Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasoor Kis Ka (Episode 01)

Kasoor Kis Ka by Yusra Mehmood

وہ اپنے ننھے منے ہاتھوں سے جلدی جلدی گھر کو صاف ستھرا کر رہی تھی ماں کے آنے سے پہلے اسے گھر کو چمکانا تھا

اس کا نام چندا تھا اور وہ آٹھ سال کی تھی اس کی ماں خیرا لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے گھر والوں کا پیٹ پال رہی تھی

خیرا کا شوہر مزدوری کرتا تھا جب کام ہوتا تو چلا جاتا تھا ایک دن مزدوری کرکے دو ہفتے تک گھر میں پڑا رہتا اس کی اس کاہلی سے اس کا خود پر کوئی اثر نہیں ہوتا البتہ خیرا اندر تک جل بھن جاتی

اماں….. اماں کو دیکھ کر چندہ خوشی سے اس کی باہوں میں جھولے کی طرح لٹک گئی

جی اماں کی جان…. خیرا بھی چنداں کے گالوں پر بوسہ دیتے ہوئے بولی

یہ دیکھو اماں میں نے کتنا صاف ستھرا گھر کو چمکایا ہے تم نے کہا تھا نہ کہ جب مجھے گھر کے سارے کام کرنا آ جائیں گے تو تم مجھے بھی اپنے ساتھ کام پر لے کر جایا کرو گی چندہ ہاتھ کے اشارے سے اماں کو گھر کی طرف متوجہ کرنے لگی جو اپنی طرف سے اس نے چمکا دیا تھا

واہ بھائی کیا بات ہے میری بیٹی کو تو بہت سارے کام کرنے آ گئے ہیں پر ابھی نہیں بیٹا ابھی آپ تھوڑی سی اور بڑی ہو جاؤ پھر چلنا میرے ساتھ کام پر وہ چندا کو انکار کرتے ہوئے اٹھ گئی شائد وہ اپنی بیٹی کو زمانے کی دھوپ اور تپش سے بچا کر رکھنا چاہتی تھی

نہیں اماں میں بھی جاؤ گے تمہارے ساتھ مجھے ڈر لگتا ہے اکیلے گھر میں ابّا بھی چلا جاتا ہے مجھے چھوڑ کر اور تم بھی…..

مجھے سارا کام آتا ہے اماں میں تمہاری مدد کر اوگی میں بھی جاؤں گی بڑے بڑے گھروں میں……

وہ اپنی آنکھیں رگڑتی ہوئی اماں سے ضد کرنے لگیں خیرا نے ڈپٹ کر چپ کرا دیا اور وہ پلنگ پر پڑے ہوئے میلے تکیے پر منہ چھپا کر روتے ہوئے بڑے بڑے گھروں کے متعلق سوچنے لگی

#####

آج اتنی دیر لگا دی خیرا تم نے آنے میں…..

راشدہ نے خیرا سے سوالیہ انداز میں پوچھا جبکہ تیوری پر بل بھی نمودار ہو گئے تھے ….

وہ کیا بتاؤں باجی میری بیٹی بہت ضد کرتی ہے روز آنے کی کام پر اس کو بہلا پھسلا کر آنا پڑتا ہے تو دیر ہوجاتی ہے خیرا نے صفائی دی

تو کیا تمہاری بیٹی اسکول نہیں جاتی ہے ابھی تو اس کی اسکول جانے کی عمر ہے

ہاں باجی پر میں کیا کروں میرا مرد کماتا ہی نہیں اس پر جو میں کماتی ہوں سارا گھر کے راشن میں ہی خرچ ہو جاتا ہے اب کیا بچاو کیسے پڑھاؤ سمجھ نہیں آتا

وہ راشدہ کو اپنے ساتھ باتوں میں لگا دیکھ کر خود بھی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی

اچھا اچھا ٹھیک ہے آج مشین لگائی ہے میں نے کپڑے نکالو جا کر راشدہ نے خیرا کو فرصت سے بیٹھتے دے کر فوری کام یاد دلایا

خیرا بھی جی باجی کہہ کر اٹھ گئی اور سوچنے لگی کہ عجیب دماغ ہی باجی کا بھی خود ہی باتیں کرنا شروع کرتی ہیں اور خود ہی ختم……

#####

راشدہ ایک شادی شدہ خاتون تھی اس کی شادی کو تین سال ہو ئے تھے اولاد کوئی نہیں تھی وزن میں بھی تھوڑی بھاری تھی اس کا شوہر عمران شکی قسم کا آدمی تھا وہ گھر میں ماسیوں کے آنے جانے کو بھی برا سمجھتا تھا

جبکہ راشدہ اپنے وزن کی وجہ سے کوئی کام نہ کر پاتی تھی تو اس نے خیرا کو رکھا ہوا تھا جوں صبح ہی گھر کا سارا کام کر جاتی

#####

دن سال یوں ہی گزرتے رہے راشدہ ابھی بھی بے اولاد تھی وزن بھی اس کا مزید بڑھ گیا تھا خیرا ابھی بھی راشدہ کے گھر کا کام کرتی تھی پر اب وہ کام پر چندہ کو ساتھ لاتی تھی جو اب چودہ سال کی ہوچکی تھی وہ دونوں اپنے گھر کے سارے کام ختم کر کے کام دھندے سے نکل جاتی تھی اور چار پانچ بجے گھر واپسی ہوتی تھی

خیرا کی طبیعت اب خراب رہنے لگی تھی بچپن سے کام کر کر کے اس کے بھی ہاتھ پیر جواب دے گئے تھے اب اکثر ایسا ہوتا کہ حیراں کی طبیعت خراب ہوتی تو چندہ کو اکیلے ہی کام پر جانا پڑت

آج بھی خیرا بخار میں تپ رہی تھی

چندا ……خیرا سے منہ سے آواز نکالنا بھی بھاری لگ رہا تھا

جی اماں چندہ بھاگتے ہوئے آئیں جو کام پر جانے کے لئے تیار ہو رہی تھیں بیٹا چندا آج بھی تم اکیلے ہی چلے جاؤ میں تو ایک قدم بھی نہیں چل پا رہی

اچھا تو آرام کر میں جاتی ہوں اور دیکھ یہ دوائیں کھا لینا بخار کی ہے…. اتر جائے گا ایک گھنٹے میں

چندہ ماں کو چادر اوڑھا کر اپنے سر کا دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی باہر نکل گئیں.

#####

ہاہاہا آج تو اکیلے ہی آآئی ہے مہارانی ایک لڑکے نے جملہ کسا

چندا اندر تک کانپ گئی تھی جب سے اماں کے ساتھ آتی تھی تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کئی دفعہ اکیلے بھی آئی تھی اور کبھی ان بدمعاش لڑکوں کو نہیں دیکھا تھا آج کہاں سے آ گئے پتہ نہیں وہ اندر تک دہل گئی…

ووہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی اور وہ تین چار ااوباش لڑکے اس کے پیچھے تھے…..

وہ تقریبا بھاگتی ہوئی ایک گھر میں داخل ہوں گئی جہاں وہ کام کرتی تھی

#####

واپسی پر وہ بہت ڈر رہی تھی پر اس نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کیا کہ اب اسے کوئی آوارہ بدمعاش نظر نہیں آیا وہ تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی اور دل میں سوچ رہی تھی کہ اب کبھی اکیلے نہیں آئے گی کام پر

گھر پہنچی تو امّاں ابھی بھی پلنگ پر پڑی تھی بخار قدرے کم ہو چکا تھا, اس نے اماں سے ابھی کچھ بولنا مناسب نہیں سمجھا اس نے سوچا اب امّاں جائے گی میرے ساتھ کام پر پھر ابھی اماں کو پریشان کرنا ٹھیک نہیں ہے

خیرا کھانا پکا چکی تھی, وہ ایک پلیٹ میں اماں اور اپنے لئے کھانا لے آئے اور دونوں ماں بیٹی کھانا کھانے لگے

آج بھی ابا کام پر نہیں گیا اماں چندا نے ابا کی طرف دیکھا جو دوسرے پلنگ پر خراٹے بھر رہا تھا

کیا کروں چندا, پتہ نہیں کب سدھرے گا گا تیرا باپ نہ گھر کا ہوش ہے اور نہ یہ فکر ہے کہ میری بیٹی جوان ہو رہی ہے اس کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں

خیرا فکرمند ہو گی کھانے کو تو مشکل سے مل رہا تھا بیٹی کا جہیز کیسے بنائے گی

میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جا رہی ہے ماں سمجھیں تم…..

چندا خیرا کو لاڈ سے گلے لگاتے ہوئے بولی.

چل اچھا اب بس کر جاکر آرام کرلیں صبح سے باہر نکلی ہوئی ہے خیرا نے چندا کو پکڑ کر پلنگ پر بٹھایا اور سونے کا کہہ کر کچن میں چلی گئی

کچن کیا تھا برآمدے میں ایک سلیب اور چولھا ڈال کر کچن کا نقشہ کھینچا گیا تھا ان کے چھوٹے سے گھر میں ایک کمرہ اور ایک صحن تھا تین پلنگ تھے جو ان تینوں کے لئے کافی تھے

گرمیوں میں وہ تینوں صحن میں پلنگ ڈال کر سوتے تھے, چندا بھی اپنے پلنگ پر لیٹ گئی اور سونے کی ناکام کوشش کرنے لگی وہ آسمان پر جھلملاتے تاروں کو تکے جا رہی تھی اسے آج بھی بڑے بڑے گھروں کے بارے میں سوچنا اچھا لگتا تھا وہ اکثر سوچتی کے ابّا کی نا اہلی کی وجہ سے آج وہ یہاں پر ہے اگر ابا ٹھیک سے کما تا تو آج وہ بھی اچھے گھر پر ہوتی بڑا نہ ہوتا کم از کم اس سے تو بہتر ہوتا

وہ بہت کچھ کرنا چاہتی تھی اپنی ماں کے لئے وہ ان کے ساتھ کام کرکے ایک دن ایسا ہی بڑا سا گھر لے لے گی اپنے لیے

وہ تصور میں ہی مسکرانے لگی

اس نے اماں کو بھی نہیں بتایا بدمعاش لڑکوں کا اور نہ اماں نے پوچھا وہ پہلے بھی کئی دفعہ اکیلی جاچکی ہے اس لئے وہ مطمئن تھی

####

راستے بھر وہ خوفزدہ رہیں کہیں پھر سے وہ لوفر لڑکے نہ آجائیں لیکن اسے کوئی نظر نہیں آیا وہ خیرا کے ساتھ مطمئن سے چلنے لگی ماں تھی نہ اس کے ساتھ کسی کی ہمت نہیں ہوئی ہوگی آوازیں کسنے کی وہ سوچ کر اندر ہی اندر خوش ہو رہی تھی

####

کیسی طبیعت ہے اب تمہاری راشدہ نے خیرا سے کل کے نہ آنے کی وجہ پوچھی,, اس کو یوں خیرا کا چھٹیاں کرنا بہت کھلتا

ظاہر ہے جو کام حیرا جلدی جلدی کر لیتی تھی وہ چندہ نہیں کر پاتی تھی وہ ابھی چھوٹی تھی کرتی تو تھی پر آہستہ آہستہ

نہیں باجی میری طبیعت اب ٹھیک نہیں رہتی ہیں کبھی کبھی آجایا کروں گی آج بھی میں چندہ کے ساتھ اسی لیے آگئی کہ سب باجیوں کو آگاہ کردوں کہ اب سے چند ہی آئے گی اتنی جان نہیں رہی اب گھٹنوں میں وہ اپنے گھٹنے پکڑے اپنے نہ آنے کا عذر راشدہ کو بتا رہی تھی

چندا سامنے والے گھر کا کام کرنے گئی تھی وہ اماں کی یہ باتیں نہ سن سکیں

لیکن خیرا ہمیشہ سے تم ہی آتی ہو میرے گھر تم جتنی جلدی کام نمٹاتی ہو چندا کے لئے مشکل ہے راشدہ بالکل تیار نہ تھی خیرا کے نہ آنے پر

للیکن باجی اب تو میری مجبوری ہے میں آؤں گی پر بہت کم روزانہ آنا میرے بس میں نہیں ہے

اچھا ٹھیک ہے راشدہ اس پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی تھی اسی لیے چپ ہو گئی مبادا چندا بھی نہ آئے تو وہ کیا کرے گی اس سے تو ہلا بھی نہیں جاتا اب……

#####

اب کل سے تم ہی چلی جانا بیٹا کام پر میرا جانا مجھے مشکل لگ رہا ہے اب

کھانا کھاتے ہوئے خیرا نے چندا کو بتایا اس کا نوالہ حلق میں ہی اٹک گیا نہیں اماں میں اکیلے نہیں جاؤں گی وہ بمشکل بولی

کیوں اکیلے جانا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے تم جاتی تو ہو ہمیشہ…..

وہ چندہ پر پر نظر جماتی ہوئے بولی ….

کیا ہوا کوئی پریشانی ہے وہ تشویش سے بولی

جی اماں مجھے بہت ڈر لگتا ہے اور اس دن….. چندا نے ماں کو ان بدمعاشوں کے بارے میں بھی بتا دیا کہ اگر وہ جلدی سے باجی کے گھر کے اندر نہیں چلی جاتی تو ان کو تو اس کا ہاتھ ہی پکڑ لینا تھا

وہ بہت پریشان ہو گئیتھی کام چھوڑنا وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس سے تو اس کے گھر کی روزی روٹی چل رہی ہے اور کام کرنے کی اس میں اب طاقت نہ رہی تھی اوپر سے چندہ بھی اکیلے جانے کو راضی نہ تھی

اتنے میں کسی نے ددروازہ زور زور سے بجایا

باہر سے شور کی آواز سن کر وہ حیران ہو کر چندہ کو دیکھنے لگی

کون ہے…… وہ اپنے دل کو تتھامتی ہوئی دروازے کی طرف لپکی

دروازہ کھلتے ہی وہ اور چندا بری طرح چللای تھیں

چندہ کے ابا کو خون میں لت پت, لوگ اپنے کاندھوں کے ذریعے یہاں لائے تھے وہ سڑک پر ایک بڑے ایکسیڈنٹ کا شکار ہوا تھا

#####

خیرا اور چندہ زارو قطار رو رہی تھی وہ دونوں اور کچھ محلے والے ایک سرکاری اسپتال میں کھڑے تھے خیرا کے شوہر رحیم کو ایڈمٹ کرلیا گیا تھا رحیم کی ایک ٹانگ کی ہڈی میں فریکچر بتایا تھا اس کے پلاسٹر بھی باندھ دیا گیا تھا

تقریبا پانچ چھ مہینے آرام کرنا پڑے گا بھائی کو,, برابر والی حلیمہ نے خیرا کے کان میں کہا تو اس نے بھی روتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا اور سوچنے لگی کہ پہلے بھی تو رحیم سارا سارا دن آرام ہی کرتا تھا پر وہ تندرست تھا تو وہ باآسانی کام کرنے چلی جایا کرتی تھی اب تو رحیم اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائے گا اس کے سارے کام خیرا کو ہی کرنے تھے

چندہ بھی اپنے باپ کو سمبھال نا پاتی, وہ چندا کو بھی اب کام پر اکیلے بھیجنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی اور نہ خود رحیم کو چھوڑ کر کام سے جا سکتی تھی

گھر کے اخراجات پورے کیسے ہونگے کوئی سدباب نہیں مل رہا تھا اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا

#####

بی بی جی وہ ……..

خیرا تمہیں میں ہزار بار بول چکی ہوں کہ جب اس طرح لگاتار میں چھٹیاں کرنی ہو تو کم از کم مجھے بتا دیا کرو تا کہ میں تمہارے آسرے میں تو نہ رہو,,

صبح ہی گھسیٹ گھسیٹ کر اپنے کام نمٹانا شروع کردوں پر تمہیں تو عادت ہے کہ بغیر بتاۓ چھٹیاں کرنا تاکہ میں تمہیں آنے کا یہ نام بول دو راشدہ بنا کچھ سنیں اپنا اسکا خیرا پر نکال رہی تھی

ایک تو تم نے بھی آنا چھوڑ دیا اپنی بیٹی کو بھیجتی تھی اس کو بھی نہیں بھیجا کئی دن سے ……

بی بی جی آپ میری پوری بات تو سن لیں

خیرا اپنی صفائیاں دینے کی ناکام کوشش کر رہی تھی

ہاں بولو تم بھی یہی پولو گی نہ کہ تمہارے گھٹنوں میں درد تھا یا موبائل میں بیلنس نہیں تھا

راشدہ اپنے ہی انداز اخذ کئے جا رہی تھی

خیرا کے نہ انے سے راشدہ کے کام پورے نہیں ہو رہے تھے اور یہ بات راشدہ کے شوہر عمران کو بالکل بھی پسند نہیں تھیں اتنے دنوں سے وہ عمران کی کڑوی کسیلی باتیں سن رہی تھی تو آج سارا غصہ خیرا پر نکل رہا تھا

اب بولو بھی کیا بول رہی تھی

خیرا کو خاموش دیکھ کر وہ بولی

میرے میاں کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے بی بی جی

وہ بستر سے اٹھ نہیں سکتا اب

اس کے لئے چلنا پھرنا بھی مشکل ہے کچھ مہینوں تک, مجھے 24گھنٹے رحیم کے پاس ہی رہنا پڑے گا اب شاید میں کام پر نہ آ سکو

اور سب باجیوں کو بھی یہی بتانے آئی تھی میں کہ اگر ممکن ہو تو میرا حساب کر دی آج……

خیرا یہ بتاتے بتاتے ہی رونے لگی

اس کا شوہر کوئی کام نہیں کرتا تھا پر تھا تو تندرست اس کی آنکھوں کے سامنے…..

کیسے ہو گیا ایکسیڈنٹ راشدہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بولی کیوں کہ جتنی عزت وہ اسے ابھی لے چکیں تھی اس پر اس کو پچھتاوا ہونے لگا تھا

پتہ نہیں باجی کچھ اندھے آوارہ لڑکے بائیک پر ریس لگارہے تھے اسی کے بیچ میں آگیا رحیم,,,, وہ تفصیل بتانے لگی

لیکن اگر تم اب سب جگہ کام چھوڑ دوں گی تو گزر بسر کیسے کروں گی میرے خیال میں گھر کے اخراجات تم اور چندا ہی تو دیکھتی ہو

راشدہ کو اب فکر ہونے لگی تھی کہ خیرا کے بغیر اس کا کیا ہو گا

کیوں کہ یہ پہلا گھر تھا جہاں خیرا صرف کھانا پکانے کے علاوہ گھر کا سارا کام کرتی تھی اب راشدہ کو فکر لاحق ہوچکی تھی کہ خیرا چلی گئی تو ماسی ڈھونڈنا بھی ایک الگ مصیبت ہے

اچھا خیرا تم کل آ جانا میں تمہارا حساب کر کردونگی راشدہ نے کچھ سوچتے ہوئے حساب آج نہ دینے پر معذرت کر لی

وہ بھی اچھا بی بی جی کہتی ہوئی گھر سے نکل گئی

#####

پلیز عمران آپ میری بات کو سمجھے

مجھے اب اتنی مناسب تنخواہ میں کوئی ماسی نہیں مل پائے گی اور ویسے بھی چندا تو بہت ہی معصوم اور کم گو لڑکی ہے اگر اس کو میں اپنے گھر پرمننٹ کام پر رکھ لوں تو میرا بھی مسئلہ حل ہوجائے گا اور بچاری خیرا کا بھی گزر بسر مشکل نہیں ہوگا

راشدہ عمران کو راضی کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ چندا کو مستقل گھر میں نوکری پر رکھنا چاہتی ہے جبکہ عمران تو ماسیوں کے نام اور کام دونوں سے چڑتا تھا

پپلیز عمران میری مجبوری ہے میں زیادہ چل پھر بھی نہیں سکتی…. راشدہ عمران کی طرف ملتجیانہ نظروں سے دیکھ کر بولی

ععمران کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کے گھر پر کوئی لڑکی مستقل نوکری پر رہے پر راشدہ کی مجبوری کے آگے وہ بھی مجبور ہوگیا

#####

بیٹا آج تم بھی میرے ساتھ چلو

رراشدہ بی بی کے گھر کا حساب ایک رہ گیا تھا انہوں نے آج بلایا ہے مجھے

خیرا نے چندہ کو آگاہ کیا

للیکن اماں میں بھی چلی جاؤں گی تو ابا کے پاس کون ہوگا وہ سوالیہ انداز میں بولیں

وہ تو دوائی کھا کر سو چکا ہے اس کے اٹھنے سے پہلے ہم آ بھی جائیں گے تو بس تیار ہوجا جلدی

جی اما کے کر چندہ تیار ہونے چلی گئی

#####

یار اس دن وہ اچھی بھلی ہمارے چنگل میں آ رہی تھی بچ کے نکل گئی آصف نے مٹھیاں بھیجتے ہوئے کہا ہاں یار اور اس دن کے بعد سے وہ ابھی نہیں رہی

ایک اور دوست نے بتایا……

چلو چھوڑو جانے بھی دو اسے کبھی نہ کبھی تو پھر نظر آ ہی جائے گی اس راستے پر کیوں کہ یہ کام کاج کرنے والیاں ہوتی ہیں نہ ان لوگوں کا دن بھی نہیں گزرتا جب تک گھوم ننہ لیں کہیں

آصف سارا سارا دن راشدہ کے محلے کی گلیوں میں اپنے دوستوں کے ساتھ بنا کسی مقصد کے آآوارہ گرددی کرتا رہتا تھا چھوٹے موٹے جرائم کرنا لڑکیوں کو چھڑتے رہنا اور بے مقصد گفتگو کرنا اس کا معمول تھا

ااس وقت بھی ان کا موضوع گفتگو چندا تھی جو اس دن ان کے قابو آتے آتے رہ گئی تھی

#####

آآپ کہیں تو ٹھیک رہی ہیں باجی خیرارراشدہ سے بولی

جو اسے سمجھانے میں لگی تھی کہ وہ صرف سلائی کرکے کیسے اپنے گھر کا خرچہ پورا کر ئے گی بہتر تو یہی ہے کہ چندہ کو میرے گھر نوکری پر چھوڑ دے اس طرح میرا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور خیرا خود بھی مسائل سے نکل پائے گی

للیکن باجی مجھے چندہ کے ابا سے پوچھنا پڑے گا ان کی اجازت کے بغیر میں آپ کو کوئی جواب نہیں دے سکتی ……

چندا بت بنی اپنی ماں کی شکل دیکھ رہی تھی جو اسے ایسے ہی کسی غیروں کے گھر چھوڑنے پر آمادہ ہو گئی تھیں

ٹھیک ہے تم پوچھ لینا اپنے شوہر سے لیکن بہت سوچ سمجھ کر جواب دینا مجھے میں چندا کا پورا خیال رکھوں گی اور اس کے ساتھ ساتھ پرکشش تنخواہ بھی ملے گی

رراشدہ نے خیرا کے دل پر لالچ کی چنگاری پھینکی تھی جس سے اس کے دل سے شعلے نکلنا شروع ہو گئے تھے

#####

ااماں یہ کیا کہہ رہی تھی تم باجی کے گھر کیا تم ایسے ہی مجھے وہاں چھوڑ دوں گی چندا روتے ہوئے اپنی ماں سے لپٹ کر بولی

ببیٹا تم سمجھ نہیں پا رہی ہم نوکری چھوڑ نہیں سکتے کسی بھی حال میں

لیکن میں بھی نہیں جاسکتی تیرے ابا کی وجہ سے اور تجھے بھی اکیلے نہیں بھیج سکتی اسی لیے تیرے ہی لیے تو میں نے یہ قدم اٹھایا ہے

ااور اب تو تیرے ابا نے بھی اجازت دے دی ہے

چندا اپنے باپ کی ذمہ داری نہیں سنبھال سکتی تھی لیکن شاید وہ چھوٹی سی بچی گھر کی ذمہ داری اٹھا سکتی تھی………

یہی سوچ کر خیرا نے اپنا فیصلہ چندہ کو سنای

ااور ویسے بھی تجھے تو بڑے بڑے گھروں میں رہنے کا شوق ہے نہ تو اب تم اپنا شوق بھی پورا کر لینا

ااماں نے اسے اس کا بچپن کا شوق یاد دلایا

یہ بات سنتے ہی چندہ نے اپنے آنسو جلدی سے صاف کیے اس کی آنکھیں خوشی سے چمک گئی تھی اب اس کا خواب پورا ہونے جارہا تھا وہ ایک بڑے سے گھر میں رہے گی وہ خوشی سے سوچنے لگی مگر وہ یہ بھول گئی تھی کہ وہ نوکرانی بن کر جا رہی ہے مالکن نہیں………

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *