Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid (Episode 08)

Ishq Qaid by Rimsha Hussain

سارہ بیگم کچن میں تھی جب گارڈ نے آکر کہا کہ کوٸی نوجوان لڑکا ان سے ملنے آیا ہںے۔

کون آیا ہںے ؟انہوں نے پوچها

پتا نہیں ہم نے پوچها تو کہا اندر سے کسی کو بولاۓ میں ایسے گھر کہ داخل نہیں ہںوگا۔گارڈ نے بتایا۔

اچها میں جاکر دیکهتی ہںوں۔سارہ بیگم نے کہا۔

جی آۓ وہ دیکهنے میں پٹهان لگتا تھا ان کی طرح گورا اور خوبصورت تھا۔گارڈ نے چلتے چلتے بتایا۔

جی کس سے ملنا ہںے آپ نے ؟سارہ بیگم نے آتے ہی پوچها کیوں کی سامنے والے کی پیٹھ تھی ان کی طرف

شاہ میر جیسے ہی آیا تھا اپنا سامان گیٹ پہ رکھ کر وہ سکندر خان کی طرف آیا تھا اور اس نے اندر سے کسی کو بولانے کا کہا تھا اس نے اپنا نام نہیں بتایا وہ دیکهنا چاہتا تھا کہ جب وہ ان سے ملتے ہںے تو پہچانتے ہیں کے نہیں اور خاص طور پہ اس کو مہرماہ کو دیکهنا چاہتا تھا کہ کیا وہ اس کو بھول تو نہیں اگر نہيں تو کیا وہ اس کو دیکهتے ہی پہچان لیگی۔اگر نہیں تو وہ اس کے آگے نہیں سوچنا چاہتا تھا۔وہ ان ہی سوچو میں گم تھا جب اپنے پیچھے سارہ بیگم کی آواز سنائی دی۔

اسلام وعلیکم۔شاہ میر ان کی طرف مڑ کر مسکراکر بولا سارہ بیگم اس کو الجھ کر دیکهنے لگی جیسے پہچاننے کی کوشش کررہی ہںو۔

چچی جان نو سال اتنا زیادہ وقت بھی نہیں کہ آپ شاہ میر حيدر خان کو پہچان نہ پاۓ۔؟شاہ میر ان کی آنکهوں میں الجھن دیکهتا کہنے لگا۔اس کی بات پہ سارہ بیگم کو شاک لگا۔

میر بیٹا یہ آپ ہںو ؟انہوں نے حيرانکن لہجے میں پوچها

جی بلکل ۔شاہ میر مسکراکر بولا۔سارہ بیگم نے اس کو غور سے دیکهنے کے بعد شاہ میر کو گلے سے لگا کہ ملی اور کہا۔

بہت بدل گٸے ہںو آپ بیٹا اتنی آسانی سے پہچان پانا ممکن نہيں تھا۔سارہ بیگم نے خوشی سے کہا ان کو اتنے ٹائم بعد شاہ میر کو دیکه کر یقين نہیں آرہا تھا اور خوشی بھی ہںورہی تھی۔

مجھے اندازہ تھا۔شاہ میر نے کہا۔

اندر آۓ مجھے بہت سے سوال اور باتيں کرنی ہںے۔سارہ بیگم نے شاہ میر کو اندر کی طرف آنے کا کہا۔تو وہ مسکراکر اندر داخل ہںوا۔تو سارہ بیگم نے ان کو اس طرح رابطہ نہ رکھنے پہ سوال کیا تو شاہ میر کو جو پتا تھا اس نے بتادیا تھا اور سارہ بیگم نے ستارے بیگم کی وفات کا بھی بتایا جسے سن کر شاہ میر کجھ پل بول ہی نہیں پایا۔پھر اس نے سب کا بتایا تو اس نے مہرماہ کا پوچها انہوں نے بتایا کہ شہیر کو تو تم جانتے ہںوگے اس کو نوکری ملی تو اس نے سب کو ٹریٹ دی ہںے مہرماہ بھی وہی ہںے اور اب بس آنے والی ہںوگی۔پر شاہ میر شہیر کا ذکر سن کر بدمزہ ہںوا تھا وہ تو اس سے ملا ہی بس ایک دفعہ تھا اور جانے کیوں اس کو پسند نہیں آیا تھا اور نہ بھولا تھا مہرماہ کو اس سے بات کرتا دیکه کر شاہ میر نے اس کو اپنا رقیب سمجھ لیا تھا۔وہ ایسے ہی بات کررہںے تھے کہ سارہ بیگم کا فون بجنے لگا تو وہ معزرت کرتی اٹه کر کجھ کام کے لیے اندر اپنے کمرے کی طرف گٸ تو شاہ میر بھی کوٸی بات نہیں کہتا لان کی طرف آیا تھا۔جہاں اس نے مہرماہ کو پہلی دفعہ دیکها تھا۔شاہ میر مسکراکر اس جگہ کو دیکها جو بلکل ویسی ہی تھی بس کرسیا اور ٹيبل بدلی گٸ تھی۔شاہ میر کی نظر اب سامنے گیٹ پہ مہرماہ کی منتظر تھی۔تبھی شاہ میر کے دل کی دھڑکن نے تیز رفتار پکڑ لی تھی جب اس نے گیٹ کے اندر گاڑی سے مہرماہ کو دیکها جو واٸٹ کلر کے فراق میں تھی بال کھولے ہںوۓ تھے کالے رنگ کی چادر اپنے کندھوں پہ ڈالی ہںوٸی تھی۔شاہ میر بنا سانس لیے اس کو دیکه رہا تھا جو کجھ دور تھی اور ڈراٸيور کجھ کہہ رہی تھی شاہ میر پہ نظر نہیں پڑی تھی اس کی۔پر شاہ میر کو اندازہ تھا کہ جب وہ مہرماہ کو دیکهے گا تو اس کی خوشی انتہا نہ رہںے گی پر جو اصل میں ہںوگٸ تھی اس کا تو اس کے وہم و گمان ميں تھا شاہ میر کو اپنا گلا خشک ہںوتا ہںوا محسوس ہںوا پر جان تو تب جاتی محسوس ہںوٸی جب مہرماہ کی نظر اس پہ پڑی اور وہ اب اس کی طرف آرہی تھی۔وہ جیسے جیسے اس کی طرف قدم بڑھاتی آرہی تھی شاہ میر اپنا دل اور تیز دھڑکتا محسوس ہںوا اب مہرماہ بلکل اس کے پاس آکر کھڑی ہںوٸی تھی اس کو ایسے سنجيدہ دیکه کر شاہ میر لگا مہرماہ نے اس کو نہیں پہچانا وہ اب کہے گی کہ تم کون ہںو؟اگر وہ اس کو نہیں پہچانے گی تو وہ کیا کہے گا کہ وہ کون ہںے پر مہرماہ کی آواز سن کر اس کو اپنے کانوں پہ یقین نہیں آیا۔

تم شاہ ہںو نہ؟مہرماہ نے امید سے پوچها۔اور شاہ میر کو لگا آج وہ مرجاۓ گا اس کی ماہ نے اس کو بھلایا نہیں تھا اور نہ اس کو پہچاننے میں مشکل ہںوٸی تھی آج شاہ میر کی خوشی کی انتہا نہ تھا۔شاہ میر نے بس مہرماہ کو دیکه کر اپنا سر اثبات میں ہلایا۔

اوہ میرے خدا۔مہرماہ نے اپنے منہ پہ دونوں ہاته رکھے اور اپنی چیخ کا گلا گھونٹا۔اس کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ شاہ میر کو دیکه کر کیا کرے۔

شاہ ماشااللہ سے تم کتنے بڑے ہںوگٸے ہںو اور پیارے بھی۔مہرماہ نے اس کی لمبی ہاٸٹ اور چہرے کو دیکه کر حيرانی سے کہا۔شاہ میر مہرماہ کی بات پہ ہنس دیا کیوں کی مہرماہ اس کو اپنے سامنے بچی لگی۔اور اس کے چہرے کو دیکها اور مہرماہ کی آنکهوں میں خوشی کے آنسو تھے جن کو دیکه کر شاہ میر بے چین ہںوا۔

آپ نے کیسے مجھے پہچان لیا؟شاہ میر مہرماہ کو دیکه کر چمکتی آنکهوں سے سوال کیا اس کو اندازہ تھا مہرماہ نہیں بھولے گی اس کو پر ایسے جلدی پہچان بھی لے گی اور اتنی خوشی بھی ہںوگی یہ اس نے نہیں سوچا تھا اس نے تو اپنی کیفیت کا بھی نہیں سوچا تھا کہ کیسی ہںوگی۔شاہ میر کو اپنا دل سنبهالنا مشکل لگ رہا تھا وہ جواب جاننا چاہتا تھا کہ کیسے مہرماہ نے۔۔۔

تمہيں کیا لگا تھا جب تم اتنے سال بعد آٶ گے تو میں پہلی دفعہ جب تمہيں دیکها تھا تو تمہيں نہیں پہچانا تھا اب بھی ایسا ہی کروگی؟مہرماہ نے اس کی طرف دیکه کر شرارت سے کہا۔

آپ بتائے نہ کیسے پہچانا؟چچی جان تو ابھی بھی شاک ہيں۔شاہ میر نے بے چینی سے پوچها

شاہ تمہاری آنکهيں ۔مہرماہ نے اس کی آنکهوں میں دیکه کر کہا جس کا رنگ پہلے ہی بلو تھا اور آنکهوں کی چمک نے بلو آنکهوں کو اور خوبصورت بنا لیا تھا۔

آنکهيں ؟شاہ میر تعجب سے پوچها

ہاں جب پہلی دفعہ میرے سامنے آکر بیٹھنے کی اجازت مانگی تو جب میں نے تمہيں دیکها تو تم تب بھی بہت پیارے تھے پر مجھے تمہاری آنکهيں بہت پسند آٸی تھی۔مہرماہ نے مسکراکر بتایا۔

اچها۔شاہ میر ناجانے کیوں آج بھی مہرماہ کی تعریف پہ شرماگیا تھا اس لیے لب دانتوں تلے دباۓ یہاں وہاں دیکهنے لگا۔

ہاہاہاہاہا۔شاہ تم میں اب بھی شرمانے کی عادت ہںے۔مہرماہ نے قہقہقہ لگا کر کہا۔

نہیں تو ایسا کجھ نہیں۔شاہ میر نے کمزور سے دلیل تھی

اچها تو اب نہیں پوچهو گے شرمانے کا مطلب ؟مہرماہ نے پھر شرارت سے پوچها۔

نہیں۔شاہ میر ہنس کر سر نفعی میں ہلاکر کہا۔

اچها بیٹھو تو صحيح مجھے خیال نہیں آیا۔مہرماہ نے سر پہ ہاته مارکر کہا۔

کیسی ہیں آپ؟شاہ میر نے بیٹھتے ہی پوچها ۔

بڑا جلدی نہیں پوچها ؟مہرماہ نے گھور کر کہا۔

کوٸی نہیں بعد میں پوچه لوں گا۔شاہ میر نے بھی اس بار شرارت سے کہا۔

اوہںو کیا بات ہںے۔مہرماہ ہس دی۔

آپ پہلے سے زیادہ پیاری ہںوگٸ ہیں۔شاہ میر نے چاہ کر بھی خود کو یہ کہنے سے روک نہ پایا۔

شرم کرو شاہ خود سے بڑی کے ساته فلرٹ کر رہںے ہںو۔مہرماہ نے اس کی بات مزاق میں لیتے کہا۔

میں فلرٹ نہیں کررہا آپ سچ میں بہت خوبصورت ہںے اور اس لیے میں خود کو یہ کہنے سے روک نہیں پایا۔شاہ میر نے مہرماہ کی آنکهوں میں آنکهيں ڈال کر کہا۔

اچها مان لیتی ہںوں۔مہرماہ کو شاہ میر کے لہجے پہ نجانے کیوں شدت جان کر اپنے گال تپتے محسوس ہںوۓ

آپ بلش کر رہی ہیں۔شاہ میر مہرماہ کے سرخ گال دیکه کر گہری مسکراہٹ سے بولا۔

نہیں بلکل بھی نہیں اور تمہيں نہ سچ میں لنڈن کی ہَںَوا لگی ہںے مہرماہ نے کہہ کر اپنا ہاته پہلے کی طرح اس کے بالوں میں ہاته ڈالنا چاہا پر شاہ میر کو اب برا نہ لگے اس لیے اپنا ہاته نیچے کر لیا۔جب کی شاہ میر نے مہرماہ کی یہ حرکت غور سے دیکهی تھی اور اس کا ایسے ہاته نیچے کرنا شاہ میر کو برا لگا اس لیے اپنا سر اس کے آگے کیا اشارہ صاف تھا کہ اپنی خواہش پوری کرے۔

اندر چلتے ہیں۔مہرماہ نے مسکراکر شاہ میر کے بالوں میں ہاته پھیرتے کہا تو وہ مسکراکر اٹه کھڑا ہںو۔

میر بیٹا میں بھی تمہيں دیکهنے باہر ہی آرہی تھی۔سارہ بیگم نے ان دونوں کو آتا دیکه کر کہا۔

جی میں لان میں چلاگیا تھا ماہ کا انتظار کرنے کے لیے آپ نے بتایا نہ کہ آنے والی ہںے اس لیے۔شاہ میر صوفے پہ بیٹھتا ان کو بتانے لگا۔مہرماہ شاہ میر کی اتنی صاف گوٸی پہ بس دیکهتی رہ گٸ۔

شاہ چچا جان اور باقی سب نہیں آۓ کیا ؟مہرماہ کو اب خیال آیا تو پوچها

نہیں وہ کجھ ٹائم بعد آجاۓ گے۔شاہ میر نے بتایا۔

اچها تم کافی لوگے میں بہت اچهی بناتی ہںوں۔مہرماہ نے شاہ میر دیکه کر پوچها

اچهی نہ بھی بناۓ میں نے پی لینی ہيں پھر بھی۔شاہ میر نے مسکراکر کہا۔

اچها تم بیٹھو میں بنا کہ لاتی ہںوں۔مہرماہ کہہ کر اٹه گٸ۔تو سارہ بیگم نے شاہ میر سے سوال کیا۔

اور بتاٶ میر کوٸی لڑکی تلاش کی لنڈن میں تم نے یا بھاٸي اور ہانم نے دیکهنی ہںے ؟

چچی جان میں نے وہاں کسی لڑکی کو پسند نہیں کیا اور شادی تو ميں ما

اسلام وعلیکم۔شاہ میر ابھی کجھ کہتا کہ شاہزیب لاٸونج میں آتا سلام کرنے لگا شاہ میر اس کو دیکه اٹها

وعلیکم اسلام۔شاہ میر اس کو دیکه کر کہا۔

ڈونٹ ٹيل می کہ تم میر ہںو۔شاہزیب حيرت سے منہ کھولے بولا۔

بلکل شاہزیب بھاٸي میں شاہ میر ہی ہںو۔شاہ میر نے اس کی حيرانی نوٹ کرتے مسکراکر بولا۔

کیسے ہںو اور کہاں غائب ہی ہںوگٸے۔شاہزیب خوشدلی سے اس گلے لگاۓ بولا۔

بس یہی آپ کے سامنے ہںوں۔شاہ میر نے جواب دیا۔

اور باقی سب کہاں ہیں ؟شاہزیب اس کو اکیلا دیکه کر بولا۔

باقی سب بھی آجاۓ گے۔شاہ میر نے کہا۔

میر جب تک سب نہیں آجاتے تم نے یہی رہنا ہںے۔سارہ بیگم نے حکیمہ لہجے میں کہا۔

نہیں چچی جان

نہیں کو اب بھول جاٶ میری بات ماننی ہںوگی۔میں نے سکندر کو بھی بتادیا ہںے بہت خوش ہںوۓ ہیں ورنہ وہ تو بہت پریشان رہنے لگے تھے اور انہوں نے ہی کہا کہ اب تمہيں یہی رکھے جب تک باقی لوگ نہیں آجاتے۔سارہ بیگم نے اس کی بات پورے ہںونے سے پہلے ہی کہا۔

اچها ٹھیک۔شاہ میر بولا۔مہرماہ بھی ٹرے میں تین کپ لاٸی دو کافی اور ایک سارہ بیگم کے لیے چاۓ کا۔مہرماہ نے سب کو دینے کا بعد شاہزیب سے کہا۔

تم نے کل نہیں آنا تھا ؟

نہیں۔شاہزیب نے کہتے ہی اس کا کافی کا کپ لیا۔

یہ میرا تھا زیب۔مہرماہ نے اس کی حرکت پہ گھور کر کہا۔

تھا نہ اب میرا ہںے۔شاہزیب نے کافی کا گھونٹ بھر کر بولا۔مہرماہ پاٶ پٹکتی دوبارہ کافی بنانے کچن میں گٸ۔جب کی شاہ میر کا موڈ خراب ہںوگیا اب کی مہرماہ کو جاتے دیکه کر۔

زیب مہرو کو تنگ ناں کیا کرو اب۔سارہ بیگم نے شاہزیب کو دیکه کہ کہا۔

امی جان ابھی تو زیادہ کرنا چاہٸیے کل کو جب شادی ہںوگی تو میں یہ سب تو نہیں کر پاٶں گا ناں۔شاہزیب نے بنا ان کی بات مانے بولا۔جب کی شاہ میر کا دل مہرماہ کی شادی کا سن کر زور سے دھڑکا اس نے گبھراہٹ ہںونے لگی تو اس نے کہا۔

میں ماہ کے پاس جاتا ہںوں۔شاہ میر کہتا اپنا کپ لیے کچن کی طرف گیا۔

دیکه لیں ابھی بھی بچپن کی طرح مہرو کہ پیچھے جانا پسند ہںے۔شاہزیب اس کو جاتا دیکه کر سارہ بیگم کو کہنے لگا جو اس کی بات پہ مسکرادی بس۔

ماہ آپ یہاں ایسے ہی بیٹھی ہیں؟شاہ میر نے اس کو ایسے کھڑا دیکها تو پوچها

تم یہاں کیوں ؟مہرماہ نے سوال کے جواب بنا سوال کیا۔

آپ میری بات کا جواب دے۔شاہ میر نے کہا۔

کیوں کی اب میں چاۓ پینے کا ارادہ رکھتی ہںوں۔مہرماہ نے بتایا۔

اچها کیوں۔شاہ میر نے پوچها

ایسے ہی انسان کے موڈ کو بدلنے میں وقت کتنا لگتا ہںے۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔

ہاں یہ تو ہںے۔شاہ میر نے اس کی بات پہ اتفاق کرتے کہا

تمہاری پڑھاٸی تو پوری نہیں ہںوٸی ہںوگی نہ؟مہرماہ نے چاۓ کا پانی گرم کرنے کے رکھتے سوال کیا۔

نہیں۔شاہ میر نے جواب دیا۔

پھر کیا یہی کمپلیٹ کروگے ؟مہرماہ نے پوچها

ابھی سوچا نہیں۔شاہ میر نے بتایا۔

اچها۔مہرماہ نے کہا۔

اور جب تک موم ڈيڈ نہیں آجاتے میں یہی رہںوگا چچی جان کا حکم ہںے۔شاہ میر نے بات کرنے کے غرض سے کہا

یہ تو اچهی بات ہںے مہرماہ نے مسکراکر کہا۔تو شاہ میر بھی مسکرادیا۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

دوسرے دن سکندر خان بھی آگٸے تھے اور شاہ میر سے خوب ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ حيدر خان سے سخت خفا ہیں اور انہوں نے پھر شاہ میر منانے پہ راضی ہںوگٸے تھے۔شاہ میر نے حيدر خان کو کال کرکے یہاں کی ساری صورتحال بتادی تھی سکندر خان نے بھی پھر ان کو بتایا ستارے بیگم کی وفات کا جس کو سن کر حيدر خان کو اپنا وجود سناٹو کی زد میں آتا محسوس ہںوا پھر وہ اتنا روۓ کہ باقی سب بھی رو دیٸے اور کجھ ٹائم بعد انہوں نے اپنے آنے کا بتایا کہ وہ اب آۓ اور وہ سب سے شرمندہ ہیں۔انہوں نے اپنی جنت کو ناراض کیا اور وہ اب بس جو پہلے نہیں کرسکے اب کرے گے اور دوبارہ پاکستان آنے کے بعد دوسرے ملک نہیں جاۓ گے۔آج رات ان کو پہنچ جانا تھا اور شام میں اس لیے شاہ میر اپنے گھر جاۓ گا اور وہ اب لاٸونج میں شاہزیب کہ ساته تھا جو اس سے سوالات پوچه رہا تھا۔

میر تم نہ مجھے اب لسٹ بتادو۔شاہزیب نے مہرماہ کو آتے دیکه کر کہا۔

کس چیز کی لسٹ؟شاہ میر نے ناسمجھی سے اس کو دیکه کر پوچها

وہاں لڑکیاں تمہارے آس پاس ہںوگی وہ بھی بولڈ لڑکياں تو ان میں کتنی گرل فرینڈس کتنی تھی تمہاری وہ ان کے نام بتاٶ۔شاہزیب نے اب کے مزے اور تجسس سے پوچها تو مہرماہ بھی اپنا ناول رکھ کر اس کی طرف متوجہ ہںوٸی۔

ایک بھی نہیں۔شاہ میر پرسکون لہجے میں جواب دیا۔

ایک بھی نہیں۔شاہزیب صدمے کی حالت میں بولا۔

جی ایک بھی نہیں۔شاہ میر اس کو دیکه کر کہا۔

تم سے یہ امید تو نہ تھی کہ ایک لڑکی کو امپریس نہ کرسکے وہ بھی لنڈن میں رہ کر۔شاہزیب نے مصنوعی دُکھی انداز میں شاہ میر کو کہا۔جب کی مہرماہ بھی حيران اور خوش بھی تھی۔

ایسی بات نہیں مجھے بس لڑکیوں میں دلچسپی نہیں تھی۔شاہ میر نے صفائی دیتے کہا۔

اب تو تم ایسے ہی کہوں گے نہ ۔شاہزیب نے جان بوجه کے چھیرا۔

شاہ دلچسپی کیوں نہیں تھی لڑکياں تو بہت خوبصورت ہںوگی ایک سے بڑه کر پھر ؟مہرماہ نے اب کی سوال کیا۔

میرے لیے چہرے کی خوبصورتی ضروری نہیں۔وہاں جتنی بھی تھی مصنوعی چہرے تھے دل میں کجھ تو باہر سے کجھ وہ کسی ایک کے ساته نہیں رہ سکتی تھی۔اور اگر کوٸی تھی بھی تو میرے دل میں نہ آسکی۔شاہ میر مہرماہ کو دیکه کر ہلکہ سا مسکراکر بولا۔

کیا دل میں کوٸی اور ہںے؟شاہزیب نے دلچسپی سے پوچها ۔

ابھی یہ بات بتانے کا وقت نہیں۔شاہ میر نے مسکراہٹ ضبط کرتے کہا۔

مطلب کہ دل میں کوٸی ہںے۔مہرماہ نے جوش سے پوچها

آپ کے لیے وہ کوٸی اور نہیں۔شاہ میر نے کہا۔

پہلیاں کیوں بجھوارہںے ہںو؟شاہزیب بیزاری سے بولا۔

کجھ نہیں مجھے ایک ضروری کام سے جانا تھا تو میں چلتا ہںوں۔شاہ میر بات ٹال کر کہتا وہاں سے نکل گیا۔جب کی وہ دونوں ایک دوسرے کو تکتے رہ گٸے۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

آپ لوگوں کو تکليف تو نہیں ہںوٸی نہ آنے میں؟سکندر خان نے حيدر خان نے سے پوچها جو کل رات ہی آگٸے تھے تو سکندر خان اور سارہ بیگم مہرماہ شاہزیب ان سے ملنے آۓ تھے۔

نہیں سفر اچها گزرا ۔حيدر خان نے سرجھکا کر جواب دیا۔

تمہيں بہت مبارک ہںو۔ہانم بیگم نے مسکراکر مہرماہ کو دیکه کر کہا۔

کس بات کی مبارکباد چچی جان ؟مہرماہ کو ناسمجھی سے بولی۔

تمہاری منگنی کی اور کس کی تب تو نہ دے سکی تو آج دے دی۔ہانم بیگم نے کہا۔

شکریہ ۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔

میر نہیں کیا گھر پہ ؟شاہزیب نے سوال کیا۔

صبح کو نکل گیا تھا گھر سے کہ کوٸی کام ہںے اس کو۔ہانم بیگم نے جواب دیا۔

اچها ۔شاہزیب نے سرہلایا۔

اب ہمیں تاریخ دینی چاہٸیے مہرو کی شادی کی حمیرا بہت جلدی مچاٸی ہںے پر آپ لوگ نہ تھے تو ہم نے وقت مانگ لیا تھا۔سارہ بیگم نے سب کو دیکه کر کہا۔

ہاں اب تو ہم یہی ہںوگے۔ہانم بیگم نے مسکراکر کہا۔

حور کے ساته بس ابھی نکاح کی رسم کرینگے رخصتی سال بعد۔سکندر خان نے اپنا فیصلا سنایا۔

ٹھیک میں آپ کی بات حمیرہ کو بتادوگی۔سارہ بیگم نے ان کو دیکه کر کہا۔مہرماہ ان سب باتوں سے لاتعلق بیٹھی تھی۔جب کی حيدر خان آنے والے وقت کے لیے خود کو تیار کررہںے تھے وہ اب سمجھ گٸے تھے کہ شاہ میر سے یہ بات چھپانا ممکن نہیں ہںوگا اب شاہ میر نے بھلے ان کو کجھ نہ بتایا ہںو پر وہ باپ تھے بیٹے کے دل کا حال سمجھ گٸے تھے پر وہ مجبور تھے۔اس کے لیے کجھ کر نہیں سکتے تھے۔ان کی نظر میں شاہ میر نے غلط جگہ دل لگایا ہںے اور بعد میں اس کا اندازہ شاہ میر کو بھی ہںوجاۓ گا۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

وہ اس وقت ریان کے ساته کیفے میں تھا۔جو کراچی آکر اس کو ملنے کے لیے یہاں بولایا تھا کہ تمہاری یاد آرہی تھی۔اس لیے شاہ میر اس کی بات پہ ملنے آیا تھا۔

اور بتاٶ کیا سوچا ہںے اب ؟ریان نے سوال کیا۔

کجھ دنوں میں موم ڈيڈ سے کہوں گا کہ ماہ سے شادی کرنا چاہتا ہںوں۔شاہ میر نے آرام سے بتایا۔

کیا وہ مان جاۓگے ؟ریان نے دوسرا سوال کیا۔

ناں ماننے کی وجہ؟شاہ میر نے الٹا اس سے پوچها

تم بہتر جانتے ہںو۔ریان طنزیہ بولا۔

میں اس بات کو نہیں مانتا میرے لیے وہ بس سانس کی طرح ہیں جنہيں ہمیشہ میرے ساته رہنا ہیں۔شاہ میر نے کہا۔

دعا ہںے کہ تمہارے گھر والے یا تمہاری ماہ کو اعتراض نہ ہںو۔ریان نے دعا دے کر کہا تو شاہ میر کے چہرے پہ مسکراہٹ آگٸ۔شاہ میر کا فون بجا تو وہ وہاں متوجہ ہںوا۔

کس کی کال ہںے؟ریان نے پوچها

شاہزیب بھاٸی کی تم خاموش رہنا ذرہ۔شاہ میر اس کو بتاتا کال پک کرنے لگا اور کجھ دور ساٸيڈ پہ کھڑا ہںوا۔

جی شاہزیب بھاٸی۔شاہ میر نے کہا۔

میر کہاں ہںو ہم صبح سے تمہارے گھر ہيں اور تمہارا کوٸی اتا پتا ہی نہیں۔شاہزیب اس کے پوچهنے پہ شروع ہںوگیا۔

اوہ سوری مجھے پتا نہیں تھا۔شاہ میر نے معزرت کی۔

اب تو چلا نہ پتا تو آجاٶ۔شاہزیب نے کہا۔

جی آتا ہںوں۔ماہ بھی ہںوگی نہ ؟شاہ میر نے جواب دے کر مہرماہ کا پوچها ۔

پہلے تھی اب نہیں ہںے۔شاہزیب نے بتایا۔

اب کیوں نہیں؟شاہ میر نے الجھ کر پوچها

شہیر کی کال آٸی تھی اس کو اپنے کسی دوست سے مہرماہ کو ملانا تھا۔شاہزیب نے بتایا۔

ماہ کو اپنے دوست سے کیوں ملانا تھا انہيں ؟شاہ میر ضبط سے پوچهنے لگا ورنہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا شہیر کے ساته کیا کر گزرتا۔

ایسے ہی اب ملنا جلنا تو رہںے گا نہ ۔شاہزیب اس کہ لہجے پہ دھیان دیٸے بغير سرسری بولا۔

کیا مطلب ہںے آپ کا ؟شاہ میر کہ دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی۔

میر کیا تمہيں نہیں پتا جو اتنے سوال پوچه رہںے ہںو۔شاہزیب بیزاری سے بولا۔

آپ بتائے ۔شاہ میر اپنے ڈر پہ قابو پاتے پوچها

حد ہںے میر چچا جان نے بتایا ہںوگا نہ پہلے کہ مہرو اور شہیر برو کی منگنی ہںوگٸ ہںے اور اب تو نکاح کی تاریخ رکھنے کا سوچ رہںے ہيں۔شاہزیب نے بتایا۔جب کی شاہ میر کو لگا اس کے پاٶ سے نیچے زمین کھسک گٸ ہںو وہ بے ساختہ لڑکھڑایا گیا اور ایک قدم پیچھے ہںوا۔

ک ک کب کی بات ہںے یہ ؟شاہ میر کو اپنی آواز دور کھاٸی سے آتی محسوس ہںوٸی۔

تم ٹھیک ہںو؟شاہزیب اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ محسوس کرتے شاہزیب نے پریشانی سے پوچها

کب منگنی ہںوٸی تھی ان کی۔شاہ میر اس کا سوال نظرانداز کرتا دوبارہ پوچها ۔

سات سال سے اُپر ہںونے

میں آپ سے بات کرتا ہںوں۔شاہ میر سے مذید سنا نہیں گیا اور کال کٹ کردی اور بنا ریان کو بتائے کیفے سے نکل گیا۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

شہیر آپ نے تو کہا تھا کہ آپ کو اپنے کسی دوست سے ملانا تھا؟ مہرماہ نے شہیر سے پوچها جو اس کو ریسٹورنٹ میں لے آیا تھا اور ٹيبل پہ وہ دونوں ہی تھے۔

میں نے ایسے ہی کہا تھا مجھے پتا تھا اگر تمہارے ساته ایسے باہر آنے کا کہتا تو تم نے منع کرنا تھا۔شہیر نے ٹيبل پہ رکھے اس کے ہاتهوں کو تھام کر بولا۔

آپ کو جھوٹ نہیں بولنا چاہٸیے تھا۔مہرماہ نے نامحسوس طریقے سے اپنے ہاتهوں کو چھڑواتے ہںوۓ کجھ ناراضگی سے کہا۔

تو اور کیا کرتا ویسے بھی اب تو ہمارا نکاح بھی ہںونے والا ہںے اور کجھ ٹائم بعد شادی بھی۔شہیر آرام سے بولا۔

تو آپ کجھ صبر کرتے مجھے ایسے ہںوٹلنگ کرنا پسند نہیں۔مہرماہ نے ناگواری سے کہا۔

کیا ہںوگیا ہںے مہرو تم تو ایسے کہہ رہی ہںو جیسے میں کوٸی غير ہںو۔شہیر نے کجھ تیز آواز میں کہا۔

می

ابھی وہ کہتی کہ اس کا فون رنگ ہںوا۔نام دیکها تو شاہ کی کال تھی اس نے شاہ میر کے پاکستان آتے ہی نمبر لیا تھا اور اس کے انسٹاگرام اور فیس بک کی آۓ ڈي بھی پوچه لی تھی۔مہرماہ کے ایک نظر شہیر کو دیکهتی کال پک کی۔

اسلام وعلیکم

آپ کہاں ہيں اس وقت؟شاہ میر نے اپنے آنسو ضبط کرتے مہرماہ کے سلام کا جواب دیٸے بنا کہا۔

خيریت اور تمہاری آواز کو کیا ہںوا ہںے ؟مہرماہ نے پریشانی سے اٹه کھڑی ہںوٸی۔اس کو اٹهتا دیکه کر شہیر بھی کھڑا ہںوگیا۔

میں آپ کو ایک ایڈریس مسیج کر رہا ہںوں آپ آجاۓ ورنہ میں وہ کر بیٹھوں گا جس کا کبهی آپ نے یا کسی نے سوچا بھی نہیں ہںوگا۔شاہ میر نے بھاڑی آواز سے کہا

پر بات

مہرماہ پوچهنے والی تھی پر شاہ میر نے کال کٹ کردی تھی۔

شہیر میں چلتی ہںوں ایمرجنسی ہيں۔مہرماہ نے اس کو دیکه کر بتایا اور اپنا پرس لینے لگی۔

پر ابھی تو ہم نے کجھ آرڈر بھی نہیں کیا۔شہیر نے الجھ کر کہا۔

میں ابھی چلتی ہںوں۔خدا حافظ ۔مہرماہ بنا اس کی بات کا جواب دیٸے نکل گٸ۔جب کی شہیر نے غصے سے اپنا ہاته ٹيبل پہ دے مارا۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

شاہ میر نے مہرماہ کو ساحل سمندر پہ بولایا تھا جہاں اس وقت شام ہںونے کی وجہ سے اکادکا ہی لوگ تھے۔مہرماہ پریشانی سے چلتی شاہ میر کے پاس آٸی تھی۔جس کی اس کے طرف پیٹھ تھی مہرماہ نے اس کو اپنی طرف موڑا تو دنگ رہ گٸ شاہ میر کی سرخ آنکهيں اور ماتھے پہ بکھیرے بال اس کو خوفزدہ کر گٸے۔

شاہ یہ تم نے اپنی حالت کیا بنالی ہںے اور تمہاری آنکهيں سرخ اور گیلی کیو ہںے تم نے مجھے اتنی جلدی میں بولایا وہ بھی آدهی ادھوری بات کرکے کال کٹ کردی تمہيں پتا بھی ہںے میں کتنا ڈر گٸ تھی اب چپ کیو ہںو کجھ بولتے کیوں نہیں۔مہرماہ نے آتے ہی اس کو سنانا شروع کیا تھا پر اس کے خود کو خاموش پاتا دیکه کر اس نے کہا۔

کیوں کیا آپ نے ؟شاہ میر نے پوچها

میں نے کیا کردیا؟مہرماہ نے الجھ کر پوچها

مجھ سے میرے جینے کی وجہ چھین کر مجھے ایسے ادھورا کرکے آپ کہہ رہی ہيں کہ آپ نے کیا کردیا ہںے۔شاہ میر نے زخمی مسکراہٹ ہںونٹوں پہ سجا کر بولا۔

شاہ ٹھیک سے بتاٶ کیا کہنا چاہتے ہںو میں کیوں تمہارے ساته ایسا کروگی۔مہرماہ نے اس کو دیکه کر کہا۔

میں جب جارہا تھا تو آپ سے کہا تھا نہ کہ میرا انتظار کیجٸیے گا ؟شاہ میر نے پوچها

یہ کیا باتيں لے کر بیٹھ گٸے ہںوتم۔مہرماہ کا دل اب کسی انہونی کہ تحت زور سے دھڑکا۔

میں نے ایسا کہا تھا کہ نہیں۔شاہ میر اپنی بات پہ زور دے کر بولا۔

ہاں کہا تھا پر تم اس وقت بچے تھے تمہيں لگ رہا تھا کہ شاید تمہيں تمہاری دوست بھول نہ جاۓ ۔مہرماہ کو ایسے اچانک پوچهنا سمجھ نہیں آرہا تھا اس لیے جو سمجھ آیا اس نے بتایا۔

تو پھر آپ نے کیوں نہیں کیا میرا انتظار؟شاہ میر نے چیخ کر کہا۔تو مہرماہ ڈرکر کجھ قدم دور ہںوٸی پر شاہ میر نے بازوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور دوبارہ بولا۔

آپ کیسے کسی اور سے منگنی کرسکتی ہیں۔جب کی میں آپ سے بے انتہا عشق کرتا ہںوں۔میری دعاٶ کا محو آپ تھی اور رہںے گی۔میں آپ کو اس وقت سے چاہتا ہںوں جب مجھے ان باتوں کا پتا نہ تھا میں وہاں ایک ایک پل آپ کے بارے میں سوچا آپ کو مانگا آپ کو آپ سے زیادہ چاہا اور آپ نے آپ کیسے کسی اور کو اپنا ساتهی بنا سکتی ہںے جب کی میں یہاں آیا ہی آپ کو اپنا بنانے ہںوں آپ میرے ساته ایسا کیسے کرسکتی ہںے۔شاہ میر جنونی انداز میں مہرماہ کا بازوں پکڑے بول رہا تھا جب کی مہرماہ پھٹی آنکهوں سے شاہ میر کی باتيں سن رہی تھی اس کو یقين نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی شاہ میر جس کو وہ شاہزیب کی طرح چاہتی ہںے جس کی باتيں وہ بچہ سمجھ کر نظرانداز کرتی تھی وہ آج ایسے اس کو یہ سب بول رہا تھا بنا عمر کا فرق جانے۔

یہ کیا بکواس کررہںے شاہ میر ہوش میں تو ہںوتم۔مہرماہ نے غصے سے اس کا پورہ نام لے کر پوچها

بکواس نہیں ہںے یہ میرا عشق ہںے جس میں آپ نے مجھے قید کردیا ہںے اور ایسا قید کیا ہںے کہ اگر میں نکلا تو اگلی سانس نہ لے پاٶ۔شاہ میر نے مہرماہ کا بازوں چھوڑ کر ہزیاتی انداز میں اپنا سرہلاتا بولا۔

میں نے ایسا کجھ نہیں کیا اور یہ کہتے ہںوۓ تمہيں ذرہ شرم نہ آٸی چار سال شاہ میر چار سال بڑی ہںو میں تم سےکجھ اس کا ہی لحاظ کیا ہںوتا یہ پیار عشق کی باتيں کرنے کے لیے تمہيں میں ہی ملی تھی کزن ہںوں تمہاری بہن کی حيثيت ہںے میری تمہاری اور تم۔مہرماہ نے شاہ میر سے چیخ کر بولی اس کو اپنا دماغ ماٶف ہںوتا محسوس ہںورہا تھا وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ اس سے چھوٹا شاہ میر یہ باتيں کررہا تھا اس کا دل کیا زمین پھٹے اور اس میں سماجاۓ۔

آپ میرے لیے جو حیثیت رکھتی ہںے اگر میں بیان کرنا چاہوں بھی تو نہ کرپاٶں۔

شاہ میر خدا کے واسطے چپ ہںوجاٶ۔مہرماہ نے اس کی بات پوری ہںونے سے پہلے ہی ہاته جوڑ کر کہا۔

یہ آپ پلیز ہاته نیچے کرے۔شاہ میر نے اس کے جوڑے ہاتهوں کو دیکه کر منت بھرے لہجے میں کہا۔

میں اب جارہی ہںوں اور تم میرے سامنے اس وقت تک نہ آنا جب تک ہمارے بیچ عمر کے تقدس کا احساس نہ آجاۓ۔مہرماہ نے اپنے آنسو صاف کرتے کہا۔

آپ ایسے میری بات کا جواب دیٸے بنا نہیں جاسکتی میں اگر آپ سے کجھ چھوٹا ہںوں تو اس میں میرا کیا قصور مجھے آپ سے اگر محبت ہںے تو اس میں کیا کرسکتا ہںوں محبت کیا عمر دیکه کر ہںوتی ہںے اور میں نے ایسا کجھ بھی تو نہیں کیا جو آپ سزا سنا کہ جارہی ہیں۔کیا آپ نے کبهی ناولز میں یہ نہیں پڑھا۔Age doesn’t not matter in love شاہ میر اس کے سامنے آتا ہںوا کہنے لگا۔

تمہارے لیے میٹر نہیں کرتا ہںوگا پر میرے لیے کرتا ہںے مجھے اسی معاشرے میں رہنا ہںے اور تمہاری اس ضد کی وجہ سے ساری عمر سر جھکا کر نہیں چل سکتی لوگ کیا کہيں گے کہ اپنی عمر کے چھوٹے چھ مجھے تو کہتے ہںوۓ بھی شرم آرہی ہںے اور تم نے ایسا سوچ بھی کے لیا۔مہرماہ نے حقارت سے کہا۔شاہ میر کو مہرماہ کے لہجے میں حقارت محسوس کرتے اپنا دل بند ہںوتا لگا۔

آپ کو اس معاشرے اور لوگ کیا کہیں گے اس کی پرواہ ہںے جو زمین پہ بیٹھ کر چاند کے داغ کی بات کرتے ہںے پر میرے جذبات احساسات اور میری محبت عشق کی کوٸی قدر نہیں کوٸی پرواہ نہیں آپ کو۔شاہ میر ویران نظروں سے دیکهتا کہنے لگا۔

یہ سب حماقت ہںے بعد میں تمہيں خود احساس ہںوجاۓ گا اور تب تم اس وقت کو یاد کرتے ہنسوگے۔مہرماہ کہہ کر نکل کے چلی گٸ۔شاہ میر نے روکا نہیں وہ وہيں زمين پہ بیٹھتا چلاگیا اس کے عشق کو وہ حماقت کا نام دے گٸ تھی ہاں شاید حماقت ہی تھی اس لیے تو عشق کیا ورنہ جان کر کون عشق کی آگ میں جلنے کے لیے کودتا ہںے اس کو بہت ٹائم پہلے شاہزیب کا کہا جملا یاد آیا تھا جو اس نے مشورہ دیا تھا کہ مہرماہ سے دور رہںو ورنہ پچھتاٶ گے وہ پچھتارہا تھا اگر تب اس کی بات مان لیتا تو آج اتنا مشکل نہ لگتا اس کو مہرماہ سے دور رہنا پر وہ مہرماہ سے دور رہنا کب چاہتا تھا وہ تو اس کے بغير مرنا پسند کرے گا۔

دل تے میرا کَملا ہںویا جن کہیرے خواب

سجا بیٹھا توں میرا ہی میرا ہی ہںے،

خود نوں لاڑے لابیٹھا میرا رِوم رِوم

خالی ہںے میرے سارے خواب جالی

ہںےمیرے قولِ آ دل نوں سمجھا توں

میرا نہیں۔۔۔۔توں میرا نہیں۔۔۔

زندگی میں صرف ایک چیز ایسی ہںے جو انسان کو جی بھر کر خوار کرنے کی صلاحيت رکھتی ہںے اور وہ ہںے محبت ۔وہ آپ کے ساته آنکه مچولی کھیلتی ہںے اور کبهی آپ کی آنکهوں پہ ہاته رکھ کر اپنے ہںونے کا اتنا گہرا احساس دلاتی ہںے کہ انسان کو لگتا ہںے کہ وہ اپنی مٹھی میں پورے سمندر کو قید کرسکتا ہںے اور کبهی کبهی آپ کو یقين کی سیڑھی سے اتنا زور سے دھکا دیتی ہںے کہ انسان ساری زندگی سر اٹها کر چلنے کی ہمت نہیں کر پاتا !!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *