Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary NovelR50719 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 04
Rate this Novel
Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 01 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 02 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 03 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 04 (Watching)Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 05 Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Last Episode
Ma Ho Na Jaun Baghi by Kashaf Chudhary Episode 04
ایک ہی بات ہے خبر کہاں سے کہاں بهی پہنچ سکتی ہے. مریم نےہنستے ہوئے کہا
بڑی ہنس ہنس کے گفتگو ہو رہی تهی اس کے ساته. عمیر نے چبهتے ہوئے لہجے میں کہا
تو اس پہ ہنسا ہی جاسکتا ہے اس کے ساته کوئی ڈهنگ کی بات تو نہیں کی جاسکتی. مریم نے برجستہ کہا
تم خوش ہو اس کے ساته. عمیر نے جیسے کچه کهوجنا چاہا
جس دن میں اس کے ساته خوش ہوں گی اس دن سورج کسی اور سمت سے نکلے گا. مریم کو اس کے یہ سوال اچهے لگ رہے تهے
تم اس کے علاوہ کسی سے بهی شادی کر لیتی؟ عمیر آج کچه زیادہ ہی سیریس تها
ہاں کر لیتی مگر ایسا جسے مرد کہا جا سکے. مریم نے اس کی بات کی تصیح کی
جو بهی ہے یار. عمیر نے چڑ کر اس کی بات کاٹی
تم مجه سے بات کیوں کرتی ہو؟ عمیر نے ایک اور عجیب سوال پوچها
یہ سوال تمہیں اب یاد آیا پوچهنا. مریم نے ہنستے ہوئے کہا.
ہاں اب یاد آیا تم بتاو تم.مجه سے بات کیوں کرتی ہو؟ عمیر اپنی بات پہ قائم رہا
جهوٹ میں بولتی نہیں صاف بات یہی ہے کہ میں اس گهر کے ماحول کو بهول کر کچه انجوائیمنٹ کرنا چاہتی تهی اور تمہارے علاوہ یہاں کون آسکتا تها تو سوچا تم سہی. اتنی کڑوی بات وہ لڑکی کتنی آسانی سے کر گئی تهی
تم بہت سادہ ہو مریم تم مجهے یہ کہہ رہی ہو کہ تم میرے ساته ٹائم پاس کر رہی ہو؟ عمیر نے لفظوں کے ردوبدل سے وہی بات کہی جو وہ کہنا چاہ رہی تهی
ہاں یہی سمجه لو اور محبت تو کرنے سے رہی میں. مریم کهل کے ہنسی اپنی بات پر.
اور اس کا انجام تم جانتی ہو تمہاری فیملی کوپتا چلنے پہ کیا ہو گا تمہارے ساته. عمیر نے اس کا حقیقیت کی طرف لانا چاہا
میں جانتی ہوں اس لیے تو کر رہی ہوں وہ بهی تو دیکهیں کسی کے ساته زبردستی کا انجام کیا ہوتا ہے. مریم نے کڑوے لہجے میں کہا
مریم تم بہت غلط کر رہی ہو یہ سب. اگر تم شادی نہیں رکوا سکتی تو اس سب کا کیا مطلب ہوا اپنا نقصان کرو گی. عمیر نے فکرمندی سے کہا
تم یہ کیوں نہیں کہتے تمہیں اب ڈر لگ رہا ہے . مریم اپنی بات پہ خوب ہنسی
مجهے کائی ڈر نہیں اور نا تمہاری فیملی میرا کچه بگاڑ سکتی ہے میں تمہاری فکر میں کہا. عمیر کو واقعی اس کی فکر تهی
تم میری فکر چهوڑو تم نہیں ہو گے تو میں کسی اور سے بات کر لوں گی تمہاری مرضی ہے. مریم نے لاپرواہی سے کہا
مطلب میں بات نا کروں تو تم کسی بهی ایرے غیرے سے بات کر لوگی؟ عمیر کو اس کی بات پہ حیرت کا جهٹکا لگا
ایرے غیرے کیا مطلب تم کونسا میرے پهپهو کے بیٹے ہو تم بهی تو ایرے غیرے ہو. مریم نے بے دردی سے اسے اس کی اوقات یاد دلائی.
پهر ہمارا بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا مریم ہم آئیندہ بات بهی نہیں کریں گے. عمیر کچه زیادہ ہی دلبرداشتہ ہو رہا تها. اس نے کال کاٹ دی اور بار بار مریم کے کال کرنے پر بهی کال رسیو نہیں کی
####
تمہارا دماغ خراب تها اسے یہ سب کہہ دیا. روبینہ نے ساری بات سن کر اسے ڈانٹا
میں تو مذاق میں کہہ رہی تهی وہ سیریس ہوتا گیا خوامخواہ میں اور مجهے کونسا اس سے کوئی پیار محبت تها. مریم نے اپنی بات کو خود ہی انجوائے کیا
بہت خراب ہو تم ویسے. روبینہ کو اپنے دوست کے کهونے پہ دکه ہونے لگا اس نے فوراً عمیر کو میسج کیا کہ مجهے کال کرو. تهوڑی دیر میں عمیر کی کال آنے لگی اس سے پہلے کہ وہ کال رسیو کرتی شہباز بهائی کی آواز آنے لگی اس نے جلدی سے موبائل آف کر کے چهپا دیا
###
ڈرائینگ روم میں شہباز کا کوئی دوست آیا ہو تها اس نے مریم کو چائے بنانے کو کہا مریم نے چائے بنا کے شہباز کو آواز دی وہ اندر آکے چائے لے گیا مریم نے تجسس سے روبینہ کو اشارہ کیا اور ونڈو کی درز سے اندر جهانکا ایک خوش شکل لڑکا ہنس ہنس کر شہباز سے بات کر رہا تها جس کا نام یقیناً علی تها ان دونوں نے شرارت سے ایکدوسرے کو دیکها اور ہنسی کنٹرول کی تبهی شہباز کے اندر آنے کی آواز آئی تو دونوں بهاگ کر کمرے میں چلی عمیر کی کال مسلسل آرہی تهی. مگر وہ رسیو نہیں کر سکتی تهی. وہ دونوں علی کو ڈسکس کرتی جا رہی تهی جبکہ ثمینہ بیزاری سے انہیں دیکه رہی تهی ضد میں آکر مریم صیح اور غلط کا فرق نہیں دیکه رہی تهی اور یہی چیز اسے ڈرا رہی تهی
###
تم کال کیوں نہیں رسیو خر رہی تهی کب سے ٹرائی کر رہا ہوں. عمیر نے چهوٹتے ہی کہا
شہباز گهر پہ تها اور تم تو ناراض تهے پهر بار بار کال کیوں کر رہے تهے. اب موبائل واپس نا مانگ لینا ایک یہی تو اچهی چیز ہے میرے پاس. مریم نے ہنستے ہوئے طنز کیا
نہیں پاگل موبائل اب تمہارا ہے. میں تمہارا عادی ہو گیا ہوں اب ناراض نہیں ہو سکتا. عمیر نے سادہ لفظوں میں کہا
تو تمہیں مجه سے پیار ہو گیا ہے. مریم نے اس کا مذاق اڑایا
ہو سکتا ہے ہو بهی گیا ہو. عمیر نے انکار نہیں کیا مریم کے دل کو کچه ہوا
ہاہاہا مجهے تو یہ بهی نہیں پتا کوئی پیار کیسے کرتا ہے سوائے دادی کے میں نے کسی کا پیار نہیں دیکها. مریم نے بظاہر مذاق میں کہا مگر اس کے لہجے میں درد تها عمیر کو وہ ایکدم سے اپنی اپنی لگی
تم تو میرے ساته ٹائم پاس کرتی ہو نا. عمیر نے طنز کیا
ہاں کرتی ہوں میں تو سوچ رہی تهی تم ناراض ہو گئے ہو اب کس سے بات کروں شہباز کا دوست آیا ہوا تها سوچا اس سے رابطہ کر لوں مریم نے ہنستے ہوئے کہا عمیر جی بهر کے اس لڑکی پہ حیران ہوا وہ اس سے کیسی بات کر رہی تهی
چلو اب تو میں آگیا ہوں اب کسی سے نا کرنا. عمیر نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا
کوئی تم سے زیادہ پیارا مل گیا تو اس سے کر لوں گی. وہ اپنی بات پہ خوب ہنسی اس بار اس کے ساته روبینہ بهی خوب ہنسی.
باہر کهڑے شہباز پہ گایا بجلی گری اس کے گهع میں اس کی موجودگی میں اس کی بہن کسی سے موبائل پہ بات کر رہی تهی اتنی بے فکری کے ساته.اس کے پاس موبائل کہاں سے آیا؟ غصہ کا ابال شہباز کے اندر اٹها اور اس نے بند دروازے کو زور سے ٹهوکر مار کر کهولا روبینہ کی ہنسی ایکدم سے رک گئی اس کا چہرہ خوف سے زرد ہو رہا تها
________
مریم نے جلدی سے موبائل پیچهے لیا اس اچانک افتاد پہ وہ پہلے بوکهلا گئی مگر پهر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا
کس سے بات کر رہی تهی؟ شہباز نے مٹهیاں بهینچتے ہوئے ضبط سے پوچها
آپس میں بات کر رہی تهی اور کس سے بات کر رہی تهی. مریم نے خود کو نارمل رکها اور اس میں کوئی شک نہیں تها وہ چہرے کے تاثرات چهپانے میں ماہر تهی یا پهر شاید وہ کسی سے ڈرتی ہی نہیں تهی.
کس سے بات کر رہی تهی یہ؟ جهوٹ بولا تو زبان کهینچ لوں گا تمہاری. شہباز نے قہر آلود نظروں سے اب روبینہ کو گهورا
م..م..مجه سے کر رہی تهی. روبینہ سے الفاظ ادا کرنا مشکل ہو رہا تها وہ بری طرح کانپ رہی تهی اور شہباز کے لیے یہی کافی تها جاننے کے لیے.
بکواس کرتی ہو میرے سامنے؟ میرے پیچهے یہ کهیل چل رہا ہے. شہباز نے ایک زور کا تهپڑروبینہ کو مارا وہ توازن برقرار نا رکه پائی اور لڑکهڑا کے گری. شہباز نے اس پہ تهپڑوں کی بارش کر دی. مریم نے موبائل وہاں موجود ڈبہ میں ڈال دیا اور روبینہ کو چهڑانے کے لیے آگے بڑهی شہباز نے اسے دهکا دیا اس کا سر بری طرح دیوار سے ٹکرایا.
تم نے مجهے بلکل ہی بیغرت سمجه لیا ہے تمہیں میں چهوٹ دیتا گیا تم یہاں تک آگئی. شہباز نے مریم کا گلہ دبوچ لیا
آج تمہارا قصہ ہی ختم کرتا ہوں اس سے پہلے کہ تم ہمیں بایر نکلنے کے قابل نا چهوڑو. شہباز کی آنکهیں شعلے اگل رہی تهی جبکہ مریم نے اس کا منہ نوچ لیا روبینہ اور ثمینہ خوف سے چیخنے لگیں تبهی ابا گهر میں بهاگتے ہوئے آئے اور شہباز کو کهینچ کے اس سے الگ کیا
تم پاگل ہو گئے ہو کیا مصیبت پڑ جاتی ہے تمہیں بار بار. کیوں میرے گهر کا سکون حرام کرنے پہ تلے ہوئے ہو. عباس صاحب نے شہباز پہ چلاتے ہو کہا
میں برباد کر رہا ہوں سکون ان بیغرتوں سے پوچهو کیا کر رہی ہیں ہمارے پیچهے. شہباز ان سے زیادہ اونچی آواز میں چلایا
کیا کر رہی ہیں سارا دن گهر سمنبهالتی ہے تمیارے بہن بهائی پال رہی ہے تمہاری خدمتیں کر رہی ہے یہی اس کو انعام دے رہے ہو اس کی اچھائیوں کا. ابا آج شہباز پہ برس پڑے
خدمتیں کرتی ہے اسی کا لحاظ ہے ورنہ آج اسے مار کے کہیں دفن کر چکا ہوتا. اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہے. جو ڈهیل تم آج کل ان کو دے رہے ہو مجهے سب نظر آرہا ہے مگر یاد رکهنا اس کا انجام بهگتو گے پهر بیٹهے رہنا سر پکڑ کر. شہباز نے اب کہ ابا کو قہر آلود نظروں سے دیکها
او جاو یار اپنا کام کرو ہمیں بخش دو ہمیں زندہ رہنے دو میں سر پکڑ کے رویا تو تمہارےپاس نہیں آوں گا تم ہمیں معاف رکهو یی ہاته جوڑتا ہوں تمہارے سامنے. عباس صاحب نے اس کے آگے ہاته جوڑ لیے شہباز دانت پیستا ہوا باہر نکلنے لگا
تمہارے لیے بہتر یہی ہو گا موبائل مجهے دے دو خود ہی ورنہ جس دن میرے ہاته لگ گیا تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا اور یہ سب تمہارا انجام دیکهیں گے. شہباز نے جاتے جاتے اسے وارن کیا.
جاو یار جاو. عباس صاحب نے نخوت سے ہاته جهٹکے
یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا تم نے اسے اتنا سر چڑهایا ہوا کہ جب چاہے ہم پہ ہاته اٹهائے. مریم نے اپنے ہونٹ سے نکلتے خون کو جو کہ شہباز کی گهڑی لگنے سے نکلا تها دوپٹہ سے صاف کرتے ہوئے ابا کو گهورا
بکواس بند رکهو تم اپنی تم سب نے طئے کر لیا ہے میرے سر میں خاک ڈلواو گی کیا قصور ہے میرا کہ تم بیٹیوں کو پیدا کر پالا پوسا. رحم کرو مجه بڈهے پر اس عمر میں مجه سے دکه نہیں سہے جاتے. آج اس کو روک لیا میں نے کل کو تمہیں مارنے پہ تل جائے میں کیا کر سکوں گا؟ اب جوان بیٹا گهر سے باہر نکال دوں میں مجهے بتاو میں کیا کروں ؟ عباس صاحب کی آواز کانپنے لگی ان کا گلہ رنده گیا. مریم کچه نا بول سکی وہ شہباز نہیں تهے کہ وہ ان کا منہ نوچ لیتی. وہ اہنے کندهے پہ موجود رومال سے آنکهیں صاف کرتے باہر نکل گئے. مریم نے موبائل اٹهایا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا. وہ عمیر سے لمبی کال کرنے کا ارادہ رکهتی تهی
###
تم فکر نا کرو اس کو ہم سنبهال لیں گے تم بس شادی کی تیاریاں شروع کرو تینوں کی شادی ایک ساته رکهو. چچا نے ساری صورتحال سن کر شادی جلدی کرنے کو کہا جس سے شہباز مکمل متفق تها
میں بهی یہی چاہتا ہوں ان دونوں کا بوجه اترے ابهی پیچهے اور بهی دو ہیں. مجهے ہی سوچنا ہے ان کا ابا کو تو کوئی فکر ہے نہیں گهر میں کیا ہو رہا ہے کیا نہیں.شہباز نے بہت پریشان لگ رہا تها کسی نئے آنے والے خطرے کے ڈر سے.
تم فکر نہیں کرو بس تم تو جانتے ہو گهر کے حالات ندیم کوئی کام نہیں کرتا تم ایسا کرو ندیم کی طرف سے بهی خرچہ تم اٹهاو ورنہ وہ تو کسی کام کا نہیں اپنی ہی بہن دے رہے ہو کسی اور کے پاس نہیں جا رہا. باقی رہا میں تو میں ثمینہ کو رخصت کروا کے آج لے آوں کہو تو میں تو تیار ہوں. چچا نے فیصلہ سنایا اور ایک سائیڈ پہ کرلیا خود کو.
میں کچه کرتا ہوں ادهار لوں گا اپنے پاس بهی ہے پڑا بہت کچه بس یہ شادیاں جلدی کریں
###
مریم تم اپنے ساته ظلم مت کرو تمہاری شادی وہی ہونی ہے تو تم کیوں اپنے لیے مسلے کهڑے کر رہی ہو چهوڑ دو یہ سب اور شادی کرو اور خوش رہو. عمیر کا دل اس کے لیے بہت دکها تها
تم میرے ساته شادی کرو گے؟ مریم نے سرد لہجے میں پوچها
مریم یہ ممکن نہیں.. عمیر نے لمبی سانس لی
تمہاری منگنی ہو چکی ہے تمہاری شادی قریب ہے تمہارے گهر والے کبهی نہیں مانیں گے یہ بات تم سمجهو میری بات. اور میری فیملی بهی نہیں مانے گی مریم. ایسا کہتے ہوئے عمیر کا دل جیسے کوئی آہستہ آہستہ مٹهی میں دبا رہا تها
میں کورٹ میرج کی بات کر رہی ہوں. مریم نے اس کے سر پہ دهماکا کیا اسے سمجه میں نہیں آیا وہ اس پاگل لڑکی کو کیا کہے یہ بغاوت اس کی جان لے لے گی
مریم ایسا نہیں ہو سکتا تم جانتی ہو میں سٹوڈنٹ ہوں میرے پاس کچه نہیں ہے میں تمہیں کہاں رکهوں گا اور تمہاری فیملی ہمارا پیچها کبهی نہیں چهوڑے گی. عمیر اسے سمجهانا مشکل ہو رہا تها.
ہاں میں سمجه سکتی ہوں. تم کسی ایسے انسان سے میرا رابطہ کروا سکتے ہو جو مجهے یہاں سے نکال سکے. مریم کا لہجہ نے عمیر کو دهچکا پہنچایا
تمہارا دماغ خراب ہے مریم تم کسی سے بهی شادی کر لو گی تم اتنی پاگل ہو. بچپنا چهوڑو اور پلیز جہاں وہ کہہ رہے شادی کر لو عمیر کا سر پهٹنے لگا اس سچویشن پہ
میں کچه کها کے مر جاوں گی شادی تو نہیں کروں گی کبهی بهی اب یہ میری ضد ہے اور میں اس گهر کے ایک ایک فرد کو بتا دوں گی میں کیا ہوں. مریم کا لہجہ بہت خوفناک تها اس نے کال کاٹ دی عمیر نے جلدی سے پهر کال کی جسے مریم نے کاٹ دیا وہ بار بار کال کرتا رہا مگر وہ کال رسیو نہیں کر رہی تهی اس کا دل بیٹهنے لگا اس کو پہنچنے والی کوئی بهی تکلیف اسے ڈرا رہی تهی.
####
گهر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں چچ تائی روز شاپنگ کر رہی تهی شہباز نے انہیں پیسے دے دئیے تهے کہ وہ سب کی شاپنگ کر لیں.
یہ لو پیسے تم لوگ اپنی مرضی سے شاپنگ لو جو بهی لینا چاہو. شہباز ان کے کمرے میں آیا جہاں وہ چاروں بیٹهی تهیں اس نے پیسے ان کی طرف بڑهائے
کیوں تمہاری ساس نے تمہیں اجازت دے دی ہمیں پیسے دینے کی. مریم نے اسے دیکه کر طنز کیا مگر پیسے نہیں پکڑے
مریم کیوں نہیں دیں گی وہ اجازت پیسے میرے ہیں میری مرضی میں اپنی بہنوں کو دوں یا جس کو دوں. شہباز نے بہت نرم لہجے میں اسے کہا وہ نہیں چاہتا تها اب جب اس کی شادی ہونے والی ہے وہ اس پہ چیخے چلائے.
اچها تمہیں یہ بهی پتا ہے ہم تمہاری بہنیں ہیں بڑی جلدی خیال آگیا تمہیں. مگر ہمیں تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں اور یہ شادی میں تو نہیں کروں گی تم جتنی تیاریاں کر لو. مریم نے اسے زچ کرنا چاہا
مریم شادی تم نے یہیں پہ کرنی ہے چاہے تم جو بهی کر لو. بہتر ہے گهر کا ماحول نا خراب کرو نا مجهے خوار کرو نا خود کو بے عزت کروا کے لوگوں کو تماشا دکهاو. شہباز نے بےبسی سے اسے دیکهتے ہوئے سمجهانا چاہا
کر کے دیکه لو تم اپنی مرضی میں اپنی کروں گی یہ بهی تم دیکه لو گے. مریم نے اسے چیلنج کرتے ہوئے کہا اور اٹه کر کمرے سے باہر نکل گئی. شہباز نے ضبط سے آنکهیں بند کر لیں اور خود کو نارمل رکهنے کی کوشش کی
یہ لو تم رکهو شاید تمہاری زبان سمجه جائے اسے سمجهاو تم لوگ. شہباز نے بے بسی سے ثمینہ کو دیکها ثمینہ نے پیسے پکڑ لیے. شہباز اٹه کر باہر نکلنے لگا تبهی اس کی نظر سامنے والے گهر پہ پڑی جہاں عمیر اسے دیکهتے ہی جلدی سے واپس مڑا اور سیڑهیاں اترتا گیا. شہباز کے ماتهے پہ سلوٹیں ابهری اس نے سوچتے ہوئی نظریں اس گهر پہ ٹکائی. وہ کچه سوچ رہا تها اور اس کے چہرے کے تاثرات سخت ہونے لگے.
###
تم نے خوامخواہ تماشا بنایا ہوا ہے گهر کا سکون برباد خر رکها ہے تم نے. شادی یہیں ہونی ہے تو پهر یہ ڈرامہ کیوں کر رہی ہو تم.
ثمینہ نے اسے عمیر سے بات کرتے دیکه کر ٹوکا.
تم مجهے مشورہ نا دو تم کرو اسی سانڈ سے شادی. تمہیں کیا مسئلہ ہو گا کماتا ہے گهر میں اس کی اہمیت ہے. میرے لیے جو چنا اس کی عزت بچے بهی نہیں کرتے تم کہتی ہو میں اس سے شادی کر لوں؟ مریم نے کال کاٹتے ہوئے کہا
اور کون کرے گا تم سے شادی تم کونسا اتنی خوبصورت ہو کہ تم کسی پہ اعتراض کرو. ثمینہ نے بے رحمی سے اس کی صورت پہ کمنٹ کیا
جیسی بهی ہوں دل تو ہے میرے پاس بهی ہے اور میں نے کب کہا وہ کوئی شہزادہ ہو کسی محل کا. مریم نے اپنا مدعا بتانا چاہا
جو بهی ہے تمہاری سوچ تم نے عمیر سے جو تعلق بنا رکها ہے کیا وہ تم سے شادی کرے گا پهر کیوں ٹائم پاس کر رہی ہو. بس کر لیا انجوائے تمہارا شوق پورا ہو گیا اب بس کرو اس سب کو ختم کر دو. ثمینہ نے اسے سمجهانا چاہا
وہ نہیں کرے گا تو کوئی اور کر کے گا تم اس کی فکر نا کرو. مریم نے لاپرواہی سے کہا ثمینہ نے افسوس سے اسے دیکها جبکہ وہ پهر سے کال کرنے لگی تهی
####
وہ پاگل ہو چکی ہے میں اس کو سمجها سمجها کے تهک گیا ہوں مگر وہ کوئی بات سمجهتی نہیں مجهے ڈر ہے وہ خود کو کچه کر نا لے. عمیر فکر مندی سے زرگل خان کو بتا رہا تها
مجهے تو ترس آتا ہے اس لڑکی پہ. وہ یہاں تک پہنچ گئی ہے تو تم بهی آگے بڑهو اور اس سے نکاح کرو میں سب سنبهال لوں گا سب کوئی کچه نہیں کرسکتا تمہارا. زرگل خان نے اپنی مونچهوں کو تاو دیا اور اگر وہ کہہ رہا تها تو وہ کر بهی سکتا تها اس کی پاور عمیر اچهے سے جانتا تها اور ایسے کام وہ بہت بار کروا چکا تها
مگر امی ابو بہت غصہ کریں گے وہ مریم کو کبهی ایکسیپٹ نہیں کریں گے. عمیر نے نئی الجهن بتائی
وہ بعد کی بات ہے تم ابهی نکاح کرو سارے انتظام میں کر لوں گا تم بس اس سے بات کرو اسے وہاں سے نکلنے کا پلان بتاو باقی میں سمبهال لوں گا. زرگل خان نے پورا پلان پیش کر دیا اور عمیر پر سوچ نظروں سے اسے دیکهنے لگا
