Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Laaltain (Episode 02)

Laaltain by Iban e Aleem Rana

وہ لالٹین کچھ دور پہاڑ کے اوپر چلتی رہی اور پھر غائب ہوگئی

شاید دوسری طرف اتر گئی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد افضل اسی گاؤں کا رہنے واالا تھا

اس کے باپ دادا کو جو زمین الاٹ ہوئی تھی اس کا کچھ حصہ قبرستان کے بلکل قریب تھا ۔۔۔وہاں اونچے اونچے مٹی کے ٹیلے تھے کاشت کے قابل نہیں تھی

اس کے بیٹوں نے مشورہ دیا کہ یہ کاشت کے قابل تو ہے نہیں تین اطراف تو قدرتی ٹیلے ہیں ہی کیوں نہ جوجگہ صاف ہے اس طرف بھی بند باندھ کر اس کو ایک چھوٹے سے ڈیم میں تبدیل کر کے اس میں مچھلی فارم بنادیا جاۓ ؟؟؟

بیٹوں کی بات افضل کے دل کو لگی تھی سو اس نے ہفتے بعد کام شروع کروادیا

افضل اور اس کا ایک بیٹا قریبی بوہڑ کے درخت کے نیچے چارپائی ڈالے بیٹھے تھے اور ایکسیویٹر اپنا کام کررہی تھی جو چھوٹے موٹے ٹیلے اس جگہ کے اندر تھے ان کی مٹی کو بند کی جگہ لگا دیا گیا تھا

اور ڈیم بنانے کی جگہ کو مزید گہرا کیا جارہا تھا

ان کا ارادہ تھا کہ جگہ بھی گہری ہوجاۓ گی اور بند بھی مکمل ہوجاۓ گا مٹی باہر سے نہیں لانی پڑے گی

ساڑھے تین کا وقت ہوگا ایکسیویٹر اور اس کا ہیلپر ابھی چاۓ پی کر اٹھے تھے

کدائی کافی گہری ہوگئی تھی۔۔۔

اور افضل چاہتا تھا کہ دوچار فٹ مزید گہری ہوجاۓ

کام دوبارہ شروع ہوچکا تھا

ابھی دس منٹ بھی نہیں گزرے ہونگے کہ ہیلپر دوڑتا ہوا آیا

وہ دور سے ہی آوازیں دیتا آرہا تھا ۔۔۔چاچا۔۔۔چاچا۔۔۔ادھر آنا استاد بلارہے ہیں

افضل اور اس کا بیٹا اٹھ کھڑے ہوۓ

مشین تو نہیں خراب ہوگئی؟؟؟افضل نے ہیلپر سے پوچھا جس کے چہرے پر سنسنی سی پھیلی ہوئی تھی

نہیں چاچا۔۔۔ہیلپر بولا ۔۔۔۔آپ یہاں آکر دیکھو کچھ نکلا ہے

کچھ نکلا ہے؟؟؟افضل کے بیٹے نے حیرت سے کہا؟؟؟

خزانہ تو نہیں نکل آیا؟؟؟اس کے بیٹے نے مسکراکر ہیلپر سے کہا۔۔۔اتنی دیر میں وہ ایکسیویٹر کے قریب پہنچ چکے تھے

ایکسیویٹر چلانے والا بھی نیچے اتر کر ایکسیویٹر کے آگے کھڑا تھا

دونوں باپ بیٹوں کی نظر ایک ساتھ زمین سے دریافت ہونے والی اس چیز پر پڑی اور حیرت زدہ رہ گئے

دریافت ہونے والی چیز کچھ اور نہیں ایک انسانی ڈھانچہ تھا یوں کہ لیں چند ہڈیاں ہی تھیں

جن میں واضع کھوپڑی کی ہڈی ہی تھی باقی بس براۓ نام ہی رہ گئی تھیں

ان کا جس چیز نے متوجہ کیا وہ پسلی کی ہڈیوں میں پھنسا ایک لوہے کا سریا نما ٹکرا تھا۔۔۔۔جس کو مٹی نے جانے کب سے اپنی خوراک بنا رکھا تھا اور اب وہ محض آدھ انچ سے بھی کم باریک اور ایک ہاتھ لمبا رہ گیا تھا۔۔۔۔

اس کے قریب ہی ایک لالٹین کی باقیات پڑی تھیں

افضل کے بیٹے اور استاد نے احتیاط سے ان ہڈیوں کو اٹھایا اور ساتھ ٹوٹی پھوٹی لالٹین کی باقیات کو بھی اور ایک کپڑے میں لپیٹ دیا

یہ یہاں کیسے آگیا؟؟؟افضل نے گویا خودکلامی کی مگر وہ سب سے مخاطب تھا

میرا خیال ہے ابا جی۔۔۔اس کا بیٹے نے جواب دیا ۔۔۔یہ قریب قبرستان ہے شاید یہ جگہ بھی اس کا حصہ ہو؟؟؟یا پھر بہت پہلے کسی نے اس بےچارے کا مار کر ادھر دبادیا؟؟؟

بیٹا قبرستان تو ہمارے سامنے بنا ہے یہ افضل نے جواب دیا ہاں۔۔۔۔۔۔دوسری بات کچھ سمجھ میں آتی ہے۔۔کیونکہ اس کی پسلیوں میں لوہے کا ٹکڑا بھی پھنسا ہوا ہے جس سے لگتا ہے کسی نے اس کو سریے یا لوہے کی کسی اور چیز سے اسے مارا اور پھر یہاں دبادیا

اللہ جانے بےچارہ کون تھا ؟؟؟؟کب تھا؟؟؟اور کیا ہوا اس کے ساتھ؟؟؟ افضل نے افسردگی سے سرہلایا

اور اپنے بیٹے کو مخاطب کر کے بولا۔۔۔۔بیٹا اسے احترام سے اسی ساتھ والے قبرستان میں دفنادو۔۔۔پتہ نہیں کفن جنازہ بھی نصیب ہوا کہ نہیں بےچارے کو؟؟؟اللہ اس کی مغفرت کرے بےگناہ قتل ہوا تو شہید ہے مظلوم ہے

ایکسیویٹر سے قریب کے قبرستان میں ایک قبر نما گڑھا کھود کر اس نامعلوم ہڈیوں کو افضل نے اپنے سر کے کپڑے میں لپیٹ کر دفنا دیا۔۔۔ساتھ ہی اس کے پاس سے ملی اس کی لالٹین اور ایک چین جیسی کوئی چیز تھی اور ایک غالباً چاندی میں مڑھا ہوا شاید تعویز ہو ان کو بھی اس کے ساتھ ہی دفن کردیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھ مئی انیس سو اکتالیس

جیسے ہی فجر کی آذان اس کے کانوں میں پڑی اس نے چارپائی چھوڑدی۔۔۔یہ اس کا روز کا معمول تھا آذان کی آواز سنتے ہی اٹھ جاتا نماز پڑھتا بھینس کو چارہ ڈالتا پھر اس کا دودھ نکال کر دوسرے جانوروں کو چارہ ڈالتا اور وہیں ڈیرے پہ ہی ورزش کرتا دوڑ لگاتا اور پھر دودھ لیکر گھر کو روانہ ہوجاتا۔۔۔

یہ چاچا دین محمد کا بڑا بیٹا تھا جو ڈھوک سمبا نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے۔۔۔اس گاؤں میں ہندو سکھ اور مسلمانوں کی تعداد تقریباً برابر ہی تھی ۔۔۔۔۔ اس کا نام گھر والوں نے تو جان محمد رکھا تھا مگر لوگ فقط جانی کے نام سے ہی بلاتے اور جانتے تھے خوبصورت جوان تھا کشتی کا شوق تھا اور اپنے اسی شوق کی وجہ سے اریب قریب کے گاؤں تک جانا جاتا تھا۔۔۔اس سے چھوٹا ایک بیٹا تھا جس کا نام غلام محمد تھا اور گاموں کے نام سے جانا جاتا تھا۔۔۔ان دونوں سے چھوٹی ایک لڑکی تھی جس کا نام ثریا تھا۔۔۔۔

گھر پہنچ کر اس نے حسب عادت سب سے پہلے ماں کو دودھ کا برتن تھمایا اور پھر ٹین اٹھا کر کنوے سے پانی لینے چلا گیا۔۔۔

واپس آکر ماں سے مخاطب ہوا

اماں۔۔۔آج میرے سفید کپڑے نکال دے میں نہاکر پہن لیتا ہوں آج مجھے ڈھوک سائیں کے میلے میں جانا ہے

بھائی مجھے بھی ساتھ لےجاؤ۔۔۔میلے کا نام سن کر اس کی بہن نے فرمائش کی

ہاں پتر ان دونوں کو بھی لے جانا اس کی امی نے جانی سے کہا تو اس نے اقرار میں سر ہلادیا۔۔۔

ثریا کو تو گویا لاٹری لگ گئی بے حد خوشی سے ماں سے مخاطب ہوئی

اماں میرے کپڑے بھی دے دینا مجھے۔۔۔

ڈھوک سائیں ان کے گاؤں کی طرح کا ہی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا جسے لوگ بیساکھی کے نام سے بلاتے تھے۔۔۔

جانی نے نہاکر کپڑے بدلے اور ماں سے بولا

بےبے کچھ پیسے ہیں تو دےدے

اس کی ماں نے دوروپے اپنے دوپٹے کے پلو سے کھول کر اس کے ہاتھ پہ رکھ دیے

بیل گاڑی جوت کر اس نے اپنے ماں باپ سے اجازت لی اور اپنے بہن بھائی کو بٹھاکر چلنے لگا تو ماں نے کہا پتر ان کا خیال رکھنا اور اس کا خاص طور پہ بچی ہے کہیں میلے میں ادھر ادھر نہ ہوجاۓ

بےبے فکر نہ کرو میں ان کو اپنے ساتھ ہی رکھوں گا۔۔۔اس نے اپنی ماں کو تسلی دی اور چل پڑا

راستے میں اندان نامی ایک گاؤں پڑتا تھا اس کے کنوے پہ جارکا پانی پیا اور وہیں کھڑا ہوگیا یہ اس کے دوست رنجیت سنگھ اور اختر کا گاؤں تھا اس نے ان کو بھی ساتھ لیکر جانا تھا۔۔۔

جانی نے گاؤں کے راستے کی طرف نظر دوڑائی مگر اختر اور رنجیت میں سے کوئی بھی آتا نظر نہ آیا۔۔۔

گاؤں کی لڑکیاں عورتیں کنوے سے پانی بھررہی تھیں

کنواں گاؤں کے بلکل قریب ہی تھا اس نے سوچا یہاں انتظار کرنے کی بجاۓ وہ خود جاکہ ان دونوں کوبلالاۓ۔۔۔

یہی سوچ کر اس نے اپنے دونوں بہن بھائی کو یہاں انتظار کرنے کا کہا اور خود گاؤں کی طرف سے آتے راستے پہ چل پڑا

ابھی اس نے آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ سامنے سے رنجیت سنگھ آتا دکھائی دیا

جانی وہیں کھڑا ہوگیا رنجیت سنگھ جیسے ہی قریب آیا اس نے پہلا سوال اختر کے بارے میں کیا

وہ بھی آرہا ہے میں اس کے گھر سے ہی آرہا ہوں رنجیت نے جواب دیا اور دونوں بیل گاڑی کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔

ابھی وہ بیل گاڑی کے قریب پہنچے ہی تھے کہ ان کو اختر آتا دکھائی دیا

رنجیت سنگھ نے ثریا کے سر پہ ہاتھ رکھا اور پیار سے پوچھا۔۔۔گڈی وی میلہ ویکھے گی اج؟؟؟

ہاں پا رنجیت میں وی ویکھنا میلہ۔۔۔۔ثریا نے جواب دیا اس کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی

اختر آیا تو اس نے بھی ثریا سے وہی سوال کیا

میری ننھی آج میلہ دیکھے گی؟؟؟اور پیار سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا

وہ تینوں بیل گاڑی پہ بیٹھے اور ڈھوک سائیں کی طرف چل پڑے جہاں بیساکھی(میلہ) کا رنگ برنگا اور عجیب و غریب سماں ان کا منتظر تھا…………..

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *