307.4K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Kitabon Wala Ishq) Episode 2

جہان مالا کے پاس سے نکل کر صارم کے سسرال ا گیا تھا
جہاں اسنے حنین کے موبائل مانگنے پر اسکے سر پر چپت لگائی
میں بھول گیا لانا گھر جا کر استعمال کر لینا ” وہ بولا تو حنین نے منہ بسورا
دوسری طرف صارم کی منگیتر میرال جہان کو ہی دیکھ رہی تھی
یہ اپکا بیٹا ہے ” میرال کی ماں کے سوال پر نگین فخر سے سر ہلا گئ
جہان نے سر اٹھا کر میرال کو دیکھا اور پھر موبائل استعمال کرنے لگا ۔
یہ صارم کے رشتے میں بھتیجے ہیں خیر اپ آئیے گا ہمارے گھر اپ لوگوں سے اور خاص کر میرال سے مل کر بہت اچھا لگا ” نگین اور افیہ دونوں اٹھیں اور حنین بھی کھڑی ہو گئ
ہمیں بھی بہت اچھا لگا ہم ضرور آئیں گے “
جی بلکل ” وہ مسکرا کر بولے اور جہان شکر ادا کرتا وہاں سے سب سے پہلے اٹھ گیا وہ گاڑی میں آ بیٹھا کچھ دیر بعد اسنے ان تینوں کو گھر پر چھوڑا اور باہر سے ہی آفس کے لیے نکل گیا
جبکہ دوسری طرف وہ لوگ جب گھر آئے تو مالا کو کچن میں دیکھ کر مطمئین ہوئے
یار مالا میں تو پریشان تھی معلوم نہیں سکینہ کیسے کھانا بنائے تھینکیو سووووو مچ تم کھانا بنا رہی ہو اچھا تمھارا ہاتھ کیسا ہے میں نے دیکھا تھا تم سو رہی تھی “
حنین یہ یہ ذکر مت کرو پلیز ” وہ ڈری سہمی سی بولی
کیا ہو گیا مالا “
وہ وہ جہان ۔۔ جہان بھائی نے دیکھ لیا مجھے انھوں نے میری ویڈیو بنا لی ہے وہ کہتے ہیں ممانی کو دیکھائیں گے ” وہ بےساختہ رو پڑی
ہائے مالا “
یہ کیا کیا تم نے تمھیں لاک کر لینا چاہیے تھا تمھیں پتہ تو ہے جہان بھائی کتنے اتھرے ہیں مجال ہے کسی کے قابو میں آ جائیں اب تم ذرا انکے کام کو انکار کرو گی تو وہ تمھیں بلیک میل کریں گے ” حنین نے تو اسے مزید ڈرا دیا
مالا کی حالت ایسی تھی ابھی قدموں تلے جان نکل جائے گی
میں کیا کروں حنین “
تم فکر نہ کرو میں کوشش کرو گی کہ تمھاری ویڈیو ڈیلیٹ کر دوں “
تم سچ کہہ رہی ہو ” اسنے انسو صاف کیے
ہاں ” حنین مسکرائی۔تو مالا مطمئین ہو گئ اور کھانا بنانے لگی
مالا مر گئ ہو پانی وغیرہ پوچھنے کی تمیز نہیں تمھیں ” نگین غصے سے بولی تو وہ گلاس لے ائی اور ان تینوں کو پانی دیا
جہان بھائی کے موبائل میں لی ہے میں نے چاچو کی منگیتر کی تصویر وہ آئیں گے نہ تمھیں دیکھاؤ گی ” حنین بولی جبکہ مالا ہلکا سا مسکرائی
جاؤ کھانا بناؤ کیا کھڑی کھڑی دانت نکال رہی ہو ” افیہ نے بھی جھڑکا تو وہ جھجھک کر وہاں سے چلی گئ
کم بولا کرو اس سے ” افیہ نے بیٹی کو ٹوکا
امی کیا ہو گیا ہے اتنی تو ڈری سہمی رہتی ہے مالا اور بھئی میری اس سے کوئی دشمنی نہیں ہے تو میں اسکو ڈانٹ نہیں سکتی باقی اپ لوگوں کی جو مرضی “
دیکھو کیسے کھینچی کیطرح زبان چل رہی ہے اسکی ” افیہ غصے سے بولی تو نگین نے ہاتھ دبا دیا
چھوڑیں بچی ہے اپ بتائیں بخت والا مسلہ حل ہوا ۔
کیا بتاؤ نگین باپ سے الجھا ہوا ہے اب بتاو ذرا اسطرح شادیاں ہوں گی کبھی نہیں مانیں گے وجدان تمھیں تو خبر ہے کتنے اصولوں کے پابند ہیں “
ہاں یہ تو فکر کی بات ہے ” نگین افسردگی سے بولی
وجدان کہہ رہے تھے پھوپھو سے بات کریں گے تو دانین کا رشتہ کرا دیں گے اچھا ہے دماغ ادھر ادھر لگے گا اسکا “
اچھی بات ہے دانین بڑی پیاری بچی ہے “
تم نے جہان کے لیے کوئی سوچی ہے “
ارے نہیں ابھی نہیں میں اپنے جہان کی شادی پریوں جیسی لڑکی سے کروں گی بھابھی اج تک کوئی جہان کے مقابلے کی دیکھی ہی نہیں
اتنا اونچا لمبا خوبرو جوان ہے میرا بیٹا اور دیکھا تھا کیسے دیکھ رہی تھی میرال کی ماں جہان کو ۔۔۔۔
ارے میرال بھی دیکھ رہی تھی مجھے تو ہنسی ا رہی تھی لیکن میں نے سوچا جب صارم کو دیکھے گی تو بھی دیکھتی رہ جائے گی ماشاءاللہ اللّٰہ نظر بد سے بچائے ۔۔۔ حسن تو ان سب کو اپنے باپوں سے ملا ہے ” افیہ ہنسی تو نگین بھی سر ہلا کر ہنس دی
بہت ہی بھوک لگ رہی ہے اور یہ کام چور لڑکی کوئی کام وقت پر نہیں کرتی ” نگین اٹھی اور کچن میں آ گئی جہاں وہ جلدی جلدی مختلف چیزیں بنا رہی تھی اسے عادت تھی وہ اکیلے ہی سارا کام بنا نکھرا کیے کر لیتی تھی ۔
کہا بنا رہی ہو تم ” افیہ بھی کچن میں ا گئ
ممانی پلاؤ بنایا ہے سبزیوں والا کل ماموں جان نے ذکر کیا تھا تو اسی لیے اور چھوٹے گوشت میں کڑاہی بنائی ہے ساتھ کباب ہیں ایک چکن کا سالن بنایا ہے اور اور وہ چھوٹے ماموں جان نے کہا تھا وہ سبزی کھائیں گے تو سبزی بھی بنا دی ہے
میٹھے میں ٹرائفل بنایا یے وہ فریز ہے وہ سارا منیو بتا کر کچھ مطمئین سی ہوئی کہ شکر تھا ان دونوں کو کوئی اختلاف نہیں تھا ورنہ فورا ڈانٹ دیتیں
تم نے جہان کے لیے کچھ نہیں بنایا ” نگین نے اسے گھور کر دیکھا
وہ میں مجھے جہان بھائی ” وہ بے دھیانی میں بول گئ جبکہ نگین کے گھورنے پر وہ سنبھلی
بھائی نے بتایا نہیں تھا اپ بتائیں دیں میں بنا دوں گی ” وہ سر جھکائے بولی
ہاں روسٹ بنا دو اور تھوڑا بھنا ہوا گوشت بنا دینا بکرے کا بھنا ہوا تمھیں پتہ ہے وہ کیسا کھاتا ہے ” وہ اسے مزید دو ڈیشز کا کہہ کر دونوں باہر نکل گئ جبکہ مالا نے فریج سے چکن نکال لیا ۔
مالا باجی ” سکینہ کو بے ساختہ اسپر ترس آیا
ہمم ” وہ مصروف سی بولی
اپ نے ناشتہ کیا ہے “
اوہ ہاں میں تو بھول ہی گئ ” وہ پھیکا سا ہنسنی
آپ بیٹھیں مین اپکو دودھ دے دیتی ہوں “
سکینہ نے کہا تو مالا کو واقعی محسوس ہوا اسے کچھ کھانا چاہیے
وہ چئیر پر بیٹھ کر دوپٹے سے اپنی پیشانی پر سے پسینہ صاف کرنے لگی اور سکینہ نے اسے دودھ دیا تو وہ ایک سانس میں پی گئ ۔
جلدی سے پی لیں باجی “
ہمم تھینکیو سکینہ ” وہ پی کر بولی جسم میں جان سی آئی تھی تو وہ جہان کے لیے کھانا بنانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت ہی پیاری ہے میرال میں تو کہتی ہوں کل ہی وہ ہم سے ملنے آئیں اور رشتہ فائنل ہو تو سیدھا شادی کی تاریخ رکھیں گے بس “
اس وقت سب گھر میں موجود تھے کھانے سے پہلے وہ سیٹنگ روم میں تھے
اور سب کو دونوں بتا رہیں تھیں میرال کیسی ہے ۔
بس ٹھیک ہے اور سب کو پسند ہے تو فائنل کر دو ” صارم نے البتہ کچھ خاص توجہ نہیں دی تھی
صارم بھی تو کچھ بولو “
لگتا ہے لڈو اتنے پھوٹ رہے ہیں چاچو زبان سے ادا نہیں کر پا رہے وہ کہہ رہے ہیں خواتین و حضرات مجھ سے نہ پوچھو چٹ منگنی پٹ بیاہ کرو “
جہان نے موبائل پر سے سر اٹھایا اور بولا تو صارم نے اسے گھورا
مجھے شادی کی کوئی جلدی نہیں پڑی اگر تمہیں اتنا ہی شوق ہے تو خود کر لو “
ارے ابھی میری کہاں عمر ہے اس شادی وادی کی ” وہ سر جھٹک گیا
کیوں اٹھائیس سال کے ہو گئے ہو کب کرنی ہے تم نے شادی ” صارم نے صوفے پر بازو پھیلایا
جب کوئی اپسرا انکھون میں اتر آئے گی ” وہ ایکشن مارتا بولا جبکہ سب مسکرا دیے ۔۔۔۔۔
وجدان نے بخت کی طرف دیکھا جو کہ موبائل میں لگا ہوا تھا
بخت ” وہ ذرا سختی سے بولے اسنے سر اٹھایا
فیملی بیٹھی ہے تم کس سے باتوں میں لگے ہوئے ہو “
کسی سے نہیں بولیں اپ ” وہ سنجیدگی سے بولا
اور تبھی مالا نے آ کر سب کو کھانے کا کہہ دیا کیونکہ ٹیبل پر وہ کھانا لگا چکی تھی
سب اٹھ کر کھانا کھانے چلے گئے جبکہ جہان سب سے اینڈ میں اٹھا مالا بھی جلدی سے نکلنے لگی کہ جہان اسکے قدم سے قدم ملا گیا
مجھے ایک گانا یاد آتا ہے تمھیں دیکھ کر سنو گی ” اسنے سیٹنگ روم کا دروازہ بڑے دھڑلے سے بند کر دیا
ن۔۔نہیں یہ دروازہ باہر سب “
یہ جو تم میری باتوں پر انکار کرتی ہو نہ مجھے مزید غصہ دلاتی ہو اور سخت زہر لگتی ہو چلو ایک کام کرتے ہیں میں اماں کے پاس وہ ویڈیو سینڈ کر دیتا ہوں ” اسنے موبائل نکالا
نہیں نہیں جہان بھائی وہ ۔۔ وہ غصہ کریں گی پلیز نہ کریں “
مالا کی جان نکلی تھی
ویری گڈ تو گانا سنو گی “
جی ” وہ سر جھکائے بولی
ہاں تو” وہ اٹھا اور عین اسکے پاس جا کھڑا ہوا ۔
مالا پیچھے ہٹی وہ اپنی انگلیاں موڑ رہی تھی جبکہ اسکے چہرے کے پھیکے رنگ جہان کو مزاہ دے رہے تھے
” ارے کب تک جوانی چھپاؤ گی رانی
کنواروں کو کتنا ستاؤ گی رانی
کبھی تو کسی کی دلہنیا بنو گی ” مالا حق و دق اسے دیکھ رہی تھی
جبکہ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے کھڑا تھا
مجھ سے شادی کرو گی ” وہ گنگنایا نہیں تھا سنجیدگی سے پوچھا تھا
مالا کی ریڑھ کی ہڈی تک سنسناہٹ دوڑ گئ
اسے لگا اسکی زبان میں ہمت نہیں اسکے اس سوال کے جواب کی ۔۔۔
مالا ” اچانک ایک چنگھاڑتی ہوئی آواز آئی اور دھاڑا سے دروازہ کھلا
جہان کو بلکل بھی فرق نہیں پڑا کہ اسکی ماں ا چکی ہے جو ان دونوں کو وہاں کھڑا دیکھ کر حیران ہوئی
تم یہاں کیا کر رہی وہ ” وہ کھانے کو دوڑی
وہ وہ میں نہیں ۔۔۔ جہان بھائی نے روکا تھا میں تو نہیں “
کیا ہو گیا مالا تم نے ہی تو کہا ہے کہ جہان بھائی مجھے چاکلیٹس کھانی ہیں ” وہ سکون سے بولا مالا کی پیشانی پسینے سے تر ہو گئ
تمھاری اتنی جرت ” نگین پاگل سی ہوتی ہاتھ بلند کر گئ
ارے اماں کیا ہو گیا چل کریں ہمارے گھر کا فرد ہے کوئی فرمائش کر بھی دی تو کیا ہو گیا “
اسکا میں منہ توڑ دوں گی یہ بہت تمھارے ساتھ فری ہونے لگ گئ ہے ” نگین کا بس نہیں چلا رہا تھا اسکے ٹکڑے کر دے
اچھا آپ چلیں کچھ نہیں ہوتا ” وہ ماں کو جانے کا بول گیا
مالا کی انکھوں میں انسو ا گئے
جواب وقت پر دینا تھا نہ ” ہلکا سا مسکرا کر ایک آنکھ دباتا وہ اسے بتا گیا تھا کہ اسنے یہ کیوں کیا
اور ماں کو پکڑ کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
مالا کی آنکھوں سے انسو مسلسل بہہ رہے تھے وہ کھانے کی ٹیبل پر جانے کے بجائے اپنے پورشن میں آ گئ
وہ وہاں آئی تو اسکے ابو چارپائی پر لیٹے تھے
ا گئ ہو مالا کھانا لائی ہو ” مالا انکے سوال پر انکا بازو تھام گئ
ابو اپکو بھوک لگی تھی اپ مجھے آواز دے دیتے ” وہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولی
ارے پگلی اس میں رو دینے کی کیا بات ہے مجھے لگا تو ائے گی آتے ہوئے کھانا لائے گی بس اس لیے پوچھ لیا “
میں لے آتی ہوں ” وہ اٹھی اور جلدی سے دوڑتی ہوئے وہاں سے نکلی
اور سیدھا پچھلے دروازے سے کچن میں چلی گئ
اسنے ٹرے میں کھانا نکالا اور ٹرے ابھی وہ لے کر جاتی کہ نگین نے وہ ٹرے پکڑ لی اگر تم اپنے باپ کے لیے یہ گنتی کے چند دانے بھی ختم کرنا چاہتی ہو تو جہان کے ارد گرد دیکھائی مت دینا مجھے ۔۔۔۔
تم تمھاری اتنی مجال میرے بیٹے سے فرمائشیں کرو “
ممانی جان مین نے نہیں کچھ کہا وہ جھوٹ بول رہے تھے ” وہ روتے ہوئے بولی
تو جھوٹی ہے تو پیدا ہی ہوئی تھی تب سے جھوٹی ہے بول تو جھوٹی ہے جلدی ” وہ بھڑکیں
میں سچ “
مالا جھوٹی ہے ” وہ پھنکاریں جبکہ مالا ہار مانتے سر ہلا گئ اور انھوں نے ٹرے چھوڑ دی
دفع ہو جاؤ اور اب یہاں دیکھائی نہیں دینا ” وہ چلی گئیں اور مالا نے جلدی جلدی انسو صاف کیے اور ٹرے اٹھا کر وہ اپنے ابو کے پاس ا گئ
بے دھیانی میں وہ بس ایک ہی بندے کا کھانا لائی تھی اور اسے اتنے لوازمات کھانے کی اجازت نہیں تھی افیہ ممانی نے کہا تھا وہ بس ایک ہانڈی میں سے کھانا نکالے گی اور وہ ابو کے لیے روٹی سالن لے کر ا گئ
اور خود تو اسنے بس دودھ کا گلاس لیا تھا ۔۔۔۔
اسنے اپنے ابو کو کھانا کھلایا انھیں فالج تھا وہ خود نہیں کھا سکتے تھے اور ٹرے رکھ دی اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ ۔
ایک نظر اسنے اپنے ماضی پر ڈالنا چاہی ۔۔۔
اسکے نانا کہ تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی
دو بیٹے وجدان اور ریاض بڑے تھے پھر کوثر اسکی ماں اور پھر صارم جو اپنے تینوں بہن بھائیوں سے کافی چھوٹا تھا
چھوٹے ماموں کی پیدائش پر ہی نانی کا انتقال ہو گیا تھا اور نانا کے انتقال کی وجہ اسکی ماں تھی
اسکے نانا شہر کے بہت معزز اور نامی گرامی انسان تھے
اور جب نامی گرامی اور معزز آدمیوں کی بیٹی گھر سے بھاگ جائے وہ بھی اپنے پرانے ملازم کے ساتھ تو عزت کی خاطر اس بیٹی کو زہر دے کر مارا جانا کوئی معیوب نہیں
کوثر تین راتیں اور تین دن گھر سے باہر رہی تھی اور جب وہ لوٹی تو ماں باپ اور بھائیوں نے بھی اس سے قطع تعلقی کر دی ۔
شہر میں یہ ہوا گرم ہونے لگی کہ مبین چوہدری کی بیٹی اپنے ملازم کے ساتھ بھاگ گئ
انکے نام پر جتنی کیچڑ اچھل رہی تھی اتنا ہی جنوں اسکے بھائیوں کو چڑھ رہا تھا
اور جب اسکی پریگنینسی کی خبر بھائیوں تک پہنچی تو غلاظت سمجھ کر انھوں نے اسے ساجد کے ساتھ نکال دیا
ساجد کے پاس کچھ نہیں تھا سوائے مبین خان کی نوکری کرنے کے وہ دونوں محبت ایک دوسرے سے کرتے تھے بہت شدید لیکن محبت پیٹ نہیں بھرتی
اور جبکہ مالا ہوئی تو اسکے دو سال بعد حالات اتنے خراب ہوئے ساجد کو فالج ہو گیا اور کوثر مبین خان کے پاس ا گئ مالا کو لے کر ۔۔۔
انھوں نے پہلے تو دھتکار دیا
نفرت کی لہر تھی ان سب کے اندر کوثر کے لیے بے پناہ انھوں نے اسے سرونٹ کوارٹر کا پورشن دے کر احسان تو کر دیا لیکن ساجد کی محتاجی نے سب تباہ کر دیا ۔
کوثر باپ کے گھر سے کھانا مانگ کر لاتی اور کھاتی تھی
مالا 8 سال کی ہوئی تو کوثر کا انتقال ہو گیا ۔۔۔ اور جیسے ہی کوثر کا انتقال ہوا ویسے مبین چوہدری کو ہارٹ اٹیک آیا اور وہ بھی انتقال کر گئے
اور اس وجہ سے مالا اس گھر میں سب کی نفرت کا باعث رہی اسکی دونوں ممانیاں اس سے شدید نفرت کرتی تھیں
ماموں دونوں بڑے تو بات کرنا بھی اپنی شان میں گستاخی سمجھتے جبکہ چھوٹے ماموں کبھی کبھی بول لیتے تھے ۔
بڑے ماموں کے دو بچے تھے بخت اور حنین بخت سے حنین کافی چھوٹی تھی
بخت نے کبھی اس سے بات نہیں کی تھی لیکن کبھی تنگ بھی نہیں کیا ۔۔۔ حنین بہت اچھی تھی وہ اسکا خیال رکھتی تھی ۔
جبکہ دوسرے ماموں ریاض انکے دو بیٹے تھے جہان عالم اور سعد
سعد اپنی سٹیڈی کے لیے باہر چلا گیا تھا اور پھر وہیں جاب سٹارٹ ہو گئ تو وہ یہاں اتنا آتا نہیں تھا سال میں ایک بار ملنے ا جاتا جبکہ ایک جہان عالم تھا معلوم نہیں اسے مالا سے کیا بیر تھا
وہ اسے ہر وقت تنگ کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا اسکو بلیک میل کرنے اور تنگ کرنے کے علاوہ اسکے پاس جیسے کوئی کام ہی نہیں تھا
مالا کو گھر بھی میں کسی سے اتنا خوف نہیں آتا تھا جتنا جہان سے محسوس ہوتا تھا
اکثر جب وہ چھوٹی ہوتی وہ اسے اندھیرے کمرے میں بند کر دیتا سیڑھیوں سے دھکا دے دیتا شاید اسے بھی اس سے بے پناہ نفرت تھی اور مالا کو بھی اس سے بہت ڈر لگتا تھا ۔
جبکہ سعد جب بھی آتا تو وہ حنین کیطرح اس سے اچھے سے ہی بات کرتا اور آج جو اسنے بات کی تھی وہ لاجواب ہو گئ
وہ جہان سے شادی ۔۔۔۔۔
یہ بات تو زندگی میں کبھی بھی نہیں سوچی اسنے نہ اسکی اتنی مجال ہوئی اور اور وہ مزید ڈر ڈر کر مرنا بھی تو نہیں چاہتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بخت میرا رشتہ ہو رہا ہے اپکو پتہ ہے بابا کو کتنی جلدی ہے “
کیسے رشتہ ہو جائے گا تو تمھارے باپ ک سر پھاڑ دوں گا “
میرے بابا ہیں اپ تمیز سے بھی بات کر سکتے ہیں ” وہ خفا خفا سی بولی
ٹوپی باز ” وہ چیڑ چیڑا سا ہو چکا تھا
میں کرتا ہوں ڈیڈ سے بات “
کیا وہ مان جائیں گے ” عینہ فکرمندی سے بولی
میں منا لوں گا ” وہ ہلکا سا مسکرایا جبکہ عینہ نے سر ہلایا اور
بخت نے کال کاٹ دی اسنے گھیرہ سانس بھرا اور مڑا جہان کھڑا تھا
ویسے تمھارے جیسا لوئر نہیں ہے کوئی دنیا میں ایک لڑکی سے محبت کرتے ہو سیدھا جاو اٹھا کر لے آؤ ” وہ اندر ایا اور اسکے کمرے میں رکھا فروٹ اٹھا کر کھانے لگا
میں کم نہیں ہوں جائیں گے تو ڈیڈ ہی جائیں گے ” بخت ضدی لہجے میں بولا
ویسے دانین بھی اچھی ہے ” وہ اسے چھیڑنے کو بولا بخت کا میٹر ہی گھوم گیا
تو کر لے شادی اس سے ۔۔۔
نہیں مجھے لمبے بال نہیں پسند ” وہ قہقہہ لگا اٹھا
یار کتنا بڑا کمینا ہے تو کوئی حل دینے کے بجائے بکواس کیے جا رہا ہے”
دیکھو میرے بھائی بخت کے تخت پر بیٹھے شہزادے ۔
اس گھر باہر کی لڑکیاں الاوڈ نہیں تو تم اسے باہر ہی رکھ لو ” اسنے زبردست مشورہ دیا تھا
تو اٹھ نکل یہاں سے ” وہ مٹھیاں بھینچ گیا
اچھا اچھا ٹھنڈی پا شہزادے کچھ سوچنے دے “
تو ایک کمرے کر دیوار میں ٹکر مار اور اوپر سے کود جا اور ایک خط لکھ جا میری موت کا ذمہ میرا باپ ہے ” بخت اسے ضبط سے دیکھ رہا تھا
اوکے سوری برو کیا ہو گیا
تو جا تایا جان سے بات کر اور کہہ دے اگر اپ نہ گئے میں اسے لے آؤ گا “
ہممم لگتا ہے اب کچھ ایسا ہی کرنا پڑے گا ” بخت کھڑا ہو گیا
ہاں تمھیں کسی بھی چیز کی بات کی ضرورت ہو تو بھائی کو “
آئی نو دیٹ یار تو میرے ساتھ ” بخت کا مصرہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ اسنے اپنی بات مکمل کی
یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے فارغ نہیں ہے جہان عالم جو دنیا کے رشتے کراتا پھیرے ” کہہ کر وہ باہر نکل گی جبکہ بخت نے اسکی کمر پر کشن مارا ۔
اس سے بڑا کمینا گھر میں کوئ بھی نہیں تھا وہ باہر نکلا اور وجدان کے کمرے میں ا گیا
اپ نے کیا سوچا ڈیڈ “
وہی جو بتایا چکا ہوں ” وہ اخبار پڑھ رہے تھے
دانین کی تصویر دیکھاؤ اسکو ” انھوں نے افیہ سے کہا جو دانین کی تصویر دیکھانے لگی بخت باپ کو ہی دیکھ رہا تھا ۔
اسنے ایک گھیرہ سانس بھرا
نکاح کر رہا ہوں میں اپ نے انا ہو تو آ جائیے گا ” کہہ کر وہ باہر نکل گیا
بخت ” وجدان دھاڑے تھے
جبکہ وہ سیدھا نیچے اتر گیا جہان سکون سے صوفے پر لیٹا اسے دیکھ رہا تھا
جیتا رہ میرے شیر ” اسنے آواز لگائی جبکہ پیچھے تایا جان کو دیکھ کر ایکدم سیدھا ہو گیا
جا کر اسے روکو اگر اسنے ایسی کوئی حرکت کی تو میں اسکی ٹانگیں توڑ دوں گا “
تایا جان اب اپ ٹانگیں توڑنے کا ہی نظام کر لیں کیونکہ وہ تو قابو نہیں آئے گا ” وہ سنجیدگی سے بولا جبکہ وجدان نے چپل نکال لی جہان ترنت بھاگا تھا باہر ۔۔۔۔
یہ سب تمھاری تربیت ہے ” وہ بیوی پر بھڑکے
اگر اپ مان بھی جائیں گے کیا ہو جائے گا ایک ہی بیٹا ہے اپکا ” افیہ بولی تو انھوں نے گھور کر اسے دیکھا
کیا ہو گیا بھائی کیوں چیخ رہے ہیں ” صارم بھی اپنے کمرے سے نکل آیا
گھامڑ آدمی گدھا باپ کے منہ کو آ رہا ہے ” وہ چلا رہے تھے جبکہ صارم نے گھیرہ سانس بھرا اور گھر سے نکل گیا
اسنے گھر سے باہر دیکھا ۔۔ بخت اور جہان اسے دور ہی نظر ا گئے تھے وہ بھی انکے نزدیک ا گیا
پیدل لڑکی بھگانی ہے تم نے ” صارم نے کہا تو جہان دل کھول کر ہنسا
اس پاگل کو یہ ہی سمجھا رہا ہوں بیوقوف رکشے میں نہیں بھگاتے لڑکی گاڑی میں چلتے ہیں ” صارم بھی ہنس دیا
تم دونوں ہنس لو میری جان پر بنی ہے “
واللہ یہ عاشقی ” جہان دل پر ہاتھ رکھ گیا
بات یہ ہے بخت میاں سیدھی طرح گھر چلو اور بھائی کو قائل کرو ہم کرتے ہیں بات “
صارم چاچو تمھارا بھائی پتھر سے زیادہ سخت ہے ” بخت تلملا کر بولا
ابے مان جائیں گے تم ایسے ہی فکر لے رہے ہو چلو گھر ” جہان نے بھی کہا اور دونوں اسے لے کر گھر آ گئے ۔
وجدان صوفے پر ہی بیٹھے تھے ۔۔۔
اسے دیکھ کر انکا بس نہیں چلا کوئی چیز زور سے اسکے منہ پر ماریں دیں۔۔۔۔۔
اپ کتنا ہی گھور لیں میری بیوی عینہ ہی بنے گی ” بخت نے کہا جبکہ وجدان نے اپنی چپل نکال لی ۔
کیا ہو گیا ہے بھائی اپکو ” صارم نے روکا
اسکا دماغ خراب ہو چکا ہے “
وہ چیخے کچھ نہیں ہوتا اگر خاندان کی رسم و رواج ٹوٹ جائیں گی کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں بخت کی خوشی کو مدنظر رکھنا چاہیے “
جی تایا جان جوان خون ہے کسی ٹرک ٹرالے کے نیچے ا گیا تو اپ تو بن بیاہی دولہن ہو جائیں گے “
کیا بکواس ہے یہ ” ریاض نے جھرکا تو وہ منہ دبا گیا
سوری میرا مطلب ایک ہی بیٹا وہ بھی اللّٰہ کو پیارا ہو جائے “
تم منہ بند رکھو بس اپنا ” باپ کے کہنے پر وہ چپ ہو گیا جبکہ صارم نے بھائی کیطرف دیکھا
بھائی سب کی اپنی چوائس ہے زمانہ اور دور بہت اگے نکل گیا ہے “
پھر تو تمھیں بھی پسند کی کرنی چاہیے جہان کو بھی سعد کو بھی “
ہاں میں تو پسند کی کروں گا ” جہان کی زبان تالو سے کہاں لگنی تھی
ریاض کے گھورنے پر وہ پھر خاموش ہو گیا
تو مار دو تم سب گھر کے بڑوں کو “
وہ کہہ تو رہا ہے رشتہ لے کر جائیں اپ ” افیہ بولی تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی تھی سب کو کہ افیہ راضی ہیں
پلیز ڈیڈ وہ بہت اچھی ہے انکی فیملی بہت اچھی ہے اپ پلیز سمجھیں میری بات کو “
وہ باپ کے خاموش ہونے پر اسکے سامنے بیٹھ گیا
بخت ایسی لڑکیاں کسی ایک کی نہیں ہوتی ” وجدان جھنجھلائے
مجھے پتہ ہے وہ میری ہی ہے ” بخت نے وثوق سے کہا
اسکے خوبرو چہرے میں شدت جذبات سے ہلکی ہلکی لالی سی بھر گئ تھی
وجدان صاحب میرا بیٹے کی خواہش ہے اور میں لازمی جاؤ گی “
افیہ نے اسکا چہرہ تھام لیا ۔
بخت باپ کو ہی دیکھ رہا تھا
جھنم میں جاو تم سب میری طرف سے ” وہ اٹھ کر وہاں سے چلے گئے
یس ” بخت ڈھٹائی سے خوش ہوا جبکہ افیہ نے نفی میں سر ہلایا وہ بچپن سے ہی اپنی ضد کا بے پناہ پکا تھا اور جو سوچ لیتا اسے کیے بنا سکون بھی نہ آتا
اب چاچو کے ساتھ بھتیجے کی بھی شادی ” نگین ہلکا سا ہنسی جبکہ سب ہی اسکے چہرے کی خوشی دیکھ کر کھل اٹھے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم پڑھنے نہیں گئے ” روحاب نے آنکھیں سکیڑی
خالہ تم مجھے زیادہ درس نہ دو “
دارم تم مجھ سے پیٹ جاو گے “
ارے رہنے دیں ” وہ گیم کھیلتا ہوا بولا
روحاب پاوں پٹختی اندر ا گئ
دیکھ لیں آپی اسکو میری بات نہیں مانتا آپکے کہنے کے بعد تو شاید ہی کچھ سنے “
تو مما کو جانے کی ضرورت کیا ہے ” دارم بولا تو سب خاموش ہو گئے
میرال نے سب کی باتوں کو اگنور کر کے ماں کی جانب دیکھا
اپ لوگوں نے کب جانا ہے “
ہاں آج چلیں گے بس رشتہ فائنل کر کے آئیں گے ” اسکی ماں مسکرائی
مجھے صارم سے شادی نہیں کرنی وہ لڑکا جہان آیا تھا نہ اپ اسکے لیے بات کریں میری “
میرال کی بات پر روحاب اور اسکی ماں دونوں حیران رہ گئے
باولی ہو گئ ہے میرال وہ جس کا رشتہ لائے تھے اس کا ہی ہو گا یہ اب اسکے بھتیجے کا کہیں شرم و غیرت مر گئ تھی ” ماں نے اسے اچھا خاصا ڈپٹ دیا
اور روحاب کو جی بھر کر ہنسی آئی کتنا فنی ہے آپی
کہ اپکو چاچو کے بجائے بھتیجا پسند ا گیا “
منہ بند کرو اپنا مجھے نہیں کرنی صارم سے شادی بس کہہ دیا اور میرے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا ” کہہ کر وہ اٹھ کر چلی گئ جبکہ روحاب نے شانے اچکا دیے
دارم ۔۔۔ دارم کے بچے اٹھ جاؤ “
خالا تم بہت بری ہو یار ” دارم بگڑا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔