Kitabon Wala Ishq By Tania Tahir Readelle50308 (Kitabon Wala Ishq) Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
(Kitabon Wala Ishq) Episode 7
اگلی صبح گھر میں خوشی کے شادیانے لائی تھی کیونکہ صارم کی شادی باعث موضوع تھی ہر کوئی اپنی مرضی بتا رہا تھا ۔
مما اپ لوگ عینہ کے گھر کب ڈیٹ فکس کرنے جائیں گے ” عینہ سے اسکی بات چیت بہت کم ہو گئ تھی وہ خود بھی بس چاہتا تھا وہ اسکے گھر میں ائے ۔
تمھاری شادی نہیں کرنی ابھی مجھے ” افیہ بولیں
کوئی ضرورت نہیں تاخیر کی صارم کے ساتھ ہی بہو گھر میں لے آؤ “
وجدان بولے تو بخت کا دل کیا انکا ماتھا ہی چوم لے ۔
لیکن “
کہ دیا نہ بس کہہ دیا ” انھوں نے کہا تو افیہ سر ہلا گئ
جبکہ حنین جہان کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی وہ آئے تو اسے بھی لے جائے کچھ ہی دیر میں جہان بھی ا گیا ۔
وہ پیشانی پر بل ڈالے بیٹھ گیا
سر درد کر رہا ہے میرا مجھے ناشتہ ملے گا ” وہ دھاڑا اور ایکدم سب خاموش رہ گئے ۔
” کیوں ہو رہا ہے سر درد “
مالا ” نگین چلائی یہ عجیب تھا اس گھر میں کسی کو کچھ بھی ہوتا تھا قصور مالا کا نکلتا تھا
کہاں مر گئ یہ مالا میں اپنے بچے کے لیے دودھ پتی لاتی
کافی ” وہ سنجیدگی سے بولا ۔
ہاں میں لاتی ہوں ” نگین اٹھ گی
تم آفس سے چھٹی کر لو اگر اتنی طبعیت خراب ہے ” بخت بولا تو جہان نفی کر گیا
میسنی گھنی میرا بچہ وہاں تڑپ رہا ہے کافی کا مگ پکڑے کھڑی ہے یہاں ” اسے دھکیل کر وہ کپ لے کر وہاں سے چلی گئیں اور مالا نے شکر ادا کیا کہ اسے جانا نہیں پڑا اسکے پاس جبکہ جہان کے نکھرے عروج پر تھے
بھابھی اسکی بھی شادی کریں تاکہ نواب زادہ کے مزاج آسمان سے اتریں ” صارم بولا تو جہان نے اسکی سمت دیکھا
کافی کا گھونٹ لیتے ہی مالا کے ہاتھ چومنے کا دل کیا لیکن ایسا وہ کر نہیں سکتا تھا ۔۔۔
چاچو تم بڑے بھاگ رہے ہو اب تمھیں ہنسی مذاق بھی سوجنے لگ گئے ہیں ” جہان سے پہلے بخت نے اسکی ٹانگ کھینچی تو سب ہنس دیے صارم نے جبکہ نفی میں سر ہلایا
میں تو اپنے بیٹے کی شادی کسی پری سے کروں گی ” نگین فخر سے بولی ۔۔۔۔ جبکہ سب مسکرا دیے
اور اگر مجھے کوئی نہ ملی تو میں مالا سے شادی کر لوں گا ” کافی کا گھونٹ بھرتے اسنے مالا کی سمت دیکھا جو ٹرے لے کر آ رہی تھی اور جیسے ہی اسکے کانوں میں یہ بات پڑی اسکے ہاتھ سے ٹرے چھوٹ گئ “
نگین کی حالت دیکھنے لائق تھی ایسا لگ رہا تھا اسکے وجود سے سارا خون نچوڑ لیا ہو افیہ البتہ طنزیہ مسکرائی
جتنی شان سے ہر وقت کہتی پھرتی تھی کہ پری لے کر آؤ گی ۔۔۔
وجدان ریاض صارم سمیت بخت بھی شاکڈ تھا اور حنین کا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔
کیوں مالا شادی کرو گی مجھ سے “
ایک شخص کو بھی نہیں دیکھا تھا اسنے ۔۔۔
صرف مالا سے سوال کیا تھا دوسری بار ۔۔۔ مگر اب سب کے سب مالا کو دیکھنے لگے جیسے ہر منظر ساکت ہو گیا ہو سکوت تھا چاروں سمت یہاں تک کے سکینہ نے بھی کچن میں سے برتنوں کی آواز ختم کر دی تھی ۔
جہان بڑے سٹائل سے کرسی چھوڑ کر اٹھا
بتاؤ مالا شادی کرو گی مجھ سے ” وہ باضد تھا
مالا نے آنسوؤں سے تر آنکھیں اوپر اٹھائیں
ن۔۔۔نہیں ” آواز بہت مدھم تھی جہان کو سنائی دے دی تھی
کبھی نہیں ” اور یہ الفاظ سب نے سنے تھے ۔
مالا وہاں سے بھاگ گئ اپنے پورشن میں جہان ہنس دیا اور ہنستے ہنستے اسنے ہاتھ میں موجود کپ سامنے دیوار گیر شیشے میں دے مارا اور شیشہ کئی حصوں میں کرچی کرچی ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا بکواس تھی ” ریاض صاحب نے اسے گھور کر دیکھا اسکی ماں انسو بھا رہی تھی
مذاق تھا ” وہ لاپرواہی سے بولا
بے حد فضول اور بے ہودہ مذاق تھا اور آئندہ تمھارے منہ سے ایسی بات نہ سنوں ” ریاض کے غصے پر جہان سر ہلانے لگا
سعد کب ا رہا ہے ” اسنے بات کو پلٹ دیا ۔
اسکو سعد کی پڑی ہے ماں کو انگاروں پر گھسیٹ دیا مذاق مذاق میں اور کہتا ہے مذاق ہے ایسا بھی کوئی مذاق کرتا ہے “
ماں کیا ہو گیا ہے ریجیکٹ کر گئ ہے آپکے بیٹے کو منہ پر اپ رو رو کر یہ غم منا رہی ہیں کہ مذاق کیوں کیا میں نے ” جو بات دماغ میں پھنس گئ تھی وہ اتنی آرام سے جہان عالم کے دماغ سے نکل جاتی نا ممکنات میں سے تھا
وہ سامنے والے کو ذلیل و خوار کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا تھا اور یہاں تو پورے گھر کے سامنے انکار کرنے کی اسکی جرت پر ابھی وہ دنگ تھا ۔
سو بار اب تک مالا کا نام دانتوں میں رگڑ چکا تھا وہ دیکھ جاتی تو اسکا کیا حال کرتا
اسکی تو میں اس حرکت پر لاتیں توڑ دوں گی اسکی اتنی جرت کے میرے شہزادے جیسے بیٹے کو انکار کرے “
ہم میں بھی یہ ہی چاہتا ہوں توڑ دیں اسکی ٹانگیں ورنہ میں واقعی اس سے شادی کر کے اسے چلنے قابل بھی نہیں چھوڑو گا ” وہ بے باکی سے کہہ کر وہاں سے نکل گیا ۔
منہ پھٹ کر دیا ہے اسکو تمھارے بے جا لاڈ پیار نے ” ریاض کو اسکی بکواس پر غصہ آیا
اپ تو چپ کریں جانتی ہوں اسے میں ایک بار پڑ گیا کسی کے پیچھے تو چھوڑے گا نہیں یہ مالا نامہ نکال کیوں نہیں دیتے آپ لوگوں اس گھر سے ” نگین اسپر غصہ کرنے لگی
محترمہ یہ تمھارے بیٹے کے ذہن کا فتور ہے وہ بچی تو دیکھا گئ کہ وہ تمھارے بیٹے سے شادی کرنے کی روادار نہیں ہے ” سر جھٹک کر بولتے وہ باتھروم میں چلے گئے جبکہ جہان فریش ہونے چلا گیا
متواتر اسکے اغ مین مالا کا انکار گھوم رہا تھا
اسنے سائیڈ لیمپ کو اٹھا کر پھینک دیا
کچھ دیر اس ٹوٹے ہوئے لیمپ کو دیکھ کر وہ باہر نکلا تو بخت اپنی گاڑی میں سوار ہو رہا تھا جہان کو دیکھ کر اسکی گاڑی میں گھس گیا
تم کیوں چسکے لینے پہنچ گئے ہو ” جہان نے گاگلز لگائے
پہلے یہ بتا مالا کو واقعی پسند کرتا ہے ” بخت کو یقین نہیں ا رہا تھا
تمھیں کیا لگتا ہے ” جہان نے ایک انگلی سے اپنے گاگلز کو نیچے کر کے انکھوں کو دلکش جنبش دیتے پوچھا
صبح لگ گیا جیسے تم اسکی طرف دیکھ رہے تھے جیسے وہ ہاں کہہ دے گی تو تم سر دھڑ کی بازی لگا دو گے اسے پانے کو ” بخت کے ابزرویشن پر جہان کے لب اپنے اپ سکڑ گئے جبکہ وہ کبھی لاجواب ہوا ہی نہیں تھا ۔۔۔ اسنے سر جھٹکا
مالا میری ٹائیپ نہیں ہے مجھے بولڈ ہاٹ لڑکیاں پسند ہیں “
یہی تو چاچو کو سمجھا رہا تھا تمھاری ٹائیپ مالا نہیں اب ٹھیک ہے ” وہ مطمئین ہو گیا
جہان بھی مزید نہیں بولا البتہ سٹیرنگ پر گرفت سی بن گئ
سموک کرو گے ” جہان نے افر دی تو بخت ہنس دیا ڈیش بورڈ کھول کر سیگریٹ اٹھائی اور جلا کر ایک اسے تھما دی ایک خود لگا لی ۔۔
ویسے تمھارے مزاج کو میرال بھی فٹ ہوتی ہے اگر چاچو کو اچھی نہ لگتی وہ ” بخت تجزیہ کرنے لگا
دل کر رہا ہے اس بات پر تیرے ناک میں سیگریٹ ٹھونس دوں ” وہ ترچھی نگاہ اسپر ڈالتا بولا
یہ تو اپنی محبوبہ سے بات کیوں نہیں کرتا ” جہان نے بات گول کی
آج کل مارکیٹ میں محبوباؤں کا ریٹ بڑھ گیا ہے تیری نہ ہونے کے باوجود تیرے منہ پر انکار کر گئ میری محبت کر کے بھی ایسے سہمی ہوئی ہے جیسے جرم عظیم کر دیا ہو “
بخت نے قہقہہ لگایا جہان کے ذہن پر مزید یہ بات نقش چھوڑ رہی تھی وہ مسکرایا
اسکا کزن پرفیکٹ ہے ” جہان بھی جہان تھا چٹکی ایسی بھری بخت سنجیدہ ہو گیا
لیکن بخت نہیں ہے ” وہ انکھوں کو گھما کر بولا
جہان سر ہلا گیا اور دونوں باتیں کرتے کرتے آفس پہنچ گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نگین ” نگین تو صبح سے سر باندھے پڑی تھی افیہ اسکے کمرے میں آئی
میں کہہ رہی تھی یہ عینہ کے ہاں چل لو میرے ساتھ “
نہیں بھابھی طبعیت اچھی نہیں میری ” وہ روئی روئی بولی
ارے نگین تم بھی کیا بچے کے ذرا سے مذاق کو دل پر لے گئ ہو جہان کی عادت کا پتہ تو ہے تمھیں لیکن اس لڑکی کی جرت تو دیکھو منہ پر انکار کر گئ “
ہاں اسکو تو جان سے مار دوں گی میں ” وہ چلائی
تو افیہ نے اسے پانی دیا ۔
اچھا دماغ ٹھنڈا کرو مالا کون سا کہیں جا رہی ہے ابھی عینہ کے گھر چل لو وہ عجیب مصیبت گلے کو ا لگی ہے “
کہہ کر وہ اٹھ گئ نگین نے کافی تردد کیا لیکن بے سود وہ اسے اٹھا چکی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد دونوں عینہ کے گھر کے لیے نکل گئیں
ایک مٹھائی کا ڈبہ لے کر بس وہ دونوں شادی کی تاریخ لینے آئیں تھیں
عینہ کو میرال کے گھر میں پڑے مٹھائیوں کے ڈبے اور شگن کی چیزیں یاد ا گئیں
اسکی ماں نے تو پھر بھی ان لوگوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا کہ وہ انکی امارت سے مرعوب ہو گئ تھی لیکن عینہ کا دل عجیب گھٹ سا گیا تھا
وہ ان لوگوں کے سامنے بیٹھی تھی لیکن زبان سے ایک لفظ کی ادائیگی نہ کر سکی نہ ہی چہرے پر خوشی کا احساس تھا عجیب ذلت آمیز ان لوگوں کا رویہ ہوتا تھا اور جب میرال کی تاریخ لینے گئے تھے تو گھر کے سب لوگ تھے اور یہاں پر صرف وہ دونوں ۔۔۔
اسکی ماں نے کتنی کی کوشش کی کہ وہ دونوں کچھ کھا لیں مگر وہ دونوں بس تاریخ ڈئسائیڈ کرنے آئیں تھیں بس ٹھیک ہے میرال کے ولیمے کے بعد کر لیں گے ” افیہ نے کہا اور کھڑی ہو گئ
بہن آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں اپ کچھ تو لیں ” اسکی ماں اٹھی عینہ کی نکلیں بھیگ گئیں ان لوگوں کے رویے دیکھ کر
اسکی ضرورت نہیں ” نگین نے ہاتھ اٹھا کر کہا اور عینہ نے اٹھ کر اپنی ماں کو روک لیا
مما کچھ نہیں ہوتا اپ کسی کو کتنی محبت دیکھا لیں لیکن بلاوجہ کی نفرت کو ختم نہیں کر سکتے ۔۔۔ رہنے دیں ” وہ اہستگی سے بولی تھی ۔
اور اتنا بولنے میں بھی ایسا لگا تھا کہ وہ اپنے جسم کی ساری توانائی صرف کر چکی ہے ۔۔
” اے لڑکی زبان سنبھال کر رہو ” ہونے والی ساس کے متعلق یوں بات کرتے تمھیں شرم نہیں ا رہی ” نگین غصے سے بولی عینہ خاموش سی رہ گئ ۔
میرا مقصد اپکا ہرٹ کرنا نہیں تھا ” وہ افیہ کو غصے میں دیکھ کر بولی
ارے جاؤ زبان دراز کہیں کی یہ آوارہ لڑکیوں کی تو زبان ہی دس گز کی ہوتی ہے ” نگین کو پہلے ہی شدید غصہ تھا مالا پر اور وہ اسنے عینہ پر اتار دیا ۔
یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں اپ میری بیٹی کے بارے میں ” عینہ کی والدہ بھیگے لہجے میں بولیں
جیسی تمھاری اولاد ہے ویسی ہی بات کر رہی ہے اپنی اولاد پر پٹہ ڈالا ہوتا تو آج یہ باتیں نہ سننی پڑتی ہممم میسنی ماں کی میسنی اولاد شکلیں تو دیکھو انکی کتنی معصوم ہیں ” افیہ بھی بولی
جائیں اپ یہاں سے نہیں کرنا مجھے اپنی بیٹی کا رشتہ ” وہ بولیں اوور عینہ کو سینے سے لگا لیا جس کی انکھ سے متواتر انسو بہہ رہے تھے
ارے بہت شکریہ بی بی تمھارا ہمیں کون سا دلچسپی ہے تمھاری اس آوارہ بیٹی میں ہم نہیں تو کوئی اور عاشق ا جائے گا اسکا ” کہہ کر دونوں باہر نکل گئیں ۔
جبکہ عینہ کو لگا آج زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سے دھنس جائے ۔
اسکی ماں کے آنسو اسکی شرمندگی کو بڑھا گئے تھے وہ انکی گود میں سر رکھے بیٹھی رہی
یہ کیا کیا ہے عینہ تم نے ” انکے الفاظ اسکے دل میں اتر گئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخت کو چین ہی نہیں تھا افیہ اور نگین کے لوٹتے ہی بخت کا فون ا گیا ۔
امی اپ نے تاریخ طے کر لی “
ہاں میری جان شگن کا سامان مٹھائیوں کے ٹوکرے بہت کچھ لے کر گئ تھی اور تاریخ تمھارے چاچو کے ولیمے کے بعد کی طے کی ہے “
بخت کو لگا یہ خواب ہے یا شاید کوئی معجزہ جو پورا ہونے کے اتنا قریب ہے
تھینکیو مما تھینکیو سو مچ ” وہ بہت ایکساٹیڈ سا لگا اور افیہ نے فون بند کر دیا
نگین نے افیہ کی جانب دیکھا
کیا ہو گیا اپکو بتاتے اسکو کتنی بدتمیزی کی ہے اس لڑکی نے “
نہیں نگین شادی تو میرا بیٹا اسی کم بخت سے کرے گا تو میں کیوں اسکی شکایتیں لگاو دفعہ کرو اوقات تو یاد دلا ہی دی ہم نے ۔۔۔۔
لیکن بھابھی وہ تو انکار کر چکے ہیں “
انکی اتنی حیثیت ہے میرے بیٹے کو انکار کریں ” افیہ نے کہا تو نگین سر ہلا گئ اور بیٹھ گئ
حنین کہاں چلی گئ ہے “
میرے خیال سے کالج گئ ہو گی ” افیہ مصروف سی بولیں تو نگین نے کچن میں جھانکا مالا دیکھائی نہیں دی تھی
ہممم ایک بار تم آ جاؤ تمھاری تو جان میں نکالتی ہوں ” انتقامی نظروں سے وہ داخلی دروازے کی سمت دیکھ رہی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں شادی کی شاپینگز شروع ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔
حنین شادی کی وجہ سے کالج بھی نہیں جا پا رہی تھی جبکہ وہ جانا چاہتی تھی لیکن جب وہ جانے کی کرتی تبھی افیہ ٹوک دیتی کہ سمر کیمپ جوائن کرنا اتنا بھی ضروری نہیں ہے اور اسی بنا پر وہ جا ہی نہیں پاتی تھی ۔
میرال کے گھر آنا جانا اسے لے کر کپڑوں کی شاپینگز ان سب چیزوں میں دن پر لگا کر اڑ رہے تھے
عینہ سے بخت کا رابطہ بلکل ختم ہو چکا تھا
وہ بار بار کوشش کر رہا تھا لیکن وہ کوئی ریسپونس نہیں دے رہی تھی
امی عینہ کے کپڑے تو کسی نے نہیں خریدے ” میرال کے بے شمار ڈریسز دیکھ کر وہ بولا تو افیہ کا منہ کڑوا سا ہو گیا لیکن خود کو سنبھال کر وہ ہلکے سے مسکرائی
سوچ رہی ہوں کہ تم عینہ حنین اور جہان سارے بچے مل کر چلے جاؤ عینہ کی شاپنگ کرا لاؤ “
واٹ رئیلی ” وہ ایکدم کھڑا ہو گیا
واہ بھائی آپکی بے تابی ” حنین منہ پر ہاتھ رکھے ہنس دی جبکہ بخت بالوں میں ہاتھ پھیر گیا
یہ سنہری موقعے ہوتے ہیں ایسے کیسے ہاتھ سے جانے دوں چلو چلتے ہیں ” وہ فورا گاڑی کی چابی جیب سے نکالتا بولا ۔
مجھے کہیں نہیں جانا ” جہان کہہ کر ان سب کے بیچ سے اٹھ گیا
چلے جاؤ ویسے بھی آج کل تم پر کام کا برڈن ہے کچھ ریلکس ہو جائے گا مائنڈ ” صارم بولا تو جہان نے سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھا
مجھے کباب میں ہڈی نہیں بننا چاچو “
بہت سمجھ دار ہے میرا بھائی ” بخت ہنسا
ادھر آ مالا ” افیہ کی پکار پر مالا جلدی سے اسکے پاس ا گئ نگین سمیت جہان کو بھی ان کچھ دنوں میں مالا سے مخاطب ہونے کا وقت نہیں ملا تھا ۔
جہان نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا
یہ سامان اٹھا کر اندر لے جا اور گجرے پھول دیے تھے تجھے کہاں رکھے ہیں “
سنبھال کر رکھ دیے ممانی میں نے ” وہ سر جھکا مدھم لہجے میں بولی
اچھا ٹھیک ہے ذرا دودھ ہلدی لا دے ایڑیاں ہی دکھ گئ ہیں میری تو “
افیہ تھکی تھکی سی بولی جبکہ مالا سر ہلا کر جانے لگی
امی مالا کے لیے بھی کوئی ڈریس نہیں آیا کیا ہم اسے لے جائیں ” افیہ اور نگین کے تو تن بدن میں آگ ہی لگ گئ
بہت کپڑے ہیں اسے دے دو گی اپنے پاس سے جاؤ بیٹا تم اپنی شاپینگ کرو ” نگین نے تحمل سے جواب دیا
نہیں جب سب نئے لے رہے ہیں تو اسے بھی نئے ہی پہننے دیں مالا “
سنجیدگی سے کہہ کر صارم نے آواز لگائی اور اپنی جیب سے کچھ پیسے نکالے مالا دوڑ کر آئی تھی ان سب کی ایک آواز پر وہ یوں ہی حاضر ہو جاتی تھی
جی ماموں ” یہ پیسے لو اور ان لوگوں کے ساتھ چلی جاؤ کچھ کپڑے لے لینا “
صارم تم کیوں اسے سر پر چڑھا رہے ہو ” افیہ نے کہا
جی ماموں ممانی ٹھیک کہہ رہی ہیں میری ضرورت نہیں ہے “
تم سے بولنے کے لیے نہیں کہا جتنا کہا ہے اتنا کرو ” صارم کے سختی سے کہنے پر وہ ذرا ڈر کر پیسے پکڑ گئ جبکہ افیہ اور نگین کا خوف اسے کپکپا رہا تھا
اچھا اب چلو بھی مالا کیا ہو گیا ہے ” حنین نے مالا کو پکڑا
اپ لوگ جائیں میں “
ہر بات پر انکار کرتی ہو ویسے مالا تم ” حنین بھی برا مان گئ
کچھ لوگوں کو انکار کی عادت ہوتی ہے ایسے لوگوں کو اپنے انجام پر توجہ دینی چاہیے اینی ویز باہر ویٹ کر رہا ہوں آ جاؤ ” کہہ کر جہان باہر نکل گیا نگین ایکدم کھڑی ہو گئ بخت بھی نکل گیا جبکہ حنین نے زبردستی مالا کو کھینچ لیا ۔
میں ممانی کو دودھ ہلدی تو دے دیتی ” وہ حنین سے ہاتھ چھڑانے لگی
اچھا جلدی کرو اب ” حنین نے ہاتھ چھوڑا اور مالا اندر گئ صارم بھی اٹھ گیا تھا ۔
نگین نے ایکدم اسکے بازو پکڑ لیے
جا تو تو رہی ہے اگر جہان کے اردگرد بھی پٹخی تو تیرے ٹکڑے کر دوں گی ویسے ہی بہت زہر لگتی رہی ہے مجھے تو اور یہ یہ پیسے دے مجھے “
نگین نے پیسے کھینچ لیے مالا نے تھوک نکلا
نہ تیرے پاس پیسے ہوں گے نہ ہی تو گلچھرے اڑائے گی جا اب ” اسنے اسے دھکیل دیا اور مالا اپنے انسو کو اندر اتارا گئ ۔
اسکی خوبصورت انکھوں میں سرخی تھی جبکہ نگاہ جھکی ہوئی تھی
میں عینہ کو لینے جا رہا ہوں ” بخت نے گاڑی میں سوار ہوتے کہا
میں بھی چلوں پلیز پلیز بھائی
حنین نے بخت کے سامنے منت سماجت کی
اچھا ٹھیک ہے ویسے بھی میرے کہنے پر تو محترمہ آئیں گی نہیں فون تک تو اٹھا نہیں رہیں ” بخت گھیرہ سانس بھر کر بیٹھ گیا
مالا ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی جہان خاموشی سے گاڑی میں سوار ہوا
مالا تم جہان بھیو کے ساتھ ا جاؤ ” حنین نے بولا اور بخت اگے گاڑی بڑھا گیا
ن۔۔۔نہیں مجھے نہیں جانا ” وہ منمنائی اور نگاہ ایکدم گاڑی کے شیشے پر گئ تو ۔
جہان کی سرخ نگاہیں ماتھے پر تیوری دیکھ کر تھوک حلق میں نگل گئ اسنے دروازہ دوسری سیٹ کا کھول دیا ۔
وہ کہنا چاہتی تھی وہ نہیں جانا چاہتی اسنے مڑ کر دیکھا کوئی نہیں تھا
میں باہر آیا تو تم اندر نہیں اوپر جاؤ گی ” مالا کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا تبھی اسے نہ چاہتے ہوئے بھی گاڑی میں بیٹھنا پڑا ۔۔۔
اور وہ جیسے ہی بیٹھی جہان نے اسکی سمت دیکھا ۔۔۔
پیسے کہاں ہیں جو چاچو نے دیے ہیں “
اسکے سول پر مالا نے حیرانگی نے اسے دیکھا
جی “
جی کی بچی پیسے کہاں ہیں ” وہ گھور کر بولا
وہ تو ممانی نے لے لیے “
ہمم تو لے کر آؤ جاؤ ” وہ گاڑی کو دوبارہ بند کر گیا
مجھے نہیں لینے “
ایک گھما کر تھپڑ مارو گا ” وہ اسکی جانب رخ کر کے بیٹھ گیا
مالا نے گاڑی کا دروازہ کھولنا چاہا لیکن دروازہ لاک تھا
ٹھیک ہے تمھارے سے زیادہ تو ڈھیٹ بھی کوئی نہیں میں پے کر اتا ہوں اور کہوں گا مالا نے شکایت لگای ہے اپ نے اسکے پیسے لے لیے “
ساونڈ پرفیکٹ ” وہ مسکرایا اور فورا گاڑی سے نکل گیا
جان پلیز نہیں ” مالا سہمی سہمی نظروں سے اسے دیکھنے لگی اور جہان کے قدم رک گئے
پ۔۔۔۔پلیز ” وہ رو دی دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھتی ۔۔۔۔
وہ سر جھٹک کر گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی اگے بڑھا لی اسکے بعد مالا کی سوں سوں کی آوازوں نے اسکا دماغ پورے راستے خراب رکھا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔
جاری ہے
