Kasoor Kis Ka by Yusra Mehmood NovelR50682 Kasoor Kis Ka (Last Episode)
Rate this Novel
Kasoor Kis Ka (Last Episode)
Kasoor Kis Ka by Yusra Mehmood
شہر کی عوام ویسے ہی عاجز آچکی تھی روز روز کے کرائم سے اس علاقے میں آئے دن چوری ڈکیتی عام ہوگئی تھی
اے ٹی ایم سے پیسے نکالنا عوام کے لئے مشکل ہو گیا تھا جیسے ہی کوئی پیسے نکال کر آتا ویسے ہی گن پوائنٹ پر اسے لوٹ لیا جاتا
روز روز کی لوٹ مار کی وجہ سے اس علاقے کے مکینوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ وہ لٹیروں کو ہاتھوں ہاتھ لے کے اسے مل کر ہی خود سبق سکھائیں گے
اسی سبب وہاں کے کچھ مکین بھی اے ٹی ایم کے آس پاس پہرہ دے رہے تھے
ان کے سامنے ایک کار آکر رکتی ہے ایک درمیانی عمر کا آدمی باہر نکلا اور اپنی مطلوبہ رقم کے حصول کے لئے اے ٹی ایم کی طرف قدم بڑھا دئیے
####
چندا کی چھٹی ہو چکی تھی اب وہ لوگ ریلوے اسٹیشن کی طرف رواں دواں تھے چندا گاڑی میں بیٹھے باہر شیشے سے آتی جاتی گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی وہ لوگ گاڑی میں باتیں کرتے ہوئے جارہے تھے تاکہ چندا سفر کے دوران بھی فریش رہے گاڑی برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی
عمران کو گاڑی کی رفتار سست کرنی پڑی کیونکہ آگے زبردست ٹریفک جام تھا لوگوں کا مجمع دیکھ کر عمران نے گاڑی روک دی
####
جیسے ہی وہ آدمی اے ٹی ایم سے باہر نکلا آصف پھرتی سے اس کے سر پر پہنچ گیا آصف نے اس کے سر پر پستول تان لی وہ شخص تو ہڑبڑا گیا
جتنے کے جتنے پیسے ہیں فورن میرے حوالے کر دو اس کے ساتھ اس کے دوست بھی اس شخص کے قریب آگئے اور اس کو گھیرے میں لے لیا بچارا وہ شخص اپنی جیبیں ٹٹولنے لگا
کہ اتنے میں لوگوں کا ایک ہجوم کسی آفت کی طرح ان لوگوں کے سر پر پہنچ گیا آصف کے ہاتھ میں پسٹل لوگوں کے دھکوں سے دور جاگری عوام نے ان چاروں کو دبوچ لیا جس کے ہاتھ میں جو تھا وہ ان لوگوں کو مارنے سے گریز نہیں کر رہا تھا ڈنڈے لاتے اور پتھر ان چاروں پر برسائے جا رہے تھے عوام بھی پاگل ہو گئی تھیں آج وہ چاروں بیچ میں تماشا بنے ہوئے لوگوں سے مار کھا رہے تھے وہ چاروں خونم خون ہوگئے تھے آصف کی آنکھوں کے سامنے 1 دم اس معصوم چندا کا چہرہ گھومنے لگا شاید یہ اسی کی آہ تھی….
چاروں ہاتھ جوڑے سب کے سامنے التجا کر رہے تھے مگر پولیس کے آتے آتے ہیں لوگ اپنا سارا غصہ ان چاروں پر نکال چکے تھے اور اب پورے روڈ پر خون پھیل چکا تھا ان چاروں کی لاشیں لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بنی ہوئی تھی
#####
ٹریفک کا ہجوم دیکھ کر عمران ان چاروں کو لے کر باہر نکل آیا تاکہ آگے کچھ راستہ ملے تو وہ فی الحال پیدل ہی آگے بڑھ جائیں لوگوں کے پوچھنے پر عمران کو پتہ چلا کہ ان لٹیروں کو عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت انجام تک پہنچادیا وہ لوگ بھی راستہ ہٹاتے ہوئے آگے جا رہے تھے کہ عمران کی نظر ان چاروں پر پڑی جو بے سدھ پڑے تھے
چندا اتنا خون دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی جیسے ہی اس کی نظر ان چاروں پر پڑی تو اس نے کس کر خیرا کو پکڑ لیا اور ڈر کے مارے خیرا کے پیچھے چھپنے لگی…
کیا ہوا چندہ راشدہ جو اس کے برابر میں ہی کھڑی تھی اس نے چندہ کو ڈرتے ہوئے دیکھا تو اس کا سر سہلاتے ہوئے پوچھنے لگی
وہ لوگ….
چندا نے ہاتھ کے اشارے سے ان چاروں کی لاشوں کی طرف اشارہ کیا
وہی چاروں ہے یہ لوگ…
وہ بمشکل بولی
کیا…
راشدہ حیران ہوتے ہوئے بولی
وہ چاروں کسی نہ کسی طرح اس مجمعے سے باہر آگئے ٹرین میں بیٹھ کر راشدہ نے بتایا کہ چندہ کے مجرموں کو سزا مل گئی ہے اور وہی لوگ چندہ کے گناہ گار تھے جن کی لاشیں ابھی ہم دیکھ کر آ رہے ہیں
سب کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی خیرا خوشی سے چندہ کو گلے لگا کر رونے لگی آج اس کی بیٹی کو اپنے رب کی بارگاہ میں انصاف مل گیا تھا اور چندہ کے چہرے پر بھی سب کے دمکتے چہروں کو دیکھ کر مسکراہٹ آگئی وہ اللہ کے اس انصاف پر بہت خوش تھی یقینا وہ لوگ ایسی ہی اذیت ناک موت کے مستحق تھے
وہ رب اپنے ہر بندے کے ساتھ بھر پور انصاف کرتا ہے یہ اس کے بندے ہیں جو اپنے رب کے بندوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتے
#####
عمران نے پولیس کو انفارم کر دیا تھا کہ ابھی ابھی وہ ان چاروں مجرموں کی لاشیں دیکھتا ہوا آرہا ہے جنہوں نے معصوم چندہ سے اس کی معصومیت چھینی تھی تو ایس ایس پی صاحب نے بھی آگے تفتیش کئے بغیر اس کیس کی فائل بند کر دی
####
دو سال بعد….
عمران نے اپنے بنگلے کے نیچے والے پورشن میں ایک سلائی سنٹر کھول لیا تھا خیرا کو تھوڑی بہت سلائی آتی تھی وہ اور راشدہ وہاں غریب لڑکیوں کو سلائی سکھاتے تھی ان میں زیادہ تر اس علاقے ماسییوں کی بچیاں تھیں چند ابھی سلائی سیکھ رہی تھی اس کے علاوہ عمران نے چندا کو پڑھانے کے لئے ایک لیڈی ٹیچر بھی رکھی ہوئی تھی جو اس کو انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآنی تعلیم بھی دیتی تھی
چندا اب سولہ برس کی ہوچکی تھی وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو فراموش کر چکی تھی اور عمران انکل کی باتیں اسے اور حوصلہ دیتی تھی وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی اور بڑھ رہی تھی
یہ چندا تھی جو خوش قسمت ٹہری
جو اپنی زندگی کی طرف واپس آ گئی اور بہترین پرورش اس کا مقدر بنی
مگر….
ایسی بہت سی چندہ ہیں جن کو نہ تو انصاف ملتا ہے اور نہ ہی وہ زندہ رہے پاتی ہیں ان کے گلے کاٹ دیئے جاتے ہیں اور اگر زندہ بھی رہ جائیں تو والدین اپنی عزت کے ڈر سے لٹیروں کو آزاد گھومنے دیتے ہیں تاکہ وہ اور دوسری چندہ کی زندگی برباد کریں اور پھر لڑکیوں کو اپنے سے بہت بڑے آدمی کے سپرد کر دیا جاتا ہے کہ ایسی لڑکیوں کی عزت روندتے ہوئے تو کسی کو عجیب نہیں لگتا لیکن کوئی ایسی لڑکی کو اپنی عزت نہیں بناتا آخر کیوں….
چندا اپنی ہم جولیوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی ہنس رہی تھی کھل کھلا رہی تھی خیرا اسے دیکھنے لگی اور سوچنے لگی کہ میرے رب نے تو میری بیٹی کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا
کیا یہ دنیا اسے چین سے جینے دے گی آخر اس سب میں اس کا کیا قصور تھا ..
