Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasoor Kis Ka (Episode 04)

Kasoor Kis Ka by Yusra Mehmood

خیرا چندہ سے ملنے کے لیے بے تاب ہو رہی تھی نہ ڈاکٹر ابھی کچھ بتا رہے تھے, وہ پریشانی سے ادھر ادھر ٹہل رہی تھی

عمران اور راشدہ کی بھی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ خیرا کو سچ بتائیں مگر خیرآکو پتہ تو چلے گا

اچانک چلنے سے بہتر ہے ہم ہی انہیں آرام سے بتادیتے ہیں عمران راشدہ کو رائے دے رہا تھا کہ اچانک ڈاکٹر روم سے بہار آئے

جی ڈاکٹر عمران تیزی سے آگے بڑھا

ان کی طبیعت توڑی بہتر ہے مگر ابھی بھی کریٹکل ہے ابھی بھی مکمل ہوش میں نہیں ہیں

ہاں اگر آپ لوگ دیکھنا چاہیں تو دور سے دیکھ سکتے ہیں انہیں….

خیرا اور رحیم شاک کی سی کیفیت میں تھے ….. اور حیرانی سے ڈاکٹر کی باتیں سن رہے تھے …

باجی …ڈاکٹر کے جانے کے بعد خیرا نے راشدہ کو آواز دی یہ ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں ایسا کیا ہوا ہے چندہ کو کہ وہ بے ہوش ہے اور وہ ہم سے بات کیوں نہیں کر سکتی صرف دور سے ہی کیوں دیکھ سکتے ہیں ہم اسے…..

خیرا ہچکیاں لے رہی تھی اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا ان جانے خوف سے اس کا دل دہل رہا تھا

وہ اصل میں بات کچھ اور ہے خیرا بی بی عمران نے اسے مخاطب کیا

اصل میں کیا صحاب جی …..

وہ عمران سے پہلی بار مخاطب ہوئی….

وہ چندہ کے ساتھ بہت برا ہوا ہے خیرا….

ہمیں معاف کر دو ہم اس کا خیال نہیں رکھ پائے …اب کے راشدہ ہچکیاں لے رہی تھی خیرا یک ٹک اسے دیکھے گی….

ایسا لگ رہا تھا کہ ایک بھاری اوزار اس کے سر پر مارا گیا ہو اسے اپنے پاؤں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا خیرا غم سے نڈھال زمین پر گر چکی تھی وہ بے ہوش ہو چکی تھی

اب اسے ایمرجنسی ٹریٹمنٹ دیا جا رہا تھا تھوڑی دیر بعد خیرا ہوش میں تو آ گئی پر اس کے گالوں پر مسلسل آنسو بہہ رہے تھے

#####

ہسپتال میں ایک ہنگامہ شروع ہوگیا تھا پولیس رحیم سے پوچھ گچھ کر رہی تھی…. تو رحیم آپے سے باہر ہو گیا وہ عمران کا گریبان پکڑے عمران اور راشدہ کو برا بھلا کہہ رہا تھا ….

ارے جب خیال نہیں رکھ سکتے تو کیوں لیتے ہو ہماری بیٹیاں…..

بیٹیاں کونسی بیٹی….

خیرا جو ہوش میں آ گئی تھی دوبارہ سے حواس کھونے لگیں

وہ پاگلوں کی طرح رحیم کو کوس رہی تھی تیری وجہ سے ہوا ہے ظلم میری بچی پر اگر تو اس قابل ہوتا تو یوں در در نہ ہوتی چندہ ……خیرا بلک رہی تھی وہ دونوں ایک دوسرے کو الزام دے رہے تھے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس سب میں وہ دونوں برابر کے شریک ہیں

اپنے بچوں کو لے کر کسی اور پر اتنی آرام سے بھروسہ کر لینا بالکل بھی ٹھیک نہیں ہے …

خدارا اب تو ہوش کریں ,ان پھولوں کو مسلنے اور کچلنے سے بچائیں ,

ہم کیسے کسی پر اتنی آرام سے یقین کرلیں یہاں تو ہر جگہ عزت کے لٹیرے ہیں …..

پولیس ان دونوں سے سے رسمی تفتییش کرنے لگی انہیں پتہ تھا کہ اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلنا کیوں کہ راشدہ کے گھر کے آس پاس سی سی ٹی وی کیمرے خراب پڑے تھے

چندہ کے ہوش میں آنے تک یہ کیس بالکل بے معنی ہوکر رہ گیا تھا اب چندہ کو ہوش کب آئے گا سب اسی انتظار میں بیٹھے تھے اور ہاتھ اٹھائے چندہ کی سلامت زندگی کی دعا مانگ رہے تھے

####

ان کے پاس رہنے کا ٹھکانہ نہیں تھا ہاتھ میں ایک روپیہ نہیں تھا وہ جائیں تو کہاں جائیں ,

کھانے کے لئے سوکھی روٹی بھی نہیں مل رہی تھی اپنے گھر وہ لوگ جا نہیں سکتے تھے انہیں ڈر تھا کہ پکڑے نہ جائیں اس لئے پولیس والوں سے چھپ کر روڈوں پر زندگی گزار رہے تھے کھانے پینے اوڑھنے بچھونے کے لیے کچھ نہیں تھا لاوارثوں کی طرح سڑکوں پر مارے مارے پھر رہے تھے .

پر آخر کب تک ایک دن انکی ہمت بھی جواب دینی تھی

####

رحیم اور خیرا نگاہیں جھکائے عمران اور راشدہ کے سامنے کھڑے تھے کوئی کسی سے نظریں نہیں ملا رہا تھا اب کوئی کسی سے نہیں لڑ رہا تھا کوئی کسی پر بہتان نہیں لگا رہا تھا وہ لوگ سمجھ چکے تھے کہ ہماری لاپرواہی کی سزا سے ہماری کلی کو روندا گیا ہے

ایک دن گزر گیا تھا مگر ابھی تک چندہ سے ملنے نہیں دیا گیا تھا ہاں دور سے ان لوگوں نے چندا کی ایک جھلک دیکھی تھی اس مرجھائے ہوئے پھول کو دیکھ کر سب کی آنکھیں اشکبار تھی

####

چندہ کو ہوش آگیا تھا اسے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا علاج کا سارا خرچہ عمران ہی اٹھا رہا تھا ڈاکٹر نے چند سے ملنے کی سب کو اجازت دے دی تھی اور کسی میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ چندہ کا سامنا کر سکے سب کو اپنے پیر من من بھر بھاری معلوم ہو رہے تھے

جو تھا اپنے آپ کو قصوروار سمجھ رہا تھا

میں نہیں سامنا کر سکتا اس کا وہ منھ ہی منھ میں بڑبڑایا وہ تو مجھے دیکھنا بھی نہیں چاہیں گی

اگر میں اس قابل ہوتا تو میں میری بیٹی ایسے حال تک نہیں پہنچتی میں ہی قاتل ہو اس کے جذبات و احساسات کا اپنے پیسے کی ہوس نے برباد کر دیا مجھے اور میری اس ہوس کی سزا میری بیٹی کو ساری ذندگی بھگتنی پڑے گی

وہ سوچتے ہوئے مسلسل رو رہا تھا مگر اب اس پچھتاوے کا کیا فائدہ

پھول جب کچل دیے جاتے ہیں مثل دیئے جاتے ہیں تو ان کی پتیوں کو کبھی بھی دوبارہ جوڑا نہیں جاسکتا

ان کی خوشبو کو کبھی بھی واپس نہیں لایا جا سکتا

سب ہمت مجتمع کر رہے تھے آخر عمران نے یہی فیصلہ کیا کہ راشدہ عمران اور خیرا ایک ساتھ ملنے جائیں گے چندا سے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ اداس نظروں سے چھت پر نہ جانے کیا کھوجنے کی کوشش کر رہی تھی

####

وہ ہوش میں آ گئی تھی وہ ہسپتال میں تھی یہاں کیسے آئی یہ تو وہ نہیں جانتی تھی پر یہاں کیوں لاۓ گی یہ سوچ کر اس کے دل میں خوف کی لہر دوڑ گئی

وہ کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی پر وہ بھیانک منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا وہ حیوان اسے نوچ رہے تھے اس کا سانس بند ہو رہا تھا پر وہ بے بس کچھ نہیں کر پا رہی تھی چیخنا چاہتی تھی تو آواز نہ نکل سکی

وہ مرنا چاہتی تھی پر وہ زندہ تھی

لرزتے ہاتھوں سے اس نے اپنے آنسو خشک کئے

میں تو ایک کلی تھی…

مجھے کھلنے تو دیا ہوتا

میرے کھلنے سے پہلے میرے پنکھ نو چ لیے تم نے …

مروڑ دیئے تم نے…

کاش تم نوچ کے پھینک دیتے مجھے…

مروڑ کر پھینک دیتے مجھے …

زندہ ہی کیوں رکھا مجھے …

مار ہی دیتے مجھے…

مر کر میں امر تو ہو جاتی ….

زندہ رہ کر تو زندہ درگور ہو جاؤنگی…..

وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ اس کے روم کا دروازہ کھلا اور وہ تینوں اندر آگئے

####

ہاں آصف بولو یار کیا مسئلہ ہے آصف نے اپنے ہی جیسے ایک دوست فراز کو فون کیا تھا وہ چاروں بہت پریشان ہو گئے تھے نہ رہنے کا کوئی ٹھکانہ مل رہا تھا اور ان چاروں کی جیب میں بھی خالی ہوچکی تھی آصف نے فراز کے سامنے مسئلہ رکھا

کہ انہیں رہائش کی ضرورت ہے فی الحال……

####

فراز جانتا تھا کہ آصف اور اس کے دوست چھوٹے موٹے جرائم میں ملوث رہ چکے ہیں …لیکن چند ا کے ریپ کے بارے میں اسے آگاہی نہیں تھی…

یار میں بھی ایک گینگ کے ساتھ اٹیچ ہو وہاں بہت پیسہ ہے اگر تم لوگ کام کرنے پر راضی ہو جاؤ تو بتاؤں میں اپنے مالک سے بات کرتا ہوں ہوسکتا ہے تمہیں رہائش دینے پر وہ راضی ہو جائیں ..

ہاں ہم تیار ہیں چاروں یک زبان ہوکر بولے ہم کسی بھی قسم کا کام کرلیں گے بس ہمیں پیسہ چاہیے آصف پر اسکو رضامندی ظاہر کرتے ہوئے بو لا…..

####

چندا خاموشی سے تینوں کو دیکھے جا رہی تھی بنا کچھ بولے…

تینوں کے آنسو بھی خشک تھے عمران راشدہ اور خیرا کو سختی سے تاکید کرکے لایا تھا کہ چندہ کے سامنے نہیں رونا …

یہ انہی لوگوں کی غلطی تھی تو وہ اب چندہ کو ایسا ماحول دینا چاہتا تھا کہ جو چندہ کو کبھی یہ احساس نہ دلائے کہ اس کے ساتھ غلط ہوا ہے …

تینوں اس کے لئے پھول لے کر گئے تھے خیرا نے اسے گلے لگایا اپنے آنسو مشکل سے ضبط کئے ہوئے تھے

مگر چندا رو رہی تھی ماں کو دیکھ کر اس کی تکلیف اس تازہ ہوگئی

ارے بھائی یہ رونے دھونے کا وقت نہیں ہے…

دیکھو تمہاری اماں تمہارے لئے کتنے پیارے پھول لے کر آئ ہیں ….

راشدہ نے چندہ کو گلے لگاتے ہوئے اس کی توجہ پھولوں کی طرف دلائی جن کی خوشبو پھولوں سے پھوٹ پھوٹ کر باہر آ رہی تھی ….

میری خوشبو کہاں ہے اماں ….

اب کے وہ ضبط نہ کرسکی وہ پھوٹ پھوٹ کر اماں کے گلے سے لگ کر رو رہی تھی

عمران اور راشدہ نے ان دونوں کو رونے دیا شاید رونے سے کچھ دل کو سکون مل جاۓ

####

فراز نے اپنے مالک سے آصف اور اس کے دوستوں کو ملا دیا تھا

ان لوگوں نے اس جرائم پیشہ گروہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی شہر کے ایک سنسان علاقے میں ایک کرائے کے گھر میں ان کو رہائش مل گئی تھی

ان لوگوں کے ساتھ پانچ لڑکے اور رہتے تھے جو اسی گروپ کے ممبر تھے

یہ مکان ان کے مالک نے انہیں رہائش کے لیے دیا تھا ساتھ میں کچھ پیسے بھی دیئے تھے تاکہ کھانے پینے کا انتظام کر سکیں

یہ گروپ اسٹریٹ کرائم میں ملوث تھا اس میں شامل ہونے والے سارے ہی ممبران اس جرم میں ملوث تھے آصف کو یہ کام زیادہ مشکل نہیں لگا پسٹل ان لوگوں کو فراہم کردی گئی تھی وہ روز ہی کسی نئی مہم پر روانہ ہوتے لوٹ کا سارا پیسہ اپنے مالک کے پاس جمع کراتے اور اچھی خاصی تنخواہ مہینے پر لیتے تھے

####

چندہ کے ہوش میں آتے ہی پولیس بھی آ گئی تھی وہ چند سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی تھی ….

بیٹا آپ کو ان سب کے چہرے یاد ہیں..

ایس ایس پی نے چندہ سے سوال کیا چندہ نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا وہ ان حیوانوں کے مکروہ چہرے کبھی زندگی میں نہیں بھول سکتی تھی …

ایس ایس پی نے چندا کی مدد سے ان چاروں کے اسکیچز بنوائے اور مزید تفتیش کے لیے اسکیچیز کو ساتھ لے گئے

####

راشدہ اور عمران نے خیرا اور رحیم سے بات کی تھی وہ چندہ کو ابھی بھی اپنے ساتھ رکھنا چاہتے تھے وہ دوسرے شہر شفٹ ہو کر چندہ کے ذہن سے سب کچھ مٹانا چاہتے تھے شاید اسی طرح ان کی غلطی کی تلافی ہو جائے …

نہیں صحاب جی اتنا بہت ہے ..آپ لوگوں نے ویسے ہی بہت کیا ہے ہمیں ہماری بیٹی واپس لوٹا دی…

اسپتال کا سارا خرچہ آپ ہی لوگوں نے اٹھایا ہے وہ دونوں تشکرا نہ نظروں سے عمران اور راشدہ کو دیکھ رہے تھے

میں اپنی بیٹی کو اب اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں صاحب بس ایک مہربانی کر دیں مجھے کوئی نوکری دلادی کسی دوسرے شہر میں اور وہیں رہائش کا بھی انتظام کردیں رحیم اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر عمران سے التجا کرنے لگا

عمران نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے

####

شہر کراچی میں اسٹریٹ کرائمز بڑھتے ہی جارہے تھے

عوام کافی حد تک پریشان ہو گئی تھی اب عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت اسٹریٹ کرائمز کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا تھا تجربہ کار جرائم پیشہ افراد کو عوام سے اپنی چالاکی سے بچ جاتے لیکن نہ تجربہ کار افراد کو لوگ اب نہیں چھوڑتے تھے آخر کب تک ان کریمنلز کی ہٹ دھرمی چلے گی

####

لاہور کے ایک پرکشش علاقے میں عمران نے ایک بنگلہ کرائے پر لیا اس کے ساتھ ایک سرونٹ میں خیرا چندہ اور رحیم کے رہنے کا بندوبست بھی کردیا تھا اب ان سب کی مشترکہ یہی کوشش تھی کہ چندہ خوش رہے اور سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے

#####

جب تک چندہ ہسپتال میں تھی تب تک راشدہ اور عمران شفٹنگ کی تیاری کر رہے تھے تاکہ ہسپتال سے نکل کر ڈائریکٹ لاہور لاہور کے لئے سفر کریں

عمران اور راشدہ چندہ کو اپنی بیٹی مان چکے تھے شاید اسی لئے وہ اب تک بے اولاد تھے کہ ایک مظلوم لڑکی کی پرورش انہیں سونپی گئی تھی

دنیا میں اگر برے لوگ ہیں تو اچھے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے یہ دنیا مکافات عمل ہے کوئی اگر برا کرے گا تو یہیں پر بھگتنا ہوگا اور اچھائی کا انجام بھی اچھا ہی ملے گا

چندہ اب تھوڑی سنبھل گئی تھی اس کا ہر وقت کا گم سم رہنا بھی تھوڑا کم ہو گیا تھا اس نے باتوں میں بھی حصہ لینا شروع کردیا تھا جیسے جیسے وہ صحت یاب ہو رہی تھی ذہنی طور پر بھی نارمل ہوتی جا رہی تھی وہ بھی یہ سب کچھ بھول جانا چاہتی تھی

دو دن بعد اس کی چھٹی ہو جانا تھی راشدہ اور عمران نے تقریبا ساری شفٹنگ کردی وہ لوگ جلد از جلد یہ شہر چھوڑ دینا چاہتے تھے

####

اب یہ تو ان کی روز کی روٹین ہوگئی تھی روز جگہ بدل بدل کر یہ لوگ لوگوں کے مجمعے کے سامنے پسٹل کا زور دکھا کر لوگوں سے ان کی قیمتی اشیاء اور نقد روپے ہتھیا لیتے تھے اور کوئی انہیں کچھ نہیں کہہ پاتا تھا وہ چاروں بائیک پر بیٹھتے اور یہ جا وہ جا……

آج بھی وہ چاروں اے ٹی ایم کے بہار اپنی اپنی پوزیشن سنبھالے شکاری کی تاک میں بیٹھے تھے یہ جانے بغیر کہ آج ان کی تاک میں بھی کوئی بیٹھا ہے….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *