Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasoor Kis Ka (Episode 03)

Kasoor Kis Ka by Yusra Mehmood

راشدہ کا گھر تھوڑے سناتے والے علاقے میں تھا وہاں مغرب کے بعد ہی اندھیرا پھیل جاتا تھا صرف آتی جاتی گاڑیوں کی لائٹس سے نکلتی ہوئی روشنی پڑتی تھی لیکن ایسا بالکل نہیں تھا کہ وہاں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں عام ہو, وہاں کے رہائشی وہاں پر پرسکون زندگی گزار رہے تھے بنگلے میں بنے ہوئے گھروں میں سے نہ کسی کی آواز باہر جاتی تھی اور نہ باہر کی آوازیں اندر آتی تھیں

راشدہ عمران کے نکلنے کی ایک گھنٹے بعد تک آصف اور اس کے دوست وہیں بیٹھے رہے جب تک پورا اندھیرا نہ ہوجائے وہ جانے کا نہیں سوچ سکتے تھے آخرکار آٹھ بجے وہ لوگ اپنے پلان کو عملی جامہ پہنانے اٹھے اور گھر کے پچھلی طرف سے ان کی چھت پر کودنے میں کامیاب ہوگئے چھت کا دروازہ کھلا مل گیا

اس تمام واردات کا ٹائم انہوں نے آدھا گھنٹہ فیکس کیا تھا ان کے پلان کے مطابق یہ سب آدھے گھنٹے میں ہو جانا چاہیے تھا اپنے پلان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے چاروں نے فسٹ پورشن کی طرف جاتی ہوئی سیڑھیوں پر قدم بڑھا دئیے

#####

چندا راشدہ عمران کے جانے کے بعد اوپر والے پورشن میں آ گئی تھی کچھ دھلے ہوئے کپڑے تھے ان کو تہ لگانی تھی

ٹی وی اس نے ان کر لیا تھا تاکہ بوریت کا احساس نہ ہو

ٹی وی کی آواز بھی بہت مدہم تھی چندہ ٹی وی دیکھنے میں مگن تھی ساتھ ساتھ اپنا کام بھی جاری کئے ہوئے تھی اس لیے وہ ہلکی سی آہٹ بھی نہ سن سکیں کہ اچانک لاؤنج کا دروازہ کھلا

اور اسے وہ چاروں بدمعاش گیٹ پر نظر آئے چندا کی تو جیسے سانس رک گئی وہ بدحواسو کی طرح بھاگنے لگی تو جلدی سے آصف نے آکر اس کو دبوچ لیا اور منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا چندا اپنے آپ کو اس کی مضبوط گرفت سے چھڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگی مگر بے سود دہشت سے چندہ کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھی اور آنسوؤں کی لڑی اس کے گالوں کو گیلا کر رہی تھی وہ چاروں بھی بوکھلا گئے تھے ان کو بالکل توقع نہیں تھی کہ گھر کے اندر کوئی موجود ہوگا

اب کیا کریں آصف کے ایک دوست نے سوالیہ انداز میں آصف سے پوچھا

جو جو میں پوچھوں اس کا جواب گردن ہلا کر ہاں یا نہ میں دو اور خبردار کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو ورنہ یہ ساری گولیاں تیرے دماغ میں اتار دوں گا آصف نے اپنے بائیں ہاتھ سے چنداں کے منہ کو جکڑا ہوا تھا اور دائیں ہاتھ سے پستول اس کے دماغ پر رکھی ہوئی تھی

گھر میں اس وقت تمہارے علاوہ اور کون ہے آصف میں چندہ سے پوچھتے ہوئے ہاتھ چندہ کے منہ سے ہٹا دیا

ک …. کوئی نہیں چندا کی گھٹی گھٹی آواز نکلی

کب تک آئیں گے گھر والے اور خبردار شور کرنے کی کوشش کی تو ورنہ اپنی موت کی ذمہ دار تم خود ہو گی…

آصف اور ان تینوں بدمعاشوں کو دیکھ کر ویسے ہی چندہ سہم گئی تھی وہ تو بچی تھی اسے خوف تھا تو صرف اپنی موت کا اس کے علاوہ وہ دوسری طرف سوچ ہی نہیں رہی تھی نہ اس کو کوئی چلا کی آتی تھی

اس نے سب ڈرتے ڈرتے آصف کو سچ بتا دیا کہ گھر والے ایک بجے تک آئیں گے اور میں اس گھر کی نوکرانی ہوں

یہ سوچ کر کہ اب یہ لوگ مجھے چھوڑ دیں گے آصف نے اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور شاطرانہ ہنسی ہنسا

تو کیا خیال ہے پھر دوستوں …

اس نے مکروہ انداز میں اپنی غلاظت سے بھر ی زبان اپنے ہونٹوں پر پھیریں اور دوستوں کی طرف آنکھ مارتے ہوئے اپنی شیطانی رائے دی

آصف کے باقی دوست بھی شیطانی مسکراہٹ لیے چندہ کی طرف بڑھنے لگے…

آصف اگر ہم اس سب میں اپنا ٹائم برباد کریں گے تو جو ہم کرنے آئے ہیں وہ سب دھرا کا دھرا رہ جائے گا آصف کے ایک دوست نے بیچ میں مداخلت کرنی چاہیے

نہیں سنا نہیں کہ کیا کہہ رہی ہے یہ,

کہ وہ لوگ ایک بجے تک آئیں گے جب تک تو ہم چاروں عیاشیاں سے فارغ ہو کر اپنا مطلوبہ پلان بھی عملی جامہ پہنا دیں گے

اور ویسے بھی یہ اس دن تو ہمارے ہاتھوں سے بچ کر نکل گئی تھی

آصف نے اپنا غلیظ ہاتھ چندا کے چہرے پر پھیرا… سب نے بھی تائید میں مکروہ ہنسی اچھالی

سب سے پہلے ان لوگوں نے ایک رسی ڈھونڈیں اس سے چندہ کے ہاتھ باندھ دیے ہیں چندا مزاحمت کرتی رہی پر ان چاروں پر تو شیطان سوار تھا پھر ایک کپڑا ان لوگوں نے اس کے منہ میں ٹو سااور پھر آصف مطمئن ہوکر اس کو اٹھا کر بیڈ روم میں لے آیا اؤر بیڈ پر پٹک دیا……

چندہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو رواں تھے وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے نادان تو بس ان چاروں کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئی تھی اور دل ہی دل میں اپنے رب سے مدد مانگ رہی تھی…..

بیڈ پر پڑی چندہ پر کسی کو ترس نہ آیا اور چاروں نے باری باری چندہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا 😭…..

#####

آآج تو بہت ہی تھکن ہو گئی ہے …..

راشدہ گاڑی میں بیٹھی سیٹ بیلٹ ککھولتی ہوئی بول رہی تھی

ہاں واقعی, عمران نے بھی تائید کی

ان لوگوں کو آتے آتے دو بچ گئے تھے چندا تو سو گئی ہوگی نہ….. عمران کو فکر ہوئی,

ہاں وہ کہہ رہی تھی کہ وہ سو جائے گی خوش بھی بہت تھی کل خیرا آئے گی اسے لینے

وہ دونوں لاک کھول کر اندر آگئے نیچے پوشن میں انہیں کوئی چیز غیر معمولی نہیں لگی …

عمران اندر آکر گیٹ لاک کرنے لگا جبکہ راشدہ چندہ کو دیکھنے اسے اس کے کمرے کی طرف جانے لگیں کیونکہ کچن اور چندہ کے روم کی لائٹ معمول کے خلاف بن تھی جو کہ چندہ کبھی بند نہیں کرتی تھی راشدہ چندہ کو اس کے روم میں دیکھنے گئی تو چنداں وہاں نہیں تھی ……

شاید کام کرتے کرتے چندا اوپر ہی سو گئی ہوگی اس نے دل کو تسلی دیتے ہوئے عمران کو آگاہ کیا

کیا ……

میں نے تم سے کہا تھا نہ کے میرے سامنے اسے نیچے ہی رکھا کرو عمران غصے سے بولا …..

ہاں وہ تو ٹھیک ہے پر شاید اس کی آنکھ لگ گئی ہو گی…..

وہ پریشان ہو گئی تھی کہ کہیں عمران کا موڈ بھی خراب نہ ہو جائے

عمران غصے میں اور راشدہ اس کے غصے سے ڈرتی ہوئی ….

دونوں اوپر کی طرف سیڑھیوں پر قدم بڑھانے لگے…

#####

رات کے گیارہ بج چکے تھے ان چاروں کو اب فکر لاحق ہو گئی تھی کہیں گھر والے جلدی واپس نہ آ جائیں آصف نے حد شاظاہر کیا ……

جب شیطانیت کا بھوت اترا تو دھندلی دھندلی حقیقت ان پر آشکارہ ھونے لگی

یار سب چھوڑ اب بھاگتے ہیں یہاں سے….

ابھی تھوڑی دیر پہلے آصف کا جو دوست آصف کو درندگی نہ کرنے کی صلاح دے رہا تھا اب وہی اپنی شرٹ کے بٹن جلدی جلدی بند کرتا ہوا آصف اور باقی دوستوں کو بھاگنے کا مشورہ دے رہا تھا ….

کیسی ہوتی ہے نہ شیطانیت…

پل بھر میں حیوان کو بھی درندہ بنا دیتی ہے راشدہ کے گھر میں ان لوگوں کا اتنی دیر رکنے کا ارادہ نہیں تھا پر چندہ کو دیکھ کر ان کے اندر کا بھیڑیا جاگ گیا تھا اور اب رات زیادہ ہونے کے ڈر سے وہ لوگ جلدی بھاگنے کی سوچ رہے تھے

نیم مردہ سی چندا پر نظر ڈال کر تینوں دوسرے کمرے میں آ گئے چندہ کو ابھی بھی انہوں نے رسیوں سے باندھا ہوا تھا البتہ اس کے منہ میں ٹھو سا ہوا کپڑا نکال دیا گیا تھا مبادا اگر مر مرا گئی تو اور الٹی مصیبت گلے پڑ جائے گی

موقع اور گلی میں سناٹا دیکھ کر وہ چاروں راشدہ کے گھر سے نکل ائے اسلام آباد کی ٹکٹ وہ کرا چکے تھے پر ہاتھ میں ایک روپیہ بھی نہیں تھا

تو وہاں تو وہ لوگ نہیں جاسکتے تھے انہوں نے سوچا اپنی جگہ تبدیل کرلیتے ہیں فلحال تو شہر نہیں بدل سکتے پیسوں کا انتظام ہوتے ہیں شہر بھی بدل لیں گے

اور ویسے بھی ہم نے کوئی چوری چکاری تو نہیں کی کہ تھانے میں کیس چلے اس جرم میں تو ہم ویسے بھی نہیں پکڑے جائیں چندا لڑکی ذات ہے ہمارا نام بتا کر اپنی عزت کو داؤ پر تھوڑی لگائے گی وہ…..

وہ لوگ یہی سوچ کر مطمئن ہو گئے

####

راشدہ نے چیخ کر چندہ کو آواز دی تھی اوپر پہنچ کر ہی عمران اور راشدہ کو کپڑے ادھر ادھر پھیلے ہوئے نظر آئے پر چندہ نظر نہ آئیں ان دونوں کا تو حلق خشک ہونے لگا

بیڈروم پہنچے تو نیم مردہ حالت میں چندا بیڈ پر پڑی تھی اس کے ہاتھوں کو رسیوں سے باندھا گیا تھا راشدہ چیختی ہوئی چندا کے پاس آئی

جلدی جلدی اس کے ہاتھوں کو رسیوں سے آزاد کیا ہاتھوں پر نیل پڑ چکے تھے

بیڈ پر کی سلوٹیں تھی لیکن چندہ کے لباس کی سلوٹوں کے آگے وہ بھی ماند پڑگئی عمران نے دوسری طرف رخ موڑ لیا تھا

چندا کا لباس چیخ چیخ کر اپنے تار تار ہونے کا اعلان کر رہا تھا جو عمران کو اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنے کے باوجود سنائی دے رہا تھا

چندہ آنکھیں کھولو چندا….

راشدہ روتی ہوئی چندا کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی پر چندہ آنکھیں بند کیے لب بند کیے بے سود پڑی تھی ہلکی پھلکی سانس اس کی چل رہی تھی راشدہ اس سے لپٹ کر بری طرح رو رہی تھی ….

عمران ایمبولینس منگوائی جلدی راشدہ کی آواز پر عمران ہر بڑا کر ہوش میں آ گیا اسے ایمبولینس منگوانی تھی کسی کی زندگی بچانی تھی

####

ایمبولینس کے آتے ہی گلی میں ایک شور برپا ہو گیا تھا

سب راشدہ اور عمران سے سوالات کر رہے تھے ایسے سوالات جن کے جوابات خود ان کے پاس نہیں تھے آج وہ دونوں اپنے آپ کو چندا کا قصوروار مان رہے تھے

اے اللہ چندا کو زندگی دے دے….

عمران جو چندا کو ایک بچی کے بجائے ایک نوکرانی سمجھتا تھا آج وہ چندا کے لئے رو رہا تھا بلک رہا تھا یہ انہی لوگوں کا تو کیا دھرا تھا

دونوں اپنے کئے پر شرمسار تھے وہی تو اسے اتنی رات گئے گھر میں چھوڑ کر جاتے تھے

پتہ نہیں جب ہم دوسروں کے بچوں کی صحیح سے دیکھ بھال نہیں کر سکتے تو ان کی ذمہ داری کیوں قبول کرتے ہیں

چندا صرف اپنی اجرت کی حقدار تو نہ تھی بلکہ اپنی عزت اور معصومیت کی حفاظت کی بھی حقدار تھی اجرت تو اس کو ملتی رہی اور اس کی عزت اور اس کی معصومیت اس سے چھین لی گئی

آہ کیسے برداشت کیا ہوگ چندا نے یہ ظلم

چندہ کی معصومیت چین جانے کے بعد راشدہ کے اندر کی عورت جاگی تھی پر اب اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا

میڈم یہ پولیس کیس ہے آپ پہلے فارم فل کر دیں تب ہی ہم بے بی کا ٹریٹمنٹ شروع کریں گے راشدہ نے فورا فارم فل کرنے کے لیے اپنے ہاتھ میں لے لیا اب اسے یہ فکر نہیں تھی کہ یہ پولیس کیس ہے معاشرے میں بدنامی ہوگی اسے ایک معصوم بچی کی جان بچانی تھی جو اس حال تک صرف اسی کی وجہ سے پہنچی تھی

####

خیرا کا دل بہت ڈوب رہا تھا پتہ نہیں کیا بہت برا ہونے والا تھا گھبراہٹ کی وجہ سے اسے اپنا سانس لینا بھی مشکل لگ رہا تھا چندہ اسے چیخ چیخ کر بلا رہی ہے ایسا محسوس ہو رہا تھا اسے… پر رات کے اس پہر وہ کیسے جائے گی وہاں… یہی سوچ کر وہ ساری رات اپنے دل کو بہلاتی رہیں دعا مانگتی رہی کہ جلدی سے صبح ہو جائے اور وہ چندہ کے پاس پہنچ جائے..

####

پولیس ہسپتال پہنچ چکی تھی راشدہ اور عمران بھیگی آنکھوں سے پولیس کو ساری رپورٹ دے رہے تھے

آج ان کو کسی پولیس کسی جیل کا ڈر نہیں تھا فکر تھی تو صرف چندہ کی

اللہ اس کو زندگی دے دے ورنہ وہ خود کو ساری زندگی معاف نہ کر پائیں گے

اپنے جانے اور واپس آنے کی ٹائمنگ کے بارے میں تو عمران نے پولیس کو آگاہ کردیا تھا باقی کی تفتیش چندہ کے بیان پر منحصر تھی اس کے علاوہ پولیس نے اس گلی کے آگے اور پیچھے سے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی چیک کرنے کے لئے اپنے اہلکار بھیج دیے تھے جو کہ مجرموں کو پکڑنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتی

####

صبح کے چھ بج رہے تھے پولیس اسپتال سے تفتیش کرکے جا چکی تھی چندہ کے جسم پر بری طرح کٹنی اور نوچے گئے زخم کے نشانات تھے ابھی اور بھی ٹیسٹ ٹیسٹ ہونا باقی تھے چندہ کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا فی الحال ڈاکٹر نے آکر ابھی کچھ نہیں بتایا تھا

ہمیں خیرا کو اب بتا دینا چاہیے عمران نے سوالیہ نظروں سے راشدہ کو دیکھا تھا

بتانا تو پڑے گا ورنہ وہ صبح 10بجے گھر پہنچ جائے گی راشدہ پریشانی سے بولی

####

خیرا پانچ بجے ہی اٹھ گئی تھی عجیب سی گھبراہٹ اس کو گھیرے ہوئی تھی

نماز پڑھی چندہ کے لئے ڈھیر ساری دعائیں کی یااللہ چندا کی خیر ہو

اتنے میں اس کے ٹوٹے پھوٹے موبائل پر بیل بج رہی تھی کس کا فون ہوسکتا ہے اس وقت….

اس نے پریشانی سے سوچا اور موبائل کانوں سے لگایا

ہیلو…

ہیلو خیرا ……دوسری طرف راشدہ تھی

راشدہ کی آواز اس وقت سنکر خیرا پریشان ہو گئی جی باجی کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا ہاں…. سب خیریت ہے بس چندہ کو چکرا گئے تھے وہ ہاسپٹل میں ہیں تم آنا چاہو تو وہیں پر آنا

کیا ہوا ہے چندہ کو خیرا روہانسی ہو گئی….

ایسا کچھ نہیں ہوا تم پریشان نہیں ہوں راشدہ خیرا کو تسلی دلاتے ہوئے بولی

بس معمولی سے چکر تھے ابھی اس کو ہوش آنے میں ٹائم لگے گا اگر تم آسکو تو وہیں پر آجان

اچھا باجی میں پہنچتی ہو خیرا بمشکل بولی

پتا نہیں کیا ہو گیا ہے چندا کو ….

وہ اپنے آنسو اپنے پلو سے صاف کرنے لگی

خیرا فورن رحیم کو لے کر اسپتال پہنچی….

ابھی تک ڈاکٹر نہیں آئے تھے

خیر ابھی لاعلم تھی کہ اس کی بیٹی پر کیا بیت چکی ہیں کیسی قیامت تھی جو ننھی سی جان اکیلے ہی برداشت کر گئی

####

وہ چاروں اس علاقے سے کافی دور آ گئے تھے لیکن رہائش کا انتظام ایک مشکل ترین کام تھا پہلے تو وہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی رہتے تھے سارا دن آوارہ گردی کرتے پھر اپنے گھروں میں چلے جاتے لیکن اب انھیں ایک رہائش کا انتظام کرنا تھا جو کہ بہت کٹھن مرحلہ تھا آخر کیوں کر دیا یہ سب ہم نے

آصف جھنجھلا گیا ان چاروں کے چہروں پر ندامت ہی ندامت ہی سوچا بھی نہیں تھا جو پلاننگ ہم اتنی آسانی سے کر رہے ہیں وہ اتنی مشکل ہوجائے گی اپنے شہر میں رہنے کا بندوبست نہیں ہو رہا دوسرے شہر جا کر کیسے کرتے ….

ان کے پاس کچھ پیسے بھی نہیں تھے اور وہ چاروں اب اندر سے پچھتا رہے تھے کہ اگر وہ اپنے نفس پر قابو رکھتے تو ایک موٹی رقم ان کے ہاتھ ہوتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *