Kitabon Wala Ishq By Tania Tahir Readelle50308 (Kitabon Wala Ishq) Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
(Kitabon Wala Ishq) Episode 3
بخت کا رشتہ لے کر سب گئے تھے ۔
اور عینہ کے گھر میں جیسے بہار آ گئ
اتنے بڑے خاندان سے اچانک عینہ کا رشتہ ا جانا ان لوگوں کے لیے بہت بری بات تھی کیونکہ عینہ کے والد صرف ایک مزدور تھے ۔
اور اسکے پورے خاندان میں بھی دور دور تک کسی لڑکی کی شادی اسطرح نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔
عینہ کی بڑی بڑی آنکھوں میں شرم جھجھک سی تھی
افیہ اور نگین دونوں نے ہی بس اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور اسکے بعد اس سے کوئی بات نہیں کی
عینہ تھوڑا مزید جھجھک کر کنفیوز سی ہونے لگی جبکہ انکے ساتھ ایک چھوٹی سی بہت کیوٹ سی لڑکی بھی خاموش بیٹھی تھی
افیہ نے سیدھا رشتے کی بات کی تو عینہ کی والدہ ہلکا سا مسکرائی
جی ضرور انکے ابا ذرا باہر گئے ہوئے ہیں وہ آتے ہیں ان سے معلوم کر کے میں آپکو بتاتی ہوں “
خیر بہن اسے بتانے و تانے کے چکر میں تم نہ ہی کرو جب لڑکا لڑکی راضی تو کیا کرے گا قاضی تو تمھاری میری تو کوئی اوقات ہی نہیں بس رشتہ ہم نے پکا سمجھ لیا ہے ۔
آتے جاتے رہیں گے ” افیہ بولی تو عینہ نے انکی جانب دیکھا
جبکہ اسکی ماں نے عینہ کو دیکھا اسکے چہرے پر بے ساختہ سرخی سی چھا گئ ۔
وہ کس طرح بتاتی کہ محبت کا بخار انکے بیٹے کا ہے ۔
وہ لب دبائے بیٹھی تھی وہ اٹھیں اور اسکے سر پر پھر سے ہاتھ رکھ کر اسکے ہاتھ میں دو نوٹ رکھ دیے ۔
عینہ نے ان پانچ پانچ ہزار کے دو نوٹوں کو دیکھا اور پھر سر جھکا گئ ۔۔۔۔
اسکے دل پر انکا لہجہ بہت زور سے لگا تھا ۔
وہ لوگ بنا کچھ کھائے کچھ دیر بعد وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور دوسری طرف عینہ نے ماں کی جانب دیکھا جو بھی اسکے پاس سے اٹھ گئیں
اسنے وہ نوٹ ایک طرف رکھ دیے
اپنے چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا اور اپنے آنسوؤں کو ذرا قابو کر کے وہ اٹھ کر اندر چلی گئ
ان لوگوں کے جاتے ہی بیس منٹ بعد بخت کی کالز آنی شروع ہو گئیں تھیں لیکن عینہ نے اسکی کال اٹینڈ نہیں کی ۔۔۔۔ وہ شکایت نہیں کرنا چاہتی تھی اس سے لیکن اس سے ابھی بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
معلوم نہیں اسنے گھر میں کیا بتایا تھا
وہ تو ان چیزوں سے آگاہ نہیں تھی لیکن جیسا بھی تھا ان لوگوں کا انداز اسکے لیے حقیر سا تھا بار بار وہ اسے ایسے دیکھ رہیں تھیں جیسے وہ انکے لیے بہت گیری ہوئی کوئی شے ہو اور اسکے دل میں ان کا رویہ چبھ سا گیا ۔
یہاں تک کے وہ شرمندگی کا شکار رہ گئ اپنی ماں کے سامنے بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معلوم نہیں کیا ہوا ہے ” بخت نے دوبارہ کال ملائی مگر ریسپونس پھر بھی زیرو تھا ۔
اوو ہیرو کس بے چینی میں ہو اب تو رشتہ بھی چلا گیا تمھارا “
جہان اور بخت دونوں میٹینگ روم میں تھے اور بخت کی بے تابیاں دیکھ کر وہ بولا تو بخت نے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا
معلوم نہیں کیا بات کی ہو گی ان لوگوں نے “
تھوڑا تو ٹرسٹ کر یار کیا ہو گیا جبکہ وہ لوگ گئے ہیں تو بات ہی کی ہو گی “
ہمم یہ بھی ٹھیک ہے اچھا ہمدانی صاحب کے آرڈرز کاونٹ کروا لیے “
ہاں کرا دیے فلحال تم یہ چیک کرو یہ میرے نیو ڈیزائنز ہیں ” جہان نے اپنا لیپ ٹاپ اسکی جانب کیا تو بخت سکرین کی جانب دیکھنے لگا
کچھ ہی دیر میں میٹینگ کے لیے سب جمع ہو گئے اور وہ سب ہی مصروف ہو گئے جبکہ دوسری طرف وہ تینوں گھر ا گئیں
نگین نے دیکھا حنین سیدھا کمرے میں چلی گئ تھی
بھابھی خیریت ہے چپ چپ سی ہے حنین ” وہ مالا کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لیتی بولیں
ہاں اسکی بھی الگ ہی ضد ہے ” افیہ نے تھکے تھکے انداز میں کہا تو
نگین چپ ہو گئ
جبکہ مالا کچن میں ا گئ تھی
حنین اسکا بہت خیال رکھتی تھی اسے حنین کی بھی فکر ہوئی تبھی اسنے حنین کے لیے ملک شیک بنایا اور اسکے کمرے میں ا گئ
وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھی ۔
حنین یہ لو میں تمھارے لیے لائی ہوں ” مالا نے کہا تو حنین نے ہلکا سا مسکرا کر گلاس پکڑ گئ
تھینکیو “
تم اتنا اداس کیوں ہو ” مالا نے کچھ جھجھکتے ہوئے پوچھا کیونکہ اسے اس گھر کے کسی معاملے میں بولنے کی اجازت نہیں تھی
مالا تم نے کتنا پڑھا ہے ” حنین کچھ سوچ کر پوچھنے لگی ۔
ایف ائے ” وہ اہستگی سے بتا گئ کیونکہ اسے اس سے زیادہ پڑھنے کے لیے کسی نے پیسے ہی نہیں دیے تھے
اچھا تو تم نے آگے کیوں نہیں پڑھا ” حنین بولی تو مالا ہلکا سا مسکرائی
میں شاید پڑھائی میں نکمی تھی “
دماغ ٹھیک ہے تمھارا تمھارا ریزلٹ دیکھا تھا میں نے تمھیں گھر والوں نے روکا ہو گا جس طرح مجھے روک رہے ہیں “
کیا اگے پڑھنے سے ” مالا نے بڑی بڑی آنکھیں پھیلائی
نہیں یار ابھی آگے کی تو نوبت ہی نہیں آئی اور پھر حنین نے اسے ساری بات بتا دی کہ اسکے پروفیسر نے اسے اتنی سی عمر میں کیا ا
آفر دی تھی ۔
اور وہ یہ افر اپیل کرنا چاہتی تھی اور آج انکی کال آئی تھی کہ اگر وہ کرنا چاہتی ہے تو کل ا جائے ورنہ وہ کسی اور کو ہائیر کر لیں گے وہ سٹیڈی میں بیسٹ تھی
لیکن فیملی رولز میں پھنس چکی تھی ۔
مالا کو اسپر ترس آیا اور اس بیوقوف کو اپنی تکلیفوں سے زیادہ بڑی تکلیف لگی تھی حنین کی ۔۔۔۔
تم بخت بھائی سے بات کر لو ” اسنے مشورہ دیا
بھائی اس وقت اپنی فکر میں ہیں وہ معلوم نہیں میری بات پر توجہ دیں یہ نہیں “
تو تم ج۔۔جہان بھائ سے کہہ دو وہ تو منا بھی لیں گے سب کو “
آ۔۔۔ ہاں یہ تم نے ٹھیک کہا ” حنین ایکدم اچھلی اور مالا کے شانے پکڑ لیے
تھینکیو تھینکیو تھینکیو سو سو مچ مالا ” وہ اسے گھوما گئ اور جلدی سے اپنا موبائل نکال لیا
مالا کو خوشی ہوئی ساری زندگی اسنے اپنے لیے بے کار لفظ سنا تھا
آج وہ کسی کے کام ائی تھی وہ مسکرا کر نیچے آئی تو نگین نے اسے گھور کر دیکھا
یہ تم کس لیے ہنس رہی وہ اور کچن چھوڑ کر تم کہاں تھی ” برہمی سے بول رہیں تھیں وہ ۔۔۔
ممانی جان میں حنین کو شیک دینے گئ تھی ” وہ نظریں جھکا کر بولی
ہان تو دے کر واپس لوٹنا ہوتا ہے یوں نہیں کہ وہیں ٹیک جاؤ خیر کھانا اچھا بنا لینا آج اور جہان کے آنے سے پہلے اپنی یہ منحوس شکل لے کر دفع ہو جانا ” وہ دانت پیس کر بولی تو وہ سر ہلا گئ اور نگین کمرے میں چلی گئ ابھی وہ کچن میں ائ تھی کہ افیہ کی فرمائش آ گئ
کہ اسکے لیے حلوا بنا دیا جائے اور پھر وہ حلوا بنانے کھڑی ہو گئ
ایک منٹ ایک لمہہ بھی اپنے لیے اسکے پاس نہیں تھا خیر اسنے اپنے لیے ایک منٹ نکال کر بھی کرنا کیا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ہوئی تو رات کے کھانے کا انتظام شروع ہو گیا ۔
وہ کھانا وغیرہ بنانے کے ساتھ ساتھ گھر میں لوٹنے والے مردوں کو بھی فریش جوش دے ری تھی ۔
ماموں اور بخت جہان سب ہی صوفوں پر بیٹھے تھے اسنے تینوں ماموں کو پھر بخت کو جوش دیا تو اتنا نہیں گھبرائی جیسے ہی جہان کو گلاس دیا ۔
تو اسکی انگلیوں نے جان بوجھ کر مالا کی انگلیوں کو چھوا تھا وہ اسی طرح اسے تنگ کرتا تھا اور ہر وقت کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا ۔
مالا نے جلدی سے ہاتھ دور کرنے چاہے تبھی جوش ہاتھ سے چھوٹ گیا اور جہان کے پورے کپڑوں پر غیر گیا
آندھی ہو گئ ہو مالا “
یہ ریاض ماموں تھے مالا کا دل کسی سوکھے پتے کیطرح کانپ اٹھا
کہاں رہتا ہے تمھارا دھیان سارے کپڑے خراب ہو گئے ” سختی سے بولے جبکہ جہان نے ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔
وہ میں صاف ” مالا ادھر ادھر دیکھنے لگی
رہنے دو ائ ویل مینیج “
جہان اٹھ کر چلا گیا جبکہ اسنے کچن میں دوڑ لگا دی یہ تو شکر تھا کہ یہاں نگین ممانی نہیں تھیں ورنہ وہ تو تھپڑ مارنے سے بھی نہیں رکتی تھیں ۔
کچن میں آ کر بے ساختہ اسے رونا آنے لگا اور منہ پر ہاتھ رکھے وہ رو دی
مالا باجی کیا ہو گیا ” سکینہ نے اسکو دیکھا تو سوال کیا
سکینہ مجھے سے جوش گیر گیا ” وہ روتے ہوئے بولی
تو کیا ہو گیا باجی غلطیاں تو سب سے ہوتی ہیں “
ن۔۔نہیں مجھے سے نہیں ہونی چاہیے غلطی چھوٹی ممانی کہتی ہیں میری غلطیوں کی سزا صرف مار ہے “
اپ پریشان نہ ہوں وہ تو یہاں تھیں بھی نہیں
ل۔۔لیکن جہان بھائی تو تھے نہ ” سکینہ خاموش ہو گئ اب اسکا ڈرنا جائز تھا ۔
کچھ دیر بعد وہ کھانے کی جانب متوجہ ہو گئ سارا گھر ڈائیننگ ٹیبل پر اکٹھا ہو گیا
بخت کے رشتے کے بارے میں بات چیت چل رہی تھی جبکہ بخت کو فکر عینہ کے فون نہ اٹھانے پر تھی ۔۔۔ وہ لب دبائے کھانا کھانے لگا
کیا ہوا بیٹا تم تو اب بھی خوش نہیں ہو ” ریاض صاحب نے ویسے ہی چھیڑا ۔
ایسی لڑکی کو گھر لا رہا ہے خوش تو کبھی نہیں رہے گا ” وجدان بولے تو بخت نے انکی جانب دیکھا
ڈیڈ ایسی لڑکی نہیں وہ اس گھر میں میرے نام سے آئے گی اور اسکی عزت اتنی ہی ہے جتنی ہم سب کی “
ہاں اپنے ہم پالا تو کبھی نہیں کر سکتے ہم لوگ اسے ” نگین کی زبان پر بھی کھجلی ہوئی
بخت نے مٹھیاں بھینچ لیں
اماں کیا ہو گیا ” جہان کے ٹوکنے پر وہ سر جھٹک گئیں عینہ کو دیکھا کر دل میں عجیب حسد سی تھی انکے ۔۔۔۔
عینہ کی خوبصورتی سے وہ جل رہیں تھیں کہ جہان کے لیے تو انھوں نے پریوں سی لڑکی سوچی تھی اور عینہ واقعی کسی پری سے کم نہ تھی ۔
بخت نے کھانا چھوڑا اور کھڑا ہو گیا ۔
کھانا کھاؤ بخت ” صارم نے بھی سنجیدگی سے کہا
اپ لوگوں نے جملے کھلا دیے ہیں تھینکیو ” وہ گاڑی کی چابی لے کر باہر نکل گیا
جائے گا اب اسکے گھٹنے سے لگنے جوان جہان بہن ہے اسکی لیکن اسکی حرکتیں دیکھنے لائق ہیں ” وجدان کو شدید غصہ چڑھا
یہ کیسا کھانا بنایا ہے ” اچانک وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتے چلائے
اور ایک سائیڈ پر کھڑی مالا کا رنگ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا جہان نے مڑ کر اسکی اڑی ہوئی رنگت دیکھی اور مسکرا کر آگے چہرہ کر لیا ۔
بہت ہی بدمزا کھانا بنا رکھا ہے ہاتھوں میں تو کوڑھ اتر گیا اسکے “
نگین بھی بھڑکیں انھیں تو مالا کے نام کا بیر تھا کوئی
ٹھیک بنا ہوا ہے کھانا بھائی تحمل سے ذرا ” صارم نے کہا تو وہ اتنے غصے میں تھے کہ اٹھ کر چلے گئے
اور حنین نے اپنے انسو اندر اتارے اسکی بات اب بھی نہیں بن پائے گئی کیا ہو گا وہ کیسے جائے گی ۔۔۔۔ وہ بھی کھانا چھوڑ کر چلی گئ
اور شاید باقی سب کا پیٹ بھر گیا تھا جس کی وجہ سے سب اٹھ اٹھ کر چلے گئے
البتہ جہان بیٹھا سکون سے کھا رہا تھا مالا نے قدم پیچھے لینا شروع کیے
مالا ” اسکی پکار پر وہ تھم گئ
” سامنے آؤ میرے “
م۔۔مجھے کچ۔۔چن میں کام ہے ” وہ منمنائی
جہان نے گردن گھمائی تو مالا اپنے انسو پیتی اسکے سامنے ا گئ
اتنا بدمزہ کھانا کوئی بناتا ہے ” وہ سکون سے کھاتے ہوئے بولا
کھانا گندا بنا ہے ” مالا نے اسکی جانب دیکھا
کھا کر دیکھو ” اسنے لقمہ اسکی جانب بڑھایا
نہیں ” وہ تو کانپ ہی اٹھی تھی اسکی افر پر ” جہان نے آنکھیں سکیڑیں اور مالا وہاں سے بھاگ گئ ۔
جہان نے اسے دور جاتے ہوئے دیکھا اور سنجیدگی سے چہرہ موڑ لیا
اسے ایک ہی بات سب سے زیادہ بری لگتی تھی اور وہ تھی نگلیکشن کوئی اسے اگنور کر دے اسکی بات نہ مانے اسکی مرضی پوری نہ ہو تو وہ پاگل سا ہونے لگتا تھا
اور اسکی شخصیت میں تحکم بچپن سے ہی تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک پانی کی آواز پر اسکی انکھ خوف سے کھل گئ اسنے جلدی سے دیکھا ابو سو رہے تھے ۔
دل تھام کر وہ کچھ دیر سانس بھرتی رہی اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑکی کے دوسری طرف جھانکا
جہان تھا سوئمینگ کر رہا تھا ۔
سوئمینگ پول اور اسکے کمرے کی کھڑی بلکل آمنے سامنے ہی تھی
اسنے کچھ دیر دیکھا اور پھر اچانک فلیش پڑنے پر وہ چونک اٹھی اسنے اسکی تصویر لے لی تھی
وہ ایکدم سیدھی ہوئی
تم مجھے دیکھ رہی ہو وہ بھی چھپ چھپ کر آؤ نیچے اچھے سے دیکھاتا ہوں ” وہ اونچی آواز میں بولا تو مالا کو لگا غش کھا کر وہ گیر جائے گی وہ جلدی سے دور ہو گئ ۔
اگر تم دو منٹ میں نیچے نہ ائی تو اگلے سکینڈ اماں کو ویڈیو سینڈ کر دینی ہے میں نے “
بلند آواز میں پانی کے چھپاکے کے ساتھ وہ بولا تو مالا کی آنکھیں بھیگ گئیں اسنے گھڑی میں وقت دیکھا رات کے دو بج رہے تھے اسے اٹھنے کی ضرورت ہی کیا تھی
مالا ” اسکی اواز ابھری
جبکہ مالا اپنی انگلیاں موڑ موڑ کر ہی توڑ دیتی اور پھر چار نچار اسے نیچے اترنا پڑا وہ چھوٹے چھوٹے قدم بھرتی اسکی جانب آنے لگی
جہان نے پہلی بار اسکے کھلے بال دیکھے تھے اور اسکی نظر محسوس کر کے مالا نے سر پر دوپٹہ اوڑھ لیا ۔۔۔
جہان پول سے باہر نکل آیا ۔
مالا اسے شرمندگی کے باعث دیکھ ہی نہیں پا رہی تھی جبکہ جہان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی اسے ٹیز کرنے سے ہمیشہ جو آتی تھی ۔۔۔۔۔۔
اسنے باتھ گاؤن پہنا اور اسکے سامنے ا گیا
چھوٹی سی مالا جیسے اسکے وجود کے اگے چھپ سی گئ
اسنے قدم پیچھے لیے
تم نے جواب نہیں دیا ” وہ سینے پر ہاتھ باندھ گیا
مالا ” اسنے چٹکی بجائ
ک۔۔کون سا جواب ” وہ نا سمجھی سے پوچھنے لگی
میں اپنی بات نہیں دھراتا
تو مالا کو اسکی بات یاد ا گئ جہان نے جبکہ سیگریٹ لبوں سے لگا لی مالا کی آنکھیں اور بھی پھیل گئیں اسکے گھر میں سیگریٹ شراب یہ چیزیں حرام تھیں بڑے ماموں کو ہمیشہ خاندان کی عزت کا خیال رہتا تھا تبھی یہاں اجازت نہ تھی اسکے مسکراتے ہونٹوں میں سیگریٹ کا شعلہ دیکھ اسکی پیشانی بھیگ گئی
جبکہ جہان کو کوئی روک سکتا تھا بھلا بنا خوف وخطر وہ سیگریٹ کا کش بھر کر سارا دھواں مالا کے ہونٹوں پر چھوڑ گیا جبکہ لبوں کی تراش میں اب بھی مسکان تھی
اور مالا کا وجود پتے کیطرح کانپ اٹھا وہ پیچھے ہوئی جہان ہنس دیا
جواب ؟ اور پھر بےساختہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
ن۔۔۔نہیں نہیں کرنی مجھے اپ سے شادی ” معلوم نہیں اس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی اسنے جواب ابھی دیا ہی تھا کہ جہان نے دونوں ہاتھوں سے اسکے شانوں پر دھکا دیا اور مالا سیدھا سوئمینگ پول میں جا کر گیری چھپاکے سے پانی کی اواز ابھری رات کا پھیر لائٹس اف گھیرہ پانی جس میں ہلکی ہلکی کالس نہ روشنی ہونے کی وجہ سے محسوس ہو رہی ہو اور اس اندھیرے میں وہ پانی کتنا خوفناک تھا اس وقت مالا ہی جانتی تھی
جہان بھائی جہان بھائی ” مالا کی چیخیں ابھری
اگر سوئمنگ پول انکے رہائشی حصے سے فاصلے پر نہ ہوتا تو اس وقت سب جمع ہو جاتے
کیا کہا ہے تم نے ؟
نہیں کرو گی شادی ” وہ اسے پانی میں مچلتا دیکھ سوئمنگ پول کے پاس بیٹھ گیا
جہان ب۔۔بھائ ” مالا مرنے کے نزدیک تھی ۔
مالا مجھے سنائی نہیں دیا ” اسنے سیگریٹ کا ایک اور کش بھرا
مالا کی جان فنا سی ہو گئ لیکن اس سے پہلے وہ اس تھوڑے سے پانی میں بھی ڈوب کر مر جاتی جہان نے اسکی جانب اپنی ٹانگ بڑھا دی جسے وہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر جلدی سے دیوار پکڑ گئ اور اس سیاہ پانی سے بچوں کیطرح روتی ہوئی نکلی تھی یہاں تک کے اس خوف سے کے پانی ہی اسے کھا جائے گا اسکے ہاتھ زخمی ہو گئے تھے جہان کا باتھ روب بھی پکڑا ہوا تھا اسنے ۔۔۔۔
جہان البتہ سکون سے یہ سب دیکھ رہا تھا اور اچانک سیگریٹ کو لبوں میں ہی چھوڑے اسنے مالا کی گردن میں اپنا بھاری ہاتھ رکھا اور سختی سے اسکی گردن جکڑ لی
تمھارے پاس اتنی زبان نہیں ہونی چاہیے مالا کہ تم جہان عالم کے منہ پر اسے انکار کرو اور انکار ۔۔۔ انکار تو میں نے کبھی اپنے ماں باپ کے منہ سے نہیں سنا
یہ تنہائی تھی میں تمھیں معاف کرتا ہوں
لیکن آئندہ میری کسی بات سے انکار کرو گی تو تمھارا گلہ گھونٹ کر تمھیں مار دوں گا یاد رکھنا مالا ” اسنے اسکی گردن جھٹکی
مالا بچوں کیطرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔
جہان نے اسکا سر اپنے سینے سے لگا لیا ۔
یہاں تک کے اسکے گیلے بالوں میں آہستگی سے ہاتھ پھیرنے لگا
ماں ٹھیک کہتی ہیں تمھاری غلطی کی سزا بھیانک ہے تمھیں اس پانی نے پریشان کیا ہے میں اس پانی کو پریشان کر دوں گا ڈونٹ وری ایسے نہ رو “
وہ بول رہا تھا مالا کو اسکے سینے سے اٹھتی خوشبو محسوس ہو رہی تھی لیکن اس وقت وہ اتنی خوفزدہ تھی کہ کوئی اجنبی بھی ہوتا تو اسکا ساتھ اسے تقویت دیتا ۔۔۔
ہے ریلکس ” آنکھیں بند کیے وہ روئے ہی جا رہی تھی
جہان نے اسکا سفید بھیگا چہرہ پہلی بار بڑے نزدیک سے دیکھا تھا رونے کے باعث اسکے چہرے میں ہلکی ہلکی سرخی تھی ۔
وہ روتی ہوئی شاید دنیا کی حسین ترین عورت لگ رہی تھی جو صرف اسکے رحم و کرم پر تھی ۔
آج تک اسے مالا حسین خوبصورت نہیں لگی تھی
اسنے بس اسے تنگ کیا اسکے گھبرانے اور پریشان ہو جانے پر مزاہ اٹھایا اور بات ختم ۔۔۔۔
اچانک مالا نے اپنی سرخ آنکھیں کھولیں جہان کا چہرہ اسکے بہت نزدیک تھا ۔
مالا نے اس سے دور ہونا چاہا اور جہان اسے خود ہی آزاد کر گیا مالا کانپتے ہوئے بھاگی اور گیلے ہونے کے باعث زمین بوس ہو گئ ” جہان نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی
وہ اور بھی رو دی اور پھر اٹھ کر بھاگی کہ پھر سے ٹکرا گئ
جہان لب بھینچ گیا
مالا پلر کو ہی پکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
جبکہ جہان نے نفی میں سر ہلایا اور اسکی سمت بڑھنے لگا اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے اسکے پورشن کے سامنے چھوڑ دیا
وہ لوگ کبھی اسکے پورشن یہ اسکے اور اسکے باپ کے کمرے تک نہیں آئے تھے اور نہ ہی آنا پسند کرتے تھے
وہ چلا گیا اور مالا اب تک اسی خوف و حراس میں قید تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حنین اسکے سامنے ہی کھڑی تھی
کیا ہوا 12 کیوں بج رہے ہیں منہ پر ” جہان نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا
اور حنین نے آہستہ آہستہ اسے سب بتا دیا جہان کے ہاتھ رک گیے
ہمم بڑی opportunity ہے “
بھائی ڈیڈ نہیں مان رہے ” حنین کا لہجہ بھرا گیا
تمھارے ڈیڈ کو صرف اپنی منوانی آتی ہے کسی دن انھوں نے کسی سے اسکی خواہشیں پوچھیں ہیں بھلا اینی ویز تم تیار ہو جاؤ میں لے چلتا ہوں تمھیں اور تایا جان کو بتانا کہ تمھارے سمر کیمپ چل رہے ہیں “
لیکن انھیں پتہ ہے میرا کوئی سمر کیمپ نہیں اب ” وہ بیچارگی سے بولی
تو تایا جان کی چمچ ہر بات انکے کان مین اتارنا ضروری ہے ” وہ اسے گھور کر بولا تو حنین منہ بسور گئ
کہہ دو ایکسٹرا کلاسز لینے جا رہی ہوں “
اور انھیں پتہ چل گیا تو “
چھوڑ دینا ” اسنے سہولت سے کہا حنین پر سوچ ہوئی
اور بخت بھائی ” اسے بخت کی بھی فکر ہوئی
میں بتا دوں گا اسے ” وہ اسکا گال تھپتھپا گیا
مالا نے ٹھیک کہا تھا یہ آدمی ہی اسکا مسلہ حل کر سکتا تھا وہ خوشی خوشی نیچے آئی اور اپنی ماں کو الٹی سیدھی کہانی سنانے لگی انھوں نے شکی نظروں سے اسے دیکھا
سچی جہان بھائی سے پوچھ لیں سمر کیمپ ہیں “
حنین نے کہا جہان نے البتہ سر نہیں اٹھایا تھا اپنے موبائل پر سے اور وجدان اور ریاض کو موقع ہی نہ ملے کے اس بات پر غور کرتے کیونکہ وہ دونوں ہی شہر سے باہر جا رہے تھے ۔
آج صارم کی بات پکی ہو رہی ہے اپ لوگ جا رہے ہیں ” افیہ بھی بھول گئ تھی یہ معملہ تبھی صارم کا ذکر کیا ۔
تم کر لو ہم انشاءاللہ اگے مل لیں گے ” عجلت میں سب نکل گئے
اور پیچھے وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے نکل گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
