں کی تهی بس گالیاں بکی تهی کہ بال کبهی بانده لیا کرو. میں ہر اس لڑکی سے یہاں سوال کرنا چاہوں گی جو یہ کہانی پڑه رہی ہیں کیا بیٹیاں اس سلوک کی مستحق ہوتی ہیں؟ وہ تو چڑیوں کے جیسی ہوتی ہیں جو آج نہیں تو کل اڑ جائیں گی…. تو کیا مہمانوں کو ایسا احساس کمتری دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات سے نفرت کرنے لگے؟ کسی نے کہا وہ بری لڑکی ہے کسی نے کہا یہ کہانی غلط راستے پر لے جانے والی ہے؟ کیوں؟ اس میں کیا غلط لکها گیا؟ کیا یہ معاشرے کی حقیقت نہیں؟ کیا آپ لوگوں نے اس سے کچه نہیں سیکها؟
اور اپنے بهائیوں سے بهی میں ضرور سوال کروں گی؟ اپنی بہنوں کے ساته ایسا سلوک کرنے کے بعد اس سے امید رکهنا کہ وہ آپ کی عزت کی حفاظت کرے کیا آپکی غیرت یہی تک ہے؟ زرا سوچئیے گا یہاں مائیں بهی ہوں گی بیٹیاں بہنیں بهائی باپ سب… سب خود کو ایک بار کہانی کے کرداروں پہ فٹ کر کے سوچئیے گا ضرور اور مجهے اتنا لکهنے کا یہ صلہ ضرور دیجئے گا کہ آپ نے کیا فیل کیا اس کہانی میں جا کر.
مریم نے دکه سے آنکهیں بند کرلی. مجهے اپنے گهر والوں کے ساته یہ نہیں کرنا چاہیے… بے شک مجهے عمیر سے محبت ہو گئی ہے مگر اس نے ساته چهوڑ دیا اس میں کسی کا کیا قصور ؟ اور میں بهی اتنی خوبصورت نہیں کہ کوئی میرے لیے دنیا سے لڑ پڑے. میں صبح ہی سب ٹهیک کر دوں گی شہباز یقیناً دل صاف کر لے گا یہی میری قسمت ہے تو مجهے شادی بهی یہی کرنی چاہیے. مریم نے اطمینان سے آنکهیں بند کر لیں. تبهی اسے کمرے کے دروازے پہ کهٹکا محسوس ہوا اس نے آنکهیں نہیں کهولیں. کوئی اس کے پاس آکر رکا مریم کا دل ایک دم ڈوب کے ابهرا کیا شہباز مجهے…. اس کی سوچ کا سرا ٹوٹ گیا.
عباس صاحب نے تار کو مریم کے بستر پہ کانپتے ہاتهوں سے رکها اور اسی چادر اس پہ تار کے اس سرے پہ ڈال دی جو وہ پہلے ہی کاٹ چکے تهے جیسے ہی مریم نے سائیڈ بدلنا تها یہ تار اس کے جسم سے سارا خون خشک کر دیتی جب تک کوئی اس کے کمرے میں آتا اس کا جسم بے جان ہو چکا ہو گا. عباس صاحب کو اپنے پیروں پہ کهڑا رہنا مشکل لگنے لگا ان کے ہاته بری طرح کانپ رہے تهے. انہوں نے آخری بار مریم کے چہرے کو دیکها جو زرد ہو رہا تها اس کی آنکهیں بند تهیں یہ وہ بیٹی تهی جس نے ان کے بچوں کو ایک ماں کی طرح پالا تها بهائی باپ سے ضد کی مگر بہنوں کو اف تک نہیں کیا ان کی ماں کے بعد. ان کا دل ایکدم سے چٹخا ان کے ہاته بری طرح کانپنے لگے ان کا جسم پسینے میں بهیگنے لگا….. نہیں….. ان کا سانس تیز ہوا…. نہیں مریم… ان کے ہاته تار کی طرف بڑهے… میری بچی میں تمہیں مار نہیں سکتا…. انہوں نے تار جلدی سے واپس کهینچ لی اس بار انہوں نے اس پہ کپڑا بهی نہیں لپٹا…. انہیں کوئی احتیاط یاد ہی کہاں رہی… یاد تها تو بس یہ کہ ان کی بچی خو کچه ہو نا جائے… نہیں شہباز میں نہیں مار سکتا اپنی بچی کو وہ تیزی سے کمرے سے نکلے یہ دیکهے بنا کہ ان کی بیٹی ان کے ہاته میں تار اور ان کا کمرے سے جانا سب دیکه چکی تهی
####
ابا مجهے مارنے آیا تها؟ مریم نے بے یقینی سے دروازہ کو دیکها موت کے خوف کی زردی اس کے چہرے پہ چها گئی. ہاں وہ بہت بہادر بہت ضدی بہت ڈهیٹ تهی مگر موت کی بے رحمی سے ہر زندہ روح واقف ہے موت کا خوف سب پہ مسلط ہوتا ہے چیخ چیخ کر کہنا کہ مار ڈالو مجهے آسان ہے مگر موت کو سر پہ ناچتے دیکهنا موت سے پہلے مرنا ہے. وہ کانپتے جسم اور زور سے دهڑکتے دل کے ساته اپنے بستر پہ لیٹ گئی. تو آج یہ لوگ مجهے مارنا چاہتے ہیں خوف تها دکه تها جس کی لپیٹ میں وہ ضدی اور ڈهیٹ لڑکی تهی. رات خے پہر بیتتے گئے مگر وہ سو نا سکی گهڑی 2بجا رہی تهی وہ آہستہ سے اٹهی لڑکیوں کے کمرے میں آئی. اندهیرے میں ٹٹولتے ہوئے اس نے کزن کا بیگ اٹهایا اور اپنے کمرے میں واپس آگئی. اس نے بیگ سے موبائل نکالا جو وہ آج دن میں ہی دیکه چکی تهی. اس نے کانپتے ہاتهوں اور دهڑکتے دل کے ساته زرگل کا نمبر ملایا بیل جا رہی تهی مگر کال رسیو نہیں کی گئی. خوف بے بسی دکه مریم کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا اسے نہیں پتا تها اسے رونا کس بات پہ آرہا یہ سب تو وہ جانتی تهی پهر کیوں رو رہی تهی. وہ ہچکیوں سے رو رہی تهی تبهی کال رسیو کر لی گئی.
ہیلو. دوسری طرف نیند میں ڈوبی آواز ابهری
ہیلو زرگل میں مریم. مریم نے دهیمی آواز میں کہا مگر وہ اپنی سسکیاں نا روک پائی.
مریم… کیا ہوا سب خیریت ہے تم رو رہی ہو. زرگل خان کا دل بے اختیار دکها اس میں کوئی شک نہیں تها اسے اس لڑکی سے مکمل ہمدردی سے.
مجهے لے جاو پلیز ابهی مجهے یہ لوگ مارنا چاہتے ہیں. اس کی آواز کانپ رہی تهی. خوف سے دکه سے اور کسی کے اتنے فکرمند لہجے سے وہ نا محرم اس کے لیے محرموں سے زیادہ نرم لگا
اوہ خدایا کیسے؟ تم بس مجهے یہ بتاو تم کہاں ہو میں ابهی وہاں پہنچتا ہوں زرگل نے کہتے ساته ہی چادر اتار پهینکی اپنے جوتے پہننے لگا
تم میرے گهر سے ایک گلی چهوڑ کر آجاو میں پچهی دیوار سے آ جاوں گی. مریم کا رونا اب بند ہو گیا تها مگر دل بری طرح دهڑک رہا تها اس نے کبهی خواب میں بهی نہیں سوچا تها وہ زرگل کے ساته جائے گی مگر اس کے پاس کوئی آپشن نا تها اور زرگل جتنا پاور فل تها وہ اس کی مدد کر سکتا تها.
اوکے میں پہنچتا ہوں یہ موبائل اپنے پاس رکهنا میں کال کروں گا پہنچ کر. وہ جلدی سے ضروری چیزیں اٹها کے جیب میں ڈالنے لگا اس نے پسٹل اٹها کے اپنی جیکٹ میں رکهی اور گاڑی کی چابی اٹها کے تیزی سے باہر نکل گیا اسے ایک لمحہ بهی ضائع نہیں کرنا تها اسے اس لڑکی کی جان بچانی تهی عمیر کو بتانے کا فی الحال اس کے پاس وقت نہیں تها.
