307.5K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ktabon Wala Ishq) Episode 4

اس وقت پروفیسر کے روم میں وہ چھوٹی سی لڑکی کافی ایکسائٹڈ سی کھڑی تھی یہ اسکی زندگی کا وہ لمہہ تھا جو شاید اسنے کبھی تصور نہیں کیا تھا یہاں جہان بھائی نے چھوڑنے سے پہلے ہی اسے کہہ دیا تھا کہ تم خود نہیں جاؤ گی گھر ۔۔۔۔
میں یہ بخت لے کر جائیں گے اور وہ اندر ا گئ ۔
مجھے بہت خوشی ہے تم نے اپنی زندگی میں یہ ایکسپیرینس کرنا چاہا اور تمھیں یہ موقع ملا جسے تم نے اویل کیا ۔
ایم پراوڈ اف یو ” وہ مسکرائے تو اسکے چہرے پر ہلکی سی لالی بکھر گئ ۔۔۔
اور یہ آپکی ہی توجہ ہے اگر اپ نہ ہوتے تو شاید میں اس تعریف کے قابل بھی نہ ہوتی ” حنین بولی تو وہ ہنس دیا
ارے بچہ تم بہت ایبل ہو بہت آگے جاؤ گی انشاءاللہ اچھا خیر یہ 3 مہینے کا پلینر ہے 3 مہینے بعد میرے پروفیسر بھی آ جائیں گے اور میں تمھاری چھوٹی سی عمر میں تمھیں ایکسپیرینس لیٹر بھی دے دوں گا اسکے بعد اپنی سٹیڈی پر فوکس کرنا “
جی سر انشاءاللہ ” وہ پلینر ہاتھ میں لے گئ
کسی بھی چیز میں مشکل یہ پریشانی ہو اپ نے مجھ سے ڈسکس کرنا ہے اسکے علاوہ میرا سٹاف بہت کوآپریٹیو ہے بٹ بدقسمتی سے سٹوڈنٹس نہیں ” وہ جس معصومیت سے بولے تھے حنین کے لبوں پر مسکراہٹ ٹہر گئ
کیونکہ انکے لیے یہ انوکھی بات ہے کہ انکی ہم ایج انھیں پڑھانے جا رہی ہے ویسے تو میں خود توجہ دوں گا ۔
لیکن اپ نے بھی اپنا خیال رکھنا ہے
کوئی بدتمیزی کرے مجھے انفارم کر دینا ” وہ اپنی جگہ سے اٹھے جبکہ وہ سر ہلا گئ ۔
میں تمھیں دیکھا دیتا ہوں ” وہ اسے لیے باہر ا گئے
یہ خواب سا لگ رہا تھا حنین کو بس جسے پانا اتنا آسان تھا
وہ جانتی تھی وہ گھر میں جھوٹ بول چکی ہے لیکن جھوٹ بول کر وہ اپنی زندگی جی رہی تھی ان خاندانی رسموں سے نکل کر ۔۔۔۔
وجدان نے تو دوبارہ موضوع ہی نہ کیا ایسے جیسے اس بات کی اسکی خواہش کی کوئی ولیو ہی نہیں تھی ۔
اور جہان نے اسے پر لگا دیے جس پر اڑنا اب اسکا کام تھا ۔
سر اسے سب سمجھا رہے تھے کو ایجوکیشن کے باعث لڑکے اور لڑکیاں اسے دیکھ رہے تھے مڑ مڑ کر وہ کچھ کنفیوز بھی تھی لیکن ہمت مجتمع کی کہ وہ صرف 3 ماہ کے لیے ہی یہاں تھی ۔
یہ تمھاری فرسٹ کلاس ہے ” پروفیسر نے بتایا تو اسکے وجود پر نرویسنیس کے باعث کپکپی سی طاری ہو گئ
وہ اندر داخل ہوئے تو سب سٹوڈنٹس کھڑے ہو گئے
حنین ان سب کو ایکساٹیڈ ہو کر دیکھ رہی تھی ۔
ہیلو سٹوڈنٹس کیسے ہیں اپ سب اوکے تو یہ میری سٹوڈنٹ ہیں بہت قابل بہت ذہین اور ایم ڈی کیٹ میں فرسٹ پوزیشن لی ہے انھوں نے ۔۔۔۔
انھوں نے میرے کہنے پر اپ لوگوں کو اور ہمیں ٹائم دیا ہے
ائ تھنک اپ لوگوں کی اچھی بن جائے گی اور جلدی دوستی ہو جائے گی کیونکہ اپ سب کی ایج ایک ہی ہے اور مجھے اپ سب سے انکے ساتھ کوآپریشن کی امید ہے ” وہ مسکرا کر بولے
سوری سر ہمیں بچوں سے نہیں پڑھنا ” شمائل کی آواز پر انھوں نے گھیرہ سانس بھرا حنین نے اسکی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا چہرے پر مزاحیہ سا تاثر تھا لیکن دیکھنے میں وہ لڑکا بے حد خوبصورت تھا ۔
ہمم شمائل خان تم تین سال سے فیل ہو رہے ہو یاد ہے تمھیں ” انکی بات پر ساری کلاس ایکدم ہنس دی اور ساتھ شمائل بھی مسکرایا
سر فیس دے کر تین سال سے بیٹھا ہوں اور اگر میرے والد صاحب اپ کو خرچہ پانی نہ دیں تو اپ کا یہ ادارہ چلے گا کیسے تو میرے جانے کی دعائیں نہ کریں “
حنین حیران نظروں سے اس لڑکے کو دیکھنے لگی جس نے ایک لمہے میں سر کا منہ اتار دیا اسکی آنکھوں میں نمی ا گئ کتنا بدتہذیب انسان تھا اپنے ہی پروفیسر کے ساتھ اتنی بدتمیزی
اینی ویز ۔۔۔ اپ سب اپنی پڑھائی پر فوکس کریں اور شمائل تم کلاس کے بعد میرے آفس انا ذرا ” وہ کہہ کر چلے گئے جبکہ شمائل نے سر جھٹکا ۔
میں بچوں سے نہیں پڑھوں گا ” اسنے ایک جنپ لگائی اور نیچے اتر گیا
حنین ابھی کھڑی ہوئی دیکھ ہی رہی تھی کہ آہستہ آہستہ شمائل کے پیچھے ساری کلاس خالی ہو گی اور اسکے اندر اتنی بھی ہمت نہ تھی کہ وہ ان سب کو روک سکے
بےعزتی کے احساس سے اسکا منہ سرخ ہو گیا اور آنکھوں میں پانی بھر گیا یہ سب اسنے نہیں سوچا تھا
وہ مرے مرے قدموں سے باہر آئی تو سب اسپر ہنسنے لگی
ٹیچر اتنا ہی پڑھانے کا شوق ہے تو چھوٹے چھوٹے بچوں کو اے فور ایپل اور بی فور بیوقوف لڑکی پڑھاؤ ” مختلف سٹوڈنٹس نے اسپر باتیں کسیں جس سے اسکا دل اور بھی گھبرا اٹھا
وہ پروفیسر کے کمرے کی طرف بھاگی لیکن دروازے میں ہی رک گئ
شمائل بات کرنے کی تمیز نہیں ہے تمھیں ” وہ اس پر غصہ کر رہے تھے
یار انکل کیا ہو گیا ہے اپ بھی تو دے کر تین سال فیل ہونے کا طعنہ مار دیتے ہیں میں نے بھی کہہ دیا ” وہ سکون سے بولا اور انکے سامنے پڑی پرچ کھینچ کر اس میں سے بسکٹ کھانے لگا
بہت ڈھیٹ ہو تم “
تو مجھ سے پنگے نہ لیا کریں نہ ” انکھ دبا کر وہ ہنستا ہوا باہر نکلنے لگا کہ بڑی بڑی آنکھوں میں موٹے موٹے انسو لیے کھڑی اس لڑکی کو دیکھا اسے فلحال اسپر کافی ہنسی آئی
میں بابر کو فون کرتا ہوں بتاتا ہوں اسے تمھاری حرکتیں “
یار یہ شغل میلے ہیں دل پر لے جاتے ہیں اپ تو ” وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا لیکن حنین شمائل کے سامنے چونکہ دب گئ تھی تبھی پروفیسر کو دیکھائی نہیں دے رہی تھی ۔
مجھ پر اپنے باپ کی دھونس جمانا شغل میلا ہے تمھارے لیے بتاتا ہوں تمھیں اچھے سے میں ” وہ ہنس رہا تھا اسکے چہرے پر کہیں بھی خوف نہیں تھا
وہ حنین کے پہلو سے نکلنے لگا
بیٹری مجھ سے بچ کر رہنا ” اسکے کان میں کہہ ہر وہ وہاں سے نکل گیا جبکہ حنین اندر آئی اور بری طرح رونے لگی پروفیسر پریشان ہو گئے اسنے ساری بات بتائی
میں نے کہا تھا میرے سٹوڈنٹس کوآپریٹیو نہیں ہیں تم فکر نہ کرو کل سب ٹھیک ہو گا ” وہ بولے حنین نفی میں سر ہلانے لگی اور اسنے جہان کو فون کر دیا ۔
کچھ ہی دیر میں ڈرائیور ایا اور اسے لے گیا ۔
آج اسکا پہلا دن تھا اور آج ہی دل ایسا ہو رہا تھا جیسے اسکا خواب ہی اسکی سب سے بڑی غلطی ہے
وہ گھر آئی اور جلدی سے اپنے کمرے میں چلی گئ ۔
ایک تو اسکی آنکھوں پر ہلکا سا بھی رونے سے سوجھن پڑ جاتی تھی
تبھی وہ منہ چھپا کر چلی گئ جبکہ افیہ اور نگین تو اسی غصے می تھیں کہ مالا آئی کیوں نہیں ۔۔۔
جا کر پتہ کر لینا چاہیے “
میں اس جگہ پر کبھی بھی نہیں جاؤ پتہ ہے اس جاہل مکار منحوس کو کہ صارم کے مہمان آج ا رہے ہیں پھر بھی ڈرامے لگا رہی ہے ” وہ اگ بگولہ ہوئی تو افیہ نے بھی سر جھٹکا
سکینہ ” افیہ نے آواز لگائی
جاؤ مالا کو بلا کر لاؤ ” اسنے کہا تو نگین تو غصے سے بل کھا رہی تھی ۔
سکینہ فورا مالا کے پورشن کی طرف آئی تو وہاں اسنے مالا کو بخار میں تپا ہوا بے سد پایا جبکہ ساجد کی انکھوں میں بے بس انسو تھے سکینہ کا دل سا ہلا اور دوڑ کر وہ آئ اور اسنے بتایا
ڈرامے باز ہے وہ کہو اس سے نگین ممانی نے بلایا ہے “
بیگم صاحبہ بہت تیز بخار ہے “
ارے جھنم میں جائے میری بلا سے ” نگین نے سر جھٹکا
ہم ہی بنا لیتے ہیں پھر “
افیہ نے کہا اور نگین کو بھی اٹھنا پڑا تھا سکینہ حیران ہو کر ان بے حس لوگوں کو دیکھنے لگی
اسے سمجھ نہیں ائ کہ وہ کیا کرے اب تو کوئی بھی نہیں تھا گھر میں مالا تو مر جاتی لیکن وہ ملازمہ تھی اسکی حیثیت ہی کیا تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں نے کھانا بنایا اور اسکے بعد تیار ہو گئیں حنین کو بھی کہہ دیا جبکہ حنین اچھا خاصا رو دھو کر فریش ہو کر باہر آئی اسنے ریڈ اور وائیٹ کنٹراسٹ کا سوٹ پہنا تھا اور خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔
ہلکا ہلکا میک کر کے اسنے سارے بال کھول لیے اور خود کو دیکھ کر ذرا دل کچھ اچھا ہوا تھا کیونکہ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی وہ نیچے آئی تو افیہ اور نگین نے اسکی بہت زیادہ تعریف کی ۔۔۔۔
ابھی وہ لوگ باتیں ہی کر رہے تھے کہ نگین کے غصہ کرنے پر صارم بخت بھی گھر ا گئے جبکہ جہان نہیں ایا تھا اور نگین تو بس جہان کو دیکھنا چاہتی تھی لیکن وہ ابھی نہیں آیا تھا
جاؤ صارم تیار ہو جاؤ وہ لوگ آئیں گے “
وہ تو میں ہو جاتا ہوں لیکن وہ لوگ کیا کرنے آ رہے ہیں ” صارم نے سنجیدگی سے پوچھا
ارے بیوقوف لڑکے جب ہم لوگ انکی لڑکی کو دیکھنے گئے تھے تو وہ لوگ بھی تو تمھیں دیکھنے آئیں گے “
ہاں کہیں چاچو لنگڑے تو نہیں ہاتھ پورے ہیں یہ انکھوں سے سہی دیکھتا ہے کہیں چشمہ تو نہیں ” حنین نے کہا تو صارم نے گھورا اور بخت سمیت وہ دونوں بھی ہنس دیں
بدتمیز لڑکی ایسے بولتے ہیں چاچو کو جاؤ جلدی سے اچھا سا تیار ہو کر آؤ ” افیہ نے پیار سے کہا
اچھا میں جا رہا ہوں ” بخت نے کہا تو افیہ نے اسے غصے سے گھورا
بخت ایک دن تو گھر میں رک جاو تمھارا باپ بھی گھر نہیں ہے ” افیہ کے غصہ کرنے پر وہ زرا بے زار سا ہوا
کتنی دیر کا کام ہے یہ اور میرا کیا کام ہے ” وہ چیڑ سا گیا
افیہ نے دانت پیس لیے
شادی کے بعد تو تم اور اس آوارہ کے پلو سے بندھے جاؤ گے “
امی یہ کیسی بات ہے۔”
ہاں تو ہے نہیں وہ آوارہ صرف تمھارے لیے اسکے گھر راشتہ لے کر گئ ہوں میں اور تم ماں باپ کو وقت بھی دینے کے لیے تیار نہیں ہو “
افیہ کے غصہ کرنے پر وہ خاموش ہو گیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا
اچھی بات ہے بھابھی ذرا کھینچ کر رکھیں اسکے حسن کے پیچھے لٹو ہو رہا ہے ہمارا بخت جادو گرنی نے پاگل بنا دیا ” نگین نے بھی جلی پر اگ لگا دی افیہ چپ ہو گئ
اور تھوڑی دیر تک مہمان بھی ا گئے
ان لوگوں کو میرال کو بھی ان مہمانوں کے ساتھ دیکھ کر حیرانگی ہوئی
صرف رشتہ دیکھنے پر کوئی لڑکی کیسے آ سکتی تھی
اسکے ماں باپ بھی کچھ شرمندہ لگ رہے تھے جبکہ بھائی کی آنکھوں میں الگ ہی غصہ تھا ۔
اور وہ میرال سے کٹا کٹا بھی لگا دوسری طرف میرال نے پورا گھر دیکھا اور آنکھیں پھیل ہی گئیں
آئیں آئیں میرال تم بھی آئی ہو ماشاءاللہ ” افیہ اور نگین نے ان لوگوں کو بیٹھایا اور حنین بھی ان سب سے ملی ۔
سب ہی مسکرا رہے تھے لیکن میرال کو لے کر اکورڈ فیل بھی کر رہے تھے۔
سب ایک دوسرے سے مل کر بیٹھ گئے
اپ کا گھر بہت بڑا ہے ” میرال نے مسکرا کر کہا جبکہ اسکے بھائی بلال نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا
ہاں ہاں اب تو تمھارا بھی ہے ” وہ دونوں پیار سے بولیں اور میرال مسکرا دی
صارم کا کمرہ کون سا ہے ” اسنے ادھر ادھر دیکھا
ماں باپ شرمندگی سے بیٹی کو دیکھنے لگے یہ تو وہ ہی جانتے تھے کس طرح وہ لڑ جھگڑ کر آئی تھی اور بھائی بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا
آ وہ اوپر ہے ایلچلی اپنے بھتیجوں کے ساتھ ہی ہے اسکا کمرہ نیچے ہم بڑوں کا ہے “
اچھا ” میرال مسکرائی حنین حیرانگی سے اسکا کانفیڈنس دیکھ رہی تھی اگر اج صبح ایسا ہی کانفیڈنس وہ دیکھا دیتی تو کوئی اسپر بول بھی نہ پاتا
اچھا اور جہان کا کمرہ کون سا ہے “
میرال ” بلاخر اسکی ماں بول ہی پڑی
امی کیا ہو گیا ہے میرے اب تو اپنے ہیں یہاں سب “
جہان بھائی کا کمرہ رائیٹ سائیڈ پر ہے اور بخت بھائی کا اسطرف بیچ میں صارم چاچو کا ہے ” حنین نے ہی بتا دیا اور پھر میرال خاموش ہو گئ ۔
حنین چاچو کو بلا کر لو ” افیہ نے کہا تو حنین مسکرا کر کھڑی ہو گئ اور اوپر بھاگ گئ
کچھ ہی دیر بعد بخت اپنے کمرے سے نکلا اور وہ ہمیشہ موبائل میں ہی زیادہ تر رہتا تھا ۔
وہ نیچے آیا میرال نے اسکی جانب دیکھا وہ بھی کافی خوبصورت تھا اسکے گھنے بھاری بال اسکا بے داغ رنگ اور پھر کچھ کیجول سا حلیہ وہ بھی شاندار پرسنیلٹی کا مالک تھا وہ تو صارم کو دیکھنا چاہ رہی تھی
اور بخت کے پیچھے صارم اور حنین بھی ا گئے اسنے دیکھا
صارم ایک خوبرو لیکن بارعب سی شخصیت کا مالک تھا
میرال کے مزاج کو اسکے بھتیجے لگے تھے صارم نہیں جبکہ اس میں کوئی کمی نہیں تھی صرف انداز سنجیدہ تھا
اور انکے انداز میں ہی نوجوانی سی خوش مزاجی سی چھلکتی تھی اور میرال کو وہ ہی پسند ا گئ تھی ۔
صارم ایا اور میرال کو سامنے دیکھ کر کچھ حیران ہوا اسے امید نہیں تھی وہ بھی آئی ہو گی لیکن سب مسکرا اس سے ملے اور پھر باتیں وغیرہ شروع ہو گئیں
بخت بھی بھی بیچ بیچ میں بات چیت کر رہا تھا ۔
میرال اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
صارم البتہ بلال اور اسکے والد سے گفتگو کر رہا تھا جب کھانا لگایا گیا تب جہان بھی ا گیا اور نگین اس سے ایسے اٹھ کر ملی جیسے وہ اس محفل کی قیمتی چیز ہے
میرا بیٹا “
مجھے تو لگا اپ ہار پہنائیں گی ” وہ ہنسا تو سب ہنس دیے
میں فریش ہو کر اتا ہوں ایک نظر میرال کو حیرانگی سے دیکھ کر وہ چلا گیا اور جب وہ کچن کے پاس سے گزرا تو جاتے جاتے اسنے ایک پاوں سیڑھیوں پر رکھا اور گردن پیچھے کر کے کچن میں جھانکا ۔۔۔
جس کی تلاش تھی وہ نہیں تھی
مالا کہاں ہے؟ اسکے سوال پر سکینہ نے سر اٹھایا چلو کسی نے تو اس معصوم کا بھی پوچھا
بہت تیز بخار ہے جہان بھائی صبح سے بخار میں پھونک رہی ہیں “
سکینہ بے چارگی سے بولی
کمال نزاکت ہے یہاں ہم نے کچھ کیا نہیں وہاں بستر کو ہی لگ گئ محترمہ ” وہ سر جھٹک کر باہر نکل گیا سکینہ نے منہ بنایا ۔
اس سے کسی اچھے کا سوچنا حماقت تھی ۔
وہ کمرے میں چلا گیا اور سکینہ نے باہر جس چیز کی ضرورت تھی ساتھ کے ساتھ پوری کرنے کی کوشش کی لیکن سچ تو یہ تھا کہ مالا کے ہاتھ میں جو ذائقہ تھا وہ ذائقہ گھر کے کسی دوسرے فرد کے ہاتھ میں نہیں تھا ۔
کھانا کھاتے ہوئے ہی میرال کے پیرنٹس نے بات شروع کر دی ہمیں تو صارم شروع دن سے ہی بہت پسند آیا تھا
ہماری طرف سے رشتہ پکا سمجھیے ” اسکے والد بولے تو بخت اور جہان نے صارم کو دیکھا وہ اب بھی سنجیدہ تھا ۔
دونوں آئی برو اچکا گئے
ڈرامے باز ” وہ دونوں ہی اسکے پہلو میں بڑبڑائے جبکہ صارم نے آئی برو اچکا کر گھورا
ماشاءاللہ ماشاءاللہ مٹھائ لاؤ سکینہ “
نگین اور افیہ نے آواز لگائی اور سکینہ دوڑ کر مٹھائی لے آئ لیکن وہ تھک گئ تھی معلوم نہیں مالا ان سب کا اتنا کام کیسے کر لیتی تھی
بنا تھکے وہ بھی اور اب جب وہ بیچاری بخار میں پھونک رہی تھی تو کوئی ایک بھی وہاں نہ گیا
مٹھائی صارم اور میرال دونوں کو کھلائی گئ میرال کچھ بے چین بھی تھی لیکن فلحال چپ تھی ۔
صارم نے سرسری سی نگاہ ڈالی تھی اسپر خوبصورت تھی وہ لڑکی اسنے تصویر دیکھ کر حامی بھی بڑی مشکل سے دی تھی ۔
کھانے اور مٹھائی کے بعد چائے کا دورانیہ چل پڑا اور ایک اچھی اور خوبصورت شام سب نے گزاری تھی ۔۔۔۔
مہمان چلے گئے تو سب انکی اچھائی کے قصیدے پڑھنے لگے
کوئی بھی بات ہے میرال کا یہاں آنا سمجھ نہیں آیا
اسکا مطلب وہ مشرقی نہیں یو یو ہنی سینگ ہے ” جہان کافی کا مگ لبوں سے لگاتے سنجیدگی سے بولا جبکہ دوسری طرف بخت نے اپنی ہنسی روکی
لیکن اسکی زیادہ اٹنشن تم گین کر رہے تھے ” بخت نے بھی کافی کا گھونٹ بھرا
یہ کیا بدتہذیبی ہے چاچی ہے تم لوگوں کی اب وہ تمیز سے بات کرو ” افیہ نے ڈپٹا تو دونوں صارم کو سنجیدہ بیٹھے دیکھ خاموش ہو گئے
ویسے یہ آدمی سال کے 365 دن منہ بنا کر رہتا ہے کیا اب لوگ انکی وجہ سے ہمیں روک رہیں ہیں ” جہان بولا تو نگین نے اسکے شانے کو جھنجھوڑ دیا
بہت پٹ جاؤ گے ۔
صارم تمھیں پسند ہے میرال ” افیہ نے پوچھا تو صارم سر ہلایا
اوووووو کیا کہا اپ نے چاچو دوبارہ کہو اللّٰہ کی قسم بے حیائی کے ریکارڈ توڑ دیے تم نے تو ” جہان اور بخت اسکے سر پر سوار ہونے گئے نگین اور افیہ ہنس دیں جبکہ حنین بھی ۔
تم دونوں اپنی پسند کی کروں اور میں اپنی ہی منگیتر کی تعریف نہ کروں “
واہ میرے مولا کیسے کیسے دن دیکھنے پڑ رہے ہیں “
اب چاچو گھوڑی چڑھے گا جہان دیکھ لینا تم “
پہلے تو مجھے بھی لگا تھا چھوڑ کر بھاگ جائے گا ” دونوں نے کافی بھی نہ پینے دی تھی اسے صارم نے سر پکڑ گیا وہ کرتا شلوار میں ان دونوں کو گھورتا کافی پینڈسم لگ رہا تھا
مت تنگ کرو اسے اللّٰہ خوشیاں سلامت رکھے ہماری “
چلیں فیملی فوٹو ہو جائے ” حنین جلدی سے اٹھ کر بیچ میں ا گئ اور ان سب نے فیملی پیچرز بنائی کسی کو اگر احساس تک نہیں ہوا تھا تو وہ مالا کا تھا ۔
سکینہ چپکے سے کھانا دینے گئ تھی اسے کمرے سے عجیب عجیب سی آوازیں ا رہی تھی اسنے دروازہ کھولا ساجد زمین میں گیر گئے تھے جبکہ مالا مکمل بے ہوش تھی
سکینہ کی بے ساختہ چیخ نکلی گئ وہ دوڑ کر واپس آئی اور یہاں خوشیوں کا سماں تھا
اسنے ڈر ڈر کر حنین کو اشارہ کیا
کیا ہوا سکینہ “
حنین باجی مالا باجی بے حوش پڑی ہے سارا دن سے بخار میں پھونک رہی تھیں لیکن کسی نے ڈاکٹر کو نہیں بلایا اب وہ ساجد بھائی بھی غیر گئے اپنی چارپائی سے باجی اللّٰہ کے واسطے کچھ کریں “
سکینہ نے اسے بتایا اور حنین بنا پیچھے دیکھے باہر نکلئ اور مالا کے پورشن کی طرف بھاگ گئ
یہ کہاں جا رہی ہے ” صارم نے ہی سوال کیا
وہ ڈرامے بازی ہے نہ ایک مالا بی بی بخار ہے مہرانی کو دیکھنے گئ ہو گی اسے ” نگین نے چیڑ کر کہا
تو ڈاکٹر کو بلایا ” صارم کے سوال پر ان دونوں نے سر جھٹکا
ہو جائے گی خود ٹھیک “
اپ لوگ ڈاکٹر کو تو بلا لیتے ” بخت نے بھی اختلاف کیا جہان البتہ خاموش تھا اور اسکی ماں کو یہ ہی چین تھا
صارم اپنی جگہ سے اٹھا اور مالا کی خیریت دریافت کرنے کو نکل گیا
اوکے میں بھی جا رہا ہوں بائے ” بخت ماں کو زبردستی پیار کر کے نکل گیا ۔
ہاتھوں سے چلا گیا میرا بیٹا تو ” افیہ اسے جاتا دیکھ رہی تھی افسوس انکے چہرے سے عیاں تھا جبکہ جہان ایل سی ڈی اون کر کے بیٹھ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف وہاں کے حالات پہلی بار سب نے دیکھے تھے
ایک خالی کمرہ جہاں ایک ہی چارپائی ایک بلب اور بہت شدید گرمی
میں وہ خالی زمین پر پڑی تھی
ان تینوں نے پہلے ساجد کو چارپائی پر ڈالا اور پھر صارم نے ڈاکٹر کو کال کی
یہاں کی حالت دیکھ کر حنین کی آنکھیں بھیگ گئیں
چاچو نفرت ایک طرف یہ لوگ انسان تو ہیں بستر بھی نہیں مالا کے پاس ” اسنے صارم کی جانب دیکھا اور صارم لب دبا گیا
حنین کو غصہ آیا کہ اسنے اسکی بات نہیں سنی تھی ۔۔۔۔
مالا کا سر اسنے زمین پر سے اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا
کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر ایا تو مالا کی بے حوشی کی وجہ بخار خوراک کی کمی اور خوف بتایا
انھوں نے دوائیاں لکھ کر دی اور اپنے پاس سے کچھ ایمرجنسی ٹریٹمنٹ کر کے انھوں نے صارم کو دیکھا
آپکی ملازمہ ہیں یہ ” وہ ڈاکٹر مالا کو کچے فرش پر پڑا دیکھ پوچھ رہے تھے ۔
صارم خاموش رہ گیا جبکہ ڈاکٹر اسکا جواب نہ پا کر وہاں سے چلا گیا
حنین کو بہت رونا آ رہا تھا وہ لوگ مالا پر ظلم کر رہے تھے وہ اپنے پورشن کی جانب آئی اور وہاں کی شان و شوکت دیکھ کر اسکو اور رونا آیا۔
آ گئ ہو بس اب آرام کرو ” افیہ بولی تو حنین نے ماں کو دیکھا
مما وہ کچے فرش پر پڑی بخار میں پھونک رہی ہے اسے یہ بھی حوش نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یہ مر گئ
کتنے بے رحم ہیں اپ لوگ کتنے بے رحم ” بھرائے ہوئے لہجے میں کہہ کر وہ اپنے کمرے سے میٹرس لینے چلی گئ جو اس وقت اسکے بس میں تھا وہ وہ کر رہی تھی ۔
جہان نے سر اٹھا کر اسے گدا لے کر جاتے دیکھا ۔۔ اور پھر ایل سی ڈی کو گھورنے لگا ۔
حنین نے دیکھا صارم بھی جا چکا تھا وہ اس خاندان کی سنگدلی سے واقف تھی
جو اپنی ہی بہن کا یہ حال کر دیں انھیں بھانجی کے جینے مرنے سے کیا فرق پڑے گا اسنے مالا کے لیے گدا بچھایا اور ایک تکیہ رکھا
زمین پر سونے سے تو بہت اچھا تھا مالا کو لیٹا کر وہ اسکے لیے کچھ کھانے کے لیے لینے ا گئ
بلاوجہ یہ لڑکی خوار ہو رہی ہے ” نگین بھڑکی مگر حنین نے کوئی جواب نہیں دیا اور وہ اسکے لیے کھانے کا سامان لے گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مام ڈیڈ “
شمائل نے باری باری دونوں کو پکارہ مگر وہ دونوں ایک دوسرے سے لڑنے میں ہمیشہ اتنا مگن ہوتے تھے کہ شمائل پر توجہ کبھی گئی ہی نہیں
وہ ٹیبل پر بیٹھا تھا جبکہ کھانا بھی ایک طرف تھا
تم میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو ” اسکی ماں بولی
غلطی میں تم میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہو تمہاری اس بدزبانی نے میرا جینا حرام کر دیا ہے میرا بس چلیں تمھیں جان سے مار دوں ” ڈیڈ بولے شمائل سر ہلانے لگا یہ روز کا تھا نئی بات نہیں تھی اسکے لیے ۔۔۔
اچھا مجھے جان سے مار”
اسکی ماں کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ شمائل نے پلیٹ پھینک دی “
پلیٹ ٹوٹنے کی آواز پر دونوں نے شمائل کو دیکھا ۔
نو بجے ڈنر کرنے بیٹھے تھے 11 بج رہے ہیں ۔۔۔
مجھے میرے دوستوں کے ساتھ جانا ہے ویسے تو ڈنر میں باہر کر سکتا ہوں لیکن میری بدقسمتی یہ ہے مجھے گھر کا کھانا پسند ہے تو کیا اپ لوگ چپ ہو سکتے ہیں “
اسنے دونوں کو دیکھا
You eat your food, your father has a habit of frivolous things.
اسکی ماں بولی
وہ ٹیبل پر سے اتر کر چئیر پر بیٹھ گیا
واٹ نان سینس تم میرے بیٹے کو میرے خلاف کر رہی ہو جاہل عورت “
جاہل کون ہے پتہ لگ رہا ہے ” اسکی ماں بولی اسنے کانٹا اٹھایا ہی تھا
تم جاہل ہو جاہل نکمی عورت “
لڑ تو تم رہے ہو مجھ سے جاہل آدمی “
میں تمھیں اچھے سے بتا دوں گا تم اسیمبلی میں ملنے والی سیٹ پر اچھل رہی ہو نہ “
اور تمھیں وہ سیٹ نہیں ملی تبھی تم انگاروں پر ہو “
اوقات میں رہو نازیہ “
تم اوقات ” وہ چئیر چھوڑ کر اٹھ کر چلا گیا اسکے اٹھنے سےچئیر پیچھے جا گیری اور نازیہ نے بابر کو دیکھا
تمھاری وجہ سے میرے بیٹے نے کھانا نہیں کھایا “
بیٹا وہ میرا بھی ہے اور مجھے تم سے زیادہ عزیز ہے “
ہاں ماں کر پالو تو پتہ لگے “
تم اور ماں ” بابر کھل کر ہنسا
نازیہ کے پتنگے لگ گئے اور یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا جبکہ شمائل گاڑی میں بیٹھا اسنے سیگریٹ لبوں میں دبائی اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا لی
گاڑی پوری سپیڈ سے روڈ پر دوڑ رہی تھی یہاں تک کے تمام سگنلز وہ توڑتا ہوا جا رہا تھا اور اچانک اسکی گاڑی درخت میں جا کر بجی
صاف ظاہر تھا
چلانے والے کا خودساختہ ایکسیڈنٹ تھا یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔