Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary NovelR50719 Last updated: 3 June 2026
Rate this Novel
Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary
شہباز قرآن پڑهانے میں مصروف تها اور اماں اس کے لیے نت نئی ڈشز بنانے میں مصروف تهی ان کی کل کائنات یہی بیٹا تها گهر میں موجود ہر اچهی چیز پہلے بیٹے کو دیتی اور جو بچ جاتا بیٹیوں کو ملتا اور بیٹیوں میں یقیناً مریم شامل نہیں تهی.
مریم اور رانی قرآن تو مکمل کر چکی تهی .گر وہ سب سے روز قرآن سنا کرتا تها یا شاید اسے پسند تها ان پہ رعب بنائے رکهنا
ہا باجی تم نے بهائی کی تصویر کیوں کاٹ دی. رانی اپنی اور بهائی کی تصویر کاٹ کر الگ کر رہی تهی جب روبینہ نے حیران ہو کر کہا یا شاید اس کے منہ سے پهسل گیا بس پهر کیا تها شہباز نے او دیکها نا تاو رانی پہ تهپڑوں کی بارش کر دی اور ہمیشہ کی طرح ناصرہ بیگم نے بیچ بچاو کیا اور اس کے سامنے رانی کو ڈانٹنے لگی جبکہ دل میں انہیں اپنی پیاری بیٹی کی پٹائی پہ دکه ہو رہا تها شہباز اسے گهورتا ہوا باہر نکل گیا. مریم یہ سب تماشا کسی نارم روٹین کی طرح دیکه رہی تهی یہ ان کے گهر میں عام سی بات تهی اسے نا اپنی بہن سے ہمدردی تهی نا وہ خوش ہوئی تهی. اس گهر میں سوائے دادی کے اور کوئی نہیں تها جن سے وہ پیار کرتی تهی اور جو اس سے پیار کرتی تهیں
تم جانتی ہو میں اس کے بارے میں آج کیا سن رہا ہوں؟ شہباز غصہ سے دندناتا ہوا گهر میں آیا اور طوفان مچا دیا
کیا ہوا بیٹا مجهے تو بتاو کیوں اپنی بہن خی جان لینے پہ تلے ہوئے ہو. ناصرہ بیگم نے کسے انجانے خوف سے پوچها
اس بیغیرت سے پوچهو اماں کیا کرتی پهر رہی ہے ہماری عزت گلیوں میں رولتی پهر رہی ہے اس آوارہ بلال کے ساته چکر چل رہا ہے اس کا. میں اج اسے چهوڑوں گا نہیں وہ رانی کی طرف لپکا مگر رانی بهاگ کے کمرے میں گهس گئی اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا
کیا تماشا لگا رکها ہے تم لوگوں نے گهر میں باہر تک آوازیں آرہی ہیں. عباس صاحب جو کے گهر کے پاس ہی ایک دکان چلاتے تهے شور سن کر اندر آگئے
آ ابا تو بهی سن لے اپنی لاڈلی کے کارنامے سکول جانے کے نام پر کیا کالک مل رہی ہے ہمارے منہ پر یہ. اس نے ابا کو دیکه کر آواز اور بهی بلند کر لی
تجهے شوق تها نا پڑهنے دو پڑهنے دو اب دیکهو یہ پڑه کر آئی ہے یہ. میں تم دونوں کو بتا رہا ہوں اس کی سکول سے بس کرواو ورنہ میں اس کو زندہ نہیں چهوڑوں گا. وہ انگلی اٹها کر امی ابو کو دهمکی دیتے یوئے گهر سے باہر نکل گیا اور عباس ساحب نے الجهی ہوئی نظروں سے اپنی بیوی کی طرف دیکها جو سر جهکا گئیں
رانی کا سکول جانا بند ہو گیا مگر خط و کتابت بند نا ہوئی روبینہ کے ذریعے وہ اب بهی اس کو پیغام بهجوا اور منگوا رہی تهی. یہ باتوں کا سحر یہ لفظوں کا جال ہے ہی ایسی چیز جو اس جیسی کم عمر لڑکیوں پہ اپنا ایسا اثر دکهاتا ہے جو مرنے کا خوف بهی ختم کرنے لگتا ہے. مرد لفظوں کا جادوگر کہلاتا ہے اور اس پہ یہ جادو چلنے لگا تها اور اسی جادو کے اثر نے اس سے ایک اور غلط کام کروا دیا.
اج بلال نے اسے ملنے کو کہا تها کہیں جانا تو رانی کے لیے ناممکن تها اس نے بلال کی ضد پر اسے گهر ہی بلوا لیا. جیسے جیسے رات کی سیاہی چهانے لگی تهی رانی کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی تهی. تبهی اسے دیوار سے ایک سایہ نطر آیا اور سایہ اس کے گهر کے صحن میں کودا اور تیزی سے رانی کے کمرے کی طرف بڑهنے لگا جہاں دروازے کی درز سے وہ جهانکتی ہوئی اس کی منتطر تهی.بلال جلدی سے کمرے کے اندر آگیا اس کے چہرے پہ کوئی ڈر یا خوف نہیں تها جبکہ رانی کے ہاته پیر بےجان ہو رہے تهے اسے کمرے میں سوئی بہنوں کا کوئی ڈر تها وہ اٹه بهی جاتی تو کسی کو کچه نا بتاتی مگر رانی کے جسم سے جان تب نکلی جب کمرے کا دروازہ پہ کهٹکا ہوا اس کا چہرہ لٹهے کی طرح سفید پڑ گیا بلال جلدی سے الماری میں چهپ گیا جہاں ان لوگوں کے بستر رکهے ہوتے تهے.
رانی نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کهولا باہر مریم کهڑی تهی چہرے پہ ہمیشہ کی طرح کرختگی بال بکهرے ہوئے. بنا کچه کہے وہ اندر آئی اور بستروں والی الماری کی طرف بڑه گئی رانی کو لگا اس کے جسم سے کسی نے جان کهینچ لی ہے وہ مریم کے پیچهے لپکی مگر تب تک وہ الماری کهول چکی تهی یہ بهی غنیمت تها کہ کمرے کی لائٹ آف تهی مریم نے بستر نکالا اور کرنٹ کها کے پیچهے ہٹی اس کے ہاته کو کسی کا ہاته ٹط ہوا.
کیا ہوا؟ رانی نے جلدی سے پوچها جبکہ مریم نے جواب دینے کے بجائے اسے گهورا اور بستر نکال کر باہر نکل گئی رانی اندهیرے کہ وجہ سے اندازہ نہیں کر پائی اس کے تاثرات کیا تهے.
اس نے جلدی سے بلال کو وہاں سے نکل جانے کو کہا بلال محتاط سا چلتا ہوا باہر نکلا اور دیوار کے پاس پہنچا رانی دروازے کے درز سے اسے جاتا دیکه رہی تهی اور دل ہی دل میں دعا نانگ رہی تهی کہ وہ جلدی چلا جائے.
بلال جیسے ہی دیوار کے پاس پہنچا کسی کے چلانے کی آواز شروع ہو گئی. شہباز ابو جلدی آئیں گهر میں چور ہے. بلال نے مڑ کر دیکها صحن کے بیچوں بیچ کهڑی وہ پر اسرار سی خوفناک حلیے میں کهڑی مریم تهی.جو اسے دیکه کر چلا رہی تهی. رانی نے جلدی سے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اس کے ہاته پاوں بے جام ہونے لگے
