Kitabon Wala Ishq By Tania Tahir Readelle50308

Kitabon Wala Ishq By Tania Tahir Readelle50308 Last updated: 10 November 2025

307.4K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kitabon Wala Ishq

By Tania Tahir

بخت کا رشتہ لے کر سب گئے تھے ۔ اور عینہ کے گھر میں جیسے بہار آ گئ اتنے بڑے خاندان سے اچانک عینہ کا رشتہ ا جانا ان لوگوں کے لیے بہت بری بات تھی کیونکہ عینہ کے والد صرف ایک مزدور تھے ۔ اور اسکے پورے خاندان میں بھی دور دور تک کسی لڑکی کی شادی اسطرح نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ عینہ کی بڑی بڑی آنکھوں میں شرم جھجھک سی تھی افیہ اور نگین دونوں نے ہی بس اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور اسکے بعد اس سے کوئی بات نہیں کی عینہ تھوڑا مزید جھجھک کر کنفیوز سی ہونے لگی جبکہ انکے ساتھ ایک چھوٹی سی بہت کیوٹ سی لڑکی بھی خاموش بیٹھی تھی افیہ نے سیدھا رشتے کی بات کی تو عینہ کی والدہ ہلکا سا مسکرائی جی ضرور انکے ابا ذرا باہر گئے ہوئے ہیں وہ آتے ہیں ان سے معلوم کر کے میں آپکو بتاتی ہوں " خیر بہن اسے بتانے و تانے کے چکر میں تم نہ ہی کرو جب لڑکا لڑکی راضی تو کیا کرے گا قاضی تو تمھاری میری تو کوئی اوقات ہی نہیں بس رشتہ ہم نے پکا سمجھ لیا ہے ۔ آتے جاتے رہیں گے " افیہ بولی تو عینہ نے انکی جانب دیکھا جبکہ اسکی ماں نے عینہ کو دیکھا اسکے چہرے پر بے ساختہ سرخی سی چھا گئ ۔ وہ کس طرح بتاتی کہ محبت کا بخار انکے بیٹے کا ہے ۔ وہ لب دبائے بیٹھی تھی وہ اٹھیں اور اسکے سر پر پھر سے ہاتھ رکھ کر اسکے ہاتھ میں دو نوٹ رکھ دیے ۔ عینہ نے ان پانچ پانچ ہزار کے دو نوٹوں کو دیکھا اور پھر سر جھکا گئ ۔۔۔۔ اسکے دل پر انکا لہجہ بہت زور سے لگا تھا ۔ وہ لوگ بنا کچھ کھائے کچھ دیر بعد وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور دوسری طرف عینہ نے ماں کی جانب دیکھا جو بھی اسکے پاس سے اٹھ گئیں اسنے وہ نوٹ ایک طرف رکھ دیے اپنے چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا اور اپنے آنسوؤں کو ذرا قابو کر کے وہ اٹھ کر اندر چلی گئ ان لوگوں کے جاتے ہی بیس منٹ بعد بخت کی کالز آنی شروع ہو گئیں تھیں لیکن عینہ نے اسکی کال اٹینڈ نہیں کی ۔۔۔۔ وہ شکایت نہیں کرنا چاہتی تھی اس سے لیکن اس سے ابھی بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ معلوم نہیں اسنے گھر میں کیا بتایا تھا وہ تو ان چیزوں سے آگاہ نہیں تھی لیکن جیسا بھی تھا ان لوگوں کا انداز اسکے لیے حقیر سا تھا بار بار وہ اسے ایسے دیکھ رہیں تھیں جیسے وہ انکے لیے بہت گیری ہوئی کوئی شے ہو اور اسکے دل میں ان کا رویہ چبھ سا گیا ۔ یہاں تک کے وہ شرمندگی کا شکار رہ گئ اپنی ماں کے سامنے بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معلوم نہیں کیا ہوا ہے " بخت نے دوبارہ کال ملائی مگر ریسپونس پھر بھی زیرو تھا ۔ اوو ہیرو کس بے چینی میں ہو اب تو رشتہ بھی چلا گیا تمھارا " جہان اور بخت دونوں میٹینگ روم میں تھے اور بخت کی بے تابیاں دیکھ کر وہ بولا تو بخت نے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا معلوم نہیں کیا بات کی ہو گی ان لوگوں نے " تھوڑا تو ٹرسٹ کر یار کیا ہو گیا جبکہ وہ لوگ گئے ہیں تو بات ہی کی ہو گی " ہمم یہ بھی ٹھیک ہے اچھا ہمدانی صاحب کے آرڈرز کاونٹ کروا لیے " ہاں کرا دیے فلحال تم یہ چیک کرو یہ میرے نیو ڈیزائنز ہیں " جہان نے اپنا لیپ ٹاپ اسکی جانب کیا تو بخت سکرین کی جانب دیکھنے لگا کچھ ہی دیر میں میٹینگ کے لیے سب جمع ہو گئے اور وہ سب ہی مصروف ہو گئے جبکہ دوسری طرف وہ تینوں گھر ا گئیں نگین نے دیکھا حنین سیدھا کمرے میں چلی گئ تھی بھابھی خیریت ہے چپ چپ سی ہے حنین " وہ مالا کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتی بولیں ہاں اسکی بھی الگ ہی ضد ہے " افیہ نے تھکے تھکے انداز میں کہا تو نگین چپ ہو گئ جبکہ مالا کچن میں ا گئ تھی حنین اسکا بہت خیال رکھتی تھی اسے حنین کی بھی فکر ہوئی تبھی اسنے حنین کے لیے ملک شیک بنایا اور اسکے کمرے میں ا گئ وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی ۔ حنین یہ لو میں تمھارے لیے لائی ہوں " مالا نے کہا تو حنین نے ہلکا سا مسکرا کر گلاس پکڑ گئ تھینکیو " تم اتنا اداس کیوں ہو " مالا نے کچھ جھجھکتے ہوئے پوچھا کیونکہ اسے اس گھر کے کسی معاملے میں بولنے کی اجازت نہیں تھی مالا تم نے کتنا پڑھا ہے " حنین کچھ سوچ کر پوچھنے لگی ۔ ایف ائے " وہ اہستگی سے بتا گئ کیونکہ اسے اس سے زیادہ پڑھنے کے لیے کسی نے پیسے ہی نہیں دیے تھے اچھا تو تم نے آگے کیوں نہیں پڑھا " حنین بولی تو مالا ہلکا سا مسکرائی میں شاید پڑھائی میں نکمی تھی " دماغ ٹھیک ہے تمھارا تمھارا ریزلٹ دیکھا تھا میں نے تمھیں گھر والوں نے روکا ہو گا جس طرح مجھے روک رہے ہیں " کیا اگے پڑھنے سے " مالا نے بڑی بڑی آنکھیں پھیلائی نہیں یار ابھی آگے کی تو نوبت ہی نہیں آئی اور پھر حنین نے اسے ساری بات بتا دی کہ اسکے پروفیسر نے اسے اتنی سی عمر میں کیا ا آفر دی تھی ۔ اور وہ یہ افر اپیل کرنا چاہتی تھی اور آج انکی کال آئی تھی کہ اگر وہ کرنا چاہتی ہے تو کل ا جائے ورنہ وہ کسی اور کو ہائیر کر لیں گے وہ سٹیڈی میں بیسٹ تھی لیکن فیملی رولز میں پھنس چکی تھی ۔ مالا کو اسپر ترس آیا اور اس بیوقوف کو اپنی تکلیفوں سے زیادہ بڑی تکلیف لگی تھی حنین کی ۔۔۔۔ تم بخت بھائی سے بات کر لو " اسنے مشورہ دیا بھائی اس وقت اپنی فکر میں ہیں وہ معلوم نہیں میری بات پر توجہ دیں یہ نہیں " تو تم ج۔۔جہان بھائ سے کہہ دو وہ تو منا بھی لیں گے سب کو " آ۔۔۔ ہاں یہ تم نے ٹھیک کہا " حنین ایکدم اچھلی اور مالا کے شانے پکڑ لیے تھینکیو تھینکیو تھینکیو سو سو مچ مالا " وہ اسے گھوما گئ اور جلدی سے اپنا موبائل نکال لیا مالا کو خوشی ہوئی ساری زندگی اسنے اپنے لیے بے کار لفظ سنا تھا آج وہ کسی کے کام ائی تھی وہ مسکرا کر نیچے آئی تو نگین نے اسے گھور کر دیکھا یہ تم کس لیے ہنس رہی وہ اور کچن چھوڑ کر تم کہاں تھی " برہمی سے بول رہیں تھیں وہ ۔۔۔ ممانی جان میں حنین کو شیک دینے گئ تھی " وہ نظریں جھکا کر بولی ہان تو دے کر واپس لوٹنا ہوتا ہے یوں نہیں کہ وہیں ٹیک جاؤ خیر کھانا اچھا بنا لینا آج اور جہان کے آنے سے پہلے اپنی یہ منحوس شکل لے کر دفع ہو جانا " وہ دانت پیس کر بولی تو وہ سر ہلا گئ اور نگین کمرے میں چلی گئ ابھی وہ کچن میں ائ تھی کہ افیہ کی فرمائش آ گئ کہ اسکے لیے حلوا بنا دیا جائے اور پھر وہ حلوا بنانے کھڑی ہو گئ ایک منٹ ایک لمہہ بھی اپنے لیے اسکے پاس نہیں تھا خیر اسنے اپنے لیے ایک منٹ نکال کر بھی کرنا کیا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔