Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kallo (Episode 02)

Kallo by Hira Khan

( شادی کا دوسرا دن)

حسن آراء،

جی سجاد ،

تم جلدی سے تیار ہو جاؤ میں جب تک مٹھائی کا ڈبہ لے کر آتا ہوں،،،

یہ مٹھائی کا ڈبہ کس خوشی میں ؟

ارے میری پگلو سی بیوی ،آج شادی کے بعد تم پہلی بار اپنی امی کے گھر جارہی ہو، کیا خالی ہاتھ جاؤ گی ؟

او ہو۔۔ اچھا۔۔ اچھا ۔۔ مجھے معلوم ہی نہیں تھا، حسن آرا نے ہنستے ہوئے سجاد کو چھیڑا تھا۔۔

ماشاءاللہ، نظر نہ لگے، ہماری بیگم ، بڑے ہی اچھے موڈ میں لگ رہی ہیں..سجاد نے پیار سے کلو کی طرف دیکھ کر کہا تھا ۔۔

جی سجاد ، میں آپ کی سنگت پاکر بہت خوش ہوں ۔۔

حسن آراء ، میری دعا ہے تم شاد و آباد رہو ، غم اور تکلیف تمھیں چھو کر بھی نہ گزرے ۔ سجاد نے اسے دل سے دعا دی تھی ۔۔۔

اچھا چلو میں آتا ہوں تم جلدی سے تیار ہو جاؤ، پھر تمھاری امی کی طرف چلیں گے۔۔۔

سجاد بات سنیں ۔۔

جی فرمائیے، کیا حکم ہے ۔۔ سجاد کے لہجے میں شرارت تھی۔۔

وہ میری بالکل بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ، آج امی کے گھر کیا پہن کر جاؤں، پلیز آپ میری ہیلپ کردیں گے ؟

ارے حسن آراء تم بھی بہت بھولی ہو ، بس اتنی سی بات کے لئے، اسقدر پریشان ہو رہی ہو،اب سجاد الماری کی طرف بڑھا تھا۔۔ ۔ اس نے الماری میں سے اپنی پسند کا جوڑا نکالا تھا ۔۔۔

یہ لو حسن آراء ۔۔ آج تم یہ پہنو ، یہ جوڑا میرا فیورٹ ہے ۔۔سجاد نے نہایت ہی خوبصورت گولڈن اور ریڈ کلر کا ڈریس حسن آرا ء کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔

اب جلدی سے فٹا فٹ تیار ہو جاؤ ، جبتک میں مٹھائی لے کر آتا ہوں۔۔۔۔

سجاد کے جانے کے بعد جب کلو تیار ہو کر سلام کرنے کے لئے ساس کے کمرے میں پہنچی ، تو ان کے پاس بیٹھی ہوئی گڑیا کی ہنسی چھوٹ پڑی،، اس نے طنز مارتے ہوئے کہا، ارے بھابھی حد ہو گئی، اتنے گہرے اور بھڑکیلے کپڑے، ،، کیا آپ کو کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا،، کہ اتنے چمکیلے یا شوخ رنگ آپ کے لئے مناسب نہیں ،، برا نہیں ماننا میری پیاری سی بھابھی جان آپ کو تو اپنے لئے ہلکے رنگوں کا انتخاب کرنا چاہیے ،،

گڑیا کی اس بات پر، کلو کا دل ٹوٹ کر رہ گیا ۔۔۔

اگر آج کلو،نے صبر یا درگزر سے کام لیا تھا ، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا، کہ اسے گڑیا کی طنزیہ یا دکھ دینے والی باتوں سے اذیت نہیں پہنچی تھی۔۔ وہ بھی ایک جیتی جاگتی انسان تھی ،،اسے بھی تکلیف ہوتی تھی،، اور اس کے پاس بھی منہ توڑ جواب دینے کا اختیار تھا ، لیکن اس نے اعلی ظرفی اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں سے جانا زیادہ مناسب سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گڑیا باظاہر ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی لیکن اول درجہ کی پھوہڑ ، منہ پھٹ اور

بد لحاظ،،، ، وہ اپنی بد زبانی کی وجہ سے سسرال والوں اور شوہر کے دل میں وہ مقام پیدا نہیں کر سکی ، جو کلو نے اپنی معمولی شکل و صورت ہونے کے باوجود ،، شادی کے پہلے دن ہی سجاد کا دل جیت کر حاصل کر لیا تھا،،

_____________________

امی سجاد بھائی کہاں ہیں نظر نہیں آ رہے،،

ارے کہاں ہوگا میٹھائی کا ڈبہ لینے گیا ہے ، اپنی چہیتی بیوی کی اماں کے لئے۔۔۔۔۔

یہ کیا امی؟ اب بھائی یہ سب چونچلے بھی اٹھائیں گے اپنی اس کلو کے ۔۔۔

ہاں دیکھ لے بیٹا۔۔ اور کیا کیا ہونے والا ہے اس گھر میں۔۔ یہ تیری کلو بھابھی لنکا ڈھائے گی ۔۔ مر مٹا ہے تیرا بھائی اس حور پری پہ۔۔۔۔

گھر میں داخل ہوتے ہوئے سجاد کے کان میں جب گڑیا اور امی کی یہ باتیں پڑیں، تو اس نے گڑیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ، ہاں گڑیا ،

یہ وہی چونچلے ہیں ، جو تم نے بھی اٹھوائے تھے اپنے میاں صاحب سے ،، اتنی جلدی بھول گئیں تم ، ۔۔

کیا تم نے شادی کے دوسرے دن ایک کلو مٹھائی کا ڈبہ امی کے ہاتھ میں لا کر نہیں رکھا تھا،،، ؟؟؟؟،

سجاد کی اس بات پر گڑیا بری طرح سے سٹپٹا گئی ،، اور امی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ،، ۔۔

سجاد کے اس طرح سے بولنے پر، امی نے سجاد سے کہا،،

کردیا جادو تجھ پر تیری بیوی نے ایک ہی رات میں ،، تو نے اپنی چھوٹی اور لاڈلی بہن کو ایک دن کی آئی ہوئی لڑکی کے لئے ڈانٹا ، بے شرم تجھ سے یہ توقع ہرگز نہیں تھی،،

امی کی آواز پر کلو کمرے سے باہر آئی ،اور سجاد سے مخاطب ہوتے ہوئے بولی،، سجاد گڑیا آپ کی چھوٹی بہن ہے،، اس طرح سے نہیں بولیں ،،

تم خاموش ہو جاؤ حسن آراء۔۔ میں جانتا ہوں کہ گڑیا میری بہن ہے، اور مجھے بہت عزیز بھی ، مگر میری سمجھ میں ایک بات نہیں آتی ، تم عورتیں ہی عورتوں کی دشمن کیوں ہو ؟ تم عورتیں اپنے لئے تو یہ چاہتی ہو کہ تمہارا شوہر غلام بنا رہے، تمہارے ناز نخرے اٹھاتا رہے، تمہیں سیر سپاٹے کراتا رہے ،، تمہیں ہوٹلوں میں لے جاکر کھانا کھلاتا رہے ،، لیکن اگر یہی بھائی بھاوج کا خیال رکھتا ہے تو تم عورتوں سے یہ سب بالکل برداشت نہیں ہوتا ،،

کیوں کرتی ہو تم عورتیں ایسا ؟ ۔۔۔۔

یہ تو نہیں تجھ پہ کرا ہوا ، کالا جادو بول رہا ہے سجاد ، امی نے آہ بھرتے ہوئے کہا،،

اچھا امی جان رہنے دیں بس آپ،، سجاد کے لہجے میں بیزاری تھی ۔۔۔

اور حسن آرا ء تم عبایہ پہنو ، میں جب تک رکشہ لے کر آتا ہوں ، کیونکہ میری موٹر سائیکل خراب ہو گئی ہے،،

بیٹا موٹر سائیکل خراب نہیں ہوئی،، یہ اللہ دکھا رہا ہے تجھے اور تیری بیوی کو ،، ماں بہن کا دل دکھانے کی سزا ہے ،، ۔

سجاد ، امی کی اس بات کو نظر انداز کرتا ہوا رکشہ کرنے باہر کی طرف نکل گیا ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *