Laaltain by Iban e Aleem Rana NovelR50527 Laaltain (Episode 04)
Rate this Novel
Laaltain (Episode 04)
Laaltain by Iban e Aleem Rana
اس نے اپنے دوستوں کو ان کے گاؤں میں اتارا اور خود آہستہ آہستہ اپنی جنت اپنے گھر کی طرف چل پڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے ہی ثریا بھاگ کر گھر اپنی ماں کے پاس گئی
وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ خوشی کی خبر اس سے پہلے کوئی اور ماں کو سناۓ
اس نے جاتے ہی اماں اماں کی صدا لگائی۔۔۔۔۔۔
خوشی اس سے چھپاۓ نہیں چھپ رہی تھی
کیا ہوا ثریا پتر۔۔۔؟؟؟اس کی ماں نے کمرے سے نکلتے ہوۓ پوچھا۔۔۔خیر تو ہے ؟؟؟
ثریا نے تفصیل سے ساری بات بتائی ۔۔۔۔
اتنے میں گاموں اور جانی بھی گھر میں داخل ہوچکے تھے۔۔۔
جانی کی ماں نے خوشی سے جانی کوگلے لگایا اور ڈھیر ساری دعائیں دیں
اماں بھینس کل اندان گاؤں کے مکھیا کے گھر سے لےآؤں گا۔۔۔۔جانی نے اپنی ماں کو آگاہ کیا۔۔۔۔اس نے اپنے باپ کا پوچھا تو پتہ چلا وہ ڈیرے پر گیا ہوا ہے۔۔۔
اس نے دودھ لانے کے لیے برتن اٹھایا اور ڈیرے کی طرف چل پڑا۔۔۔۔۔۔
اگلے دن حسب معمول اس نے اللہ اکبر کی صدا کے ساتھ ہی چارپائی کو چھوڑا نماز پڑھ کر دودھ نکالا اور گھر پہنچ گیا۔۔۔۔
ناشتہ کرنے کے بعد اس نے اپنے ماں باپ کو آگاہ کیا کہ وہ مکھیا کے گھر سے بھینس لینے جارہا ہے اور پیدل ہی گھر سے نکل کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
جانی اور مکھیا کا گاؤں ایک دوسرے سے زیادہ دور نہیں تھے بیچ میں ایک پہاڑ پڑتا تھا جس کی کم بلندی والی جگہ سے ادھر ادھر آنے جانے کے لیے راستہ بنا رکھا تھا۔۔۔
یہی راستہ دوسرے گاؤں اور قریبی قصبے تک بھی جاتا تھا جہاں لوگ خریداری کرنے یا اپنی چیزیں بیچنے جاتے تھے اور اور اسی قصبے میں جانی بھی روز اپنی بیل گاڑی لیکر جاتا تھا
گاؤں والا کا کوئی سامان لے جاتا اور واپسی پہ لے آتا اور دن میں قصبے میں ایک آڑھتی کی دوکان سے سامان ادھر ادھر چھوڑ آتا تھا یہی اس کا روزگار تھا۔۔۔۔۔
کچے راستے پہ پیدل چلتا ہوا وہ اندان گاؤں کے قریب پہن چکا تھا۔۔۔۔راستے کے بلکل قریب ہی کنواں تھا وہاں سے اس نے کنویں پہ لگی مشک کو کنوے میں ڈال کر پانی نکال کر پیا اور گاؤں کی طرف چل پڑا۔۔۔
کنوے سے گاؤں جانے والا راستہ پگڈنڈی نما تھا جو کھیتوں کے بیچ سے گزرتی تھا دونوں اطراف کھیت تھے اور وہ ان پہ جارہا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راما کی ساری رات بےچینی میں گزری تھی اسے رہ رہ کر وہ سجیلا جوان یاد آرہا تھا جس نے مادھوکو زمین چاٹنے پر مجبور کیا تھا
باتوں باتوں میں وہ کئی بار جانی کا ذکر اپنی چھوٹی بہن سیتا سے بھی کرچکی تھی
جانی کے دوست اختر کی بہن رضیہ راما کی دوست تھی راما کا ارادہ تھا کہ آج دن میں وہ رضیہ کی طرف جاۓ گی اور اسے کریدنے کی کوشش کریگی۔۔۔
اسے ابھی تک جانی کا نام بھی معلوم نہیں تھا اور نہ اس کے گاؤں کا کہ۔۔۔۔ وہ کس گاؤں میں رہتا تھا البتہ اسے میلے میں لوگوں کی زبانی اتنا ضرور پتہ چل گیا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور اسی لیے وہ اپنی مسلمان سہیلی اختر کی بہن سے ملنے کو بےقرار تھی کہ شاید اس کو پتہ ہو اس کا؟؟؟ ۔۔۔۔
آج صبح سات بجے کے قریب اس نے جلدی سے ناشتہ بنایا اور اپنی ماں اور باپ کو دیا۔۔
خود اس نے اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ مل کر ناشتہ کیا ۔۔۔برتن دھوکر وہ باہر جانے لگی تھی۔۔۔۔ پھر نہ جانے کیا اس کے دل میں آیا کہ وہ گھر میں بنے پوجا پاٹ والے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔
اس کی ماں نے حیرت سے اسے دیکھا اور اپنے پتی بھگوان داس سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔۔
یہ راما کو آج کیا ہوگیا ہے؟؟؟ پوجا کرنے گئی ہے ؟؟؟؟؟
اس کی ماں کی حیرت بجا تھی کیونکہ راما کو کبھی بھی پوجاپاٹ سے دلچسپی نہیں رہی تھی۔۔۔کبھی کبھار ماتا پتا کے اصرار پہ دو چار منٹ پوجا والے کمرے میں لگی بھگوان کی مورتی کے سامنے بیٹھ جاتی تھی۔۔۔اور فوراً ہی اٹھ جاتی تھی۔۔۔۔۔۔
ان پڑھ تھی اور بچپن سے ماں باپ کو یہاں پوجا کرتے دیکھ رہی تھی مگر۔۔۔۔۔۔۔ پھر بھی جانے کیوں اس کا دل نہیں کرتا تھا کہ وہ مورتی کے سامنے بیٹھ کر عجیب غریب انداز میں بجن گاۓ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ خود پوجا والے کمرے میں گئی تھی تو اس کی ماں کی حیرت بجا تھی۔۔۔
راما نے دروازہ بند کیا اور آنکھیں بند کر کے ہاتھ جوڑ کے مورتی کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
ہے بھگوان۔۔۔۔اس کی ساری حسیں گویا فریادی بن گئیں تھیں۔۔۔۔
میں نے آج تک تیری پوجا نہیں کی میرا دل نہیں کرتا تھا مگررر۔۔۔۔آج معاملہ ہی دل کا آن پڑا ہے تو اس کو میرے لیے لکھ دے مجھے ملادے اس سے۔۔۔۔
پھر اس نے ایک عجیب کام کیا مورتی سے کچھ فاصلے پر آبیٹھی اور ۔۔۔۔۔دل کو فقیر بنا کر دل سے صدا دی۔۔۔۔
اے مسلمانوں کے خدا
میں نے مسلمانوں کو دیکھا ہے وہ ہر کام تیرے سپرد کردیتے ہیں وہ تجھ پہ بہت یقین رکھتے ہیں ۔۔۔میں تجھے نہیں مانتی مگر آج میں تجھ سے بھی مانگ رہی ہوں اگر تو ہے تو میرے دل کو چین دےدے اسے مجھ سے ملادے اسے میرا کردے
مجھ سے اب رہا نہیں جاتا میرے دل کو حوصلہ دے دے۔۔۔۔اسے ملادے مجھ سے آج ہی ملادے مجھ سے صبر نہیں ہوتا اب۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر وہ یونہی یقین و بے یقینی کے سمندر میں غوطہ زن رہی اور پھر اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی
صحن میں آکر اس نے اپنے باپ سے کہا۔۔۔۔
پتا جی میں اپنی سکھی رضیہ کے گھر جارہی ہوں؟
بٹیا جلدی آجانا اس کے پتا نے اجازت دی۔۔۔۔
راما یہ تجھے آج پوجا کی کیا سوجی؟؟؟ اس کی ماں کی حیرت ابھی تک برقرار تھی۔۔۔۔۔
ماتا بس یونہی آج دل کیا۔۔۔راما نے اپنی ماں کے گلے میں بانہیں ڈال کر چٹاخ سے ان کے گالوں پہ بوسہ ثبت کردیا۔۔۔
چل ہٹ بد تمیز۔۔۔ماں نے مصنوعی ناراضگی سے کہا اور مسکرادی۔۔۔
اچھا ماتا میں جا رہی ہوں اس نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔
ابھی وہ دروازے سے دوقدم دور ہی تھی کہ ٹھک۔۔ٹھک۔۔ٹھک۔۔۔کی آواز کے ساتھ دروازے پہ دستک ہوئی۔۔۔
راما دیکھنا کون ہے؟؟؟ اس کے پتا نے راما کو دروازے کی جاتے دیکھ کر کہا
اس نے دروازہ کھولا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گویا پتھر کی ہوگئی
اسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آرہا تھا ۔۔۔اسے یقین نہیں ہورہا تھا کہ دعائیں یوں قبول ہوجاتی ہیں؟؟؟ معجزے آج بھی ہوجاتے ہیں؟؟؟اسے یاد آیا ابھی ابھی اس نے مسلمانوں کے خدا کو پکارکر کہا تھا اگر تو ہے تو اسے مجھ سے ملادے۔۔ابھی ملادے۔۔۔اور اسے ملادیا گیا تھا۔۔۔دل کو صبر و قرار بخش دیا گیا تھا اس کے۔۔۔۔۔وہ جب سنتا ہے تو یہ نہیں دیکھتا کہ اس اکا بندہ کتنا گنہگار ہے ؟؟؟کون ہے؟؟؟
یہ بھگوان داس جی کا گھر ہے؟؟؟ جانی اس کے دیکھنے سے پریشان سا ہوگیا تھا
جج جج جی۔۔یہی ہے راما کچھ جھنپ سی گئی
ممم میں بلاتی ہوں ان کو۔۔۔خوشی میں اسکے منہ سے الفاظ ٹھیک سے ادا بھی نہیں ہورہے تھے
پتا جی پتا جی۔۔۔۔وہ اپنے باپ کو آوازیں دیتی واپس پلٹی۔۔۔
کیا ہوا بیٹیا؟؟؟ کون ہے؟؟؟ بھگوان داس نے پوچھا تو اسے احساس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ ہی خوش ہے
پتا جی باہر وہ کل والا پہلوان آیا ہے جس نے مادھو کو…………اچھا اچھا جان محمد آیا ہے اس کے باپ نے اس کی بات کاٹی۔۔اور اٹھ کر باہر کی جانب چل دیا
باہر جانی اس منتظر تھا
اس نے جانی سے ہاتھ ملایا اس کا حال احوال پوچھا اور بولا ۔۔۔۔۔۔۔پتر اندر آجا تیرا اپنا گھر ہے
جانی تھوڑا جھجکا اور پھر ان کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہوگیا
بیٹھ پتر۔۔۔بھگوان داس نے چارپائی کی طرف اشارہ کیا
جانی بیٹھ چکا تو اس نے آواز دی بیٹیا راما۔۔۔۔۔۔۔۔
آئی پتا جی۔۔۔راما کا تو گویا سارا جسم اس وقت کان اور آنکھ بنا ہوا تھا۔۔اور کیوں نہ ہوتا اس کا من پسند شخص یو اچانک جیسے مرنے کو زندگی مل جاۓ۔۔۔اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا
بیٹیا کوئی لسی پانی لاؤ مہمان کے لیے اس کے باپ نے راما سے کہا۔۔۔
ہاں بھئی جوان تیرا پتا کیسا ہے ؟ بھگوان داس جانی سے مخاطب ہوا
جی ابا ٹھیک ہے تسی جانتے ہو میرے ابا کو؟؟اس نے کچھ حیرت سے کہا
پتر میں تو تجھے بھی جانتا ہوں مگر تو شاید مجھے نہیں جانتا اور تیرے پتا کو تو بہت پہلے سے جانتا ہوں
لسی کے بعد چاۓ اور لڈوؤں سے جانی کی تواضع کی گئی۔۔۔۔۔
جوان ایک بات تو ہے کل تم نے بہت اچھی کشتی لڑی بےشک وہ میرا بھتیجا ہے مگر کھیل میں گھمنڈ اور غصہ نہیں ہوتا جو مادھونے کل دکھایا تھا بھگوان داس نے اسے سراہا
اپنے پتا کو بولنا کہ بگھوان داس کہہ رہا تھا کہ ہمیں بھول ہی گئے ہو تم تو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راما کا بس نہیں چل رہا تھا دل نکال کر اس کا فرش بنادے جس پہ جانی کے پاؤں پڑیں۔۔۔اور آنکھیں جانی کو دان کردے جو اس کے ساتھ ہی رہیں اسے دن رات دیکھتی رہیں ۔
وہ چاۓ کے برتن اٹھانے آئی تو جھجکتے ہوۓ اس نے جانی سے کہ ہی دیا۔۔۔۔
کل آپ بہت اچھا کھیلے تھے
میں بھی وہیں تھی پتا کے ساتھ ۔۔۔۔۔ دھنےواد (شکریہ) آپ لوگوں کا جانی نے مسکراکر ان کی زبان میں ہی شکریہ ادا کیا
راما نے اس سے بات بھی کرلی تھی یہی راما کے لیے بہت تھا۔۔۔اس کی اس وقت کی کیفیت وہی جان سکتا ہے جو اس کیفیت سے گزرا ہو ۔۔۔من پسند شخص کا دیدار اس سے بات چیت اور اس کی اپنے گھر آمد یہ کچھ کم نہ تھا
جانی نے جانا چاہا تو بھگوان داس نے بٹھا لیا اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے
راما اس کی چھوٹی بہن اور اس کی ماں سامنے بنے برآمدے میں بیٹھے تھے اور راما اس انداز سے بیٹھی تھی کہ اس کا چہرہ جانی کی طرف تھا ۔۔۔وہ بار بار ادھر دیکھ رہی تھی وہ ان لمحوں کو اپنی آنکھوں میں قید کرنا چاہتی تھی
وہ دل ہی دل میں پراتھنا (دعا) کر رہی تھی کہ جانی جلدی نہ جاۓ۔۔۔۔۔
راما تو رضیہ کی طرف جارہی تھی اس کی ماں نے اسے یاد دلایا ۔۔۔۔۔
ماتا جاتی ہوں کچھ دیر میں وہ مہمان کو لسی پانی دینے لگ گئی تھی تو یاد نہ رہا۔۔۔اس نے بہانہ بنایا حالانکہ اسے یادتھا مگر وہ اب یہاں سے جانا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ لوگ باتیں کرہی رہے تھے کہ دروازہ کھول کر مادھو اندر آگیا ۔۔۔اسے گمان بھی نہیں ہوگا کہ جانی اس وقت یہاں ہوگا ورنہ شاید وہ نہ آتا۔۔۔۔اپنی ذلت بھولا نہیں تھا وہ اور جانی کے لیے اپنے دل میں انتقام نفرت اور دشمنی کا جزبہ لیے گھوم رہا تھا جس کی جانی کو خبر بھی نہیں تھی۔۔۔۔
مادھو کو دیکھ کر سب کے چہروں پر ناگواری سی آئی ماسواۓ جانی کے۔۔۔۔کیونکہ جانی نہ اس کے کردار کو جانتا تھا اور نہ اس کے دل میں چھپے اپنے لیے نفرت کے جزبات کو۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت مادھو کا آنا سب سے زیادہ برا راما کو لگا تھا
اس کے چہرے پہ آئی ناگواری صاف محسوس کی جاسکتی تھی۔۔۔۔۔
مادھو نے آتے ہی اپنے تایا بھگوان داس کو پرنام کیا اور ناگواری سے بولا۔۔۔۔۔
تایا جی ہر ایرے غیرے کو گھر نہیں بٹھاتے گھر میں جوان بیٹیاں ہیں ادھر ڈنگروں کے باڑے میں چارپائی ڈال لینی تھی۔۔۔۔
تو مجھے مت پڑھا کہ کس کو گھر بٹھانا کس کو نہیں؟؟؟بھگوان داس کو مادھو کا رویہ بےحد برا لگا تھا۔۔۔۔۔
مادھو کے الفاظ سب نے سنے تھے تو راما کیسے اپنے محبوب کی بےعزتی برداشت کرتی۔۔۔۔۔فوراً اٹھ کر آئی اور تیکھے لہجے میں بولی۔۔۔۔
پہلے تو تو سیکھ لے کسی کے گھر کیسے جایا جاتا ہے
پھر دکھانا غیرت۔۔اور تو کون ہوتا ہے ہمارے گھر آۓ سے ایسے بات کرنے والا؟؟؟؟
راما کا پارہ ہائی ہونے لگا تھا
دیکھو تایا جی اسے سمجھاؤ اس کو پتہ ہی نہیں ہے بولنے کا دوسروں کے سامنے ہماری بے عزتی کیے جارہی۔۔۔۔
راما اپنے دفاع میں بولنا جانی کو اچھا لگا تھا
بیٹیا تم ادھر جاؤ۔۔۔بھگوان داس نے راما سے کہا تو غصے سے واپس مڑگئی۔۔۔۔۔۔
میری وجہ سے آپ لوگ نہ لڑو ۔۔۔میں ویسے بھی جانے ہی والا تھا جانی نے اٹھتے ہوۓ کہا تو۔۔۔۔۔راما کے دل پہ چوٹ سی پڑی۔۔۔اس نے نفرت سے مادھو کو گھورا
ارے نہیں پتر تو بیٹھ میں سمجھاتا ہوں مادھو کو بھگوان داس نے جانی سے کہا تو وہ بولا نہیں مکھیا جی میں ویسے بھی اب جانے والا ہی تھا۔۔۔اوراٹھ کھڑا ہوا
راما کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہورہا تھا
جانی کے اصرار پہ بھگوان داس بھی اٹھ کھڑا ہوا اور بولا چل پتر۔۔۔۔تجھے بھینس کھول کے دیتا ہوں
جانی نے راما کی طرف دیکھا اور خوشدلی سے بولا آپ سب کا دھنےواد۔۔۔۔چاۓ بہت اچھی تھی آپ نے بہت عزت دی مجھے آپ لوگ آیے گا کبھی ہمارے گھر۔۔۔۔
جانی کے الفاظ نے راما کے دل پہ مرہم کا کام کیا اور وہ کچھ شانت ہوگئی
بھگوان داس جانی کو لیکر گھرسے نکلا تو راما دروازے تک آئی تھی۔۔۔۔ان کے نکلتے ہی مادھو بھی نکل گیا تھا
بھینس لیکر اس نے بھگوان داس کا شکریہ ادا کیا اور کہا آپ کبھی سب کو لیکر آیے گا ہمارے گھر۔۔۔۔۔۔۔
ضرور آئینگے کبھی بھگوان داس نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔۔۔۔۔۔
جانی بھینس لیکر گھر پہنچا ماں کو بھینس دکھا کر جانی اسے اپنے ڈیرے پہ لےگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن معمول کے مطابق اس نے بیل گاڑی لی اور قصبے کی طرف چل پڑا۔۔۔سارا دن کام کے بعد شام کو واپس آرہا تھا جب اندان گاؤں کے کنوے کے قریب پہنچا تو بلا ارادہ رک گیا ۔۔۔۔۔۔
شام کا وقت تھا کنوے پہ پانی بھرنے والوں کا میلہ سا لگا ہوا تھا۔۔۔۔اس کے قدم خود بخود کنوے کی طرف اٹھتے چلے گئے۔۔۔۔۔
کنوے پہ پہنچ کر اس نے اپنے پاس برتن میں پانی بھرا اور پلٹنے کا ارادہ کر ہی رہا تھاکہ گاؤں کی طرف سے آتی پگڈنڈی پر اسے اختر کی بہن رضیہ آتی دکھائی دی اس کے پیچھے دوچار اور لڑکیاں بھی تھی وہ ایک دوسرے کے پیچھے چلی آرہی تھیں سب سے آگے رضیہ تھی۔۔۔وہ جاتے جاتے رک گیا۔۔۔اس نے سوچا اختر کو پوچھتا ہوں۔۔۔
وہ جیسے ہی قریب آئی اس کے پیچھے سے گویا چاند نکل آیا ۔۔۔۔یہ وہی چاند تھا جسے یہ بھگوان داس کے گھر میں دیکھا چکا تھا راما۔۔۔۔
اسے خوشگوار سی حیرت ہوئی۔۔۔۔رضیہ نے بھی جانی کو دیکھ لیا اور اسی کی طرف چلی آئی اس کے ساتھ راما بھی تھی۔۔دوسری لڑکیاں کنوے پہ چلی گئیں۔۔۔
رضیہ نے آتے ہی جانی کو سلام کیا جانی نے اس کے سر پہ شفقت سے ہاتھ رکھا اور پوچھا۔۔۔رضیہ بہن کیسی ہو؟
عین اسی وقت راما نے بھی تھوڑا جھجکتے دونوں ہاتھ جوڑکر اسے پرنام کیا ۔۔۔۔۔جانی نے اس سے بھی اس کا اور اس کے ماتا پتا کا پوچھا
راما کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ خوشی سے ناچنا شروع کردیتی۔۔۔۔۔۔
رضیہ بہن اختر سے کہنا کل صبح مجھے یہیں کنوے پہ ملے اسے کام پہ لےکے جانا ہے ساتھ۔۔۔جانی نے رضیہ سے کہا ۔۔۔۔
بھائی ۔۔۔۔میں اختر بھائی کو کہ دونگی رضیہ نے کہا ۔۔۔جانی کی نظر راما پہ پڑی۔۔۔۔وہ ٹکٹکی باندھے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔چوری پکڑے جانے پہ وہ سٹپٹا کر دوسری طرف دیکھنے لگ گئی۔۔۔۔جانی کو اس کی یہ ادا بھا گئی اس کے لبوں پہ ہلکا سا تبسم ابھرا
بھائی ۔۔۔۔مجھے آپ سے ایک خاص بات کرنی ہے رضیہ نے دھیمے سے لہجے میں کہا
ہاں کرو میری بہن۔۔۔کیا بات ہے؟؟؟جانی کوتجسس ہوا
نہیں۔۔۔۔۔ ابھی نہیں ۔۔کل زرا جلدی آجانا کام سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہمیں جلدی ہے ہم نے پانی بھرنا ہے دیر ہوجاۓ گی
رضیہ نے کہا تو وہ بولا ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی
بس یہ بتادے سب خیر ای ہے نا؟؟؟؟؟جانی تھوڑا فکرمند سا ہوا
بس خیر ہے بھی اور نہیں بھی۔۔۔۔۔کل بتاؤنگی رضیہ کا جواب تھا
ٹھیک ہے میری بہن پھر کل میں جلدی آجاؤں گا بتادینا۔۔۔
جانی نے کہا اور دونوں کو الوداع کہ کر چل پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
