Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laaltain (Episode 03)

Laaltain by Iban e Aleem Rana

معمول کےمطابق صبح آٹھ بجے اس نے دوکان کھولی اور صفائی کرکے اخبار پڑھنے لگ گیا۔

شہ سرخیوں پہ ایک نظر ڈال کراس نے اخبار پلٹاتو بری طرح اچھل پڑا۔

اس نے جلدی سے پوری خبر پڑھ ڈالی ۔۔۔!!!

خبر کچھ یوں تھی ۔۔۔۔۔۔۔

اقبال پاشا کے چھوٹے بیٹے خرم پاشا کے نئے اور شہر کے سب سے بڑے شاپنگ مال کاافتتاح ۔

اس کے اچھلنے کی وجہ خبر نہیں بلکہ اس کےساتھ چھپی خرم پاشاکی تصویر تھی۔

اس نے فوراً فرنٹ پیج پر تاریخ چیک کی۔

اخبار پرانا نہیں تھا اس پہ آج کی ہی تاریخ لکھی ہوئی تھی۔

اس کے ماتھے پر سوچ کی شکنیں نمودار ہوئی۔

یہ کیاماجرا ہے۔؟ اس نے خود سے سوال کیاتھا۔

اگر یہ زندہ ہے توپھر وہ اس کے لیے کیوں تابوت خرید کرلےگئی تھی۔؟

اور جوتابوت لےگئی تھی وہ کون تھی۔؟ اور

اس کا خرم یااقبال پاشاسے کیاتعلق تھا۔؟

حیرت تھی کہ بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔۔۔۔اور

سوال تھے کہ جن کاکوئی جواب ہی نہیں تھا۔

عجیب حیرت تھی اورعجیب تجسس کہ جس نے دماغ کو الجھاکررکھ دیاتھا۔۔۔۔

اس کانام شوکت صدیقی تھا۔

میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور پھر والد کےساتھ دوکان پہ بیٹھنے لگا۔

ان کا لکڑی کے لین دین کا کاروبار تھا اور ساتھ میں یہ آڈر پہ کوفین “تابوت” بھی تیار کرتے تھے جس کے لیے ایک آدمی رکھاہواتھا اور لکڑی چیرنے کےلیے ایک چھوٹاسا آرا لگارکھاتھا۔

تاکہ کہیں اور نہ جاناپڑے اور تابوت کےلیے درکار لکڑی خود ہی تیار کرلی جاۓ۔

والد کے مرنے کے بعد یہ کام شوکت کےحصے میں آگیاتھا جسے وہ باآسانی چلارہاتھا۔

یہ صرف عام لکڑی ہی نہیں خریدتے تھے بلکہ ہر طرح کی مہنگی لکڑی کی بھی خریدوفروخت کرتے تھے جس میں اسے اچھاخاصا منافعہ ہوجاتاتھا۔۔۔۔اور

اگر کوئی پرانی قیمتی لکڑی مل جاتی تھی تو وہ اور بھی زیادہ پیسے دےجاتی۔

کچھ دن پہلے کی بات ہے شوکت نے صبح جیسے ہی دوکان کھولی ایک لڑکی تابوت لینے آگئی۔

دوکان میں دوتین تابوت ہمیشہ موجود رہتے تھے شوکت نے اس کووہ دکھاۓ اور وہ قیمت ادا کرکے ایک لےگئی۔

جب وہ لڑکی پیسے دےرہی تھی تو اس کےہاتھ میں دبا اخبار کاایک ٹکڑا نیچے گرا جس پہ کسی نوجوان کی تصویر تھی۔

اس نے فوراً اسے اٹھالیا۔۔۔۔مگر

تب تک شوکت نے تصویر دیکھ لی تھی۔

تصویر کسی جوان لڑکے کی تھی جو ایک مہنگی ترین گاڑی کےپاس کھڑامسکرارہاتھا۔

تصویر کا یہ حصہ کسی اخبار سے کاٹا گیاتھا۔

یہ۔؟؟؟۔۔شوکت کہنا چاہتاتھا کہ یہ کون ہے۔؟ مگر

اس کےالفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔

لڑکی نے اس کی بات کاٹ کرکہاتھا کہ

اسی کےلیے چاہیے تابوت۔۔۔

شوکت کو افسوس ہوا۔۔۔۔۔مگر

وہ سمجھ نہیں پایا کہ لڑکی کے لہجے میں غم تھا یا غصہ اور نفرت۔؟

عجیب سرد سا لہجہ تھا اس کا۔۔۔۔

لڑکی تابوت لیکر چلی گئی اور شوکت بھی یہ بات بھول گیا۔۔۔۔۔مگر

آج جب اس کی نظر اس خبراور تصویرپرپڑی تواسے شدید حیرت ہوئی کہہ

جو انسان کئی دن پہلے مرچکاتھا وہ دوچار دن بعد ایک شاپنگ مال کاافتتاح کیسے کرسکتاہے۔؟

شوکت نہ اقبال پاشاکوجانتاتھا اور نہ ہی اس کے بیٹے خرم پاشا کو۔۔۔۔۔

اسے آج اخبار میں چھپی خبر سے ہی معلوم ہوا تھا اس لڑکےکانام خرم پاشاہے۔

شوکت کےذہن میں ایک اور بات بھی گردش کررہی تھی کہ

ہوسکتاہے لڑکی کےپاس جوتصویر تھی وہ خرم پاشا کی نہ ہو اس کے کسی ہم شکل کی ہو۔؟

شوکت کویقین تھا کہ وہ ٹھیک سوچ رہاہے وہ لڑکا کوئی اور ہی ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔مگر

ٹھیک پانچ دن بعد جب اس نے خرم پاشاکی پراسرار موت کےبارے میں پڑھاتواس کےسارے اندازے غلط ثابت ہوگئے۔

خرم پاشا اپنے مال کے افتتاح سے ایک دن پہلے پراسرار طور پرمرگیاتھا۔

خبر کےمطابق کسی نے اسے تابوت میں بند کردیاتھا جس کےنتیجے میں وہ دم گھٹ کرمرگیا۔

شوکت صدیقی تابوت کاذکر پڑھ کرپریشان ہوگیا۔

اس دن کی کئی باتیں اس کےذہن میں تازہ ہوگئی تھیں۔

تابوت خریدنے والی لڑکی کےپاس خرم کی تصویر اور اس کا یہ کہناکہہ

یہ تابوت اسی کےلیے ہے۔۔۔۔۔

شوکت صدیقی کوکئی سوالوں میں الجھاگیاتھا جن کااس کےپاس کوئی جواب نہیں تھا۔

شوکت پولیس کےپاس جاکر یہ سب بتاناچاہتاتھا مگر وہ جانتاتھا کہہ

اسے پھر بہت دور تک گھسیٹاجاۓگا۔

جس کاصرف اور صرف شوکت صدیقی کونقصان ہی ہوناتھا کاروباری آدمی ہونے کی وجہ سے شوکت نےاس جھنجٹ میں پڑنے کاخیال ہی دل سے نکال دیا اور مکمل خاموشی اختیار کرلی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خرم پاشاآج بہت خوش تھا۔

آج اس کا اپنے شہر میں سب سے بڑا شاپنگ مال بنانے کاخواب جوپورا ہوگیاتھا۔

اس مال کا آج افتتاح تھا اور خرم افتتاحی تقریب ایسے کرناچاہتاتھا کہ

جومدتوں لوگوں کےذہنوں میں رہے۔

اس کےلیے یہ کئی ماہ سے تیاری کررہاتھا۔

اس کےپاس پیسے کی کمی تھی نہ تعلقات کی اس لیے وہ دل کھول کرپیسہ خرچ کررہاتھا۔

شہر اور باہر سے کئی لوگوں کومدعو کیاگیاتھا جن میں سیاسی اور میڈیاکےلوگ بھی شامل تھے۔

کئی نامور گلوکار اور فنکاروں کوبھی بلایاگیاتھا۔

خرم نے دن رات ایک کرکے تمام تیاریاں اپنی نگرانی میں مکمل کرلی تھیں۔

تقریب اسی مال کے ایک بڑے حصے میں ہوناتھی اس لیے مال کواندر باہر سے دلہن کی طرح سجایاگیاتھا۔

کہیں بھی کوئی کمی نہیں چھوڑی گئی۔

بےتحاشہ پیسے اور کئی لوگوں کی محنت نے مال کےاس حصے کوالگ ہی رنگ میں ڈھال دیاتھا۔

تقریب سے ایک دن پہلے رات کو خرم انتظامات کاجائزہ لینے مال میں پہنچا اور مطمئن ہوکر ایک طرف بیٹھ گیا۔

چند ایک آدمی ابھی بھی وہاں کام میں مصروف تھے خرم ان کوکام کرتاہوادیکھتارہا اور فون پہ کسی سے باتیں کرتارہا۔

کچھ دیر بعد وہ اٹھا اور اپنی گاڑی سے شراب کی بوتل نکال لایا اور وہیں ایک طرف بیٹھ کر چسکی چسکی پینے لگا۔

اسے وہاں بیٹھے بہت دیر ہوگئی تھی۔

فون پہ باتوں میں مصروف اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ بوتل خالی ہوگئی ہے۔

اس دوران وہاں کام کرنے والے آدمی بھی اپناکام ختم کرکےچلے گئے۔

خرم کو بہت دیربعد خیال آیا کہ

وہ وہاں اکیلا بیٹھاہے۔

اس نے موبائل میں ٹائم دیکھا توچونک گیا۔

گیارہ بج کربیالیس منٹ ہورہے تھے۔

خرم نے سوچا کہ اب اسے گھر جاناچاہیے اور اٹھ کرباہر کی طرف جانے لگا۔۔۔

اس کے قدم لڑکھڑاۓ تواس نے ایک کرسی کاسہارالیا۔

یہ خرم کےلیے کوئی نئی بات نہیں تھی پہلے بھی وہ جب زیادہ پی لیتاتھاتو اس کو نشہ ہوجاتاتھا۔

اس نے ایک بار پھر چلنے کی کوشش کی مگر چند قدم بعد پھر سے لڑکھڑاگیا۔

وہ دیوار کاسہارالیکر واش روم تک پہنچا اور نل کھول منہ دھونے لگا۔۔۔

منہ دھوکر وہ جیسے ہی سیدھا ہوا سامنے دیوار میں لگے شیشے میں اسے کوئی اور بھی نظرآیا۔

خرم نےچونک کرتیزی سے پیچھے مڑکردیکھامگروہاں کوئی نہیں تھا۔

آج کچھ زیادہ ہی اثر ہوگیاہے۔۔۔خرم نے دل میں سوچا

وہ اپنے خوف پہ مسکرایا۔۔۔۔

اس نے دوبارہ نل کھولا اور منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔

نل بند کرکے وہ جیسےہی مڑا اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔

اس سے صرف آدھ انچ کے فاصلے پر ایک انتہائی بھیانک چہرہ لیے کوئی لڑکی کھڑی تھی۔

اس کے کندھے تک آتے بالوں نے اس کاآدھا چہرہ ڈھانپ لیاتھا۔

چہرے پر گوشت ایسے لٹک رہاتھا جیسے ابھی ابھی ادھیڑا گیاہو۔

اس سے رستاخون اس لڑکی کے کپڑوں کورنگین کررہاتھا۔

اس کے سینے اور پیٹ پربھی کئی زخم تھے جن سے خون بہہ رہاتھا۔

خرم کو جیسے سکتہ ہوگیاتھا۔

چیخ کے بعد اس کےمنہ سے دوبارہ کوئی آواز نہیں نکلی تھی۔

وہ بس آنکھیں پھاڑے اس خوفناک چہرے کودیکھےجارہاتھا۔

پہچانا مجھے۔۔۔۔۔ اس خوفناک چہرے سے عجیب کھردری سے آواز میں پوچھاگیا۔

اس کی آواز اس کےچہرے سے بھی زیادہ ڈراؤنی تھی۔

زلیل انسان پہچان مجھے۔۔۔۔خرم کے عین قریب آ کراسی کھردری آواز میں کہاگیا۔

اس کے بدن سے ایسی بدبو آئی تھی جیسے کسی مردے کی قبر کوکئی سال بعد کھولاگیاہو

خرم ڈر کرپیچھے ہٹاتو توازن برقرار نہ رکھ سکا اور پیچھے دیوار میں لگے شیشے سے ٹکرایا۔

شیشہ ایک چھناکے سے ٹوٹ کر خرم کےسرپہ آ گراتھا۔

کرچیوں نے خرم کاسراور منہ زخمی کردیاتھا۔

خرم کےاس طرح ڈرنے سے اس عجیب مخلوق کے منہ سے ایک وحشیانہ ساقہقہہ بلند ہوا۔

کیوں ڈرتے ہواب۔؟ اس وقت تو نہیں ڈرے جب مجھے مار کر تابوت میں ڈال کردفنایاتھا۔

انتہائی نفرت آمیز لہجے میں کہاگیاتھا۔

تم۔؟؟؟

خرم کے ذہن میں جیسے کئی بلب ایک ساتھ جل اٹھے تھے۔

شاید اسے کچھ نہیں “بہت کچھ” یاد آگیاتھا۔

وہ بہت کچھ جو اس نے کسی کونہیں بتایاہوگا۔

ہاں میں وہی ہوں جسے تم اور تمہارے دوستوں نے بےوجہ بےگناہ ماردیاتھا۔۔۔۔۔اور

صندوق میں بند کرکے دفناتے ہوۓ یہ بھی نہیں سوچا کہ گناہ کبھی نہیں چھپ سکتا۔

تت تت تم تم ۔۔۔۔۔زز زندہ ہو۔؟ خرم نے ہکلاتے ہوۓ پوچھا۔

ہاں میں تب تک زندہ ہوں جب تک تم لوگوں کوعبرت کانشان نہ بنادوں۔

کھڑکھڑاتی ہوئی آواز میں نفرت سے کہے گئے اس کےالفاظ سے خرم کادل دہل گیاتھا۔

دہشت کےمارے پسینہ خرم کے رواں رواں سے پھوٹ کر اس کی ایڑیوں تک جارہاتھا۔

مم مم مج مجھے مم معاف کردو۔۔۔خرم نےباقاعدہ ہاتھ جوڑدیےتھے۔

جواب میں اس لڑکی کادلخراش قہقہہ بلند ہواتھا۔

تم نے مجھے معاف کیاتھا۔؟ اس کے سوال نے خرم کے منہ پہ تالا لگادیا۔

وہ بولنے کی بجاۓ بت بنا اسے دیکھنے لگا۔

وہ آگے بڑھی اور خرم کوبالوں سے پکڑکرگھسیٹتے ہوۓ واش روم سے باہر لےجانے لگی۔

خرم کوئی راہ نہ پاکر اب چلارہاتھا کہ شاید کوئی اس کی آواز سن کراس کی مدد کوآجاۓ۔

خرم کومعلوم تھا کہ

رات کےوقت دو سکیورٹی گارڈ مال میں پہرہ دیتے ہیں مگر نہ جانے وہ بھی کہاں چلے گئے تھے کہ ان میں سے کوئی بھی اس کی گاڑی پارکنگ میں دیکھ کربھی اندر نہیں آیاتھا۔

وہ اسے گھسیٹتی ہوئی اسی جگہ لےآئی جہاں تقریب کےلیے انتظام کیاگیاتھا۔

وہاں ایک نیاتابوت پڑاتھا جوخرم نے پہلے نہیں دیکھاتھا۔

شاید یہی لڑکی ساتھ لیکرآئی تھی۔

اس نے خرم کو فرش پر پٹخا اور بولی ۔۔۔۔

تم نے اس جگہ کے لیے کچھ لوگوں پر بہت ظلم کیاتھا۔۔۔

آج تم اسی جگہ مروگے۔۔۔

اور یہاں افتتاح نہیں تمہاری زندگی کاخاتمہ ہوگا۔۔۔اور

میں تمہیں تمہاری موت کے بعد بھی چین سے نہیں رہنے دونگی۔

اس کے بعد اس نے خرم کواس تابوت میں ڈال کراس میں ایک کاغذ ڈال کربند کیا اور وہاں بچھا قالین اس تابوت پرلپیٹ دیا۔

پھر اس نے تابوت کوگھسیٹ کر ایک طرف پڑے سامان کے اندر دوبھاری میزوں کےدرمیان چھپادیا۔

خرم کاموبائل باہر ہی گرگیاتھا اس لڑکی نے اس پہ اپنا پاؤں مارا اورتوڑدیا۔

خوشی کے مارے اس کے حلق سے ایک بھیانک قہقہہ نکلا۔

چند لمحوں بعد وہ اپنی اصلی شکل میں واپس آچکی تھی۔

کوئی بھی اسے دیکھ کر یہ نہیں کہ سکتاتھا کہہ

کچھ دیر پہلے نظر آنے والی خوفناک چہرے والی ڈائن یہ خوبصورت لڑکی تھی۔

سامان کے نیچے سے ہلکی سی آواز میں ٹھک ٹھک اور لکڑی کو کھرونچنے کی آوازیں آرہی تھیں۔

جسے سن کر اسے ایک عجیب سی طمانیت کااحساس ہوا تھا۔

وہ کھل کرمسکرائی اور مال سے باہر آگئی۔

اس کا پہلا شکار کامیاب رہاتھا۔

اب اسے اپنے دوسرے شکار کی تلاش تھی۔

وہ مال سے نکل کرابھی چند قدم ہی چلی تھی کہہ

پیچھے سے کسی نے اسے رک جانے کوکہا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *