Laaltain by Iban e Aleem Rana NovelR50527 Laaltain (Episode 01)
Rate this Novel
Laaltain (Episode 01)
Laaltain by Iban e Aleem Rana
آج جمعرات تھی اور
میں اس شوق میں جاگ رہا تھا کہ آج”بتی” کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا
یہ بتی یعنی لالٹین ہر جمعرات کو ایک مخصوص طرف سے آتی تھی اور مخصوص جگہ گھوم پھر کے چلی جاتی تھی گاؤں کے لوگ اسے بتی کے نام سے پہچانتے تھے اور پتہ نہیں کب سے لوگ یہ دیکھتے آرہے تھے
کئی دفعہ کچھ منچلوں نے اس کا پیچھا کر کے اسے پکڑکنے کی کوشش بھی کی مگر بے سود ۔۔۔۔۔
وہ تو گویا چھلاوہ تھا ابھی یہاں تو ابھی وہاں۔۔۔
میں یہ باتیں اکثر سنتا تھا مگر کبھی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا
یہ ضلع جہلم کے ایک گاؤں کی بات ہے
میری وہاں خالہ رہتی ہیں سال میں ایک آدھ بار میں ان سے ملنے چلا جاتا تھا
اس بار گیا تو شوق ہوا کہ دیکھوں تو سہی آخر یہ “بتی”ہے کیا بلا؟؟؟
اور آج میں اسی شوق میں جاگ رہا تھا
میں کئی بار گھر سے باہر جھانک چکا تھا مگر اس “بتی”کا ابھی تک کوئی اتا پتا نہیں تھا
بتاتا چلوں کہ وہ چند گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاؤں تھا وہاں اکثر ایسے ہی گاؤں ہیں جنہیں وہاں کے لوگ “ڈھوک” بولتے ہیں
میری خالہ کا گھر آخر میں تھا اس سے آگے ان کی زمین اور پھر دور تک پہاڑ جنگلات اونچے نیچے ٹیلے ہی ٹیلے تھے
شاید رات کے بارہ کا ٹائم ہوگا کہ
خالہ نے مجھے آواز دی کہ جلدی آؤ
میں نے جلدی سے جوتے پہنے اور دیوار کے پاس جا کھڑا ہوا
انہوں نے ایک طرف اشارہ کیا ،وہ دیکھو بتی آرہی ہے
فوراً تو مجھے کچھ نظر نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔غور کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔
یوں لگ رہا تھا جیسے پہاڑ سے کوئی آدمی ہاتھ میں لالٹین لیے اتر رہا ہے
پہاڑ کوئی نصف کلومیٹر دور تھا ہم سے
ابھی وہ لالٹین پہاڑ سے اتری بھی نہیں تھی کہ بجھ گئی
میں نے خالہ کی طرف دیکھا اور پوچھا کہاں گئی؟؟؟؟
انہوں نے اسی طرف اشارہ کیا۔۔۔
میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ وہ اب قبرستان میں گھوم رہی تھی
بتاتا چلوں قبرستان اور پہاڑ کا فاصلہ آدمی دوڑ کر بھی بیس منٹ میں طے نہیں کرسکتا اور وہ بتی دو سیکینڈ میں پہنچ گئی تھی
میں نے اب اس بتی پہ نظریں جما لیں تھیں
وہ قبرستان میں گھوم رہی تھی اس نے ایک چکر لگایا اور پھر بند ہوگئی
میں ابھی اس طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ
وہ ہم سے کچھ فاصلے پہ آن ہوئی اور
راستے میں ایک کنواں پڑتا تھا اس پہ آرکی۔۔۔
کچھ دیر وہ وہاں گھومتی رہی جیسے کچھ تلاش کررہی ہو یا کسی کا انتظار ہو
کچھ دیر وہاں پھرنے کے بعد وہ اس طرف چلی گئی جہاں کبھی تقسیم سے پہلے شمشان گھاٹ ہوا کرتا تھا
وہاں آج بھی شمشان گھاٹ کی کچھ نشانیاں موجود ہیں
میں نظریں جھپکانا بھول چکا تھا
حیرت کی بات تو یہ تھی کہ نہ کوئی جسم نظر آتا تھا نہ سایہ۔۔۔۔یوں لگتا تھا لالٹین گویا ہوا میں معلق ہے بس
کافی دیر وہ شمشان گھاٹ کے اردگرد پھرتی رہی کچھ دیر ایک جگہ ٹکی رہی اور پھر ویسے ہی واپس ہولی جیسے آئی تھی
پہلے کنوے پہ پہنچی پھر قبرستان کے قریب سے گزرتی واپس پہاڑ کی طرف چلی گئی
اور جیسے منٹوں کا سفر اس نے آتے ہوۓ سیکینڈوں میں طے کیا تھا جاتے ہوۓ بھی ویسے ہی پلک جھپکتے پہاڑ تک پہنچ گئی تھی
جاری ہے۔۔۔۔۔
