Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasoor Kis Ka (Episode 02)

Kasoor Kis Ka by Yusra Mehmood

آج اس کے دل کی کیفیت عجیب تھی وہ خوش ہو یا دکھی ,ایک شاندار گھر میں رہنے کا موقع مل رہا تھا مگر اپنی ماں کی ممتا تو وہ پیچھے چھوڑ گئی تھی

اس نے اماں کو بہت اداس نظروں سے الوداع کیا تھا وہ یہاں رہنا بھی چاہتی تھی اور نہیں بھی اپنی اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی وہ ….

یہ گھر ڈبل بنا ہوا تھا امریکی طرز پر تیار کئے گئے فرش, کچن اور باتھ روم اپنی مثال آپ تھے

چندا کو اسی طرح کے گھر بہت دلکش لگتے تھے ابھی بھی وہ انہی سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ راشدہ کی آواز پر چوکی….

آؤ میرے ساتھ راشدہ چندا کو سیڑھیوں سے نیچے کی طرف لے کر جانے لگیں وہ خود تو اوپر والے پورشن میں رہتی تھی وہ چندا کو بھی اوپر ہی رکھتی لیکن پھر عمران کے ڈر سے اس نے چندہ کے رہنے کا انتظام نیچے کر دیا تھا

کچن کے برابر میں ایک پتلی سی رہداری کو پار کر کے کونے میں ایک کمرہ بنا ہوا تھا

یہ ہے تمہارا کمرا…..

راشدہ نے چندا کو مخاطب کیا ….

جی ….چندا حیرت میں ڈوب گئی یہ کمرہ باقی کمروں سے بالکل الگ تھلگ بنایا گیا تھا وہ پتلی سی راہداری اسے گھر کے باقی کمروں سے اور الگ کر دیتی تھی یہ کمرہ بالکل چندہ کی سوچ سے مختلف تھا وہی مٹی کا فرش دیواروں پر چونا سائٹ پر ایک پلنگ بچھا ہوا تھا چھت کے پنکھے کی جگہ سائٹ پر ایک اسٹینڈ فین لگا رکھا تھا سائٹ پر ایک چھوٹی سی سیمنٹ کی الماری بنی ہوئی تھی

عمران نے راشدہ کو سختی سے منع کر دیا تھا کہ وہ چندہ کو اوپر والے پورشن میں نہیں رکھے گی عمران کے کہنے کے مطابق مجھے اپنے پورشن میں بالکل ڈسٹربنس نہیں چاہیے

اسی لئے راشدہ نے چندہ کا کمرہ نیچے ہی سیٹ کردیا تھا

تم یہاں اپنا سامان سیٹ کردو راشدہ نے اس کا دھیان الماری کی طرف کی جو نہ جانے ان سوچوں میں گم تھی ….

جی اچھا…… چندا اپنا سامان الماری میں رکھنے لگی جس میں دو تین سوٹ کے علاوہ کچھ نہ تھا چلو کوئی بات نہیں یہاں تو مجھے بس سونا ہی ہو گا رات کو باقی سارا دن باجی کے ساتھ ہی گزاروں گی وہ سوچتے ہوئے اپنے دل کو تسلی دینے لگی

#####

خیرا چندہ کو راشدہ بی بی کے گھر تو چھوڑ آئی تھی پر اس کا دل بھی وہیں رہ گیا تھا نہ جانے کیا کررہی ہوگی کھانا کھایا ہو گا یا نہیں اس کی اکلوتی بیٹی آج اس کو بے پناہ یاد آئیں اپنے ساتھ اس کو کام پر لے کر جاتے تو ڈھارس رہتی تھی آج اس سے دور گئی تو کسی پل چین نہیں آ رہا تھا

لڑکیاں تو پرای ہوتی ہیں اتنا کیا سوچنا آج نہیں تو کل اس کو جانا ہی تھا اچھا ہے پہلے سے مجھے اس کے نہ ہونے کی عادت ہو جائے گی اس نے اپنے آنسو صاف کیے پھر پانچ مہینے بعد تو میں اس کو لے ہی اوگی رحیم بھی چنگا ہوجائے گا تو پھر کوئی مسئلہ نہ ہو گا وہ اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھی

#####

دیکھو تم بلاضرورت اوپر نہیں آنا تم ناشتہ بنا دینا میں نیچے لینے آ جاؤ گی مغرب کے بعد بھی تم نیچے ہی رہنا عمران آ جاتے ہیں تو انھیں گھر میں کسی اور کی موجودگی سے ڈسٹربنس ہوتی ہے باقی کام میں تمہیں کل صبح سمجھا دو گی راشدہ اسے سمجھا کہ اپنی راہ چلی گئی

نیچے پورشن کی فالتو لائٹوں کو بھی بند کردیا گیا رات میں چندہ کے کمرے اور اس سے ملحقہ کچن کی لائٹ کھولنے کی اجازت دی گئی تھی نیچے کا پورشن ویسے تو استعمال میں تھا لیکن مغرب کے بعد وہ زیادہ تر خالی ہی رہتا تھا دو افراد کے لیے اوپر کا پورشن کافی تھا اوپر عمران اور راشدہ کا بیڈروم بھی تھا تو وہ رات کو زیادہ تر اوپر ہی وقت گزارتے تھے

رات کا سنّاٹا اس کو کھانے کو دوڑ رہا تھا اسے اماں کی بہت یاد آئی جو اس کے ساتھ اس کے برابر والے پلنگ پر ہی سوتی تھی جہاں سے وہ آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھتی تھی اور یہاں سے تو اسے آسمان پر چمکتے تارے بھی نظر نہیں آئیں گے جو کم از کم اسے روشن امید تو دیتے تھے یہاں تو تاریکی اور تنہائی تھی بس……..

ااور یہاں وہ میلہ تکیہ بھی نہیں تھا جس پر آنسوؤں کے دھبے اپنا نشان چھوڑ جاتے تھے یہاں کے صاف اور دھلے ہوئے تکیوں پر اس کے آنسو غائب ہی ہو گئے تھے

#####

صبح 6 بجے ہی راشدہ اس کے سر پر کھڑی تھی بمشکل چار بجے تو وہ ڈر ڈر کر سوئی تتھی نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس کا سر درد کر رہا تھا راشدہ کے کہنے کے مطابق عمران کو آٹھ بجے آفس کے لئے نکلنا تھا تو جب تک چندا فریش ہوجائے اور سات بجے تک ناشتہ ریڈی کر لے …..

نا چار اس کو ااٹھنا ہی پڑا آج پہلا دن تھا تو راشدہ نے اسے کچن اور کچن کی چیزوں کے بارے میں سمجھایا تھا کہ اسے کوئی مشکل نہ ہو کہ کون سی چیز کہاں رکھی ہے

چندا کو سمجھا کہ وہ اوپر چلی گئی ناشتہ لے کر …..

ناشتہ کرکے چندا نے کچن کے کیبنٹ کی صفائیاں کرنی تھی جو رراشدہ اسے کام دے کر گئی تھی…

باہر ہونے والے شور سے اس کو اندازہ ہو گیا تھا کہ عمران بھائی جا رہے ہیں

بچی تو تھی وہ غیر ارادی طور پر کچن سے جھانک کر دیکھا تو سامنے ہی عمران کھڑا تھا, عمران نے ایک عاجزانہ نظر چندہ پر ڈالی اور آفس کے لئے نکل گیا

#####

عمران کی نیت خراب نہیں تھی وہ اس لئے فکر مند تھا کہ لڑکی ذات ہے کچھ اونچ نیچ ہوگی تو ہماری ہی گھر میں رہتی ہے ہم ہی جواب دہ ہوں گے سب کے آگے…

وہ یہی بات کافی دن سے راشدہ کو بھی سمجھآ رہا تھا کہ تم چندا کو گھر میں رکھنے کا رسک نالو

میں دوسری ماسی ارینج کردونگا گھر پر….

اس طرح چندlکو اپنے گھر رہنے سے اس کی ساری ذمہ داری ہم پر آجائے گی اور اس کے علاوہ وہ ماسیوں کو گھر میں رکھنے کے بھی بالکل حق میں نہیں تھا کسی کے چہرے پر اس کی ایمانداری کا بورڈ تھوڑی لگا ہوتا ہے کب کوئی گھر کا صفایا کر جاتا تو کون ذمہ دار ہوتا ہے اس کا اسی لئے وہ ڈرتا تھا

لیکن عمران کی بات راشدہ کے سمجھ میں نہیں آتی عمران کے سامنے وہ اپنا رونا گانا شروع کر دیتی تھی جس کی وجہ سے وہ بھی مجبور ہو گیا تھا اور اب اس ٹاپک پر بات کرنا اس نے بند کر دیا تھا

#####

آصف کے چھوٹے موٹے جرائم بڑھتے ہی جارہے تھے اور اب وہ اور اس کے دوست ان چھوٹی موٹی چوریوں سے پریشان تھے سب کے پاس تھوڑا تھوڑا حصہ آتا اور وہ ان میں پورا بھی نہ ہوتا تھا

اب ان لوگوں کا پلان ایک بڑی چوری کی واردات کرنے کا تھا آصف کے ایک دوست کے پاس اس کے ابو کی پستول تھی جو اس نے اپنے ہی گھر سے انہیں وارداتوں میں استعمال کرنے کے لئے چوری کی تھی ان لوگوں کا پلان تھا کہ اب بڑی واردات کیا کریں گے اور پھر شہر تبدیل کرلیں گے اس طرح پکڑے بھی نہیں جائیں گے

#####

راشدہ کو مکمل آرام مل گیا تھا گھر کے سارے کام راشدہ نے چندہ کے سپرد کر دیے تھے حتیٰ کہ اب وہ پانی پینے کے لیے بھی اٹھنے کی زحمت نہ کرتی…….

اایک پرکشش تنخواہ پر رکھی تھی اس نے نوکرانی….. تو فل ٹائم اس کی قیمت بھی وصول کرنی تھی

#####

راشدہ کو چندہ کی عادت سی ہوگئی تھی وہ اب اسکے بغیر نہیں رہ سکتی تھی چندہ کو بھی آئے ہوئے دو ماہ ہوگئے تھے اس دوران عمران کا موڈ بھی کافی حد تک ٹھیک ہو گیا تھا

خیرا ہر ہفتے آتی اور چندہ کو دو دن کے لئے لے جاتی تھی پھر پیر کو واپس کام پر لے آتی تھی سب کی روٹین ٹھیک ہو گئی تھی یا پھر سب نے اسی روٹین میں اپنے آپ کو ڈھال لیا تھا

شروع شروع میں عمران اور راشدہ کو مسئلہ ہوتا تھا کہیں آنے جانے میں…..

چندہ چھوٹی تھی تو اس کو اکیلے گھر میں چھوڑ کے جانا بھی ایک بڑا مسئلہ تھا اور عمران چندہ کو اپنے ساتھ کہیں لے جانے پر کبھی بھی راضی نہیں تھا

اسی لیے جب عمران اور راشدہ کو کہیں جانا ہوتا تو عمران پورا گھر اچھی طرح لاک کر کے جاتا تھا اور چند ابھی گھر میں رہ لیتی تھی ….

چندہ کو بھی اب عادت سی ہوگئی تھی تن تنہا رہنے کی…..

آج بھی وہ بہت خوش تھی خیرا کو آنا تھا چندا کو لینے کے لئے وہ ابھی سے اپنا سامان رکھنے میں مصروف تھی

چندا…….

راشدہ اس کے کمرے کی طرف آ رہی تھی جی باجی…. چندا راشدہ کے آنے پر کھڑی ہو گئی تھی چندہ آج ہم لوگوں کو ایک جگہ بارات میں جانا ہے ہم لوگ سات بجے نکل جائیں گے رات شاید ایک دو بجے تک واپسی ہوگی……..

وہ کچھ توقف کو رکی ….

تو رک جاؤ گی نہ….. وہ سوالیہ انداز میں چندا کو دیکھ کر بولی…. کیوں کہ اس سے پہلے وہ ایک یا دو گھنٹے کے لیے ہیں کہیں جاتے تھے آج تھوڑا لمبا ٹائم تھا تو وہ پریشان ہو رہی تھی

نہیں باجی آپ جاؤ پریشان نہیں ہوں مجھے بھی اوپر والے پورشن کے کچھ کام نمٹانے ہیں وہ کرلوں گی جب تک پھرسو جاؤں گی آ کر کمرے میں ویسے بھی کل اماں نے آنا ہے مجھے لینے ….

وہ خوشی سے بتانے لگی

چلو ٹھیک ہے راشدہ بھی مطمئن ہو کر وہاں سے چل دی

#####

میں کل چندہ کا کام چھڑا کر گھر لا رہی ہوں ….

خیرا جو کہ رحیم کو کھانا دے رہی تھی اس کے آگے کھا نا کرتے ہوئے کہنے لگی….

پاگل ہو گئی ہے……

کیوں اپنے پیر پر کلہاڑی مار رہی ہیں وہ خوش تو ہے وہاں پر اور پھر اتنا اچھا کما لیتی ہے کہ تم دونوں بھی مل کر نہ کما پاؤ….

رحیم خیرا کو حقیقت دکھا رہا تھا…..

تو کچھ نہیں کرے گا اب تو بہت بہتر رہے پہلے سے ,چل سکتا ہے اپنا کام کرسکتا ہے میری اور چندہ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ تجھے لا لا کر روٹی کے نوالے منہ میں دیں

میری لاڈلی ہم سے دور بیٹھی ہمارے لئے پیسے کما رہی ہے تن تنہا رہی ہے تجھے کچھ احساس بھی ہے یا نہیں……

خیرا کی برداشت جواب دے رہی تھی اب اپنی اس بیٹی سے دور رہنا اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا یہ دو مہینے میں اس نے کتنی برداشت کے دل پر پتھر رکھ کر گزار دیے تھے ……

تو لے آ تیری مرضی پر یاد رکھنا میں تیرا اور تیری بیٹی بوجھ نہیں اٹھا سکتا ….

زندہ رہنا ہے تو میری ماں چندا کو وہی رہنے دے ہم سے زیادہ عیش میں رہ رہی ہیں وہ اور پھر اس کی تنخواہ سے ہمارا گھر بھی چل رہا ہے اور اس کا خرچہ بھی نہیں اٹھانا پڑا……..

یہ گھاٹے کا سودا بالکل بھی نہیں ہے

خیر آ رحیم کی باتیں سنتی رہی اس کا دماغ ان باتوں کو قبول کر رہا تھا پر دل نہیں

لیکن چندا نے کبھی بتایا بھی تو نہیں کہ وہ ک خوش نہیں ہیں……

خوش ہوگی وہ جبیں تو کچھ نہیں بولا وہ اپنے دل کو تسلی دینے لگی

خیرا کا بہت دل تھا کہ وہ چندا کو گھر لے آئے لیکن گھر کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے کیسے وہ چندہ کا جہیز جمع کرے گی ایک دفعہ بس اس کا جہیز جمع کر لو پھر میں چندا کو گھر لے آؤں گی وہ سوچ کر مطمئن ہو گئی

دماغ اور دل کی جنگ میں دماغ جیت گیا

#####

دو مہینے بیت چکے تھے پر آصف اور اس کے دوست ابھی تک کہیں چوری کی واردات کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے وہ روز محلے میں ادھر ادھر گھومتے لوگوں کے گھروں میں ھونے والی سرگوشیوں کو سننے کی کوشش کرتے لیکن نہ سود انہیں اب تک کوئی ایسا موقع نہ مل سکا تھا کہ وہ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنائے یا یہ کہہ لیں کہ وہ تجربہ کار نہیں تھے…..

ان کا منصوبہ یہ تھا کہ ہمیں سب گھروں کی رازداری سے خبر گیری رکھنی ہے جس دن بھی کسی گھر کے افراد کہیں جائیں گے اور گھر خالی ہوگا اسی دن ہم چوری کی واردات کر لیں گے اور فورا ہی یہ شہر چھوڑ دیں گے…

آج بھی وہ چاروں محلے کی گلیوں میں الگ الگ جگہ کھڑے ہو کر محلے کی سن گن لینے کی کوشش کر رہے تھے ….

آج آپ جلدی آجائے گا شادی کے لئے نکلنا ہے جلدی کیوں کہ وہاں وقت پر پہنچنا ہے …

آصف جو کہ راشدہ کے گھر کے پاس کھڑا تھا راشدہ کی آواز سے چوکا

ووہ اپنے موبائل میں ہی للگا رہا تتا کہ کسی کو شک نہ ہو….

یہ تو اس کو پتہ چل گیا تھا کہ یہ لوگ آج کہیں جائیں گے تو گھر بالکل خالی ہی ہوگا کیونکہ صرف اس گھر میں یہ دونوں میاں بیوی ہی رہتے ہیں یہ سوچ کر خوش ہوتے ہوئے وہاں سے ہٹ گیا کہ اب تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے بس گھر کے اندر داخل ہو جائیں کسی طرح پھر تو عیش کی ایش…..

وہ مکروہ سی ہہنسی ہہنسا اس نے سب دوستوں کو میسج کر کے ان سے آگا ہ کر دیا اور اسلام آباد کی ایمرجنسی ٹکٹ بک کروانے بھیج دیا تاکہ وہ واردات کر کے سیدھے ٹرین میں بیٹھ کر دوسرے شہر کوچ کر جائیں رات تین بجے کا انہیں ٹکٹ مل گیا تھا اور وہ چاروں پوری پلاننگ کے ساتھ 7بجے کا انتظار کرنے لگے….

#####

7 بجے ان چاروں نے گھر کے اس پاس الگ الگ پوزیشن سنبھال لیاور ان لوگوں کے گھر سے نکلنے کا انتظار کرنے لگے پھر ایک گھنٹے تک بھی وہیں بیٹھ کر سسچویشن دیکھنے کا پلان تھا ان لوگوں کا …..

تتاکہ پورا یقین کرلیں کہ اب گھر میں کوئی نہیں ہے …

گھر میں انٹری انہیں چھت سے کرنی تھی جو کہ رات کے اندھیرے میں مشکل کام نہ تھا چھت پر لگائے گئے تالا توڑنے کے لئے بھی ایمرجنسی انتظامات کیے گئے تھے

#####

اوپر والے پورشن کو لاک نہیں کرئے گا کیونکہ چندا ہمارے جانے کے بعد کچھ ضروری کام ننمٹا ئیں گی اوپر ….

راشدہ عمران کو بتا رہی تھی باقی باہر سے اچھی طرح لاک کر دئے گا….

عمران نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا اور اس ننے ااوپر کے پورشن کو لاک نہیں کیا باقی باہر کے دروازے بھی اچھی طرح لوک کر کے وہ لوگ چلے گئے عمران کے ذہن سے یہ بات نکل گئی تھی کہ شام میں وہ لوگ چھت پر گئے تھے تو چھت کو بھی لاک کرناتھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *