Ishq Qaid by Rimsha Hussain NovelR50562 Ishq Qaid (Episode 01)
Rate this Novel
Ishq Qaid (Episode 01)
Ishq Qaid by Rimsha Hussain
یہ تو بہت اچهی بات ہںے اماں جان سارہ بیگم نے اپنی ساس کو کہا جو ان کو اپنے بیٹے حیدر کے آنے کا بتارہی تھی۔جو کافی سالوں سے شادی کرکے اپنی دنيا لنڈن میں بسا چُکے تھے اور اب وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتهہ ان سے ملنے کے لیے آرہںے تھے۔ستارے بیگم جو ان کی ساس تھی ۔بے صبری سےان کے انتظار میں تھی۔
ہاں نہ بیٹا میں تو کہتی ہںوں اس کو کے ابھی یہی رہںے۔پر ہمیشہ ولا جواب کے ابھی نہیں۔ستارے بیگم نے افسردہ لہجے میں کہا۔
آپ فکر نہ کرے اماں جان بھاٸی صاحب اگر کہہ رہے ہںے کہ بعد میں آۓ تو بس آپ اطمینان رکھے۔سارہ بیگم نے اپنی ساس کو اطمینان دلایا۔
امی جان
امی جان۔وہ ابھی آپس میں بتاکر رہے تھے۔کے سیڑھیو سے سارہ بیگم کے بچے بھاگتے ہوۓ آرہے تھے۔
امی جان مجھے اس چڑیل سے بچالے۔پندرہ سالہ شاہزیب نے اپنی ماں کے پیچھے چھپ کر کہا۔
امی جان آج آپ ہمارے بیچ نہیں آۓ گی اس کا قتل آج مجھے پہ وہ واجب ہںے۔سولہ سالہ مہرماہ نے ہانپتے ہوۓ اپنی ماں سے کہا جو پریشانی سے دونوں کو دیکهہ رہی تھی۔جب کے ستارے بیگم نفعی میں سرہلاتی اپنی تسبیح کے دانے گرانے لگی تھی۔جیسے کہہ رہی ہوکہ ان کا روز کا معمول ہںے۔
کیا اول فول بول رہی ہںو مہرو چھوٹا بھاٸی ہںے تمہارا لحاظ کرو کجھ۔سارہ بیگم نے اپنی لاڈلی بیٹی کو ڈانٹا۔
شاہزیب نے اپنی ماں کی حمایت پاکر کجھ شیر ہوا اور اپنی شرٹ کے کالر ٹھیک کرتا پھر معصوم شکل بناتا اپنی ماں کے کجھ اور قریب ہںوکر کہا۔
امی جان یہ تو کجھ بھی نہیں میں آپ کو کیا کیا بتاٶ مہرو میرے ساتهہ کتنا ظلم کرتی ہںے۔آخر میں شاہزیب نے اپنے نا ہںونے والے آنسو صاف کیے اس کی اس ڈرامے بازی پہ مہرماہ نے اپنی بڑی بڑی سی آنکهيں گھماٸی۔
صاف صاف بتا کرو زیب ۔سارہ بیگم کجھ سنجيدہ سی ہںوگٸ۔وہ بیچاری ان کے ڈرامے میں پھنس جاتی تھی۔
امی اس دن آپ لوگ جب
امی جان اس کو چھوڑے یہ ہے ہی جھوٹا کمینہ۔شاہزیب کی بات کرنے سے پہلے ہی مہرماہ نے اپنی ماں سے کہا۔
تم دونوں سدھر جاٶ بچے نہیں رہے ہو اب۔سارہ بیگم نے دونوں کو ڈانٹا۔
امی جان آپ میری بات سنیں آپ جانتی نہیں آج یہ میرے کمرے میں آکر کیا کارنامہ انجام دے چکا ہے۔مہرماہ نے رونے والے انداز میں کہا۔
کیا کردیا اپ شاہزیب نے ؟سارہ بیگم نے پوچها ۔
اس کا نشہ کم کیا۔شاہزیب نے مزے سے اپنی ماں کے قریب صوفے پہ لیٹنے والے انداز میں کہا۔
امی جان اس کمینے نے میری ناول کا بیچ والا اور وہ بھی ضروری پیچ پھاڑ دیا۔مہرماہ نے ایسے بتایا جسے نجانے کونسی بڑی بات ہںو۔خیر اس کے لیے تو تھی۔اس کی بات سن کر ستارے بیگم کی ہنس نکل گٸ۔جب کے شاہزیب اس کو اور چڑانے کی خاطر زور زور سے ہنسنے لگا جیسے مہرماہ نے کوٸی لطیفہ سنا دیا جب کے سارہ بیگم نے افسوس بھری نظر سے مہرماہ کو دیکها اور کہا۔
یہ تم دونوں نے اِس منحوس ناول کے لیے اتنا شور مچایا ہںوا ہںے۔شاہزیب تو ناول کے اس لقب پہ پاگل ہںوکے ہنسنے لگا اور پیٹ پہ ہاتهہ رکھ دیا۔
امی جان کیا ہںوگیا ایسا تو نہ کہے مہرماہ نے اپنے دل پہ ہاتهہ رکھ کہ کہا۔وہ کہا برداشت کرتی اپنی ناولوں کے لیے ایسے الفاظ۔ اس لیے فورن سے بولی
بس اور بحث نہیں اپنے اپنے کمروں میں جاٶ غضب خدا کا اتنے بڑے ہوکر بھی عقل نام کی کوٸی چیز ہںے نہ اور کوٸی فضیلت۔سارہ بیگم نے اور جھاڑ پلاٸی۔
آپ جانتی ہںے میرا ناولز سے لگاؤ ۔مہرماہ نے کجھ شرماکر کہا۔جس پہ شاہزیب نے زبان دیکهاٸی۔
اس لیے بول رہی ہںوں ابھی ان کو کم کرو اور ڈھنگ سے رہنا تم دونوں دوسرے ملک سے تمہارے چچا اور ان کی فیملی آرہی ہںے میں نہیں چاہتی ان کو تم دونوں کی کوٸی بات ناگوارا گزرے۔سارہ بیگم نے اب کی کجھ سمجھانے والے انداز میں کہا تو شاہزیب سیدھا ہںوکر اپنی ماں کو دیکها۔جب کے مہرماہ بھی اپنا غم بھولاۓ ان کے دوسری طرف آکر بیٹھ گٸ اور کہا۔
چچا حیدر آرہںے کیا وہ ہمارے ساتهہ رہںے گے۔
نہیں انہوں نے ہمارے قریب ہی جو فلیٹ ہںے نہ وہ خریدا ہںے۔مہرماہ کو جواب ستارے بیگم نے دیا۔
تو کیا وہ ہمیشہ کے لیے آۓ گے ؟شاہزیب نے سوال کیا۔
کہاں بیٹا بس دعا کرو کے ہمیشہ کے لیے بھی آۓ۔ستارے بیگم نے امید سے ان کو کہا۔
آجاۓ گے دادی یو فکر ناٹ ۔مہرماہ نے ان کو دیکهہ کر شرارت سے کہا۔
تو وہ ہنس پڑی۔پھر سارہ بیگم نے کہا۔
اچها ابھی تم لوگ اپنا کام کرو میں بھی کچن دیکهہ لوں زرہ کے کھانا بنایا ہںے کہ نہیں کُک نے۔ان کی بات سن کے مہرماہ نے شاہزیب کے بال کھینچ کر اپنے کمرے کی طرف اُپر کو بھاگی۔جب کے شایزیب چیخ کر بولا۔
چڑیل اللہ کرے آپ کے سارے ناولز برباد ہںوجاۓ۔
پر مہرماہ سیڑھیو چڑھنے کے بعد بولی۔
مہرماہ سکندر سے پنگا از ناٹ چنگا۔
















شھباز خان کے دو بیٹے تھے بڑے سکندر خان اور اس سے دو سال چھوٹے حيدر خان اور ایک بیٹی تھی جن کا نا نادیہ تھا وہ دونوں بھاٸیوں سے چھوٹی تھی۔سکندر صاحب کی شادی کے بعد شھباز صاحب نے اپنے دوسرے بیٹے کی شادی کا سوچا تھا۔پر حیدر صاحب نے ان کی بات پہ انکار کردیا تھا کہ ابھی ان کا ایسا کوٸی ارادہ نہیں جن پہ شھباز صاحب کو اختلاف بہت تھا پر وہ خاموش رہے۔ان کے بعد انہوں نے اور ستارے بیگم نے اپنی بیٹی کی شادی کروادی تھی اپنے جاننے والے سے نادیہ کی شادی انہوں نے جبار شاہ سے کی تھی جن کے ساتهہ وہ بہت خوش تھی۔پھر کجھ سالوں بعد حیدر صاحب نے بھی شادی کردی پر وہ بعد میں لنڈن چلے گٸے اور وہی کے ہںوکے رہ گٸے۔اپنے وطن وہ بس شھباز خان کی وفات پہ آۓ تھے وہ بھی اکیلے اس بعد نہیں۔
سکندر صاحب کہ دو بچے تھے ایک مہرماہ جو بہت اچهے دل کی مالک تھی جس کا دل شفاف اور چمکتا ہںوا تھا چھوٹی سی عمر میں ہی اس کو سب کی فکر اور خیال ہںوتا تھا۔پر اس کے ساتهہ وہ بہت شرارتی اور ہنس مکھ بھی تھی جس کی وجہ سے وہ ہر کسی کو پسند ہںوتی تھی ۔مہرماہ کا بہت خوبصورت تھی سب سے زیادہ اس کی بڑی بڑی اور موٹی سی آنکهيں جن کو وہ اگر گھماتی تو دل لوٹ لیتی اس حد تک وہ پیاری لگتی اور وہ ابھی کالج میں میں پڑھتی تھی۔ناولز پڑھنے کا اس کو کِریز تھا۔اور اس کے بعد آتا تھا سکندر خان کا دوسرا بیٹا شاہزیب جو شاید پیدا ہی مہرماہ کو تنگ کرنے کے لیے ہںوا تھا یہ مہرماہ کا کہنا تھا۔شاہزیب پندرہ سال کی عمر میں مہرماہ کی نسبت کافی سمجھدار تھا وہ بس اس کا ہی سوچتا جو اس کے بارے میں سوچتا وہ کافی شرارتی قسم کا تھا پر اجنبی لوگوں کے لیے وہ اتنا سنجيدہ ہںوتا کے لوگ حیرت سے اس بچے کی سنجيدگی دیکهتے اس کا پسندیدہ کا تھا مہرماہ کو پریشان کرنا اور اس کی اٹینشن حاصل کرنا اس کو اپنی بڑے بہن سے بہت پیار تھا اس لیے وہ اگر کبهی کوٸی شرارت کرنے کا سوچتا تو اس کا پہلا ٹارگٹ مہرماہ کی ناولز ہوتی کیوں کی وہ جانتا تھا اس کی بہن کو کس بات پہ زیادہ غصہ آۓ گا۔اور وہ بھی ابھی کالج لاٸف میں نیا قدم رکھا تھا۔
جب کے نادیہ کے تین بچے تھے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں سالار اور حور دونوں جڑوہ تھے۔جو مہرماہ کی عمر کے تھے۔وہ دونوں بھی اپنی ماں کی طرح تھے گُھلنے ملنے والے سالار کی شاہزیب سے جب کی حور کی مہرماہ سے بنتی تھی۔جب کی نادیہ کی دوسری بیٹی انابیہ جو کی ابھی گیارہ سال کی تھی ابھی سے ہی بہت مغرور تھی اپنے سامنے کسی کو کجھ نہ سمجھنے والی۔
حيدر صاحب کے بھی تین بچے تھے ایک بیٹی اور دو بیٹے سب سے پہلے ان کی بیٹی پری جو کی چودہ سال کی تھی۔اور دوسرا بیٹا شاہ میر جو کی بارہ سال کا تھا پر بہت سنجيدہ اور کم بولنے والا تھا وہ اپنی چیزوں کے پوزیسو رہنے والا تھا وہ اپنی سنجيدہ طبيعت کی وجہ سے کم لوگوں سے ہی بات کرتا پر اگر کوٸی پسند آجاتا تو اس کے لیے جنون کی حدتک پاگل ہںوجاتا جس کی وجہ سے اس کی ماں ہانم بہت پریشان رہتی تھی۔ان کو شاہ میر نارمل بچوں کی طرح نہیں لگتا تھا پر حيدر خان خوش ہںوتے تھے۔شاہ میر بس اپنے قد کی وجہ سے چھوٹا بچہ لگتا پر اس کا غصہ اتنا تیز ہںوتا کے اس کے دونوں بہن بھاٸی بھی دور رہںتے۔آیان ان کا چھوٹا بیٹا جو کے آٹهہ سال کا تھا جو کی بہت معصوم سا تھا اور اس کو پڑھاٸی کا بہت شوق ہںوتا تھا۔اور وہ سب سے پیار سے بات کرنے کا عادی تھا لنڈن جیسے ملک میں بھی رہ کر انہوں میں کوٸی براٸی عادات نہ تھی جو باقی بچوں میں ہںوتی تھی۔حيدر اور ہانم نے اپنے بچوں کی بہت اچهے سے تربیت کی تھی۔کیوں کی وہ بس اپنے وطن سے دور تھے اسلام سے نہیں۔
















مہرماہ رات کے دس بجے ٹي وی لاؤنج میں اپنے باپ کے ساتهہ ٹي وی پہ کوٸی فلم دیکهہ رہی تھی جب سکندر خان نے مہرماہ سے کہا۔
مہرو کل ہم آپ کے چچا کے گھر جاۓ گے تو آپ نے اور زیب نے ان سے بہت اچهے طریقے سے ملنا ہںے۔
جی بابا جان آپ فکر نہ کرے۔مہرماہ نے مسکرتے ہںوۓ کہا۔
شاباس میرا بچہ ہم نے کل ان کو اپنے گھر آنے کی دعوت بھی دینی ہںے۔وہ شاید شاہ میر کی وجہ سے کجھ دیر کررہںے تھے آنے کو۔سکندر خان نے کہا۔
بابا جان وہ تو ابھی بچہ ہںے اس لیے اتنے دور اپنے گھر سے رہنے کے لیے انکار کررہا ہںوگا۔مہرماہ کو پتا چلا تھا کہ شاہ میر پاکستان نہیں آنا چاہتا تبھی اس نے کہا۔
ہاں یہ تو ہںے اپنے گھر کی تو عادت ہںوتی ہںے اور تو دوسرے مُلک کی بات ںںے۔سکندر خان نے اس کی بات پہ اتفاق کرتے کہا تب ہی سارہ بیگم ان کے پاس آٸی۔
مہرو اپنے کمرے میں جاؤ اور سوجاٶ۔انہوں نے آتے ہی مہرماہ سے کہا۔
کجھ دیر بعد جاتی ہںوں۔مہرماہ نے انکار کیا۔
زیب کو دیکهو لڑکا ہںوتے ہںوۓ بھی کیسے رات کے کھانے کے بعد بنا میرے کہے اپنے کمرے میں آرام سے چلے جاتا ہںے اور ایک سال چھوٹا بھی ہںے تم سے۔سارہ بیگم اس کے انکار پہ غصے سے اظہار کیا۔
کوٸی نہیں آپ کا بیٹا اتنا سلیقہ مند آپ نہیں جانتی اس کے بارے میں۔مہرماہ جلدی سے کہا اس کو کہا برداشت تھی شاہزیب کی تعریف ۔اس کی بات پہ سکندر صاحب مسکردیٸے۔جب کے سارہ بیگم نے آنکهيں دیکهاٸی تو وہ چلی گٸ۔
نہ تنگ کیا کرو میری بیٹی کو ۔سکندر خان نے سارہ بیگم سے کہا۔
کہاں تنگ کرتی ہںوں میں یہ کام تو آپ کے بچوں کا ہںے۔سارہ بیگم نے ان کی بات پہ کہا۔
اماں جان سوگٸ کیا ؟ سکندر صاحب نے پوچها
ہاں کل سے انتظار میں ہںے کہ کب حیدر بھاٸی سے ملے گی اور آج اس لیے جلدی سوگٸ۔سارہ بیگم نے اپنی ساس کی بے صبری یاد کرکے کہا۔
اچها اماں جان تو خوش ہںوگی آخر کو اتنے سال بعد ملے گی۔میں نے تو ان سے کہا کی آج ہی چلی جاۓ پر انہوں نے انکار کیا کے ابھی نٸے آۓ ہے۔کجھ آرام کرلے۔سکندر خان نے مسکراکر کہا۔
















وہ اب بس جانے والے تھے۔لاٸونج میں مہرماہ کا انتظار کر رہںے تھے کہ وہ بھاگتی ہںوٸی سیڑھیو سے اُتر نے لگی ۔اس کی اتنی تیزی کے شاہزیب بولے بنا نہ رہ سکا۔
آہستہ ایک سال بڑی چڑیل آپی گِر ناجان اس کا اتنا کہنا تھا کے مہرماہ کی ہیل سیڑھیو میں اٹکی اور دھڑام سے نیچے دو سیڑھیو سے گِر پڑی۔
آآآ آ آ آ آ ایک زوردار چیخ اس کے منہ سے نکلی تو سب پریشانی سے اس کے پاس آۓ اور جلدی سے صوفے کے قریب لاکر بیٹھایا۔
میرا پیر امی جان۔مہرماہ نے روتے ہںوۓ کہا۔
بیٹا آپ کو ضرورت کیا تھی اتنی تیزی سے آنے کی۔سکندر خان اس کے پیر کا جاٸزہ لے کر پریشانی سے بولے۔جب کی ستارے بیگم اس کو رونے باز رکھ رہی تھی۔جب کی وہ چپ رہی۔
اور کیا ضرورت تھی اتنی ہیل والی سینڈل پہننے کی اپنا قد کیا کم ہںے۔جو مینار پاکستان بنی۔شاہزیب نے بھی اس کو لتاڑا۔
تم چپ کرو بندر تمہاری وجہ سے ہںوا یہ سب مہرماہ نے اس پر الزام لگا کر کہا۔
لڑنا بند کرو تم دونوں اور سکندر آپ اماں جان اور زیب کے ساتهہ جاۓ میں مہرو کے پاس ہںوتی ہںوں۔سارہ بیگم نے ان کو چپ کروایا پھر اپنے شوہر سے کہا۔
نہیں کل چلے جاۓ گے۔سکندر خان نے انکار کیا۔
نہیں بابا جان آپ سب جاۓ امی جان آپ بھی میری وجہ سے رُکے نہیں۔کلثوم ہںے نہ ۔مہرماہ نے اپنا درد برداشت کرتے کہا اور گھر کی ملازمہ کا نام لے کر کہا۔
ایسے کیسے۔ستارے بیگم نے کجھ کہنا چاہا
دادی جان پلیز۔مہرماہ نے منت کی اب۔
ٹھیک میں کلثوم کو تمہارے ساتهہ رہنے کا کہتی ہںوں۔سارہ بیگم نے پریشانی سے کہا ورنہ ان کا دل نہیں تھا۔مہرماہ کو ایسے چھوڑ کے جانے کا
















سکندر تمہارا بیٹا تو بہت سمجھدار ہںے۔حدید خان نے اپنے بھاٸی کو کہا ان لوگوں کو یہاں آۓ بہت وقت گزر چکا تھا اور اب وہ ڈراٸینگ روم میں تھے باتیں کرتے وقت انہوں نے کہا۔
ہاں بھاٸی صاحب پندرہ سال کا ہںے پر کبهی کبهی میری مدد بھی کرتا ہںے آفس کے کاموں میں۔سکندر خان اپنے بیٹے کی تعریف سن کے خوشی سے بولے۔جب کے شاہزیب جو آیان کے ساتهہ باتيں میں مصروف تھا اپنی تعریف پہ چوڑا ہںوکر بیٹھا اور مہرماہ کے ہںونے پہ اس کو افسوس ہںوا۔جب کی پری دوسری طرف عورتوں کے ساتهہ بیٹھی ہںوٸی تھی۔جب کے شاہ میر اپنے کمرے میں تھا اور ابھی تک نہیں آیا تھا نیچھے۔
اچها ماشاءَاللہ۔حیدر خان نے مسکراکر کہا۔
سارہ کیا مہرو کے پیر میں زیادہ پین تھا کیا ؟ہانم نے سارا بیگم کو چاۓ کا کپ پکڑا کر پوچها ۔
ہاں میں اس لیے اس کے ساتهہ رہنا چاہتی تھی پر مہرو اس کا میں تمہيں کیا بتاٶ۔سارہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔جب کی دوپہر کا وقت تھا تو ستارے بیگم نماز پڑھنے کے لیے اٹهہ گٸ تھی۔
آپ کیا کرتی ہںو بیٹا؟ سارہ بیگم نے ساتهہ خاموش بیٹھی پری سے پوچها ۔
میں ابھی بس اسکول جاتی ہںوں اور آیان کے ساتهہ کھیلتی ہںوں۔ان کی بات پہ پری نے کجھ معصومیت سے کہا۔
اور شاہ میر کے ساتهہ کیوں نہیں وہ بھی تو آپ کا چھوٹا بھاٸی ہںے۔سارہ بیگم نے اس کی بات پہ مسکراکر پوچها ۔
میر کو کھیلنا پسند نہیں اور وہ بس اپنے کمرے میں زیادہ ہںوتا ہںے یا اپنے دوست کو۔پری نے برا منہ بناکر کہا۔
اوہ آپ تو بہت کیوٹ ہںو۔سارا بیگم نے اس کے ایسے منہ بنانے پر ماتھا چوم کر بولی۔تب ہی شاہ میر ان کے پاس آیا جو ابھی شاید جاگا تھا کیوں اس کے براٸون بال ماتھے پہ بکھرے ہںوۓ تھے اور بلیک ناٸيٹ سوٹ میں ملبوس تھا۔
Hello everyone ,
شاہ میر نے سب کو دیکهہ کر کہا۔
ارے ماشاءَااللہ میر بیٹے یہاں آٶ ۔سارہ بیگم نے اس کو دیکهہ کر محبت سے اپنے پاس بولایا۔تو وہ چلتا ان کے پاس صوفے پہ بیٹھ گیا۔تو سارا بیگم پھر بولی۔
ہانم تمہارا شاہ میر تو بہت ہینڈسم ہںے اتنی سی عمر میں۔ان کی بات پہ سب نے ماشاءَاللہ کہا۔پر وہ چپ رہا۔
آپ کی نیند پوری ہںوٸی لیٹ سوۓ تھے کیا ؟سارہ بیگم نے اس کے بکھرے بال سنوارتے ہںوۓ کہا۔
نیو جگہ تھی اس لیے نیند نہیں آرہی تھی۔شاہ میر سنجيدگی سے بولا ۔
میر اب ادھر اپنے چچا سے بھی ملو۔سکندر خان صاحب نے اپنی بانہیں پھیلاکر اس سے کہا۔تو شاہ میر ان سے گلے ملنے لگا سکندر صاحب نے اس کے ماتھے پہ پیار کیا اور اپنی گود میں بیٹھا دیا۔
حيرت ہںے سکندر میری گود میں تو میر کبهی نہ بیٹھا جب بیٹھاٶ تو کہتا ہںے آیان کو بیٹھا بچے بیٹھتے ہںے۔اور میں بچہ نہیں۔حيدر خان نے حيرانکن لہجے میں کہا۔
بس پھر دیکهہ لوں۔سکندر صاحب نے شرارت سے اپنی بھاٸی کو دیکهہ کر کہا۔تو سب کے قہہقہقہ نکل گٸے جب کے شاہ میر نے اپنے ماتھے پہ آۓ بال اپنے ہاتهہ سے پیچھے کیے جیسے اس کی کسی اور کی بات ہںورہی تھی۔ستارے بیگم بھی ان کے پاس آگٸ تھی۔پھر ہانم نے پری سے کہا۔
پری جاٶ اپنے بھاٸی کو گھر دیکهاٶ اور میر آیان آپ بھی جاۓ اور ایک دوسرے کو کمپنی دے۔ان کی بات سن کر ناچاہٸتے ہںوۓ بھی شاہ میر چلاگیا۔
میر کیا تم تھک نہیں جاتے اس طرح چپ رہ کر ؟شاہزیب نے اس کو سلام کے بعد کجھ بولتے نہ دیکها تو کہا۔آخر کو وہ اس سے بڑا تھا سوال کرسکتا تھا۔
نہیں مجھے فضول بولنا پسند نہیں۔شاہ میر نے عام لہجے میں کہا جب کی آیان نے پری کو دیکها اور پری نے اس کے ایسے دیکهنے پہ آنکهيں دیکهاٸی۔
اچها صحيح ۔پر مہرو کو بولنا بہت پسند ہںے اس کا کہنا ہںے کے اگر انسان بولا نہیں تو سمجھو وہ انسان ہی نہیں۔شاہزیب نے ہنس کر مہرماہ کو یاد کرکے کہا۔
مہرو؟شاہ میر نے ناسمجھی سے پوچها ۔
تمہيں نہیں پتا میری بہن مہرماہ اور تمہاری کزن سسٹر وہ بھی آنے والی تھی پر اس کا پیر سلپ ہںوا تو نہ آسکی۔شاہزیب نے اس کو بتایا۔شاہ میر نے بس سرہلایا۔
میں اپنے روم میں چلتا ہںوں مجھے فریش بھی ہںونا ہںے۔پھر ملاقات ہںوگی۔کجھ ٹائم بعد شاہ میر نے شاہزیب کو دیکهہ کر بولا۔
ٹھیک ہںے۔شاہزیب نے مسکراکر کہا۔
آٶ پری آیان ہم بھی باقی لوگوں کے اس کے پاس چلتے ہںے۔شاہزیب ان دونوں سے بولا۔تو وہ ابھی اندر کی طرف چلے گٸے۔
اچها اب ہم چلتے ہںے۔سکندر خان نے کہا
ابھی کجھ دیر رُکتے ناں۔حیدر خان نے کہا۔
نہیں شام بہت ہںوگٸ ہںے۔اور مہرو کو تو ہم یہاں آکر بھول گٸے ہںے۔سکندر خان نے سہولت سے انکار کرتے کہا
اچها پر اماں جان کو یہی رہنے دے۔ہانم نے ان کو کہا۔
اماں جان کی مرضی۔سکندر خان نے کہا۔پھر وہ تینوں اپنے گھر کی طرف چلے گٸے۔جب کی ستارے بیگم یہی رکی ۔تو ہانم نے اپنے دونوں بچوں کو کمرے میں جانے کا کہا۔پری اپنے علیحدہ روم کی طرف گٸ۔جب کی شاہ میر اور آیان ایک کمرے میں ہںوتے تھے بس بیڈ الگ ہںوتے تھے پر یہاں ان کا بیڈ ایک ہی تھا۔
گیسٹ چلے گٸے کیا ؟شاہ میر اپنے بیڈ پہ بیٹھا آۓ پیڈ پہ گیم کھیل رہا تھا۔آیان کو آتے دیکهہ کر پوچها ۔
گیسٹ نہیں تھے ہمارے چچا کی فیملی تھی۔آیان نے اپنے بڑے بھاٸی کو جیسے سمجھانے کے لیے بولا۔
جو پوچها ہںے اس کا جواب دو۔شاہ میر نے پھر کہا۔
جی بھاٸی وہ چلے گٸے۔پر ہماری دادی یہی ہںے۔آیان نے اس کے ساتهہ بیڈ پہ آتے کہا۔
ٹھیک۔شاہ میر بس اتنا کہا۔
میں بھی گیم کھیلوں آپ کے ساتهہ۔آیان شاہ میر کو دیکهہ کر معصوم شکل بناۓ بولا۔
پڑھاٸی کرو نہ اپنی۔شاہ میر نے کہا۔
ہم تو یہاں گھومنے آۓ ہںے نہ اور پڑھاٸی میں اب کیا کروں۔آیان نے اس کی بات سن کر کہا۔
اچها میں یہ لیول پوری کرلوں پھر۔شاہ میر گیم میں دیکهتا بولا۔
اوکے۔آیان خوش ہںوتا ہںوا بولا۔
















زیب تنگ اتنا کرو جتنا میرے پیر ٹھیک ہںونے کے بعد میرا بدلہ برداشت کرسکو۔مہرماہ نے شاہزیب سے کہا جو اس کے کمرے میں بیٹھا تھا۔اور کبهی کبهی اس کی چیزوں یہاں وہاں کررہا تھا۔اس لیے مہرماہ نے اس کو کہا۔
میں کیا کر رہا ہںوں میں تو اپنی بہن کی بوریت دور کرنے کے لیے آیا ہںوں۔بیچاری سارا دن اکیلے تھی نہ اپنے دکهتے پیر کے ساتهہ۔شاہزیب نے مصنوعی سنجيدگی سے کہا۔
زیب تمہیں تم بعد میں بتاٶ ابھی تم بتاٶ کیا باتيں ہںوٸی چچا والوں کے ساتهہ۔مہرماہ نے پوچها ۔
باتیں تو بہت کی اور ہمارے یہ کزنز سے بہت ڈیسنٹ سے تھے بس شاہ میر کجھ الگ تھا کم بولنے والا۔شاہزیب نے اس کے پاس رکھی ٹرے سے ایپل لے کے کہا۔
اچها کاش میں چلتی ۔مہرماہ نے حسرت سے کہا۔
کوٸی نہیں پھر چلی جانا۔شاہزیب نے کہا۔
اچها اب تم جاٶ۔مہرماہ نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے کہا۔
چھوٹا بھاٸی ہںوں تمہارا مگر ذرا جو عزت ہںو تمہيں میری۔شاہزیب نے تاسف سے مہرماہ دیکهہ کر کہا۔
جاٶ جاٶ پتا نہیں کہاں کہاں سے چلے آتے ہںے۔مہرماہ نے بنا اس کی بات پہ دھیان دے کر کہا۔
تو شاہزیب پھر کبهی بدلا لینے کا سوچتے نکل گیا۔اس کے جاتے ہی مہرماہ بھی سونے کے لیے آنکهيں بند کردی۔
















حيدر خان اور ہانم بیگم ڈراٸینگ ٹيبل پہ ناشتہ کررہںے تھے جب شاہ میر اور پری آیان بھی وہيں آکر کرسی کھینچ کر بیٹھ گٸے۔تو حیدر خان بولے۔
اماں جان ناشتے کی ٹيبل پہ کیوں نہیں آٸی؟
انہوں نے بس اپنے کمرے میں ہی کیا۔ہانم بیگم نے بتایا۔
پری آپ رات اپنی دادی کے پاس تھی نہ تو کیسا لگا ان سے باتيں کرکے۔ اب انہوں نے بریڈ کھاتی پری سے مسکراکر پوچها ۔
یس ڈيڈ دادی بہت اچهی اچهی باتيں کررہی تھی اور نماز کا بھی بتارہی تھی اور مجھ سے کہا کہ اب میں بھی پڑھا کرو کیوں کی جو مہرو آپی ہںے نہ وہ پابندی سے نماز پڑھتی ہںے۔اور زیب بھاٸی بھی۔پری نے مسکراتے چہرے کے ساتهہ اپنے ڈيڈ کو بتایا۔
ھمم پھر آپ نے کیا کہا ان سے حيدر صاحب نے پھر کہا۔
میں نے کہا میں بھی اب پابندی سے پڑھوں گی مجھے نماز ادا کرنا آتی ہںے۔پری نے کہا۔
میر تم ٹھیک سے ناشتہ کیوں نہیں کررہںے ؟ نانم بیگم نے شاہ میر کو دیکهہ کر بولی جو بس جوس پی رہا تھا۔
بس مجھے ابھی کجھ نہیں کھانا۔شاہ میر نے کہا۔
موم مجھے ناں چچا جان والوں کے گھر جانا ہںے ۔آیان اپنی ماں سے بولا۔
ہاں کیوں نہیں آپ تینوں چلے جانا قریب ہی تو ان کا گھر ہںے پھر بھی میں شکیلا سے کہوں گی کہ تم لوگوں کو ان کی طرف لے جاۓ مجھے اور آپ کے ڈيڈ کو کہیں جانا ہںے آج ضروری ہںے۔ہانم بیگم نے آیان کو کہا۔
وہ سب ایسے ناشتے کے بعد پھر آپس میں باتيں کرنے لگے جب کے شاہ میر بیزار ہںورہا تھا۔پھر وہ اپنے کمرے کی طرف چلاگیا۔
















تمہارا پیر کا درد کیسا ہںے۔شاہزیب لاٸونج میں مہرماہ کے پاس آتے بولا ۔
میرے پیر کے درد کا نہ پوچهو مرشد
بس پیر کا پوچهو جس میں بڑا درد ہںے۔
مہرماہ نے شاعرانہ لہجے میں کہا۔
مجال ہںے جو ٹھیک سے جواب دو۔شاہزیب نے مہرماہ کو دیکهہ کر بولا ۔
اچها اچها ایسے ہی کہا میں نے تو دل کیا شاعری کرنےکا۔مہرماہ نے ہنس کر بولی۔
تم مجھے بس یہ بتاٶ کے امی جان کہاں ہںے۔شاہزیب نے پورے لاٸونچ میں نظر گھماکر کہا۔
وہ تو بابا جان کو آفس بھیجنے کے بعد اپنے کسی دوست سے بات کررہی ہںے۔مہرماہ نے اس کو بتایا۔
اچها میں باہر اپنے دوستوں سے ملنے جارہا ہںوں امی کو بتادینا۔شاہزیب نے اٹهتے ہںوۓ کہا۔
اچها بتادوگی پر تم میرے لیے ناولز اور چاکليٹ اور چپس کے پاکٹ لے کر آنا۔مہرماہ نے حکم دینے والے انداز میں کہا۔شاہزیب تو اپنی بہن کا انداز اور فرماٸش سن کر عش عش کر اٹها پھر مہرماہ سے کہا۔
مہرو تمہارے ان فرماٸشيں پوری تو میں کردوگا پر تمہيں پٸسے دینے ہںوگے۔
اپنی بڑی بہن سے پٸسے لیتے ہںوٸے تمہيں اچها لگے گا کیا؟ مہرماہ نے اس کو شرم دلانے کو بولی۔
بلکل اچها لگے گا۔شاہزیب نے اپنے سر کو جنبش دے کر کہا۔
اچها میرا پیر دیکهو بعد میں دوگی ابھی تم لےآنا۔مہرماہ نے اپنا پٹی سے بانده پیر دیکھا کرکہا۔
اچها اچها پر امی کو یاد سے بتادینا۔شاہزیب کہہ کر لاٸونچ سے نکل گیا۔جب کی مہرماہ بھی اٹهنے کی کوشش کرتی باہر لان میں جانا سوچا اور صوفے سے اپنا ناول اٹهاتی لنگھڑاتے ہںوۓ باہر چلی گٸ۔
شاہ میر اپنے کمرے میں بیٹھا اپنے دوست سے ویڈیو چیٹ کے بات کر رہا تھا۔پھر اس کے بعد وہ ایسے ہی اپنے پورے گھر میں چکر لگاتے لگاتے باہر نکل گیا۔پھر اس کو گھر سے باہر نکلتے ہںوۓ سامنے سے ہی ایک بڑا گیٹ دیکها جس کی پلیٹ پہ اس کا نام پڑھ کر پتا لگا کے یہ اس کے چچا کا گھر تھا شاہ میر کجھ سوچتا گھر کے اندر جانے لگا ایسے ہی اس کو دور کوٸی لڑکی بیٹھی نظر آٸی جس نے واٸٹ فراق پہنا تھا اور بالوں کی چوٹی ایک ساٸیڈ پہ تھی اور وہ کوٸی کتاب پڑھنے میں مگن تھی شاہ میر اس کو اِس قدر مگن دیکهتا اندر جانے بجائے اس کے پاس جانے لگا۔اور قریب آکر بولا۔
Hello,can i sit here ?
مہرماہ جو ناول پڑھنے میں مصروف تھی اپنے پاس کسی بچے کی آواز سن کر سر اٹهایا تو ایک خوبصورت بچہ اس کو اس سامنے والی چیٸر پہ بیٹھنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔اس نے غور سے بچے کو دیکها جس نے بلیک ڈھیلی ٹی شرٹ اور واٸٹ جینز کی پینٹ پہنے ہںوۓ تھا اور بال ماتھے پہ بکھرے پڑے تھے مہرماہ کو بلو آنکهوں والا بچہ بہت پسند آیا اور ہلکی مسکراہٹ سے اس کو دیکهہ کر کہا۔
sure,but who are you? I’m look at you 1st time,
شاہ میر اجازت ملتے ہی بیٹھ گیا۔پھر اپنے سے کجھ دور رکھی چیٸر پہ بیٹھی مہرماہ کو دیکهہ کر بولا۔
I’m shahmeer Haidar Khan,And I know you,and your name Mahermah,Right ?
مہرماہ اس کا نام جان کر حیرت سے اس بچے کو دیکها اور شرمندہ ہںوٸی کے اپنے کزن کو ناں پہچان سکی پر وہ بھی کیا کرتی کبهی ان سے بات کرنے کا اتفاق جو نہ ہںوا تھا ان کو اور کل اگر وہ جاتی تو ان سب سے مل بھی لیتی وہ اپنی سوچے جھٹکتی شاہ میر کو دیکها اور تجسس سے پوچها
How you know me and my name ?
can,we talk in urdu ?
شاہ میر نے مہرماہ کی بات پہ اس سے سوال کیا وہ زندگی میں پہلی دفعہ کسی سے خود بات کرنے آیا تھا وہ بھی کسی لڑکی سے ورنہ جہاں وہ رہتا تھا وہاں بہت لڑکیاں ہںوتی تھی۔پر وہ کبهی ان سے بات کرنے میں دلچسی نہیں رکھتا تھا پر شاید مہرماہ سے خون کی کشش کی وجہ سے خود چل کر آیا تھا پر وہ بچہ اب اتنی باتوں کو نہ سمجھتا تھا اور نہ سوچتا تھا۔
شاہ میر کی بات پہ مہرماہ مسکراٸی اور کہا۔
ہاں کیوں نہیں وہ دراصل تم نے شروعات انگلش میں کی بات کرنے کی تو مجھے لگا شاید تمہيں اُردو نہ آتی ہںو اس لیے میں بھی ایسے بات کرنے لگی۔
کل چچا والے آۓ تھے تو شاہزیب نے ایک دفعہ زکر کیا تھا آپ کا تو مجھے نام معلوم ہںوگیا اور آپ کا پیر دیکها تو مجھے لگا آپ وہيں کیوں انہوں نے بتایا تھا کہ آپ کا پیر سلپ ہںوگیا تھا جس کی وجہ سے آپ نہ آسکی اور مجھے اُردو آتی ہںے ہم گھر میں اُردو ہی بولتے ہںے وہ تو بس اسکول اور اگر کہیں باہر جانا ہںوتو انگلش کا استعمال کرتے ہںے۔شاہ میر نے پہلے اس کے پوچهے گٸے سوال کا جواب دیا اور بعد میں دوسری بات پہ کہا وہ ہمیشہ مختصر بات کرنے والا تھا پر مہرماہ سے بات کرتے ہںوۓ اس نے لمبی بات کی شاید اس کو مہرماہ سے بات کرنا اچها لگ رہا تھا۔
اچها صحيح۔آپ اکیلے آۓ ہںو ؟مہرماہ نے سوال کیا۔
جی میں ایسے ہی بور ہںورہا تھا تو اپنے گھر میں چکر لگاتے ہںوۓ باہر آگیا پھر گیٹ پہ نیم پلیٹ پہ چچا کا نام دیکها تو اندر آگیا۔شاہ میر نے مہرماہ کے چہرے کو دیکهہ کر پوری بات بتاٸی۔
اوہ تو تم بور ہںورہںے تھے اور مجھے پتا چلاتھا کہ تم پاکستان نہیں آناچاہںتے تھے پر اب آۓ ہںونہ تو تمہيں پاکستان سے پیار ہںوجاۓ گا اور واپس جانے کا دل ہی نہیں کرے گا۔مہرماہ نے شرارت سے اس کو دیکهہ کر کہا
شاید؛آپ کے پیر کا درد کیسا ہںے ؟شاہ میر نے اس کہ پیر کی طرف دیکهہ کر پوچها جس پہ پٹی تھی۔
ٹھیک ہںے پر چلنے میں تھوڑا پین فیل ہںورہا ہںے۔مہرماہ کو شاہ میر کا آپ کہنا اچها لگ رہا تھا اس کو شاہزیب کی بات ٹھیک لگی جو کہہ رہا تھا کہ وہ سب ڈسنٹ سے ہںے۔
اچها پھر آپ کو چلنا نہیں چاہٸیے جب تک ٹھیک نہیں ہںوجاتا آپ کا پیر۔شاہ میر نے ناجانے کیوں فکر دیکهاٸی۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔ایک جگہ بیٹھنا مجھے بلکل نہیں آتا اس لیے جیسے تیسے کرکے چل رہی ہںوں۔مہرماہ نے اس کی بات سن کر ہنس کر کہا۔
آپ کی سماٸل بہت پیاری ہںے۔شاہ میر کے منہ سے بے ساختہ اس کے لیے تعریف نکلی۔
شکریہ ۔مہرماہ نے اپنی مسکراہٹ کے لیے یہ الفاظ کٸی بار سنے تھے پر جانے کیوں اپنے سامنے اس بچے سے سن کر کجھ شرما سی گٸی تھی اس لیے بس یہ کہا۔
کیا آپ کو پین زیادہ فیل ہںورہا ہںے ؟شاہ میر نے اچانک سے پوچها ۔
نہیں تو۔ تمہيں کیوں ایسا لگا۔مہرماہ نے بتا کر سوال کیا
آپ کے چکس بہت ریڈ ہںوگٸے اس لیے مجھے لگا۔شاہ میر نے عام لہجے میں کہا
نہیں ایسا نہیں ہںے اور تم آٶ اندر چلتے ہںے امی جان سے ملو پھر کجھ دیر بابا جان اور زیب آۓ تو ان سے بھی ملنا۔مہرماہ نے بتاکر آخر میں اس کو اندر آنے کا کہا۔
آۓ آپ بھی پہلے ۔شاہ میر نے اٹهہ کر مہرماہ کے پاس آکر اپنا چھوٹا سا ہاتهہ بڑھایا۔تو مہرماہ میں سے مسکراکر اس کا بڑھایا ہاتهہ تھام کر اٹهنے کی کوشش کرنے لگی پھر آہستہ آہستہ لنگھڑا کر چلتی شاہ میر کو اندر لے آٸی شاہ میر بھی مہرماہ کہ ساتهہ آہستہ چل رہا تھا اور اس نے مہرماہ کا ہاتهہ ابھی بھی نہیں چھوڑا تھا۔لاٸونج میں آتے ہی اس نے صوفے کے قریب آکر شاہ میر ہاتهہ چھوڑدیا اور بیٹھنے لگی۔پر شاہ میر کو مہرماہ کا ہاتهہ چھڑوانہ نجانے کیوں برا لگا پر وہ نظرانداز کرتا دوسرے سنگل صوفے پہ بیٹھ گیا اور لاٸونج کو چاروں طرف سے دیکهنے لگا۔
کلثوم بی مہرماہ نے ملازمہ کو آواز دے کر بولایا۔
جی مہرو بیٹا کوٸی کام تھا۔وہ جلدی سے اس کے پاس آکر پوچها۔
ہاں ان سے ملو آپ یہ شاہ میر ہںے چچا حیدر کے بیٹے۔مہرماہ نے مسکراکر شاہ میر کی طرف اشارہ کرکے بتایا۔
ماشاءَاللہ بہت پیارا بچہ ہںے۔کلثوم بی نے شاہ میر کے سر پہ ہاتهہ پھیر کے کہا۔
ہاں ماشاءَاللہ بہت آپ امی جان کو شاہ میر کے آنے کا بتاٸیے گا اور شاہ میر کے لیے Milk شیک بھی بھیجٸیے گا۔مہرماہ نے کلثوم بی سے کہا۔تو وہ چلی گٸ ۔
یہ کونسی بُک ہںے ؟شاہ میر نے مہرماہ کو خاموش دیکهہ کر خود ہی بات کی۔
یہ اس کو ناول بولتے ہںے۔مہرماہ نے ناول کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔
وہ کونسی بُک ہںوتی ہںے میں نے تو کبهی نہیں پڑھا۔شاہ میر نے اپنے چھوٹے سے ماتھے پہ بل ڈال کہ پوچھا۔
کیوں کی آپ ابھی بچے ہںونہ اس لیے نہیں پتا اور میں تو بڑی ہںوں نہ تو اس لیے۔مہرماہ نے شاہ میر کی کیوٹ شکل دیکهہ کر بتایا۔
اتنا بھی اب میں چھوٹا نہیں۔شاہ میر کو اپنے لیے دوسرےلوگوں سے بچہ سننا برا لگتا تھا پر اب مہرماہ سے ایسے بچہ کہنے پہ اس کو زہر لگا یہ لفظ تبھی ناگواری سے کہا۔
سوری اگر تمہيں برا لگا ہںوتو۔مہرماہ نے شاہ میر کے اس طرح کہنے پہ احساس ہںواکہ اس برا لگا اس لیے اپنے سے چھوٹے بچے سے معزرت کی۔
نہیں پلیز آپ سوری مت کرے۔شاہ میر نے مہرماہ کہ اس طرح سنجيدہ ہںونے پہ جلدی سے بولا کیوں کی جب سے وہ اس سے بات کر رہا تھا مہرماہ کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکهی اور اب ایسے دیکهہ کر اس کو اچها نہ لگا۔
ارے میر آپ کب آۓ بیٹا ؟شاہ میر نے جیسے ہی اپنی بات کی تو سارہ بیگم لاٸونچ میں آکر شاہ میر کے گالوں پہ بوسہ دے کر سوال کیا۔
بہت وقت ہںوچکا ہںے۔شاہ میر نے ان کو دیکهہ کر کہا۔
پھر کلثوم بی نے شاہ میر کو Milk shack کا گلاس پکڑیہ تو اس نے ان سے لیا۔
امی جان میں اپنے کمرے میں جارہی ہںوں آرام کرنے کے لیے؟مہرماہ نے اٹهتے ہںوۓ اپنی ماں سے کہا۔
مہرو تمہيں ویسے ضرورت کیا تھی یہاں آنے کی پیر میں درد تب تک تو اس چین دو ایسے اگر سوجھے ہںوۓ پیر کے ساتهہ سیڑھیا اترتی چڑھتی رہںوں گی تو کیسے ٹھیک ہںوگا۔سارہ بیگم نے مہرماہ کی بات سن کر اس کو ڈانٹ کر کہا۔
کجھ نہیں ہںوتا امی جان۔مہرماہ نے سارہ بیگم کو دیکهہ کر کہا۔تو انہوں نے کجھ نہیں کہا۔جب کی شاہ میر بھی اس کو دیکهہ رہا تھا۔جو اب کلثوم بی کے ساتهہ سیڑھیو کی طرف جانے کے لیے اٹهہ رہی تھی۔
اچها شاہ میر اب میں جارہی ہںوں۔مہرماہ نے جاتے ہںوۓ شاہ میر سے کہا تو شاہ میر کے چہرے پہ پہلی دفعہ مسکراہٹ آٸی تھی جو بس سارہ بیگم نے دیکهی۔
کبهی کبهی مسکرا بھی لیا کرو بہت پیارے لگتے ہںو۔سارہ بیگم نے شاہ میر کو تنگ کرنے کے لیے کہا جس وہ جھنپ گیا۔تو سارہ بیگم ہنس دی۔
