Kallo by Hira Khan NovelR50520 Kallo (Episode 01)
Rate this Novel
Kallo (Episode 01)
Kallo by Hira Khan
منہ دیکھائی میں سجاد نے نہایت ہی خوبصورت سنہری نگینوں سے بھری ہوئی گھڑی اور کچھ نقدی کلو کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔
حسن آراء ، اگرچہ یہ تحفہ تمہارے شایانِ شان ہرگز نہیں، لیکن اس میں میری بے تحاشا محبت اور خلوص ضرور شامل ہے ۔۔قبول کر لوں گی تو مجھے بہت ہی اچھا لگے گا۔۔۔۔
کلو نے پلکیں اٹھا کر کچھ لمحوں کے لئے سجاد کی طرف دیکھا ۔۔۔ اور پھر مسکراتے ہوئے گھڑی سجاد کے ہاتھوں سے لیتے ہوئے گویا ہوئی۔ ” سجاد یہ تحفہ میرے لئے دنیا کا سب سے انمول تحفہ ہے۔”
یکدم دروازے پر دستک ہوئی ..
سجاد نے دروازہ کھولا ،
سامنے اس کی امی اور اس کی شادی شدہ بہن گڑیا۔۔۔کھڑی تھیں ۔۔
سجاد مخاطب ہوا ،،،
امی جان،، آپ اتنا گھبرائی ہوئی کیوں لگ رہی ہیں ، سب خیر تو ہے ؟
ارے بیٹا بس وہ کچھ پیسوں کی اشد ضرورت پڑ گئ ہے ۔۔ اگر تیرے پاس کچھ پیسے ہیں تو مجھے دے ، دے ،
سجاد نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا،
امی جان معذرت چاہتا ہوں ، میرے پاس کچھ پیسے تھے لیکن میں نے وہ پیسے حسن آراء کو منہ دکھائی میں دے دیے ہیں۔۔
یہ سنتے ہی والدہ صاحبہ عادت سے مجبور یکدم سے آگ بگولہ ہوگئیں ، اور تڑخ کہ بولیں۔
واہ بیٹا واہ۔۔ ابھی تجھے کمرے میں پہنچے ہوئے صرف پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ تیری اس کلو نے تجھے پوری طرح سے شیشے میں اتار لیا ، کنگال کر ڈالا تجھے منٹوں میں ۔۔
امی پلیز ، حسن آراء کو کلو بول کر آپ اس کا تمسخر نہ اڑائیں ۔۔۔ اب وہ میری شریکِ حیات ہے۔۔ ۔
سجاد کی اس بات پر گڑیا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا ، بہت خوب بھائی، جواب نہیں آپ کا ۔۔ پلیز ہمیں الزام ناہی دیں تو زیادہ بہتر ہے ، مذاق تو آپکی بیوی کا ،ان کے ابا ، اماں نے بنایا ہے ، ان کا نام حسن آراء رکھ کر ، یہ کہتے ہوئے گڑیا قہقہہ لگا کر ہنس دی __
ابھی یہ سب باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ، کلو نے سجاد کو آواز دی۔۔ بات سنیں ذرا۔۔۔
کلو کی آواز پر، سجاد کمرے میں داخل ہوا تھا ۔ کلو نے وہ لفافہ جو سجاد نے کچھ دیر پہلے اسے منہ دکھائی میں دیا تھا، اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔ آپ یہ پیسے امی جان کو دے دیں،،
ارے نہیں حسن آ را ء ، اب تم مجھے شرمندہ کر رہی ہو ۔ یہ پیسے میں امی کو کیسے دے سکتا ہوں یہ تو تمہاری منہ دکھائی ہے، سجاد کی اس بات پر کلو نہایت دھیمے لہجے میں مخاطب ہوئی۔۔
سجاد آپ بات سمجھنے کی کوشش کریں ، یہ رقم میرے پاس رہی یا امی کے پاس بات تو ایک ہی ہے نا۔۔۔اور ویسے بھی شادی کا گھر ہے ، سو ضروتیں ہوتی ہیں ،
کلو ،کی اس بات نے شادی کے پہلے دن ہی سجاد کا دل جیت لیا تھا۔۔۔ آج وہ اپنے انتخاب پر بہت فخر محسوس کرہا تھا ۔۔۔۔
لیکن اس کی بھیگی پلکیں اس بات کی چغلی کھا رہی تھیں کہ آج وہ شدید اذیت سے گزری ہے ، کیونکہ انسان ہر بات برداشت کرسکتا ہے، مگر اپنے چہرے کی تذلیل یا توہین ،، ،،،،،، وہ بھی اسی کے سامنے۔۔۔ بہت تکلیف دہ لمحات سے گزر رہی تھی آج یہ لڑکی اپنی سیاہ رنگت کی وجہ سے ، جس میں اس بے چاری کا کچھ بھی عمل دخل نہیں تھا __
ایک سجاد ہی تھا جو اس وقت اس کے احساسات و جذبات کو بخوبی سمجھ سکتا تھا۔
سجاد نے حسن آراء کی آنکھوں میں آنسوں دیکھتے ہوئے کہا،، حسن آراء ، تم اتنی بہادر لڑکی ہو کر رو رہی ہو ۔ میں ہوں نا تمہارے ساتھ ، کچھ بھی نہیں سوچو ۔۔ کلو نے لرزتی ہوئی آواز میں سجاد سے پوچھا۔
سجاد ، کاش میرا نام حسن آراء نہ ہوتا ۔
میں مزید اپنی تذلیل سے تو بچ جاتی، ،، کیوں منتخب کیا گیا میرے لیے یہ ہی نام ؟ سجاد آج مجھے جواب چاہیےاس بات کا ۔۔ ، یہ کہتے ہوئے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
حسن آراء کو اس قدر روتا سسکتا دیکھ کر سجاد نے اس کے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔
تمہیں جواب چاہیے نا ، تو سنو،، حسن آراء ، ہر والدین کو اپنی اولاد دنیا میں سب سے زیادہ خوبصورت لگتی ہے ، اسی لیے وہ اپنی اولاد کا منفرد اور الگ تھلگ نام رکھنا چاہتے ہیں ۔ حسن آراء تمہارے والدین نے تمہاری تذلیل ہرگز نہیں کی ، بلکہ تم ان کی نظروں سے دیکھوگی تو تمہیں اپنے لیے بے تحاشا پیار ہی پیار نظر آئے گا ۔۔۔۔ ۔اس کے علاوہ تم یہ بات بخوبی جانتی ہو کہ تم میرا انتخاب ہو اور یہ ہماری پسند کی شادی ہے کچھ ٹائم تو لگے گا ناں ۔۔۔۔ امید قوی ہے کہ تم اپنے اعلی اخلاق اور برتاؤ سے بہت جلد سب کا دل جیتنے میں ضرور کامیاب ہو جاؤں گی،،، ۔
جاری ہے ۔۔۔
