307.4K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Kitabon Wala Ishq) Episode 5

گاڑی کے بونٹ میں سے اٹھنے والا دھواں اور گاڑی کی چور چور حالت دیکھ کر وہ سکون سے بیٹھا تھا سری گاڑی تباہ ہو گئ اور وہ گاڑی سے باہر نکل آیا
بے ساختہ اسے ہنسی ا گئ
بڑے ڈھیٹ ہو شمائل خان ” اسنے اپنے بازو میں کچھ شیشے کے ٹکڑے دیکھے اور باہر کھینچ کر ایکطرف پھینک دیے
اسے ہاسپٹل جانا چاہیے تھا لیکن اسنے لاپرواہی سے سامنے دیکھا ہوا تیز چل رہی تھی کچھ لوگ اسکے اردگرد جمع ہوئے لیکن اسنے ہاتھ اٹھا کر سب کو اوکے کا کہہ دیا اور اس کروڑوں کی گاڑی کو دیکھا بھی نہیں پلٹ کر وہ پیدل چلنے لگا تھا
شمائل ” پیچھے سے آنے والی آواز پر وہ گھیرہ سانس بھر گیا
یہ بلال تھا اسکا پرسنل گارڈ جو اسکے باپ نے اسپر تعینات کیا تھا اور وہ اکثر اسکے بنا ہی نکل جاتا تھا حالانکہ بلال اس سے کافی بڑا تھا لیکن کبھی دونوں کے درمیان ایسی بات نہیں ہوئی کہ وہ ذرا بھی اسکی عزت کرے یہ بلال کے اندر کوئی نکھرا ہو وہ کافی اچھا تھا مزاج میں ۔
تم ٹھیک ہو ” بلال نے اسے روکا
تم لیٹ ہو ” وہ ہنسنے لگا
تمھارے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے ہاسپٹل چلو ” اسنے ذرا غصے سے کہا تو شمائل نے ہاتھ کھینچ لیا
تم میرے ابو نہ بنو جاو یار تم یہاں سے ” اسنے سر جھٹکا ۔۔۔۔۔۔
شمائل سر غصہ کریں گے پہلے ہی بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے ” بلال نے اسے روکا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہہ کر خود سیدھا سیدھا چلتا رہا اسکے ہاتھ سے متواتر خون نکل رہا تھا اور کچھ ہی دیر میں وہ چکرا کر گیر گیا
وہ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے بھی دوسرا اسنے کچھ کھایا بھی نہیں تھا بلال اسکے جانب بھاگتا ہوا بڑھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپ ان سے کہہ دیں مجھے جہان سے شادی کرنی ہے کنوارہ ہی ہے نہ کسی کو پسند نہیں کرتا نہ وہ انگیج ہے اگر میں مان بھی لوں کہ بخت کسی کو پسند کرتا ہے “
میرال جب سے ائی تھی آج تیسرا دن تھا اور آج افیہ اور نگین سمیت وجدان اور ریاض نے بھی شادی کی تاریخ لینے آنا تھا
روحاب حیرانگی سے میرال کو دیکھ رہی تھی جبکہ درام پڑھنے گیا ہوا تھا
تمھارا ہو چکا ہے دماغ خراب ۔۔۔ اچھا بھلا لڑکا ہے صارم اور تم اس میں نقص نکل رہی ہو ” امی نے اسے ڈانٹا مگر اسکے سر پر جہان سوار ہو چکا تھا
میں اپ کو کہہ رہی ہوں میں نہیں کروں گی صارم سے شادی وہ وہ میرے ٹائپ کا نہیں ہے “
اچھا شادی شدہ ہو تم تمھارا نو سال کا بچہ ہے “
مجھے دیکھ کر تو نہیں لگتا نہ اور ویسے بھی میرا بچہ نہیں ہے وہ وہ اپ لوگوں کی غلطی ہے اور روحاب کے پاس رہتا ہے وہ سارا سارا دن میں آچار ڈالوں اس بچے کا “
آپی آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہو ” روحاب کا دل دھک سے رہ گیا شکر تھا دارم گھر نہیں تھا ورنہ وہ کسی قدر ہرٹ ہوتا
تم چپ رہو امی پلیز اپ بات تو کر کے دیکھیں ” اسنے ماں کے گھٹنے دبائے
ہٹ جاؤ میرال تو مجے خوار کر رہی ہے تیرے باپ بھائی کو پتہ چلا تو معلوم نہیں تیرے ساتھ کیا کریں “
مجھے کسی کی پرواہ نہیں ” میرال نے شانے اچکا دیے اچانک دروازہ بجا
روحاب جاؤ دیکھو تمھارے تایا کی فیملی آئی ہو گی آج شادی کی تاریخ دینی ہے تبھی ان لوگوں کو دعوت دی تھی اس لڑکی کا الگ تماشہ چل رہا ہے ” اسکی ماں اٹھ گئ جبکہ اسنے موبائل اٹھا لیا
جہان کی تصویر دیکھ کر مسکرا دی وہ بہت پرفیکٹ تھا ہینڈسم تھا پھر اسکا الگ ہی سٹائل تھا معلوم نہیں کیوں اسے دیکھ کر اسے وجود پر الگ ہی احساس طاری ہو جاتا ۔۔۔۔ یہ تصویر اسنے اسکے فیس بک اکاونٹ سے لی تھی ۔
باہر اسکے تایا کی فیملی آئی تھی وہ سب ایک دوسرے سے مل رہے تھے
کیسی ہو عینہ آپی تم کتنے دنوں بعد دیکھائی دی ہو ” روحاب اسکے گلے لگ گئ وہ اتنی پیاری سی گڑیا سی تھی کہ دل بار بار اسپر آتا تھا ۔
روحاب کو وہ بلال کے لیے بہت پسند تھی اور وہ جانتی تھی بلال بھی اسے پسند کرتا ہے لیکن بلال کا مزاج گھر اور حالات کی وجہ سے اکثر غصیلہ ہی رہتا تھا
دارم کہاں ہے ” عینہ نے مسکرا کر پوچھا
پڑھنے گیا ہے بہت مشکلوں سے پڑھنے بھیجا ہے اسے ” روحاب نے جھنجھلا کر کہا تو عینہ ہنس دی
میرال آپی کہاں ہیں وہ دونوں میرال کے پاس آ گئیں جبکہ امی باہر تائی اور تایا کو سب بتا رہی تھی کہ وہ کیسی فیملی ہے اور کیا معملات ہیں جبکہ انکی فیملی کا نام وغیرہ سن کر عینہ کی والدہ پہچان گئیں اور وہ حیران بھی ہوئی کہ میرال کا کیسے رشتہ اس گھر میں ہو رہا تھا کیونکہ عینہ نے بتایا تھا کہ بخت کے والد اس رشتے کے سخت خلاف ہیں اور والدہ کا بھی رویہ بہت برا ہی تھا
میرال بھی اجنبی ہی تھی لیکن میرال کی والدہ کی جان پہچان تھی افیہ اور نگین سی شاید اس وجہ سے اختلاف نہیں تھا اور دوسرا صارم وجدان کا بیٹا نہیں تھا ۔۔۔
وہ خاموش ہو گئیں تھیں
کچھ ہی دیر تک وہ لوگ ا جائیں گے بس بھائی صاحب اللّٰہ تعالٰی میری میرال کے اب نصیب اچھے کرے “
انشاءاللہ انشاءاللہ ” تایا جان نے دعا دی اور روحاب نے اپنے والد کو فون کر کے ان سب کے آنے کی اطلاع دی تو وہ بھی کچھ دیر میں آ گئے اور سب باتیں کرنے لگے جبکہ عینہ اور روحاب بھی باتیں کر رہی تھیں
عینہ میں تمھیں اپنے منگیتر کی تصویر دیکھاتی ہوں ” میرال کچھ دیر سوچتی رپی پھر اٹھلا کر بولی
سچی آپی دیکھائیں ” عینہ خوش ہو گئ جبکہ روحاب میرال کو سنجیدگی سے دیکھ رہی تھی ۔
اور میرال نے جہان کی تصویر دیکھائی تو عینہ کی ایکدم آنکھیں کھل گئیں اسنے جہان کو دیکھا ہوا تھا بخت نے ساری فیملی دیکھائی تھی ۔
یہ ” وہ حیران تھی اور پھر میرال تو پھولے نہیں سمائی ہے نہ ہینڈسم “
آپی یہ صارم بھائی نہیں ہیں ” روحاب غصہ ہوئی
چپ کرو تم ” میرال نے ڈانٹا تو عینہ بھی چپ ہو گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ صارم کی تاریخ لینے آئے تھے ۔
اور مٹھائیوں کے ٹوکرے اور شگن کی چیزیں بھی تھی میرال بھی تیار ہوئی تھی جبکہ باقی سب بھی فریش تھے ۔
دارم ایکطرف کھڑا تھا
صارم اور مالا کے علاوہ گھر کے باقی افراد تھے بخت اور جہان ابھی آفس میں تھے جبکہ حنین وجدان ریاض اور نگین افیہ ا گئیں تھیں افیہ وہاں عینہ کو دیکھ کر شاکڈ رہ گئ جبکہ عینہ جھجھک سی گئ
افیہ نے اسے دوسری نگاہ دیکھنا گوارہ نہ سمجھا ۔
حنین عینہ کو پہچانتی نہیں تھی تبھی وہ نارمل سا ملی تھی نگین نے بھی جی بھر کر دونوں ماں بیٹیوں کو اگنور کیا جبکہ عینہ کی آنکھیں بھیگ گئیں وہ میرال سے بہت اچھے سے ملیں تھی میرال کی والدہ سمیت اسکے گھر والوں کے ساتھ بھی بہت اچھا رویہ تھا
عینہ ایکطرف کھڑی تھی
حنین بچے بھائیوں کو فون کرو اگر ا رہے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ پھر ہم لوگ ڈیسائیڈ کر لیتے ہیں ” وجدان بولے تو حنین نے بخت کو کال
ملا لی
بھیا اپ ا رہے ہیں یا ہم سب کچھ خود طے کر لیں ” حنین بولی تو اسکے اس طرح بولنے پر سب ہنس دیے جبکہ بخت اور جہان کو یہ سراسر لیڈیز کا کام لگ رہا تھا مگر پھر بھی افیہ اور نگین کی زور زبردستی آ ہی گئے
انکے گھر کے باہر گاڑیوں کی لائن سے کھڑی تھیں وہ دونوں اندر ائے
اور ایک چھوٹے سے لاونج میں داخل ہوئے جہاں کھچا کھچ سب بھرے ہوئے تھے کچھ گرمی بھی تھی کیونکہ ایک اے سی بمشکل چل رہا تھا ۔
ان دونوں کو سب نے ہاتھوں ہاتھ لیا تھا
عینہ کا دل کیا یہاں سے غائب ہو جائے وہ چھپنے کی کوشش کر رہی تھی اور وہ بخت کے اندر آتے ہی دوسرے دروازے سے گھبرا کر نکل گئ ۔
بخت کی البتہ اسپر نگاہ نہیں گئ تھی اور افیہ یہ دیکھ کر مطمئین ہو گئ ۔۔۔۔۔ بخت اور جہان بھی وہیں بیٹھ گئے اور تاریخ ڈیسائیڈ ہو گئ میرال کی نگاہ جہان سے ہٹ کر ہی نہیں دے رہی تھی جہان نے ایک نظر اسے دیکھا اور وہاں سے اٹھ گیا ۔
مما میں جا رہا ہوں ” جہان بولا تو میرال بے چینی سے اٹھ گئ ۔۔۔ سب نے یہ نوٹ کیا تھا
ہاں میں بھی چلتا ہوں ” بخت بھی اٹھا عینہ جبکہ باہر تھی
عینہ یہ کولڈرنکس سرو کرو اندر ” بلال نے اسے کہا تو عینہ نے سر ہلایا اور بلال اور عینہ اندر داخل ہوئے تھے ایک ساتھ بلال عینہ کو کولڈرنکس دینے لگا اور عینہ سب کو سرو کرنے لگی
نگین افیہ اور بخت سمت جہان بھی عینہ کو دیکھ رہا تھا شاید بخت ایکسپیکٹ نہیں کر رہا تھا اسے یہاں ۔۔۔
عینہ نے بخت کی جانب کولڈرنک بڑھائی جسے اسنے تھام لیا
اور افیہ نے دیکھا اسکے بعد وہ جو جا رہا تھا وہیں بیٹھا گیا ۔۔۔ افیہ نے پہلو بدلا اسکے بعد اسکی حیران نگاہوں نے عینہ کو حصار میں باندھ لیا ۔۔۔۔
جہان بھی عینہ کو دیکھ کر وہیں ٹک گیا البتہ وجدان صاحب کی پہچان میں وہ لڑکی نہیں تھی تبھی وہ اچھے سے اسکے ہاتھ سے بوتل لیتے مسکرا دیے ۔۔۔
واہ بھئ میرال جیسی نظر بعض لڑکی کی بہن ہے عینہ ” جہان نے ٹھونگا مارا
نہیں وہ تو سنگل چائلڈ ہے ” بخت نے لبوں پر زبان پھیرتے مسکرا کر کہا جہان سر ہلا گیا
وہاں ڈیٹ ڈیسائیڈ کی گئ
میرال بار بار جہان کی جانب دیکھ دیکھ کر مسکرا رہی تھی جبکہ جہان نے ذرا جھنجھلایا کر دوبارہ اٹھنے کا سوچا ۔۔۔
اوکے اماں میں جا رہا ہوں ” وہ کہہ کر اگلا لفظ کسی کا بھی سنے بنا وہاں سے نکل گیا
بلال اور روحاب سمیت عینہ بھی وہاں سے باہر نکل گئ
اپ دونوں باتیں کریں آتی ہوں ” روحاب نے شرارتی لہجے میں کہا اور بلال مسکرا دیا جبکہ عینہ کچھ خفیف سی ہوتی اسکے پاس سے جانے لگی ۔
کیا ہوا ایسے پریشان کیوں ہو ” بلال کے سوال پر عینہ نے حلق میں سانس اتارا ۔۔۔
نہیں پریشان تو نہیں ہوں بس ویسے ہی طبعیت نہیں ٹھیک شاید “
وہ بولی فکر بھی تھی بخت اسی تلاش میں باہر نہ ا جائے اور ہوا بھی ایسا ہی عینہ جلدی سے کچن سے باہر نکلی اور بخت بھی باہر ہی کھڑا تھا یقینا اسے تلاش رہا تھا عینہ کو دیکھ کر مسکرا دیا اسنے سر کے اشارے سے باہر گاڑی میں آنے کا کہا
عینہ نے ایک نظر مڑ کر دیکھا ۔
پیچھے بلال بھی کھڑا تھا اسکی نگہ ان دنوں پر ہی تھی معلوم نہیں اسنے بخت کا اشارہ دیکھا تھا بھی یہ نہیں ۔۔۔
عینہ بخت کی کسی بات کا ریسپونس دیے بنا ہی اندر چلی گئ اور اندر جاتے ہی اسکا دل مزید خراب ہو گیا کیونکہ اسکے ماں باپ کو وہاں بیٹھا ایک ایک شخص اگنور کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دوبارہ آفس جانے کے بجائے گھر ا گیا کچھ تھکا تھکا سا تھا
اپنے کمرے میں جانے لگا جیسے ہی کچن کے پاس سے گزرا تو وہاں مالا کو دیکھ کر خوشگوار سی حیرت ہوئی اور وہ وہیں رک گیا
ہے مالا ” وہ کچن کے دروازے میں ہاتھ سینے پر باندھے وائیٹ ڈریس شرٹ اور پینٹ میں کچھ بکھرے بال اور تھکی ہوئی چال لیے انکھوں سے اسکا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیتے اسے دیکھ رہا تھا سکینہ جہان کو دیکھ کر سر جھکا گئ
مالا نے مڑ کر دیکھا اور اسکی پیشانی بھیگ گئی
اس۔۔اسلام وعلیکم “
وعلیکم اسلام ” وہ خوشگواری سے بولا
سکینہ جی اگر اپ مائنڈ نہ کریں تو اپنی ان چور انکھوں کو لے کر اپنی تشریف باہر لے جا سکتی ہیں “
وہ چوری چوری دونوں کو دیکھ رہی تھی اور جہان کے پکڑنے پر بھکلا سی گئ اور اس بات پر مالا زیادہ پریشان ہو گئ سکینہ باہر نکلی تو مالا نے بھی جانا چاہا
تم کہاں جا رہی ہو پانی دو ” لہجے میں سنجیدگی بھرتے وہ چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا
مالا کے ہاتھ اپنے اپ کانپنے لگے تھے اسنے پانی گلاس میں ڈال کر اسکے آگے رکھ دیا
جہان پانی پیتے اسے دیکھنے لگا
ہو گئ ختم تمھاری ہاٹ نیس “
اسکے اچانک سوال پر وہ نا سمجھی سے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھنے لگی جیسے اسے سمجھنا چاہ رہی ہو
جہان نے جبکہ اپنی ہی بات سے مزاہ لیا
مالا مالا بہت انوسنٹ ہو تم میرا مطلب بخار تمھارے اندر گرمی بڑھ گئ تھی نہ تبھی تو بخار چڑھا تھا ” وہ سیدھا سیدھا بھی پوچھ سکتا تھا ان بے تکے لفظوں کو استعمال کر کے کوئی کسی کی طبعیت نہیں پوچھتا تھا اسنے دوپٹہ ٹھیک کیا اور سر ہلا دیا
یہ ہاتھی جیسا سر ہلانا بند کرو اپنی زبان کا استعمال کرو ورنہ تم مجھے اچھے سے جانتی ہو ” وہ ٹیبل بجانے لگا جبکہ مالا خوفزدہ سی ہو گئ
ج۔۔۔جی میں ٹھیک ہوں شکر ہے اللّٰہ کا ” مالا کے جواب دینے پر اسکے ہاتھ رک گئے
ویری گڈ تمھیں پتہ ہے میرال کی مجھ پر گندی نظر ہے ۔
میری تم پر ہے ۔
بخت کی عینہ پر ہے ۔
اور صارم چاچو کی میرال پر واٹ کا کو انسیڈنٹ اسے کہتے ہیں دنیا گول ہے
خیر تم اپنا بتاؤ تمھاری کس پر ہے ” وہ سکون سے پوچھنے لگا
مالا نے سانس حلق میں اتارا تھا
ک۔۔کسی پر ۔۔بھی ۔۔ نہیں میں کا۔۔کام کر لوں جہان بھائی ممانی ا جائیں گی تو خفا ہوں گی ” اسنے کہا تو جہان کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئ ۔
تمھیں منع کیا تھا جہان بھائی نہیں کہنا تم نے مجھے یو نو واٹ مالا ” وہ کھڑا ہو گیا مالا گھبرا کر پیچھے بھاگی مگر جہان سے چھپ نہیں سکتی تھی
مجھے اس وقت تم بہت زہر لگتی ہو جب تم میری بات کو اگنور کرو یہ تمھاری اتنی جرت کہ تم مجھے انکار کرو میرا دماغ خراب ہونے لگتا ہے پھر میرا دل کرتا ہے کہ ” اسنے چھری اٹھا لی
ج۔۔۔جہان بھائی ” مالا کی چیخیں نکلتے نکلتے رہ گئ
میں تمھیں جان سے مار دوں اور میں کسی دن ایسا کر بھی گزرو گا اگر تو تم مجھ سے ٹکراو گی تو مالا میری جان عرف دھان پان تم مجھ سے ٹکرا لینا چاہتی ہو یہ نہیں اگر نہیں تو ویل اینڈ گڈ اگر ہاں تو اتار دوں یہ تمھارے اندر “
نہیں جان پلیز میں مر جاؤ گی “
وہ چھری اسکی خوفزدہ انکھ کے ایسے نزدیک لے گیا کہ مالا کو لگا اگر وہ پلک جھپکے گی تو تب بھی اسکی انکھ کٹ جائے گی
مالا کے ہونٹوں سے نکلنے والا لفظ اور جہان کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ ۔۔۔۔
” میں مرنے ہی نہیں دوں گا “
تمھیں پتہ ہے سوہنی لگتی ہو جب مجھ سے ڈرتی ہو لیکن میری بات ماننا تم پر فرض ہے ۔
جان بہت خوبصورت لگا سمجھو تھکاوٹ اتر گئ
اینی ویز اس خوشی میں آج ہم دونوں پیزا کھائیں گے ” وہ موبائل نکال گیا
ن۔۔۔نہیں مجھے ۔۔۔ مجھے نہیں کھانا اپ کے ساتھ کچھ ۔۔۔
تو یہاں اور کون ہے جس کے ساتھ کھاو گی ” وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا
م۔۔مجھے نہیں کھانا ہم۔۔۔ہم پھر بعد میں کھا لیں گے نہ “
وہ اپنے انسو گال سے صاف کرتی منت بھرے لہجے میں بولی
ہائے ” وہ دل پر ہاتھ رکھ گیا
اوکے چلتا ہوں اینی ویز اس میں ہماری یہ ویڈیو اور تمھارا مجھے جان کہنا ریکارڈ ہے ” وہ مالا کے سامنے اپنا موبائل لہرانے لگا
مالا کے چہرے کے رنگ فق ہو گئے اور جہان مسکرانے لگا
ذرا چوں چراں کی تو امی کو دیکھا دوں گا رات میں پیزا منگواؤ گا شرافت سے پول کے پاس ا جانا ” وہ کہہ کر باہر چلا گیا
اور مالا دونوں ہاتھوں میں سر گیرا کر روتی چلی گئ ابھی جی بھر کر روئے بھی نہ تھی کہ باہر سے سب کی آوازیں آنے لگیں
مجھے تو میرال چچی اچھی نہیں لگ رہی وہ جہان بھائی کے اٹھتے ہی ہمارے بیچ سے اٹھ کر چلی گئیں صارم چاچو سے شادی کر رہی ہیں یہ جہان بھیو سے۔”
ہاں یہ تو میں نے بھی ناٹ کیا ” ریاض صاحب بولے
میرال عینہ کی کزن ہے ” اچانک بخت کے سوال پر افیہ نے اسکی جانب دیکھا
مام اپ سے پوچھ رہا ہوں “
وجدان ریاض حنین نگین سب سنجیدگی سے بخت کو دیکھنے لگے
ہاں مجھے آج ہی پتہ چلا ۔
” تو اختلاف کیا تھا میرال بھی تو غیر ہے ” وہ گزشتہ دنوں کو سوچ کر ذرا غصے میں ا گیا
مسلہ میں ہوں صارم میرا بھائی اور تم میرے بیٹے ہو اور میں تمھارے لیے تمھاری پسند کی کسی لڑکی کو پسند نہیں کروں گا ” وجدان بیچ میں بولے
تو میری جگہ اپ شادی کر لیں میں شادی نہیں کرتا ” بخت سینے پر ہاتھ باندھے سنجیدگی سے باپ کو دیکھنے لگا
وجدان نے پاوں سے چپل نکالی
حنین منہ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگی ریاض کو بھی ہنسی ا گئ ۔
گھامڑ آدمی مجھ سے زبان لڑا رہا ہے “
بس یہ ہی کریں اپ ۔۔ اپکو اپنے بچوں کو چھونے بھی نہیں دوں گا “
بخت اسکی چپل سے بچتا اپنے کمرے کی جانب بھاگا
ہاں میرے اوپر باپ بن جا ” وہ اگ بگولہ تھے
چھوڑیں بھائی صاحب بچے ہیں انکی خواہش سب سے اہم ہے “
خواہش اور غلط چیز میں فرق ہے وجدان اگر بچہ کنویں میں گیرنے کے لیے روئے گا تو ماں باپ اسے کنویں میں گیرا دیں یہ گھیرہ زخم کھائے گا اس لڑکی سے دیکھ لینا تم “
اچھی دعا دیں بھائی ” صارم نے بھی انکے شانے پر ہاتھ رکھا تو وجدان چپ ہو گئے ۔
کون تھی یہ عینہ “
افیہ نے پہچان کرائی تو سب چپ ہو گئے کیونکہ وہ لڑکی بہت حسین تھی سب کی نگاہ اسپر بار بار اٹھ رہی تھی ۔
واقعی ” حنین چلا اٹھی
ہاں اب اپنے بھائی کو سر پر نہ چڑھانا “
اف اتنی پیاری ہیں وہ ” حنین تو خوش ہو گئ جبکہ باقی سب چپ ہو گئے تھے
اڑی اوو مالا کچھ بنایا بھی ہے یہ نوٹنکی آج بھی چل رہی ہے تیری “
ممانی آواز لگاتی کچن میں آ گئی
کھانا تیار ہے ممانی ” مالا اپنے دوپٹے سے ہاتھ پونچتی بولی
ہاں ٹھیک ہے سب فریش ہو جائیں تو لگا دینا ” وہ منہ بن کر کہہ کر چلی گئ جبکہ مالا سر ہلا گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مالا اپنے کمرے میں سب کو کھانا دے کر دوڑ کر آ گئ تھی جیسے جیسے رات ہو رہی تھی اسکی جان جا رہی تھی ۔
وہ ابو کو کھانا کھلا کر بستر میں لیٹ گئ اور ہر ممکن کوشش کی کہ سو جائے اور طبیعت بھی کچھ ناساز تھی تبھی وہ جلدی سو گئ
کھایا پیا تو ویسے ہی نہیں تھا اسنے ۔۔۔۔
” حسین خوابوں میں کھوئی کھوئی سی “
اچانک اسکی انکھ ایک دھماکے پر کھلی وہ سینے پر ہاتھ رکھتی اٹھ کر بیٹھ گئ
مالا یہ کیا ہو رہا ہے ” بمشکل ساجد کے ڈر جانے پر وہ دوپٹہ لیتی اٹھی
ک۔۔کچھ نہیں ابو باہر بچوں نے کوئی پٹاخہ یہ بم چلایا ہے “
مالا کھڑکی سے داخل ہونے والے پٹاخے کو دیکھتی گھبرائی اور جلدی سے وہ پٹاخہ اٹھا کر نیچے پھینک دیا
جہان تھا اسے ویو کرنے لگا
مالا کا دل دھکا سے رہ گیا وہ کیا تھا ۔
کون ہے بیٹی ” ساجد کی پکار پر وہ ڈر گئ
کوئی کوئی نہیں ابو “
سو جاؤ پھر “
جی ” اسنے دوبارہ نیچے دیکھا وہ لائیٹر سے چاکلیٹ بم جل رہا تھا
مالا نے دونوں ہاتھوں سے اسے روکا ۔۔۔ اسنے سنجیدگی سے اسے نیچے آنے کو کہا
تو وہ بے بسی سے سر ہلا گئ اور جہان رک گیا
اسنے سیگریٹ جلا کر لبوں میں دبائی اور چئیر گھسیٹ کر پول کے پاس بیٹھ گیا
مالا نے وقت دیکھا رات کے دو بج رہے تھے ۔
مالا سو جا میری بچی “
ج۔۔جی ابو ” وہ بستر میں لیٹ گئ
اسے رونا انے لگا اسے جہان بلکل پسند نہیں تھا اسے ڈراتا تھا دھمکاتا تھا اور گندی نظر رکھتا تھا وہ اسپر حکم چلتا تھا وہ اپنی ماں جیسا گندا تھا ۔
مالا چادر میں منہ دبائے رونے لگی لیکن خوف نے اسے یہ حرکت کرنے نہ دی
کہ وہ جہان کو اگنور کر دے ابو کی خراٹوں کی آواز پر وہ اٹھی اور دوپٹہ لے کر باہر ا گئ
وہ نیچے آئی جہان نے گھڑی کی سمت دیکھا پھر اسے ۔۔۔
اور کچھ آگے کو جھکا سیگریٹ کی راکھ سے اس نے فقط ایک موم بتی جلائی
مالا کے لیے کرسی موجود تھی وہاں ۔۔۔
جی “
ویسے تم لیٹ ہو اسکی سزا پھر کبھی ابھی مجھے بھوک لگی ہے بیٹھو “
میں ۔۔۔میں کیوں بیٹھو مجھے یہ نہیں پسند “
پھر کیا پسند ہے ” اسنے سیگریٹ کا دھواں چھوڑا تو مالا اس دھواں کو دیکھنے لگی
کچھ نہیں ” وہ سر جھکا گئ
بیٹھو ” وہ دھاڑا تو مالا رونے کو ہو گئ اور چئیر پر بیٹھ گئ
کھاؤ ” اسنے کہا
ج۔۔جہان ب۔۔ ” جہان نے ذرا غصے سے جھنجھلا کر اسے دیکھا
تمھاری کھوپڑی میں یہ بات نہیں بیٹھ رہی کہ تم نے مجھے کیا کہنا ہے ” وہ ٹیبل پر لات مارتا کھڑا ہو گیا
مالا بے ساختہ رو دی
ج۔۔۔جان مجھے ۔۔مجھے نہیں ک۔۔کھانا ” وہ ہچکیاں بھرتی بولی
یہ تو تم یہ کھاؤ گی ۔۔
ورنہ کل تمھارے اس غریب کھانے میں پیزا شاپ کھلوا دوں گا اور امی کو بتاو گا مالا کی فرمائش تھی کہ مجھے پیزا کھانا ہے آل رائیٹ ائ تھنک اٹس آ گڈ پلین ” وہ اپنے دماغ کی چلاکی پر خوش ہو گیا
مالا نے بنا کچھ کہے جلدی سے ڈبہ کھولا اور کھانے لگی
جہان کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گھیری ہوئی گئ
مالا کو لگا صدیوں بعد اسنے باہر کا کچھ کھایا ہے ۔
جلدی جلدی کھاؤ ” وہ ٹیبل پر جھکا مالا جلدی جلدی کھانے لگی
اب آرام آرام سے کھاؤ ” وہ اسکے ہونٹوں کی حرکت کو دیکھتا بولا
مالا نے اہستگی سے بائیٹ لی اور اسی سلائس میں سے جہان نے جھک کر بائیٹ بھر لی
مالا کے ہاتھ سے ایکدم سلائس گیر گیا جبکہ جہان نے اسکا بازو پکڑ کر اسے اپنے روبرو کھڑا کر لیا ۔۔۔۔
وہ اسکے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا
تمھارے ہونٹ وہ راز ہیں جنھیں خاموشی بھی چومنا چاہے
میں تو پھر ٹہرا گنہگار “
جہان کا انگوٹھا مالا کے سرخ ہونٹوں پر حرکت کرنے لگا مالا دہل گئ
اور اسے دھکا دیتی وہ وہاں سے بھاگ گئ
جہان کی پیشانی پر تیوری چڑھا
وہ اپنی حرکت پر خود ذرا غصے میں آ گیا اور وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے