Kallo by Hira Khan NovelR50520 Kallo (Episode 03)
Rate this Novel
Kallo (Episode 03)
Kallo by Hira Khan
اری گڑیا تو آ گئی میں ابھی تیرا ہی انتظار کر رہی تھی ،،
کیا ہوا امی سب خیر تو ہے نا ۔۔
خیر ہی تو نہیں ہے میری بچی ،
امی کیا ہو گیا ہے سیدھی طرح بتا دیں اب ،
گڑیا جادو چل گیا سجاد پر ، لے کر جا رہا ہے اپنی اس کلو کو ، ہنی منی ( ہنی مون ) منانے ۔۔امی کہاں جا رہے ہیں بھائی، میں سمجھی نہیں آپ کی بات،،
ارے گڑیا جو تو اب تک نہیں جا سکی اپنے میاں کے ساتھ ، ،
وہ جو شادی کے بعد جاتے ہیں نا گھومنے پھرنے ،
ہائے!!!!! لے کر جا رہا ہے اپنی اس لاڈلی کلو ، کو اسلام آباد ، مری لاہور ،،
اچھا، اچھا امی اب سمجھی میں آپ کی بات
بھائی ہنی مون پر جا رہے ہیں،
واہ بھئ واہ ، کیسا چکر چلایا ہے بھابھی نے ، بھائی کو تو ہر طرح سے اپنے قابو میں کر لیا ے ،
ہاں بھیا دیکھ لے گڑیا، نا جانے ایسا کیا ہنر ہے اس کلو کے پاس کہ میرا بچہ سجاد پاگل ہوا جا رہا ہے ،، اور تو اتنی خوبصورت ہونے کے باوجود بھی اپنے میاں کو مٹھی میں نہیں کر سکی،،
امی آپ فکر ہی نہیں کریں میں ایسا چکر چلاو گی، کہ سجاد بھائی اپنا پروگرام کینسل کردیں گے،،
ارے کیا چکر چلائے گی بتا مجھے، کیا چل رہا ہے تیرے دماغ میں،
امی بس آپ خاموشی سے دیکھتی جانا ، میں کرتی کیا ہوں ،
یہ کہتے ہوئے گڑیا باورچی خانے کی طرف پہنچی ، کچن میں کام کرتی ہوئی کلو کو دیکھ کر مخاطب ہوئی،
اوہ بھابھی یہ آپ ہیں ، میں سمجھی امی نے کوئی ماسی رکھ لی ے ،
کلونے گڑیا کی اس چبتی ہوئی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا، کیسی ہو گڑیا تم کب آئیں،
ارے بھابھی مجھے تو آئے ہوئے بہت دیر ہوگئی ہے لیکن افسوس کہ اب تک ایک پیالی چائے تک نصیب نہیں ہوئی ،،
پلیز ایک کپ چائے بنا دیں پر بھابھی دودھ زیادہ کیونکہ مجھے کالی چائے پسند نہیں ہے،، گڑیا نے طنزیہ مسکراہٹ سے کلو کے طرف دیکھتے ہوئے کہا ،،
گڑیا بار بار حسن آراء کی کالی رنگت پر طنز کے تیر برساتی رہتی،، نہ جانے اسے ایسا کیا مزا آتا تھا ،، اسے تو شاید اس بات کا احساس تک نہیں تھا، کہ ان باتوں کی وجہ سے کلو کے دل پر کیا گزرتی ہوگی،،وہ تو بس اپنی خوبصورتی کے گھمنڈ اور جہالت میں بغیر سوچے سمجھے کلو کو دکھ اور تکلیف دینے والی باتیں بول کر فخر محسوس کرتی تھی ۔۔۔۔
گڑیا اپنی بد اخلاقی اور پھوہڑ پن کے سبب ایک اچھی بیوی یا بہو نہیں بن پائی ، کیوں کہ اس نے اپنےشوہر یا سسرال والوں کو کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں تھا ،،
اس کا تو روز کا یہ معمول
رہا تھا کہ صبح اٹھتے ہی گود میں بچے لٹکائے اماں کے گھر آ بیٹھتی،،
بیچاری کلو سارا دن اپنی اکلوتی نند اور اس کے بچوں کی خاطر داری میں لگی رہتی ، اور اس دوران وہ گڑیا کی جلی کٹی باتوں کو بھی مسلسل نظر انداز کرتی رہتی،
گڑیا چونکہ ایک اچھی بہو یا بیوی نہیں بن پائی تھی اسی لئے وہ اپنی جلن اور حسد کلو پر نکالتی رہتی ، کیونکہ کلو نے بہت جلد اپنے شوہر ( سجاد) کا دل جیت لیا تھا، اور گڑیا یہ سب کرنے میں ناکام رہی ، اسے تو صرف اپنے حسن پر ناز تھا ،،
__________
__________
کلو جب گڑیا کے لئے چائے لے کر امی کے کمرے میں داخل ہوئی ،
توگڑیا نے کلو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،
بھابھی مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ،
ہاں بولو گڑیا،
بھابھی وہ مجھے ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ کا مشورہ دیا ہے
اب سسرال میں تو مجھے آرام ملنے سے رہا نہیں ، اس لئے میں نے سوچا امی کے گھر ہی آرام کر لوں،
کیا بھابھی میں آ جاوں آپ کے گھر، خیال رکھیں گی نا آپ میرا ؟
گڑیا نے بڑی مکاری سے معصوم چہرہ بنا تے ہوئے پوچھا،،
کلو نے گڑیا کی بات پر مسکراتے ہوئے جواب دیا
کیوں نہیں یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے، یہ گھر تمہارا ہی ے ، اس میں اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے،، اور ہاں میں تمہارا بہت خیال رکھو گی تم اس بات کی بالکل فکر نہیں کرنا۔۔
کلو کی اس بات پر گڑیا کی باچھیں کھل اٹھی ، وہ گویا ہوئی،
لیکن بھابھی آپ اور بھائی تو ہنی مون کے لیے جارہے ہیں نا،،
ارے نہیں گڑیا ، گھومنا پھرنا تم سے بڑھ کر نہیں ہے، ہم پھر کبھی بعد میں چلے جائیں گے ، اس وقت تم بہت اہم ہو ہمارے لئے ، ۔۔
گڑیا دل ہی دل میں بہت خوش تھی ، کیونکہ وہ بھائی اور بھابھی کے ہنی مون کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوگئی تھی،، ۔۔۔
