Kallo by Hira Khan NovelR50520 Kallo (Episode 04)
Rate this Novel
Kallo (Episode 04)
Kallo by Hira Khan
حسن آراء کی سالگرہ
جب کلو کیک کاٹ چکی تو سجاد نے نہایت ہی خوبصورت گفٹ پیپر میں پیک کیا ہوا تحفہ کلو کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ،
یہ لو حسن آراء میری طرف سے تمہاری سالگرہ کا تحفہ۔۔۔
سجاد کو گفٹ دیتا دیکھ کر گڑیا نے بھی کلو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،
اور میری طرف سے یہ آپ کا تحفہ، بہت کام کی چیز دے رہی ہوں بھابھی میں آپ کو، دعائیں دیں گی آپ مجھے،،،،،
کلونے شکریہ کہتے ہوئے گڑیا کا دیا ہوا تحفہ لے لیا،،
اگرچہ تحفہ پیک تھا اس لیے کلو کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس پیکنگ میں کیا ہے ۔۔۔۔ اب گڑیا کوسب سے زیادہ یہ بے چینی کھائے جارہی تھی کہ سجاد بھائی نے کلو کو کیا گفٹ دیا ہے ۔۔ ؟
اس لیے اس نے کلو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ،،
بھابھی ذرا کھول کر تو دکھائیں ، بھائی نے آپ کو کیا گفٹ دیا ہے ،،
ہاں، ہاں کیوں نہیں گڑیا تم خود ہی کھول کر دیکھ لو، یہ کہتے ہوئے کلونے گفٹ پیک گڑیا کی طرف بڑھا دیا ،،
گڑیا نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت ہی بے دردی سے گفٹ پیپر کے پرخچے اڑا ڈالے ،،
ہائے ہائے اتنا لمبا اور مہنگا والا فون ،،،،
گڑیا کے منہ سے نکلنے والے بے ترتیب الفاظ اس بات کی صاف گواہی دے رہے تھے کہ گڑیا فون دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی ہے،،
واہ بھابھی واہ آ پ کے تو نصیب ہی جاگ اٹھے بھائ سے شادی کے بعد ۔۔۔اپ نے تو کبھی خواب میں بھی ایسا فون نہیں دیکھا ہوگا ۔۔۔
امی دیکھو نا بھائی نے بھابھی کو کتنا اچھا گفٹ دیا ے ۔۔ گڑیا گفٹ دیکھ کر مارے حسد و جلن کے پاگل سی ہوئی جا رہی تھی ،،،
امی نے فون دیکھ کر کہا
ہاں بیٹا وہی دیکھ رہی ہوں ،، ایک تیرا شوہر ہے
اس کو تو توفیق ہی نہیں ہوئی کہ تجھے بھی کوئی ایسا تحفہ ہی دے دیتا
بے چاری تو اپنا یہ سڑا ہوا فون کتنے سالوں سے چلا رہی ہے ۔۔۔۔
فون دیکھ کر امی اور گڑیا کے دکھڑے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔۔۔
بھائی اب مجھے بھی بالکل ایسا ہی موبائل چاہیے، اپنی سالگرہ ہر ۔۔گڑیا کو اسقدر مچلتا دیکھ کر کلو نے اسے اپنے گلے سے لگاتے ہوئے کہا ،، گڑیا میری ظرف سے یہ موبائل تم رکھ لو ، یہ تمھاری سالگرہ کا ایڈوانس گفٹ ہے ۔۔۔
یہ سننا تھا ک گڑیا مارے خوشی کے باولی سی ہوگئی ۔۔، اس نے ایک بار بھی موبائل لینے سے انکار نہیں کیا ،،،، اور جھٹ سے موبائل اپنے کلیجے سے لگا لیا ۔۔۔۔۔۔ہائے اللہ بھابھی آپ کتنی اچھی ہیں اور کتنا بڑا دل ہے آ پکا ، ، ۔۔
اچھا بھابھی اب آ پ میرا گفٹ تو کھول کر دیکھیں نا ۔۔۔
ارے ہاں گڑیا ، کلو نے چہکتے ہوئے کہا، اور خوشی خوشی گڑیا کا دیا ہوا گفٹ کھولنے لگی ،
لیکن جب اس نے گفٹ کھول کر دیکھا تو ایک دم سے اس کا چہرہ بجھ سا گیا ،
کیا ہوا بھابھی آپ کا چہرہ کیوں اتر گیا ، کیا گفٹ پسند نہیں آیا، میں نے تو آپ کا بھلا سوچتے ہوئے فائزہ بیوٹی کریم دی ہے ۔۔ آپ اس کا باقاعدگی سے استعمال کریں، اور پھر دیکھنا فائزہ بیوٹی کریم کا کمال ، کچھ ہی دنوں میں آپ بھی میری طرح گوری گوری اور پرکشش نظر آنے لگے گی ۔۔۔
حسن آراء کو واقعی بہت تکلیف محسوس ہو رہی تھی ، لیکن وہ اس بات کو بڑھاوا دے کر گھر کا ماحول خراب کرنا نہیں چاہتی تھی ،، اسی لئے اس نے گڑیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ، میری پیاری سی گڑیا ، مجھے تمہارا دیا ہوا یہ تحفہ بہت پسند آیا ہے، اور مجھے بہت زیادہ خوشی اس بات کی ے کہ تمہیں میرا کتنا خیال ہے، یہ کہہ کر کلو تو اپنے کمرے میں چلی گئی لیکن گڑیا کافی دیر تک یہ بات سوچ سوچ کر ذہنی اذیت میں مبتلا رہی ، کہ بھابھی بھی نا جانے کس مٹی کی بنی ہوئی ہیں ان پر تو میرے کسی بھی طنز کا اثر ہی نہیں ہوتا،،
__________________________________________
سجاد کا موڈ کچھ آف دیکھ کر ، کلو نے تشویش سے سجاد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ،،
کیا بات ہے ، آپ کچھ ناراض سے لگ رہے ہیں، سب ٹھیک تو ہے نا،،
حسن آراء کسی بات کی بھی حد ہوتی ہے ،، میں نے تمہیں اتنی محبت سے گفٹ دیا اور تم نے جھٹ سے گڑیا کے حوالے کردیا ،، تمہیں اندازہ بھی نہیں ے کے اب شاید میں تمہیں اتنا مہنگا موبائل نہیں دے سکوں گا ، کیونکہ میں نے اپنے آفس میں کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر کمیٹی ڈالی تھی، لیکن تم بھی نا ، خیر رہنے دو!!!!!!!!!
سجاد میں آپ کی محبت اور جذبات کی دل سے قدر کرتی ہوں،، لیکن گڑیا کو موبائل پسند آ گیا تھا ، اس لئے میں نے اسے دے دیا، اور اس بات میں کیا برائی ہے ، وہ آپ کی چھوٹی بہن ے ،، اگر ہم اس کا خیال نہیں رکھیں گے تو کون رکھے گا،، ؟
برائی تو کچھ بھی نہیں ہے حسن آراء ،،،،،،
لیکن اگر میں کسی کو پسند آ گیا تو کیا تم مجھے بھی اٹھا کر اس شخص کے حوالے کر دوں گی ، بتاؤ حسن آراء ؟؟؟
تم نے بہت ٹھیس پہنچائی ہے آج میرے دل کو ۔۔
حسن آرا ء ، ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، جب تک تم خود اپنے آپ کو بیلنس میں نہیں لاؤ گی ، یہ لوگ تمہیں اسی طرح کمزور کرتے رہیں گے، اور بات موبائل کی نہیں ہے بات اصول کی ہے، کیوں بھلا کوئی تم سے تمہاری چیز اس طرح سے لے اڑے ، اس طرح سے تو کوئی کسی بچے کو بھی بے وقوف نہیں بناتا ، جو آج تم بن گئیں،، تمہیں اپنی چیز کی حفاظت کرنی چاہیے ،تمہیں بدلنا ہوگاخود کو وقت اور حالات کے حساب سے ،، ظلم سہنا کوئی بہادری نہیں، یہ تو گناہ میں شمار ہو جاتا ہے،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سجاد میں سب سمجھتی ہوں صحیح اور غلط،، لیکن جب بات رشتوں کی آجاتی ہے تو ہمیں ان کو مضبوط یا پائیدار بنانے کے لئے جھکنا ہی پڑتا ہے،، اور میں سمجھتی ہوں اس میں کچھ حرج نہیں،
سجاد کہتے ہیں کہ محبت میں بہت طاقت ہوتی ہے، وہ پتھر دلوں کو بھی موم بنا دیتی ہے ۔۔اور میں اپنی بے لوث محبت سے دلوں کو فتح کر لینا چاہتی ہوں، میں جانتی ہوں کہ یہ بہت کٹھن راستہ ہے میرے لئے ، لیکن مجھے اپنے رب پر
پورا بھروسہ ہے، انشاءاللہ میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گی ،،
حسن آرہء کچھ پتھر بہت نوکیلے اور سخت ہوتے ہیں ، وہ کبھی موم نہیں ہوتے بلکہ ہمارے وجود کو زخمی کر جاتے ہیں ،،
ہاں سجاد ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ، کچھ پتھر واقعی بہت سخت ہوتے ہیں، لیکن میری بے غرض محبت کی ضرب ان سخت پتھروں میں چٹخ ضرور پیدا کردے گی ،،، ،یہی نفرت محبت کے سامنے ہار مان لے گی، اور وہ دن دور نہیں جب میں اپنوں کا پیار پا لوں گی ،،،
سجاد نے اتنی باہمت اور اپنے ارادوں میں مضبوط لڑکی کو، پرعزم گفتگو کرتے دیکھ کر دل ہی دل میں آمین کہہ ڈالا ۔۔۔۔۔۔
