Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kasoor Kis Ka by Yusra Mehmood

آج اس کے دل کی کیفیت عجیب تھی وہ خوش ہو یا دکھی ,ایک شاندار گھر میں رہنے کا موقع مل رہا تھا مگر اپنی ماں کی ممتا تو وہ پیچھے چھوڑ گئی تھی
اس نے اماں کو بہت اداس نظروں سے الوداع کیا تھا وہ یہاں رہنا بھی چاہتی تھی اور نہیں بھی اپنی اس کیفیت کو کوئی نام نہیں دے پا رہی تھی وہ ....
یہ گھر ڈبل بنا ہوا تھا امریکی طرز پر تیار کئے گئے فرش, کچن اور باتھ روم اپنی مثال آپ تھے
چندا کو اسی طرح کے گھر بہت دلکش لگتے تھے ابھی بھی وہ انہی سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ راشدہ کی آواز پر چوکی....
آؤ میرے ساتھ راشدہ چندا کو سیڑھیوں سے نیچے کی طرف لے کر جانے لگیں وہ خود تو اوپر والے پورشن میں رہتی تھی وہ چندا کو بھی اوپر ہی رکھتی لیکن پھر عمران کے ڈر سے اس نے چندہ کے رہنے کا انتظام نیچے کر دیا تھا
کچن کے برابر میں ایک پتلی سی رہداری کو پار کر کے کونے میں ایک کمرہ بنا ہوا تھا
یہ ہے تمہارا کمرا.....
راشدہ نے چندا کو مخاطب کیا ....
جی ....چندا حیرت میں ڈوب گئی یہ کمرہ باقی کمروں سے بالکل الگ تھلگ بنایا گیا تھا وہ پتلی سی راہداری اسے گھر کے باقی کمروں سے اور الگ کر دیتی تھی یہ کمرہ بالکل چندہ کی سوچ سے مختلف تھا وہی مٹی کا فرش دیواروں پر چونا سائٹ پر ایک پلنگ بچھا ہوا تھا چھت کے پنکھے کی جگہ سائٹ پر ایک اسٹینڈ فین لگا رکھا تھا سائٹ پر ایک چھوٹی سی سیمنٹ کی الماری بنی ہوئی تھی
عمران نے راشدہ کو سختی سے منع کر دیا تھا کہ وہ چندہ کو اوپر والے پورشن میں نہیں رکھے گی عمران کے کہنے کے مطابق مجھے اپنے پورشن میں بالکل ڈسٹربنس نہیں چاہیے
اسی لئے راشدہ نے چندہ کا کمرہ نیچے ہی سیٹ کردیا تھا
تم یہاں اپنا سامان سیٹ کردو راشدہ نے اس کا دھیان الماری کی طرف کی جو نہ جانے ان سوچوں میں گم تھی ....
جی اچھا...... چندا اپنا سامان الماری میں رکھنے لگی جس میں دو تین سوٹ کے علاوہ کچھ نہ تھا چلو کوئی بات نہیں یہاں تو مجھے بس سونا ہی ہو گا رات کو باقی سارا دن باجی کے ساتھ ہی گزاروں گی وہ سوچتے ہوئے اپنے دل کو تسلی دینے لگی
خیرا چندہ کو راشدہ بی بی کے گھر تو چھوڑ آئی تھی پر اس کا دل بھی وہیں رہ گیا تھا نہ جانے کیا کررہی ہوگی کھانا کھایا ہو گا یا نہیں اس کی اکلوتی بیٹی آج اس کو بے پناہ یاد آئیں اپنے ساتھ اس کو کام پر لے کر جاتے تو ڈھارس رہتی تھی آج اس سے دور گئی تو کسی پل چین نہیں آ رہا تھا
لڑکیاں تو پرای ہوتی ہیں اتنا کیا سوچنا آج نہیں تو کل اس کو جانا ہی تھا اچھا ہے پہلے سے مجھے اس کے نہ ہونے کی عادت ہو جائے گی اس نے اپنے آنسو صاف کیے پھر پانچ مہینے بعد تو میں اس کو لے ہی اوگی رحیم بھی چنگا ہوجائے گا تو پھر کوئی مسئلہ نہ ہو گا وہ اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کر رہی تھی
دیکھو تم بلاضرورت اوپر نہیں آنا تم ناشتہ بنا دینا میں نیچے لینے آ جاؤ گی مغرب کے بعد بھی تم نیچے ہی رہنا عمران آ جاتے ہیں تو انھیں گھر میں کسی اور کی موجودگی سے ڈسٹربنس ہوتی ہے باقی کام میں تمہیں کل صبح سمجھا دو گی راشدہ اسے سمجھا کہ اپنی راہ چلی گئی
نیچے پورشن کی فالتو لائٹوں کو بھی بند کردیا گیا رات میں چندہ کے کمرے اور اس سے ملحقہ کچن کی لائٹ کھولنے کی اجازت دی گئی تھی نیچے کا پورشن ویسے تو استعمال میں تھا لیکن مغرب کے بعد وہ زیادہ تر خالی ہی رہتا تھا دو افراد کے لیے اوپر کا پورشن کافی تھا اوپر عمران اور راشدہ کا بیڈروم بھی تھا تو وہ رات کو زیادہ تر اوپر ہی وقت گزارتے تھے
رات کا سنّاٹا اس کو کھانے کو دوڑ رہا تھا اسے اماں کی بہت یاد آئی جو اس کے ساتھ اس کے برابر والے پلنگ پر ہی سوتی تھی جہاں سے وہ آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھتی تھی اور یہاں سے تو اسے آسمان پر چمکتے تارے بھی نظر نہیں آئیں گے جو کم از کم اسے روشن امید تو دیتے تھے یہاں تو تاریکی اور تنہائی تھی بس........
ااور یہاں وہ میلہ تکیہ بھی نہیں تھا جس پر آنسوؤں کے دھبے اپنا نشان چھوڑ جاتے تھے یہاں کے صاف اور دھلے ہوئے تکیوں پر اس کے آنسو غائب ہی ہو گئے تھے
صبح 6 بجے ہی راشدہ اس کے سر پر کھڑی تھی بمشکل چار بجے تو وہ ڈر ڈر کر سوئی تتھی نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس کا سر درد کر رہا تھا راشدہ کے کہنے کے مطابق عمران کو آٹھ بجے آفس کے لئے نکلنا تھا تو جب تک چندا فریش ہوجائے اور سات بجے تک ناشتہ ریڈی کر لے .....
نا چار اس کو ااٹھنا ہی پڑا آج پہلا دن تھا تو راشدہ نے اسے کچن اور کچن کی چیزوں کے بارے میں سمجھایا تھا کہ اسے کوئی مشکل نہ ہو کہ کون سی چیز کہاں رکھی ہے
چندا کو سمجھا کہ وہ اوپر چلی گئی ناشتہ لے کر .....
ناشتہ کرکے چندا نے کچن کے کیبنٹ کی صفائیاں کرنی تھی جو رراشدہ اسے کام دے کر گئی تھی...
باہر ہونے والے شور سے اس کو اندازہ ہو گیا تھا کہ عمران بھائی جا رہے ہیں
بچی تو تھی وہ غیر ارادی طور پر کچن سے جھانک کر دیکھا تو سامنے ہی عمران کھڑا تھا, عمران نے ایک عاجزانہ نظر چندہ پر ڈالی اور آفس کے لئے نکل گیا
عمران کی نیت خراب نہیں تھی وہ اس لئے فکر مند تھا کہ لڑکی ذات ہے کچھ اونچ نیچ ہوگی تو ہماری ہی گھر میں رہتی ہے ہم ہی جواب دہ ہوں گے سب کے آگے...
وہ یہی بات کافی دن سے راشدہ کو بھی سمجھآ رہا تھا کہ تم چندا کو گھر میں رکھنے کا رسک نالو
میں دوسری ماسی ارینج کردونگا گھر پر....
اس طرح چندlکو اپنے گھر رہنے سے اس کی ساری ذمہ داری ہم پر آجائے گی اور اس کے علاوہ وہ ماسیوں کو گھر میں رکھنے کے بھی بالکل حق میں نہیں تھا کسی کے چہرے پر اس کی ایمانداری کا بورڈ تھوڑی لگا ہوتا ہے کب کوئی گھر کا صفایا کر جاتا تو کون ذمہ دار ہوتا ہے اس کا اسی لئے وہ ڈرتا تھا
لیکن عمران کی بات راشدہ کے سمجھ میں نہیں آتی عمران کے سامنے وہ اپنا رونا گانا شروع کر دیتی تھی جس کی وجہ سے وہ بھی مجبور ہو گیا تھا اور اب اس ٹاپک پر بات کرنا اس نے بند کر دیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *