Ishq Qaid by Rimsha Hussain NovelR50562 Ishq Qaid (Episode 07)
Rate this Novel
Ishq Qaid (Episode 07)
Ishq Qaid by Rimsha Hussain
سات سال بعد !
ہاں نہیں میں بس آرہی ہںوں۔مہرماہ نے جلد سے سیڑھیا اُترتے ہںوۓ کال پہ کہا۔
امی جان زیب کہاں ہںے ؟مہرماہ نے کچن میں آتے سارہ بیگم سے پوچها
وہ تو تمہارے بابا کے ساتهہ آفس چلاگیا۔سارہ بیگم مصروف سے انداز میں کہا۔
کیا امی جان آپ نے روکا کیوں نہیں اس کو مجھے میری دوست کے گھر ڈراپ کرنے جانا تھا۔مہرماہ نے ان کی بات پہ شاک سے کہا۔
ڈراٸیور سے کہو چھوڑآۓ گا یہ اتنا بڑا مسلا نہیں جو زیب آفس کو روکتی میں۔سارہ بیگم اس کی بات پہ سرسری سے کہا۔
اور مجھے جو اتنا ہںونے کے بعد زیب کے ساتهہ جانا تھا اس کمینے سے میں نے کہا بھی تھا پھر بھی۔مہرماہ نے ان کو اپنی طرف اشارہ کرتے کہا جس نے اسکن کلر کا فراق پہنا تھا جو اس کے پاٶ کے کجھ اُپر تھا بال کھولے ہںوۓ تھے اور کندھوں پہ کالے رنگ کی چادر پہنی تھی۔چہرے پہ ہلکہ سا میک اپ اور ڈارک لپسٹک لگاٸی تھی۔
مہرو اب بڑے ہںو تم ایسے گالیاں منہ سے نہ نکالو ایسے اگر کبهی شہیر یا اس کے کسی گھر والوں نے سن لیا تو کیا کہے گے کہ کیسی بداخلاق لڑکی ہںے۔سارہ بیگم نے اس کی ساری بات ان سنی کرتی آخری بات پہ اس کو ٹوکا۔
امی جان اب اتنی بھی گالیاں نہیں دیتی میں اور شہیر کو میری اس عادت کا پتا ہںےآپ فکر نہ کرے۔مہرماہ نہ ان کی بات پہ بے فکری سے کہا۔
تمہيں دیر نہیں ہںورہی تھی۔سارہ بیگم نے اس کو کہا کیوں پتا تھا مہرماہ کو سمجھانا ان کی بس کی بات نہیں۔
ارے ہاں بہت میں جارہی ہںوں ڈراٸيور کے ساتهہ۔مہرماہ سر پہ ہاتهہ مارتی ان سے کہنے لگی اور نکل گٸ۔
اگر ڈراٸيور کے ساتهہ جانا ہی تھا تو اتنا ڈرامہ کیوں کیا۔اس کے جاتے ہی سارہ بیگم منہ میں بڑبڑاٸی۔
مہرماہ مونا کے گھر آٸی تو پارٹی شروع ہںوگٸ تھی۔آج مونا کی سالگرہ کا دن تھا جس پہ اسنے اپنی سب دوستوں کو انواٸٹ کیا تھا۔پارٹی گھر کے باہر لان میں کی گٸ تھی اور ان کے بیٹھنے کے لیے کرسیا ٹیبل بہت خوبصورت طریقے سے سجاٸی گٸ تھی۔اور بیچ میں کجھ بڑی ٹیبل پہ کیک رکھا گیا تھا۔مہرماہ مونا کے باس آگٸ۔اور کہا۔
سالگرہ مبارک ہںو۔اللہ تمہاری ہر خواہش پوری کرے ۔
شکریہ یار۔مونا نے مسکراکر اس سے گلے ملی۔
بہت پیاری لگ رہی ہںوتم۔مہرماہ نے اس کو دیکهہ کر تعریفی انداز میں کہا مونا نے سلور کلر کی میکسی پہنی ہںوٸی تھی اور بالوں کا جواڑا بنایا ہںوا تھا مناسب میک اپ کیے وہ بہت اچهی لگ رہی تھی۔
ہاں پر تم سے کم۔مونا ہنس کر اس کو دیکهہ کر بولی۔
یہ تو سچ ہںے مہرماہ کی تو بات ہی کجھ اور ہںے۔مونا کی ایک کزن نے اس کی بات پہ کہا۔
اچها اب بس۔مہرماہ نے ان کی تعریف پہ جھنپ کر کہا۔
ویسے تمہارے لیے تمہارے جیسا ہی کوٸی سوٹ کرتا ہںے شہیر اتنا اچها نہیں لگے گا تمہارے سامنے۔ایک اور لڑکی نے مہرماہ کو دیکهہ کر کہا۔
سوری پر میں اپنی پرسنل زندگی کے بارے میں ایسی کو بات نہیں سنوگی۔مہرماہ نے اس کی بات پہ سنجيدگی سے ٹوکا۔
سوری میں نے ایسے ہی کہا۔مونا کی کزن نے معزرت کی۔
مہرو اپنا فون دینا۔مونا نے مہرماہ سے کہا۔
کیوں؟مہرماہ نے آنکهيں بڑی کے پوچها
کیا کیوں دونا پہلی دفعہ تو مانگا ہںے۔مونا نے منہ بنا کر کہا۔
اچها لوں۔مہرماہ نے فون دیا۔
پاسورڈ؟مونا نے ناک چڑها کر پوچها ۔
شاہ۔مہرماہ کو اس کے پوچهنے پہ شاہ میر یاد آیا جس نے پیار سے فرماٸش کی تھی کہ اس کے نام کا پاسورڈ رکھے اور تب مہرماہ کو وہ زیادہ کیوٹ لگا تھا اس لیے اس نے فورن سے اس کی بات مان لی تھی۔اور شاہ نام کا پاسورڈ رکھ دیا اور اتنے سال گزر جانے بعد بھی نہیں بدلا تھا اس نے جانے کتنے موبائل چینج کیے تھے پر پاسورڈ شاہ ہی رکھتی تھی۔کیوں کی جب اس نے شاہ میر کی بات جب مانی تھی تو اس کے چہرے کی چمک اور اس کی گال پہ بوسہ دینے والی حرکت کو یاد کرکے اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آجاتی تھی۔اور اس نے اپنے لیپ ٹاپ پہ بھی شاہ پاسورڈ رکھا تھا۔
شاہ امیزنگ ۔مونا نے ہنس دی اور گلیری میں شہیر کی کوٸی تصویر تلاش کرنے لگی کے اپنی کزن کو دیکھا دے کہ دیکهو اتنا اچها تو ہںے پر اس کو شہیر کی تو نہیں شاہ میر کی تصویر ضرور ملی تھی جو بچپن کی تھی اور اس کے کسی اسکول فنکشن کی لگ رہی تھی۔شاہ میر اس میں اپنے اسکول یونیفارم میں تھا بال اس کے ماتھے پہ پڑ رہںے تھے اور چہرے پہ کم ہی عمر میں گہری سنجيدگی تھی پر تب بھی بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔
مہرو یہ وہی ہںے نہ جو جو بہت سال پہلے ہمارے کالج آیا تھا تم سے ملنے۔مونا نے شاہ میر کی تصویر اس کو دیکها کر پوچها ۔
ہاں یہ شاہ ہںے۔مہرماہ نے موبائل پہ شاہ میر کی تصویر دیکه کر مسکراکر بتایا۔
اچها اب تو یہ جوان ہںوگیا ہںوگا اس میں تو بچہ ہںے کیا اس کی نٸی تصویر ہںے تمہارے پاس؟مونا نے تجسس سے پوچها ۔
نہیں۔مہرماہ نے مایوسی سے کہا۔
اچها اب تو اور ہینڈسم ہںوگیا ہںوگانہ بچپن میں تو جب میں نے دیکها تھا تو بہت پیارا تھا اور اب تو۔مونا نے پرجوش آواز میں اس سے پوچها ۔
نہیں یار میں نے بس کالج میں جب وہ ملنے آیا تھا تب ہی دیکها اور بات کی تھی اس کے سال بعد بھی یہ ایک تصویر چچی جان کہ اسٹيٹس سے لی تھی۔پر شاہ شاید بھول گیا ہںے اس لیے کبهی بات کرنے کا دل نہیں کیا اس کا اور میرے مگنی کے دن بابا جان کی چچا سے بات ہںوٸی تھی اس کے بعد ان سے رابطہ کرنا ہی ختم ہںوگیا بابا جان نے بہت کوشش کی پر ابھی کجھ نہیں پتا لگا پاۓ وہ ۔مہرماہ نے اس کی بات پہ افسردہ لہجے میں بتایا اس کا دل کرتا تھا کہ وہ شاہ میر سے ملے دیکهے کہ وہ بڑا ہںوکر کیسے دیکهتا ہںے کیا اب بھی وہ کم بولتا ہںوگا یا لنڈن میں بڑے ہںونے کے بعد فلرٹی بن گیا ہںوگا۔
اووو۔پر تم نے تو کہا تھا کہ تمہارے چچا کی فیملی پاکستان شفٹ ہںوگی۔مونا نے اس کا افسردہ چہرہ دیکھ کر پوچها ۔
ارادہ تو ان کا یہی تھا بعد کا مجھے نہیں پتا دادی بھی ان کے انتظار میں دنیا سے چل بسی۔مہرماہ کی آنکهوں میں آنسو آگٸے اپنی دادی کے زکر پہ ۔مونا نے اس کو اپنے ساتهہ لگایا۔
رو نہیں مہرو انشااللہ ان سے تم لوگوں کا رابطہ ہںوجاے گا ورنہ وہ شاہ ہی آۓ گا جو یہ کہہ کر گیا تھا کہ میرا انتظار کرنا۔مونا نے پہلے اس کو تسلی دی پھر شرارت سے کہا۔
شاہ اس کو بس میں بولاسکتی ہںوں۔مہرماہ نے فورن سے اس کو خود سے دور کرتی بولی۔
ہاہاہاہاہاہا۔معاف کیجٸیے سرکار غلطی ہںوگٸی۔مونا نے ہنس کر اپنا سر جھکا کر مہرماہ سے کہا تو سب ہنس پڑے۔
مجھے وہ زیب کی طرح عزیز ہںے۔مہرماہ نے ہنس کر کہا
مہرو ویسے میں سوچ رہی ہںوں بارہ سال میں یہ اتنا پیارا ہںے اب اکیس سال کا بھرپور مرد بن کے ناجانے کتنی لڑکیوں کے دل پہ پیر رکھتے چلتا ہںوگا۔مونا نے شاہ میر کا خاکا اپنے دماغ میں بنا کر مہرماہ سے کہا۔اور مہرماہ کو نجانے کیوں مونا سے شاہ میر کی تعریف سن کے عجيب سی جلن محسوس ہںوٸی تو کہا۔
تمہيں اب شاہ کو سوچنے کی ضرورت نہیں ۔ویسے ہی اچها ہںے اپنا پیر ان کے دل پہ رکھے ان کا دل اپنے ہاتهہ پہ نہیں۔مونا کو مہرماہ کی آواز پہ جلن صاف محسوس ہںوٸی تھی۔پھر مہرماہ کی بات یاد آٸی کے زیب کی طرح عزیز ہںے تو وہ مسکرادی کیوں کی وہ زیب کی تعریف بھی کرنے نہیں دیتی تھی۔
















وہ تہجّد پڑھ کر جیسے ہی اٹها تو دروازے پہ نوک ہںوا اس نے ہاتهہ پہ بندھی گھڑی پہ وقت دیکها جو رات کے تین بتارہی تھی اس وقت اس کے کمرے میں کوٸی نہیں آتا تھا پر آج وہ سرجھٹکتا دروازے کہ پاس آتے اسے کھولا۔حيدر خان کو دیکهہ اس نے حيرانی سے ان دیکها۔
ڈيڈ آپ اس وقت خيریت۔شاہ میر نے ان کو دیکهہ کہا۔
ہاں خيریت میں ایسے ہی باہر آیا تھا تمہارے کمرے کی لاٸٹ آن دیکهی تو آیا تمہاری طبيعت تو ٹھیک ہيں نہ ۔حيدر خان نے کہتے اپنا ہاتهہ اس کے ماتھے پہ رکھ کہ چیک کرنے لگے۔
اندر آۓ آپ ۔شاہ میر ان کی فکر پہ مسکراتا کمرے کے اندر لایا اور کہا۔
میں ٹھیک ہںو ڈيڈ بس کجھ کام تھا اس لیے اور آپ ہماری پرواہ پہلے بھی کرتے تھے پر اب ان کجھ سالوں میں آپ میرے لیے اتنے پریشان کیوں ہںوتے ہیں؟ شاہ میر نے ان سے پوچها کیوں کی حيدر خان نے اس کے ہوش پہ آنے کہ بعد بس یہی بتایا تھا کہ کمزوری ہںوگٸ تھی تمہيں اور انہوں نے مہرماہ کی منگنی کا بھی بس ہانم بیگم کو بتایا تھا اور بچوں کو بتانے سے منع کیا تھا۔اس لیے شاہ میر ابھی تک بے خبر تھا پر اس کا دل ہمیشہ سے مہرماہ کے لیے پریشان رہتا تھا وہ مہرماہ کو بھول نہیں پایا تھا اس نے مہرماہ سے بات کرنے کی کوشش کی تھی پر حيدر خان نے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ اچانک پاکستان جان کر ان کو سرپراٸز کرینگے جس پہ شاہ میر راضی تو نہ تھا پر انہوں نے اپنی قسم دے کر کروادیا راضی ۔شاہ میر جو پہلے مہرماہ کو بس اپنی دوست سمجھتا تھا پر اب اس دل مہرماہ کے الگ انداز سے دھڑکتا تھا اس کو پتا چل گیا تھا جب اس سے محبت کے م کا بھی پتا نہ تھا تب اس کو اپنی ماہ سے عشق ہںوگیا تھا اور شاہ میر نے اپنے آپ کو ویسا بنالیا تھا جس طرح کے مرد اس کو پسند ہںوتے تھے شاہ میر اب دیکهنے میں اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا وہ اب وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا اس چہرے کا واٸٹ رنگ بلو آنکهيں ہلکے براٸون بال اس کا کشادہ سینہ لمبا قد مضبوط مسلز ان سب میں شاہ میر بارہ سال کے شاہ میر سے بلکل مختلف ہںوگیا تھا اب اگر کوٸی اس کو دیکهتا تو اتنی آسانی سے پہچان نہ پاتا۔لڑکیا اس سے بات کرنے کو بہانے تلاش کرتی پر شاہ میر ایک غلط نگاہ ان پہ ڈالنا گوارہ نہ کرتا۔اس نے اب تہجد پڑھنا بھی شروع کردیا تھا اس کی دعاٶں میں بس مہرماہ ہںوتی تھی کہ وہ اس کو کبهی نہ بھولے اور ہمیشہ اس کی ہی رہںے شاہ میر نے اپنی اور مہرماہ کی عمر کا فرق تک بھول گیا تھا اس کے لیے کون بڑا چھوٹا ہںے یہ ضروری نہیں تھا اس کو بس اپنی ماہ سے عشق تھا۔جس سے اس نے ان دونوں کے بیچ چار سال کے فرق پہ کبهی نظرثانی نہیں کیا تھا۔پر وہ بھول گیا تھا اس کو فرق نہیں پڑتا باقیوں کو ضرور پڑے گا پر شاہ میر کو کسی کی کہاں پرواہ تھی۔
ایسا نہیں میر باپ ہںوں تمہارا فکر تو ہںوگی نہ ۔حيدر خان نے اس کی بات پہ ٹالنے والے انداز میں کہا۔
اچها ہم پاکستان کب جاۓ گے۔شاہ میر نے اپنا ہمیشہ کیا گیا سوال دوبارہ سے پوچها
بہت جلد۔حيدر خان نے کہا۔
بہت جلد کب آۓ گا ڈيڈ؟شاہ میر نے پوچها
رات بہت ہںوگٸ ہںے میر اگر تمہارا کام ہںوگیا ہںوتو سوجاٶ میں بھی اب اپنے کمرے میں چلوں گا۔حيدر خان نے اس کا سوال نظرانداز کرتے کہا۔
جی۔شاہ میر نے دوبارہ نہیں پوچها ۔حيدر خان نے کے جانے کے بعد وہ سونے کا ارادہ کرکے وہ لیٹا ہی تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔شاہ میر دیکها تو ان نون نمبر تھا پہلے نظرانداز کرنا چاہا پر سوچا رات کا وقت شاید ضروری ہںو اس لیے اٹها لی۔
Hi,Shah meer why are you block my number?
دوسری طرف سے جولی کی آواز سن کر شاہ میر بدمزہ ہںوا اور سوچا کہ کیوں اٹهالی کال جولی سے اس کی ملاقات یونيورسٹي میں ہںوٸی تھی اور تب سے اس کی جان پہ بنی تھی کہ وہ اس سے شادی کرے شاہ میر سے کہا تو پہلے بھی بہت سی لڑکیوں نے تھا پر ایسے اس سے کسی نہ تنگ نہیں کیا تھا شاہ میر جس جگہ جاتا وہ اس سے پہلے پہنچ جاتی شاہ میر نے کٸ دفعہ اس کو زلیل بھی کیا پر وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی۔
میں تمہارے جواب دینے کا پابند نہیں ۔شاہ میر نے بیزاری سے انگریزی میں جواب دیا۔
تم جانتے ہںو میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں پھر بھی تم مجھ سے ایسا برتاٶ کرتے ہںو۔جولی نے شاہ میر کی بیزاری محسوس کرتے کہا۔
یہ کوٸی محبت نہیں تمہاری اگر ہںے بھی تو مجھے پرواہ نہیں میں نے نہیں کہا تھا کرنے کو پہلے بھی بتاچکا ہںوں میں۔شاہ میر نے غصے سے اس کو کہا۔
شاہ میر
Don’t call me shah,otherwise I will kill you .
شاہ میر نے غصے سے دھاڑ کر کہا تو وہ ڈرگٸ۔
شاہ میر تم اتنے غصے میں کیوں رہتے ہںو ؟جولی نے خود کو نارمل کرتے پھر سوال کیا۔
دوبارہ تمہارے منہ سے میں شاہ نہ سنوں۔شاہ میر اپنی بات کہتا کال کٹ کرگیا اور ساته میں یہ بھی نمبر بلاک کیا۔شاہ میر نے پھر ریان کو کال جس نے کال اٹها کر ہی بولنا چھوڑو کیا بنا شاہ میر کی بات سنے۔
میر اگر تمہيں رات کہ وقت اتنا ہی بات کرنے کا دل کرتا ہںے تو کوٸی لڑکی کو اپنی گرل فرينڈ بنالوں تمہيں کونسا لڑکیوں کی کمی ہںے تم ایک دفعہ ان سے کہہ کر تو دیکهو نیند خود میں حرام کردے۔
تمہارا بکواس کرنا ضروری تھا ریان کبهی تو سنجيدہ رہا کرو اگر میں نے رات کہ وقت کال ہی تو تمہيں سوچنا چاہٸیے کہ کونسی ضروری بات ہںوگی۔شاہ میر نے اس کی باتيں سننے کے بعد کہا۔
انگارے کیوں چبارہںے ہںو۔ اچها بتاٶ کیا بات ہںے جس کے لیے آپ کل یونيورسٹي آنے تک کا انتظار نہیں کرسکے۔ریان نے اب ادب سے کہا۔
کیا تم میرے ساته پاکستان چلوگے اگر میں جاٶ تو۔شاہ میر نے پوچها
خیریت ؟ریان نے حيرت سے پوچها
ہاں بس ڈيڈ والے جب آۓ پاکستان پر میں اب امتحان کہ ختم ہںوتے ہی پاکستان کے لیے نکلوں گا اس لیے تم سے پوچها اب میں اور انتظار نہیں کرسکتا۔شاہ میر نے بتایا۔
مجھے کوٸی اعتراض نہیں ایسے میں بھی پاکستان گھوم آٶں گا۔ریان اس کی بات پہ مزے سے بولا۔
اچها اب سوجاٶ۔شاہ میر نے کہتے ہی کال بند کردی۔
نیند خراب کرتے کہتا ہںے سوجاٶ۔ریان منہ میں بڑبڑایا۔







شاہزیب اپنے آفس میں بیٹھا لیپ ٹاپ کجھ ٹاٸپ کررہا تھا جب اس کے آفس کے اندر سالار اندر داخل ہںوا۔
زیب کیا پلین ہںے آج کا ؟سالار نے کرسی پہ بیٹھتے ہی پوچها ۔
آج تو میرا کوٸی پلین نہیں بس کجھ ٹائم بعد گھر جاٶں گا۔شاہزیب نے اپنے کام پہ نظر جماۓ بتایا۔
اچها صحيح ۔سالار نے کہا۔
تم بتاٶ کافی یا کجھ اور شاہزیب نے کہا۔
نہیں کجھ نہیں۔سالار نے انکار کیا۔
اچها تم بتاٶ کیا چل رہا ہںے اور گھر میں سب کیسے ہںے؟شاہزیب نے سوال کیا۔
گھر ميں سب ٹھیک اور اب بس حور کی شادی کی تیاریوں میں امی بابا تو۔سالار نے مسکراکر جواب دیا۔
تم بھی شادی کرلوں۔شاہزیب نے مشورہ دیا۔
شکریہ پر ابھی آپ کے مشورے کی ضرورت نہیں۔سالار نے طنزیہ کہا۔
مرضی ہںے ورنہ میں تو چاہتا ہںوں کہ میری آج ہی شادی ہںو۔شاہزیب اپنی کرسی پہ ٹيک لگاکر اور ہاته پیچھے کرتے سالار کو آنکه مار کر کہا۔
تم سے کریگی کون ؟سالار نے اس کا مزاق اُرایا۔
یہ پوچهو کہ کون نہیں کرےگی۔شاہزیب بنا اس کی بات کا برا مانے بولا۔
اب انسان کو اتنا خوش فہم بھی نہیں ہںونا چاہٸیے۔سالار نے کہا۔
اگر تمہارا ہںوگیا ہںو تو کیا ہم میٹنگ اٹينڈ کرسکتے ہيں؟شاہزیب نے بہت سنجيدگی سے کہا۔
یاد آیا میں بھی تمہيں یہی بتانے آیا تھا پر تم نے باتوں میں لگا دیا۔ سالار نے مزے سے سارا الزام شاہزیب پہ لگایا اور چلنے کا اشارہ کیا۔






ریان تم نے شاہ میر کو دیکها ہیں؟وہ ابھی یونی میں سیڑھیو پہ بیٹھا کتاب کو چاروں طرف سے دیکها رہا تھا جب جولی اپنی ہیل کی ٹک ٹک کرتی اس کے پاس آتے بولی۔
ہاں بہت بار۔ریان نے بہت سنجيدگی سے جواب دیا۔
بہت بار کا نہیں پوچها ڈفر ابھی کہاں ہیں یہی پوچهنے کا مطلب تھا۔جولی نے گھور کر کہا۔
تمہيں بھی نظر آۓ گا اگر تم اس کے ڈپارٹمنٹ میں جاٶگی تو۔ریان نے آنکهيں گھماکر جواب دیا
تمہارا ہمیشہ یہ محسوس کروانا ضروری ہںوتا ہںے کہ تم سے بات کرنا فضول ہںے۔جولی نے لفظ چبا چبا کر ادا کیا
نہیں تم سے بات کرنا بلکل فضول نہیں۔ریان نے اس کو سر سے پیر اور پیر سے سر دیکهتا ہنسی ضبط کرتا بولا۔
تم ہںو ہی جاہل۔جولی غصے اس کو بولتی ٹک ٹک کرتی واپس چلی گٸ۔







مہرماہ ناول پڑھ رہی تھی جب شاہزیب اس کے پاس آیا اور اس کے دیکه کر کہا۔
تمہارے لیے ایک نیوز ہںے۔
کونسی۔مہرماہ نے پورہ دھیان ناول پہ جماۓ کہا۔
تمہارے مستقبل کہ مجازی خدا کی نوکری لگ گٸ ہںے۔شاہزیب نے اس کو دیکه کر شرارت سے بتایا۔
کتنی دفعہ کہا ہںے بہن ہںوں تمہاری ایسی باتيں نہ کیا کرو۔مہرماہ نے لال ہںوتے چہرے سے گھورتے کہا۔
ہاہاہاہاہاہا۔look at your face مہرو۔شاہزیب قہقہقہ لگاکر بولا۔
ہاتهی بن گٸے ہںو پر عقل سے اب بھی فارغ ہی ہںو۔مہرماہ اس کو آنکهيں دیکهاتی اپنے کمرے کی طرف گٸ۔
مہرماہ نے کمرے میں آتے ہی شہیر کو کال کی۔
مبارک ہںو آپ کو نوکری کی۔سلام کے بعد مہرماہ نے مسکراکر شہیر سے کہا
شکریہ پر تمہيں کس نے بتادیا میں تمہيں خود بتانا چاہتا تھا؟شہیر نے پوچها
زیب نے بتایا ابھی تو میں نے سوچا آپ کو مبارکباد دوں۔مہرماہ نے ہنس کر کہا۔
اوو زیب کو بھی کوٸی بات رکھنی نہیں آتی۔شہیر نے بھی ہنس کر کہا۔
نہیں اگر ایسا وہ کرے تو کیا ہی بات۔مہرماہ نے اس کی بات پہ کہا۔
اچها میں کیا سوچ رہا تھا۔شہیر نے اپنے لہجے میں تجسس ڈال کر کہا۔
کیا ؟مہرماہ نے پوچها
یہی کہ اتنے سال ہںوگٸے ہیں منگنی کو اب شادی ہںونی چاہٸیے۔شہیر نے بتایا۔
ابھی اتنی جلدی کیوں۔مہرماہ نے پریشانی سے کہا۔
جلدی تو نہیں سات سال سے زیادہ ٹائم ہںوگیا ہںے ہماری منگنی کو۔شہیر نے یاد کروایا۔
ہاں پر ابھی تو چچا جان اور ان کی فیملی کو آنا ہںے جب تک وہ نہیں آجاتے بابا جان ایسا کجھ نہیں کرے گے۔مہرماہ نے وجہ بتاٸی۔
اچها تو کیا ان کا ہںونا اتنا ضروری ہںے ؟شہیر نے طنزیہ پوچها ۔
بلکل بہت ضروری ہںے۔مہرماہ نے بہت پہ زور دے کر کہا
پہ
شہیر مجھے امی بولارہی ہيں بعد میں بات کرتے ہںے۔مہرماہ نے کہہ کر کال کٹ کردی۔
پتا نہیں کیوں شہیر ایسے ہںوگٸے ہيں پہلے تو نہیں تھے۔مہرماہ نے فون رکھتے پریشانی سے بڑبڑاٸی۔پھر انسٹاگرام یوز کرنے لگی ایسے پوسٹ اسٹوریز دیکهی سب کی پھر جانے کیا سوجھا کہ اپنی تصویر پہ جون ایلیاء کا شعر رکھ کر اپنی انسٹا پہ پوسٹ اور اسٹوری رکھ دی۔ شعر کجھ یوں تھا۔
ہم جی رہںے ہیں کوٸی بہانا کیے بغير
اس کے بغير،اس کی تمنا کیے بغير ۔
اس کے اپلوڈ کرنے کے فورن ہی ثانيہ نے کال کی۔
مہرو خير ہیں نہ ؟ثانيہ نے شرارت سے پوچها
بلکل۔مہرو نے لب دانتوں تلے دباۓ کہا۔
اتنے ٹائم بعد کجھ پوسٹ کیا وہ اتنا کمال کا اس لیے پوچهنا تو بنتا ہںے وہ الگ بات ہںے کہ تم پہ سوٹ نہیں کررہا پر تمہاری تصویر پہ زبردست ہںے۔ثانيہ نے ہنس کر کہا۔
ہاں بس ایسے ہی دل کیا اور تمہيں تو پتا ہںے میرے شوق کا۔مہرماہ نے ہنس بھی کر کہا۔
ہاں جی خوابوں کی بستی میں رہنے والی ملکہ ہيں آپ ۔ثانيہ نے مزاقً کہا۔
ہاہاہاہاہا۔مہرماہ نے قہقہقہ لگایا۔
اچها میں بعد میں بات کرتی ہںوں۔ثانيہ نے ہنس کر کہا تو اس نے خدا حافظ کہا۔پھر فیس بک پہ شاہ میر کی آۓ ڈي ڈھونڈنے لگی جو نہیں ملی۔اس نے گہری سانس بھر کر سونے کے لیے لیٹ گٸ۔






شاہ میر ریان اور ان کہ کلاس کے ڈيوڈ اور جیک اور جولی وہ سب ایک اساٸمنٹ کے گروپ تھے جس میں ابھی وہ ساته بیٹھ کر ضروری لاٸنز ڈسکس کررہںے تھے کہ ریان نے اپنے ہاته کو ماٸک کہ اسٹاٸل میں کرکے جولی سے رپورٹر کی طرح سوال کیا۔
مس جولی کیا آپ ہمیں بتانا پسند کرے گی کہ آپ مسلم خاندان سے ہںوکر بھی اپنا نام جولی کیوں رکھا اس سے اچها تھا کہ ڈولی رکھتی۔اس کے ڈولی کہنے پہ سب ہنس دیٸے۔
نہیں میں بلکل بتانا نہیں چاہوں گی۔جولی نے آنکهيں گھماکر کہا۔
اچها تو جولی کا مطلب ہی بتادے جو آپ نہیں بتانا چاہتی۔ریان نے اس کو تپانا چاہا۔
شاہ میر اپنے دوست کو کہہ دو کہ مجھ سے فضول سے سوالات نہ کرے۔جولی نے شاہ میر کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔
اپنے معاملات مجھ سے دور رکھا کرو۔شاہ میر نے سخت لہجے میں کہا۔
کبهی تو آرام سے بات کرلیا کرو۔جولی نے فرماٸش کی۔
ریان تم کیفے چلوگے؟شاہ میر اس کی بات نظرانداز کرتا ریان سے سوال کیا۔
ہاں ضرور ۔ریان کہتے ہی اٹها۔جب کی ان دونوں کو ایسے جاتا دیکه کر ضبط کرتی رہ گٸ۔
ویسے جولی اتنی بری نہیں جتنا تم اس سے برا سلوک کرتے ہںو۔ریان نے کیفے میں آتے ہی اس سے کہا۔
مجھے نہیں پسند ایسی لڑکیا جو مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اپنی عزت نفس کو ختم کردیتی ہیں۔شاہ میر نفرت سے بولا۔
تم ایسے کیوں ہںو بچپن سے میر سنجيدہ ہںونا اچهی بات ہںے پر تمہارے چہرے پہ چمک کیوں بس ایک ہی نام سن کے آتی ہںے۔ریان نے سوال کیا۔
میں ایسا ہی ہںو اور کیوں ہںوں یہ جاننا ضروری نہیں اور رہی چمک کی بات تو اس میں بے بس ہںوں میں یہ میں ہی جانتا ہںوں ان کے بغير میں نے یہ سال کیسے گزارے ہیں میرے لیے مسکرانے کا مطلب ہی میری ماہ ہںے ان سے ملنے کے بعد ہی میں ان جذبات سے واقف ہںوا ہںوں جن سے ناواقف تھا اگر ان سے نہ ملتا تو شاید اب بھی ناواقف رہتا۔وہ میرے لیے کیا ہںے اگر جو میں بیان کرنے بیٹھوں نہ تو الفاظ ختم ہںوجاۓ گے۔شاہ میر نے سانس کھینچ کر کہا۔
مجھے حيرانی ہںوتی ہںے تمہارے لہجے ميں اس کا ذکر کرتے ہںوۓ اتنا احترام اور نرمی دیکه کر۔ریان نے حيرانکن لہجے میں کہا۔
محبت کی پہلی شرط ہی احترام، عزت، اور یقين، ہںوتی ہںے پر یہاں بات تو میرے عشق کی ہںے تو کیسے ان کے لیے احترام نہیں آۓ گا۔شاہ میر نے گہری مسکراہٹ کے ساته کہا۔ریان کجھ نہ بولا بس دل میں اس کی خوشی کی دعا کی۔جو بس مہرماہ تھی۔








شاہ میر گھر آکر ہانم بیگم کے پاس گیا۔
موم ڈيڈ کہاں ہيں؟شاہ میر سوال کیا۔
گارڈن میں ہںوگے۔ہانم بیگم نے بتایا۔
اچها۔شاہ میر نے کہا اور گارڈن کا رخ کیا۔
ڈيڈ مجھے آپ سے بات کرنی ہیں۔شاہ میر ان کے پاس آتا ہںوا بولا۔
کہوں کیا بات ہيں؟حيدر خان اس طرف متوجہ ہںوۓ۔
میں دو تین دنوں بعد ایگزیمز سے فارغ ہںوجاٶ گا پھر میں پاکستان جانے کا ارادہ رکھتا ہںوں۔شاہ میر نے آرام سے بتایا۔
میر ہم نے
ڈيڈ پلیز اب اور نہیں میں بہت ٹائم سے آپ کی بات مان رہا ہںوں پر اب جاٶں گا پھر آپ لوگوں کی مرضی جب آپ آۓ۔شاہ میر ان کی بات پوری ہںونے سے پہلے بولا۔
اکیلے میں جانے نہیں دوگا کجھ اور صبر کرو۔حيدر خان نے کہا۔
ڈيڈ میں بچہ نہیں جو اکیلا نہیں جاسکتا اور دوسری بات کہ ریان میرے ساته ہںوگا پاکستان۔شاہ میر نے پوری تیاری کرلی تھی اس کو پتا تھا حيدر خان کسی نہ کسی بات پہ اس کو روکنا ضرور چاہے گے اس لیے اس نے پہلے ہی ریان کو پاکستان چلنے کا کہہ دیا تھا۔
اگر تم نے سوچ لیا ہںے تو پھر میں اب کیا سکتا ہںوں تیاری کرلوں تم کراچی کے گھر والی چابی تمہيں مل جاۓ گی کجھ ٹائم بعد ہم بھی آجاۓ گے۔حيدر خان نے اس کی بات پہ ہارنے والے لہجے میں کہا۔
Thank you,Dad thank you so much;
شاہ میر کہتے ہی ان کے گلے لگ گیا۔








وہ اس وقت لاؤنج میں تھے۔جب سکندر خان نے کہا۔
نادیہ نے آج مجھے فون کیا تھا کہہ رہی تھی کہ حور کے ساته ہم مہرماہ کی شادی بھی حمیرا چاہتی ہںے۔ان کی بات پہ سارہ بیگم مہرماہ اور شاہزیب تینوں کو حيرت ہںوٸی۔
آپ نے کیا جواب دیا پھر ؟سارہ بیگم نے پوچها
یہی کہ حيدر کے بغير ہم نے منگنی تو کردی پر شادی نہیں۔سکندر نے جواب دیا۔
حيدر بھاٸی بہت بدنصیب نکلے اپنی ماں کا آخری دیدار تک نہ کرپاۓ۔سارہ بیگم افسوس سے بولی۔
اللہ کی بات ہںے سب میں تو بس سوچتا ہںوں کہ حيدر کی کیا حالت ہںوگی جان کر کہ اماں جان اب ہمارے بیچ نہیں رہی۔سکندر خان نے پریشانی سے کہا۔
ان کی غلطی تو ہیں نہ ان کو ایسے رابطہ ختم نہیں کرنا چاہٸیے تھا ناجانے ایسی کیا بات ہںوگٸ۔سارہ بیگم نے کہا۔
ہاں اب ایک بار اور لنڈن جاٶں گا پہلے تو نہیں شاید اب کجھ پتا لگ جاۓ۔سکندر خان نے کہا۔
جیسا آپ بہتر سمجھے۔سارہ بیگم نے کہا۔
بابا جان مجھے آپ کی اجازت چاہٸیے تھی۔مہرماہ نے ان کے خاموش ہںوتے دیکه کر کہا۔
ہاں مہرو کس بات کی اجازت ؟سکندر خان پوچها
بابا جان وہ شہیر کو نوکری مل ہںے نہ تو وہ ہم سب کو ٹریٹ دے رہںے تو بس آپ سے پوچهنا تھا۔مہرماہ نے ایک ہی سانس میں بتایا۔
ہاں تو بیٹا جانا آپ لوگ کب جانا تھا؟سکندر خان نے مسکراکر کہا۔
آج بدہ ہیں اتوار کو ٹریٹ دی ہںے انہوں نے زیب کو بھی پر زیب کا پہلے ہی اپنے دوستوں کے ساته باہر کا پلین ہںے۔مہرماہ نے بتایا۔
ٹھیک پھر۔سکندر خان نے رضامندی دی۔
















آپ نے میر کو اجازت دے دی تو اچها تھا ہم بھی چلتے آپ نے تو سارے رشتہداروں سے رابطہ ختم کرلیا ہںے۔ہانم بیگم نے ان سے کہا۔
چاہتا تو میں بھی تھا کہ ساته جاۓ پر ابھی کجھ وقت تک ممکن نہیں اس لیے اگر میر جانا چاہتا ہيں تو میں نے اجازت دے دی۔حیدر خان نے کہا۔
آپ نے ویسے ٹھیک نہیں کیا وہ سب لوگ کتنے پریشان ہںوگے ہمارے لیے۔ہانم بیگم نے شکوہ کیا۔
بس حالات کجھ اس طرح کہ ہںوگٸے کہ مجھے یہی سب بہتر لگا۔حيدر خان مصنوعی مسکراہٹ سے کہا۔
آپ بتاتے کیوں نہیں اصل بات ؟ہانم بیگم نے کہا۔
جب وقت آۓ گا تو خود جان جاؤ گی۔حيدر خان نے ان کی بات ٹالنے کے لیے کہا۔
















آج شاہ میر کا آخری پیپر تھا اور اس نے آج رات ہی پاکستان کے لیے نکلنا تھا ریان نے بہت بار کہاکہ ایگزیمز کے ختم ہںونے کی خوشی میں پارٹی کرتے ہیں۔پر ایک شاہ میر ہی تھا جس کے سامنے اس کی نہیں چلتی تھی اس کی بس شاہ میر کی ایک گھوری پہ بولتی بند ہںوجاتی تھی۔شاہ میر نے اپنی پیکنگ پہلے ہی کردی تھی۔ریان نے بس اپنا ایک بیگ ہی لیا تھا کہ اس نے کونسا پاکستان ہمیشہ رہنا ہںے وہ بس شاہ میر کے لیے جارہا تھا۔وہ دونوں اب پاکستان جانے کے لیے تیار تھے اور ایٸر پورٹ کے لیے نکل گٸے تھے۔پاکستان پہنچتے ہی ریان کو اسلام آباد جانا تھا جب کی شاہ میر کو کراچی ریان نے پاکستان گھومنے کی شروعات اس شھر سے کرنا چاہا تھا۔کیوں کی اس کا آباٸی شھر وہی تھا وہ تو بعد میں اس کے والدین پاکستان کو چھوڑ کر دوسرے دیس میں رہںے تھے۔








مہرماہ نے تیار ہںوکر خود کو آٸینے میں دیکها اس نے واٸٹ کلر کا پیروں تک آتا فراق پہنا تھا اور بالوں کو کھلا رکھا تھا میک اپ اس نے بلکل نہیں کیا تھا بس گلابی رنگ کا لپ گلوز ہی لگایا تھا وہ اپنی اتنی سی تیاری میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ آج اس کو شہیر کی دی ٹریٹ پہ جانا تھا جہاں وہ خود اور حور اور شہیر کے علاوہ اس کے کجھ دوست وغيرہ۔وہ نیچے آتے ہی سارہ بیگم کو بتاکر ڈراٸیور کے ساته نکل گٸ تھی۔کیوں کی شاہزیب پہلے ہی گھر سے نکل گیا تھا۔سکندر خان دو دن پہلے ہی اپنے آفس کے کام سے شہر سے دور تھے شاہزیب نے کہا تھا کہ وہ جاۓ پر سکندر خان نہیں مانے تھے۔
