Ishq Qaid by Rimsha Hussain NovelR50562 Ishq Qaid (Episode 06)
Rate this Novel
Ishq Qaid (Episode 06)
Ishq Qaid by Rimsha Hussain
دن کے بارہ بجے تھے حيدر خان نے سارا سامان کیب میں رکھوادیا تھا اب بس وہ اٸيرپورٹ کے لیے نکلنے والے تھے۔سکندر خان اور سارہ بیگم نے ان کو اٸيرپورٹ چھوڑنے آنے تک کا کہا پر انہوں نے منع کردیا اور یہی الوداع کیا مہرماہ شاہزیب ان کی واپس جانے پہ بے خبر تھے اور اب کالج گٸے ہںوۓ تھے شاہ میر جو پہلے ہی اداس تھا مہرماہ کو نہ دیکهہ کر اداس ہںوگیا تھا۔وہ لوگ کیب میں بیٹھے تو شاہ میر کو ایک خيال آیا تو اپنے ڈیڈ کو کہا جو ڈراٸیور کے ساتهہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے تھے۔
ڈیڈ پہلے مجھے آپ ماہ کے کالج لے چلے میں ان سے مل کر جانا چاہتا ہںوں۔
میر ماہ سے کیوں ملنا ہںے اب وہ کالج میں ہںے اس طرح آپ کا جانا ٹھیک نہیں کل تو ویسے بھی آپ ملے تھے۔حيدر خان نے نرمی سے منع کیا۔
نو ڈيڈ وہ کل کی بات تھی مجھے ابھی ان سے ملنا ہںے۔شاہ میر نے ضد کی۔تو انہوں نے مجبورن ڈراٸيور سے گرلز کالج کے راستے پہ جانے کا کہا۔کالج کے آتے ہی حيدر خان اس کو لیے اندر داخل ہںوۓ اور پرنسپل کے آفس گٸے تو ان سے مہرماہ سکندر کو بولانے کا کہا۔تو شاہ میر نے ان سے کہا کے وہ جہاں ہںے اس کو وہاں جانا ہںے تو پرنسپل نے پیون سے کہہ کر شاہ میر کو ان کے ساتهہ جانے کا کہا تو وہ ان کے ساتهہ نکل گیا۔
مہرماہ اپنی دوستوں کو ساتهہ لیکچر اٹینڈ کرنے کے بعد گراؤنڈ میں تھی جب اس کو شاہ میر بھاگتا ہںوا اپنے پاس آتا دیکها اس کو حيرت ہںوٸی اور جلدی سے اٹهہ کر شاہ میرکے پاس پہنچی مونا اور ثانيہ بھی اس کو اور چھوٹے سے شاہ میر کو دیکهہ رہی تھی جو بھاگنے کی وجہ سے گہری سانسيں بھر رہا تھا۔
شاہ تم یہاں کیسے ؟اس کو نارمل ہںوتا دیکهہ کر مہرماہ نے سوال کیا۔
ہم جارہںے ہیں واپس تو میں آپ سے ملنے آیا تھا۔شاہ میر نے مہرماہ کو دیکهہ کر کہا۔
کیا کیوں اچانک ؟مہرماہ حيرانی ہںوٸی اور سمجھ نہ آیا کے کیا کہے۔
پتا نہیں پر ہم واپس جارہںے تو اگر میں آنے میں دیر کروں تو آپ میرا انتظار کرے گی نہ مجھے بھول تو نہیں جاۓ گی۔شاہ میر نے پریشانی سے اس سے پوچها ۔اس کی بات مہرماہ کو سمجھ میں نا آٸی جب کی مونا اور ثانيہ نے ایک دوسرے کو دیکها پھر شاہ میر کو جو پہلے ان کو بچہ لگ رہا تھا اب اس کی بات سن کر کہیں سے نہیں لگا۔
شاہ کیا مطلب ؟مہرماہ نے الجھ کر پوچها۔
میں آپ کا دوست ہںوں تو آپ بھولیں گی تو نہیں ناں۔شاہ میر نے اپنی طرف سے سمجھایا اس کی بات پہ تینوں نے گہری سانس بھری۔
نہیں میں تمہيں نہیں بھولوں گی کبهی بھی نہیں۔مہرماہ نے مسکراکر اس کے گال پہ ہاتهہ رکھ کر کہا۔تو شاہ میر کی آنکهوں میں پہلی دفعہ کسی کے لیے آنسو نکلے مہرماہ نے دیکها تو بوکھلاگٸ۔
شاہ رو کیوں رہںے ہںو؟اس نے پریشانی سے اس کے آنسو صاف کرتے کہا۔
پتا نہیں پہلے تو ایسا نہیں ہںوا۔شاہ میر نے اپنی ایک سے آنسو پہ ہاتهہ رکھ کر معصومیت سے کہا۔تو مہرماہ نے اس کو اپنے گلے لگایا۔شاہ میر کو اپنا دل عجيب سے انداز میں دھڑکتا ہںوا محسوس ہںوا اس نے اپنے دل کو اتنے زور سے دھڑکتا سن کے گبھراکر جلدی سے مہرماہ سے دور ہںوا اور کہنے لگا۔
میں اب چلتا ہںوں۔کہتے ہی وہ وہاں سے نکل گیا۔جب کی مہرماہ نے حيرانی سے شاہ میر کی حرکت نوٹ کی۔
کون تھا ؟مونا نے سوال کیا وہ اب اپنی جگہ پہ آگٸے تھے بیٹھ گٸے تھے مہرماہ بھی اس کے جاتے دیکهہ کر اداس ہںوگٸ تھی۔
کزن ہںے میرا شاہ میر چچا جان پہلی دفعہ اپنے بچوں یہاں لے آۓ تھے اور اب شاید اچانک سے جا بھی رہںے ہیں تو وہ اداس ہںوگیا ہںے شاید۔مہرماہ نے جواب دیا۔
ماشااللہ تھا بہت خوبصورت ۔ثانيہ نے مسکرا کر کہا۔
ہاں وہ تو ہںے۔مہرماہ نے اس کی بات پہ کہا۔
کجھ سال بعد کو تو اس میں اور ہی چارم ہںوگا۔مونا نے کھوۓ ہںوۓ لہجے میں کہا۔
تمہيں کیا ہںوگیا ہںے۔مہرماہ نے اس کے اس طرح کہنے پہ کہا۔
کجھ نہیں۔ مونا ہنس کر بولی۔
شاہ میر کالج سے نکل کر کیب میں بیٹھا تو ہانم بیگم اس کی بھیگی آنکهيں دیکهہ کر پریشانی سے بولی۔
میر کیا تم روۓ ہںو ؟
نہیں۔شاہ میر نے بنا ان کی طرف دیکهہ کر کہا۔تو وہ چپ رہی پر پریشان ضرور تھی کہ شاہ میر رویا کیوں ہںوگا وہ تو آیان کے رونے پہ بھی غصہ ہںوتا تھا کہ روتے نہیں۔
















دن گزر رہںے تھے مہرماہ اور شاہزیب کے امتحان شروع ہںوگٸے جس میں وہ دونوں بس اپنے کمرے تک محدود ہںوکے رہ گٸے نہ مہرماہ کو ناولز پڑھنے کا ٹائم تھا اور نہ شاہزیب کو اپنی موبائل کو دیکهنے کا دونوں مصروف ہںوگٸے تھے اور سنجيدگی سے اپنے امتحانات کی تیاریوں میں تھے۔
جب کی حيدر خان جیسے لنڈن پہنچ گٸے تو ان کے بزنس کا کجھ لوس ہںوا ہںوگیا جس کی وجہ سے وہ اب اپنے آفس کے کاموں میں لگے رہتے ہيں۔ان کے آنے کے کجھ دن تو شاہ میر نے مہرماہ کے پاس جانے کی ضد کی جس پہ کبهی ہانم بیگم نے پیار سے سمجھایا تو کبهی سختی سے بس اپنی پڑھاٸی پہ دھیان دے پر اس کی وہی ضد پھر مہینے بعد شاہ میر نے ان سے مہرماہ کا زکر کرنا چھوڑ دیا اور کہا کہ وہ اب جم جواٸن کرنا چاہتا ہںے ہانم بیگم نے کجھ اعتراض تو کیا پر حيدر خان نے اس کی بات مان لی تھی ہانم بیگم نے بھی سکون کا سانس لیا کہ چلو وہ مہرماہ کو بھول گیا پر شاہ میر مہرماہ کو بھولا بلکل نہ تھا اور اب یہ ہںوگیا تھا کہ وہ نماز پانچ ہی وقت کی پڑھنے لگا تھا اور اب کوٸی ضد بھی نہیں کرتا بس چپ ہی رہتا تھا۔
















مہرماہ کالج سے آکر ابھی بیٹھی ہی تھی کے شاہزیب بھی اس کے ساتهہ بیٹھنے والے انداز میں لیٹ گیا۔
مہرو اٹهو اور پانی لاٶ۔شاہزیب نے تھکے ہںوۓ لہجے ميں مہرماہ سے کہا جو آخری پیپر دے کر سکون محسوس کررہی تھی اس کی بات پہ اس نے کہا۔
ہاں میرے لیے بھی لانا بڑی بہن ہںوں ثواب ملے گا۔
میں نے تمہيں بولا ہںے۔شاہزیب نے کہا۔
اور میں نے تمہيں بڑی بہن کو کام کہتے ہںوۓ شرم نہیں آتی۔مہرماہ نے اس کو شرم دلانے کی ناکام کوشش کی۔
نہیں شرم کس بات کی بہن تم میری اگر تمہيں نيکی کرنے کا موقع نہیں دوگا تو کس کو دوگا۔شاہزیب نے مزے سے بتایا۔تبھی کلثوم بی ان دونوں کے لیے پانی لے آٸی جو انہوں نے شکریہ کہہ کر تھام لیا۔
امی جان نہیں کیا گھر پہ ؟شاہزیب نے پوچها
میں بھی ابھی آٸی ہںوں نہیں پتا۔مہرماہ نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
اچها میں تو اب کمرے میں جاؤں گا اور جَم کے آرام کروں گا امتحانات نے تو سانس خشک کردیا تھا۔شاہزیب اٹهہ کر انگڑاٸی لیتے ہںوۓ مہرماہ سے کہا۔
جاٶ پھر کھڑے کیوں ہںو۔مہرماہ میں نے جانے کا کہا۔
جاتا ہںوں۔شاہزیب کہتا اپر کی جانب بڑھ گیا ۔اس کے جانے کے بعد مہرماہ بھی اپنے کمرے کی طرف گٸ۔
















ایک سال بعد :
شاہ میر اپنی کلاس میں رجسٹر پہ کجھ لکھ رہا تھا جب اس کا دوست ریان اس کے پاس آیا وہ دنوں ایک ہی عمر کے تھے پر نیچر دونوں کی الگ تھی شاہ میر کو کم بولنا پسند تھا تو ریان کو بس بولنا ریان جب تک صبح اسکول میں آتے کسی سے لڑنا لیتا اپنی کلاس میں ٹھیک سے پڑھ نہ پاتا۔پر پھر بھی وہ شاہ میر کا اکلوتا دوست تھا۔
تم یہاں ہںو اور میں باہر انتظار کررہا تھا۔ریان اس کے پاس بیٹھتا بولا۔
ہاں بس کجھ کام تھا۔شاہ میر نے بہانا کیا۔
میر تم جم جاتے ہںو نہ تو چلو نہ باہر کسی سے فاٸيٹ کرتے ہيں۔ریان نے اس کو دیکهہ کر کہا جس کو جم جواٸن کرتے ایک سال ہںونے والا تھا۔
لڑنے کے علاوہ بھی کجھ سوچ لیا کرو۔شاہ میر نے بیزاری سے کہا۔
اور تم بھی رجسٹر پہ ماہ لکھنے کے علاوہ کجھ اور کیا کرو۔ریان نے بھی ناک چڑها کر اپنا بدلا لیا۔
ماہ اس کو بس میں بول سکتا ہںوں ۔شاہ میر کی آنکهيں پل میں سرخ ہںوٸی تھی اور اس نے غصے سے ریان کو گھور کر کہا۔
اچها نہ میں نہیں کہتا پر اس طرح گھوڑنا تو بند کرو۔ریان نے اس کو ایسے دیکهنے پہ ڈرتے ڈرتے کہا۔
تم نے جولیا میم کو اساٸمنٹ بنا کے دیا تھا کہ نہیں؟ شاہ میر بات بدل کے بولا۔
نہیں یہ مجھ سے نہیں ہںوتا۔ریان نے شرمندہ ہںونے کے بجاۓ ڈھٹاٸی سے ہنس کر بولا تو شاہ میر نے اپنا سر نفعی میں ہلایا اور بیگ تھام کر کلاس سے نکلنے لگا تو ریان بھی اس کے ساتهہ چل کم اور بھاگ زیادہ رہا تھا اور سامنے آنے والے بچوں کے کبهی بال پکڑتا تو کبهی کسی اپنی عمر کی بچی کو دیکهہ کر آنکهہ مارتا شاہ میر لاپرواہ سا چلتا آرہا تھا اس کو ریان کی عادت کا پتا تھا۔
انسانوں کی طرح چلو اب بندر کی طرح اچهلو مت۔شاہ میر نے اس کو گول گول کلابازی کرتے دیکها تو ٹوکا کیوں کی ایسے کرتے ہںوۓ کسی کو چوٹ بھی آسکتی تھی اور اسے خود بھی۔
بندر مطلب Monkey ؟ریان نے لڑکے سے بال لیتے اس کو اپنے ہاتهہ میں گول گول پھیرتے پوچها۔
یس۔شاہ میر نے کہا۔
ہاہاہاہاہاہاہا۔اب بندر اتنے خوبصورت ہںوتو کوٸی ان کو بندر کیوں کہتا۔ریان نے قہقہقہ لگا کر اپنی تعریف کی اور بنا دیکهے بال کو زور سے لات ماری جو سامنے دور کھڑے ان کے سینٸر کے گروپ میں ایک بدمعاش لڑکے کی بیک پہ جا لگی اور سب بچے ہنسنے لگے پر ریان نے تو حد ہی کردی ڈرنے یا سوری کے بجائے زور زور سے قہقہقہ لگایا بال لگی ہی ایسی جگہ پہ تھی کہ ریان کو اپنی ہنسی روکنا مشکل لگا جب کی شاہ میر کو ہنسی آٸی پر اس نے اپنا چہرہ جھکادیا۔وہ لڑکا جو اچانک بال لگنے کی وجہ سے غصہ تھا کہ کس نے کیا اپنے ساتهہ جس کا چہرہ ریان اور شاہ میر کی طرف ہی تھا اس نے اشارے سے ریان کی طرف بتایا جو اب نیچے بیٹھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پھوٹ کا شکار ہںوگیا تھا اور جن کی ہنسی لڑکے کو غصے میں دیکهہ کر بند ہںوگٸ تھی دوبارہ ریان کی طرف دیکهہ کر نکل گٸ۔شاہ میر اس کو چلنے کا کہہ رہا تھا پر وہ سن ہی نہیں رہا تھا پھر وہ پورہ گروپ ان کی طرف آیا اور انگریزی میں ریان سے کہا جو ان کو دیکھ کر شاہ میر کے ساتهہ کھڑا ہںوا تھا۔تمہاری ہمت کسے ہںوٸی ہم سے پنگا لینے کی ۔
ہمت کی کیا بات یہ تو میری ٹانگ کا کمال ہںے۔ریان نے فخریہ انداز میں بتایا۔
تیری تو۔وہ غصے میں ریان کے منہ پہ مکہ مارنے والا تھا جو شاہ میر نے آگے آکر بیچ میں ہی روک دیا۔ریان جو اپنی آنکهيں بند کرلی تھی کھول کے دیکها تو نظر آیا کہ لڑکے کے مکے والا ہاتهہ شاہ میر کے ہاتهہ میں تھا۔
یہ ہرگز نہ کرنا ریان سے غلطی سے ہںوگیا ورنہ اس کا ایسا کوٸی ارادہ نہ تھا ۔شاہ میر نے اس کا ہاتهہ چھوڑ کر صلح انداز میں کہا۔جس پہ لڑکا اور تپا۔
تم بیچ میں نہ آٶ اسکی تو میں آج ایک دو ہڈی توڑ کے ہی رہںوگا وہ غصے میں گالی بک کر بولا ۔جس پہ ریان نے اس کو زبان دیکھاٸی ڈرا اس سے وہ اب بھی نہ تھا۔
اپنی زبان پہ ذرہ کنٹرول رکھے کہا نہ میں نے کہ غلطی سے ہںوا ہںے۔شاہ میر نے اب سختی سے کہا۔
پہلے تمہيں ہٹانا پڑے گا۔لڑکے نے کہتے ہی شاہ میر پہ حملا کرنا چاہا پر شاہ میر شاید پہلے ہی تیار تھا اس لیے دوبارہ اس کا ہاتهہ روکے دوسرے ہاتهہ سے پوری قوت سے اس کے جبڑے پہ مکہ دے م*ارا جس سے سب کے منہ اوووو کے انداز سے کھل گٸے تھے ریان نے جمپ لگاکر کہا۔ گڈ شوٹ میر ون مور جس پہ شاہ میر نے اس کو گھورا تو اس نے اپنا جملا بدل دیا نو ون مور کہہ کر
لڑکے نے جس نام بوبی تھا اس نے اپنے منہ پہ ہاتهہ رکھا تھا تو منہ سے خ*ون نکلا تھا وہ شاہ میر کی طرف بڑھنے ہی والا تھا کہ اس کے دوستوں نے روک دیا کہ بعد میں دیکهہ لیں گے۔تو وہ شاہ میر کو گھورتا ہںوا اپنے کلاس کی جانب گیا۔شاہ میر ان کے جانے کے بعد اپنا گرا ہںوا بیگ تھاما اور ریان کو دیکها جو داد بھری نظروں سے اس کو دیکهہ رہا تھا پھر شاہ میر نے کہا۔
اب چلنا ہںے یا ان کے واپس آنے کا انتظار کرنا ہںے ؟
نہیں نہیں انتظار کیوں کرنا ہںے چلو۔ریان نے جلدی سے کہا کہ کہیں سچ میں ہی نہ آجاۓ۔
ایسا کیوں کرتے ہںو؟اور وہ اتنے لوگ تھے گروپ کے تمہيں ڈر نہیں لگا ؟شاہ میر نے چلتے چلتے اس سے پوچها۔
نہیں تم جو ساتهہ تھے تو ڈر کس بات کا۔ریان نے عام لہجے میں کہا۔
اچها ۔شاہ میر اس کی بات پہ مسکرادیا۔
ویسے میری بات جو تم نے نامانی گوڈ نے کیسے میری دل کی بات بغير کہے مان لی۔ریان نے پرجوش آواز میں کہا۔
کونسی بات میں نے نہیں مانی ؟اور اللہ نے مان لی۔شاہ میر کو اس کی بات سمجھ میں نہیں آٸی۔
یہیں فاٸٹنگ کرنے والی۔ریان نے اپنے ہاتهوں سے اشارہ کرتے بتایا۔تو شاہ میر نے نفعی میں سرہلادیا۔
















سکندر خان یہ سب رات کے کھانے کی ٹيبل پہ تھے۔جب سارہ بیگم نے سب کو دیکها پر سکندر خان سے بولی۔
آج نادیہ کا فون آیا تھا وہ اور ان کی نند حمیرا کل آنا چاہتی ہيں۔ان کی بات پہ مہرماہ کے کان کھڑے ہںوۓ۔
اچها بتاکر آرہی ہيں کوٸی خاص وجہ ؟انہوں نے پوچها
وہ تو کل آۓ گے تو پتا چلے گا۔انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
ٹھیک ہںے ویسے بھی کل اتوار ہںے۔سکندر خان بولے۔
اور تم دونوں کی پڑھاٸی کیسی چل رہی ہںے۔سکندر خان نے مہرماہ شاہزیب سے پوچها
زبردست ۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔
ٹھیک بابا جان۔شاہزیب دل پہ پتھر رکھ کہ بولا۔
بس ٹھیک۔مہرماہ نے شرارت سے پوچها
ہاں جی ۔شاہزیب دانت پیستا بولا۔
مہرماہ کھانے کے بعد کمرے میں آٸی تو اس کا بج رہا تھا اس نے کال کرنے والے کا نام تو جلدی سے کال پَک کی۔
اسلام علیکم ! مہرماہ نے سلام کیا۔
وعلیکم اسلام کیسی ہںو مہرو ؟دوسری طرف شہیر نے پوچها ۔
میں الحمداللہ ٹھیک اور آپ کیسے ہیں؟مہرماہ نے جواب کے بعد سوال کیا۔
میں بھی ٹھیک۔شہیر نے جواب دیا۔
آپ کو کوٸی کام تھا۔مہرماہ نے کال کرنی کی وجہ جاننی چاہی۔
بس بات کرنے کے لیے کال کی تھی تمہيں بُرا لگا شاید۔شہیر نے جانچنے والے لہجے میں کہا۔
ارے نہیں بُرا نہیں لگا میں نے ویسے ہی پوچها ۔مہرماہ جلدی سے بولی۔
اچها وہ کل امی اور مامی جان آۓ گی۔شہیر نے کہا۔
جی وہ امی جان نے بتایا تھا۔مہرماہ نے جوابن کہا۔
ہمارے رشتے کی بات کرنے آۓ گی۔شہیر نے اس کے سر پہ بم گِرایا۔
ک ک کیا م مطلب؟ مہرماہ کو لگا اس نے غلط سنا ہںے اس لیے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں پوچها ۔
مطلب اتنا مشکل تو نہیں۔شہیر نے کہا۔
ہممم۔مہرماہ نے بس اتنا کہا اس کا زور سے دھک دھک کر رہا تھا اس کو یقين نہیں آرہا تھا جس کو وہ چاہتی ہںے اللہ اس کو بن مانگے دے گا۔
تمہيں اعتراض تو نہیں ہںوگا نہ ؟شہیر نے تصدیق مانگی
میں کیا کہہ سکتی ہںوں ابھی یہ اختیار تو میں نے امی بابا کو دیا ہںے۔مہرماہ نے صاف گوٸی سے کام لیا۔
ہاں پر میں یہ پوچهنا چاہ رہا تھا کہ اگر ان کو اعتراض نہیں تو تمہيں بھی نہیں ہںوگا نہ اگر وہ تمہاری رضامندی پوچهے تو۔شہیر نے اس سے مرضي پوچهنی چاہی۔
اگر ان کو اعتراض نہیں ہںوگا تو مجھے کیوں ہںوگا۔مہرماہ نے سکون سے جواب دیا۔
اچها میں لڑکی راضی سمجھو ؟شہیر نے شرارتً پوچها
پتا نہیں۔مہرماہ نے کہہ شرما کر کال کٹ کردی اور اپنے دل پہ ہاتهہ رکھا جو زور سے دھڑک رہا تھا پھر اس نے حور کو کال کی جو اس نےپہلی دفعہ میں اٹهالی تھی۔
مجھے پتا تھا تمہاری کال ضرور آۓ۔حور نے کال اٹها کر کہا۔
تو مجھے کیوں نہیں بتایا۔مہرماہ نے ناراضگی سے کہا۔
سوچا کل بتادوگی پر مجھے نہیں تھا کہ شہیر بھاٸی اتنے بے صبرے ہںوگے۔حور نے ہنس کر کہا تو پل میں اس کا چہرہ سرخ ہںوگیا پھر بولی۔
کال کی انہوں نے تو تمہيں یہ کیسے پتا ؟
اوہںو ابھی سے انہوں نے۔حور نے شرارت سے کہا۔
حور تنگ نہ کرو۔مہرماہ نے التجا کی۔
اچها نہیں کرتی ۔کال کا انہوں نے بتایا تھا مجھے کے کال کرینگے تمہيں اور مجھے معلوم تھا کہ تم مجھے ضرور بتاٶگی۔حور نے بتایا۔
اچها اتنا یقين ۔مہرماہ اس کے جواب پہ ہنس پڑی۔
بلکل اور مجھے تم سے کجھ پوچهنا تھا۔حور نے کہا۔
پوچهو۔مہرماہ نے اجازت دی۔
کیا تمہيں شہیر برو سے محبت ہںے ؟حور نے پوچها
پتا تو ہںے تمہيں میں ان کو پسند کرتی ہںوں۔مہرماہ نے اس کے سوال پہ کہا۔
محبت اور پسند میں فرق ہںوتا ہںے مہرو پسند ہمیں ہر اچهی چیز آتی ہںے پر محبت میں یہ فرق ہںوتا ہںے کہ وہ ہمیں ہر ایک سے نہیں ہںوتی اور نہ ہمیں اچهی چیزوں سے ہںوتی ہںے محبت ایک بے اختیار جذبہ ہںے اس کو ہم کرتے نہیں پر ہںوجاتی ہںے۔حور نے اس کے جواب پہ بتایا۔
حور یہ آج تم ایسے کیوں پوچهہ رہی ہںو؟مہرماہ کو اس کی باتيں سر سے گزرتی محسوس ہںوٸی۔
کیوں کی پہلے پوچهنا ضروری نہیں لگا اور آج لگا تو پوچه لیا۔حور نے لاپروٸی سے کہا۔
محبت کا تو نہیں پتا پر وہ اچهے لگتے ہيں۔ان کی مقناطیس سی شخصيت اور ان کے بات کرنے کا انداز مطلب ویسے ہی ہیں وہ جیسے ناول کے ہيرو ہںوتے ہيں ان کا رنگ صاف نہیں پر وہ اچهے ایسا سمجھ لوں کے ان سے کرش ہيں مجھے۔مہرماہ کو جو لگا اس نے بتا دیا۔
مطلب محبت نہیں پسندیدگی ہںے۔حور نے اس کی باتوں سے یہی اندازہ لگایا۔
کجھ ایسا ہی سمجھو۔مہرماہ نے کہا۔
تمہيں نہیں لگتا کہ انسان کو اسے اپنا ہمسفر بنانا چاہٸیے جس سے وہ محبت کرتا ہںے۔حور نے اس سے پوچها
ہاں بنانا چاہٸیے۔پر میرے خيال سے انسان کو اصل محبت زیادہ تر نکاح کے بعد ہںوتی ہںے۔ پر محبت کے بعد نکاح بہت کم ہںوتے ہیں۔اسلام میں محبت کرنا گناہ نہیں جس سے محبت کرو اس سے نکاح بھی کرو۔مہرماہ نے اس کی بات پہ خوبصورت الفاظ کہے۔
تم بہت اچهی باتيں کرتی ہںو مہرو تم بات کرنے وقت خوبصورت الفاظ کا انتخاب کرتی ہںو۔حور نے صدق دل سے مہرماہ کی تعریف کی۔
تمہيں پتا ہںے حضرت علیؓ کیا فرماتے ہیں؟مہرماہ نے اس کی بات سن کر مسکراکر پوچها
تم بتاٶ۔حور نے کہا
جس طرح شبنم کے قطرے مرجھاۓ ہںوۓ پھول کو تازگی بخشتے ہیں۔اس طرح اچهے الفاظ مایوسی کو روشنی بخشتے ہیں۔مہرماہ نے مسکراکر بتایا۔
سُبحان اللہ۔حور کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
اس لیے میں کوشش کرتی ہںوں کہ اچها اچها بولوں جو سننے والوں کے دلوں میں تازگی بخشے ان کو پسند آۓ اور میرے منہ سے ایسے الفاظ نہ نکلے کہ سامنے والے کا دل ٹوٹيں میں کوشش بہت کرتی ہںوں۔مہرماہ نے کھوۓ ہںوۓ لہجے میں کہا۔
تم بھی اچهی ہںو مہرو۔حور نے مسکرا کر کہا۔
اچها اب باتيں بہت ہںوگٸ ہیں تم بھی سوجاٶ مجھے بھی نیند آرہی ہںے۔مہرماہ نے کہا۔
اچها سونا بھی ہںے کیامجھے لگا بس باتيں کرنی ہںے۔حور نے اس کی بات پہ مصنوعی حيرانکن لہجے میں کہا
سوجاٶ اب۔مہرماہ نے کہہ کر کال کٹ کردی اور سونے کے لیے لیٹ کر آنکهيں بند کردی۔
















صبح اس کی آنکهہ دیر سے کھلی تھی۔وہ جب لاؤنج میں آٸی تو اس کی پھوپھو اور ان کی نند حمیرا وہ دونوں سارہ بیگم کے ساتهہ باتوں میں مصروف تھی۔مہرماہ نے بھی ان کو سلام کرکے ان کے ساتهہ بیٹھ گٸ۔
پھر ان کی باتوں کو نا سمجھ کر دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چلی گٸ۔اس کے جاتے ہی حمیرہ نے کہا۔
دیکهو سارہ میں نے تمہيں اپنے یہاں آنے کا مقصد بتادیا ہںے اب تم سکندر بھاٸی سے بات کرکے مجھے جواب دینا
جی حمیرہ میں سکندر سے بات کرکے آپ کو کال پہ بتادوگی شہیر سے زیادہ بہتر مہرو کے اور کوٸی ہںو بھی نہیں سکتا اچها ہںے اگر وہ اور مہرو بھی راضی ہںوجاۓ تو۔سارہ بیگم نے ان کو مطمئن کیا۔
صحیح ہںے بھابھی نادیہ نے اماں جان سے بات کرلی تھی ان کو اعتراض نہیں اور ہم بھی تو ابھی بس منگنی کی رسم کرے گے شادی تو ان کی پڑھاٸی مکمل ہںونے کے بعد ہی۔حمیرا بھی خوش ہںوتے ہںوۓ ان سے کہا۔جس پہ وہ مسکرادی۔
ان کے جانے کے بعد سارہ بیگم اپنے کمرے میں آٸی جہاں سکندر خان لیپ ٹاپ پہ کوٸی کام کر رہںے تھے۔
مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔سارہ بیگم نے ان کو مصروف دیکهہ کر کہا۔
بتاٶ بیگم کیا بات ہںے۔انہوں نے اجازت دی۔
حمیرا اپنے بیٹے شہیر کا رشتہ مہرو سے کرنا چاہتی ہںے۔ان کو بتایا۔
کیا جواب دیا ان کو پھر ؟سکندر خان نے پوچها
میں نہیں ابھی جواب نہیں دیا ان سے کہا کہ آپ سے بات کرلوں پھر۔سارہ بیگم نے کہا۔
اچها کیا ہم ان کو ابھی جواب نہیں دیتے مہرو سے پوچهو پہلے شہیر کے رشتے میں کوٸی خامی نہیں جو ہم انکار کرے پر اگر مہرو انکار کرے تو آپ بات کو ختم کیجٸیے گا زور زبردستی نہیں مہرو کو حق ہںے اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلا وہ خود کرے اور راضی ہںوجاتی بھی ہںے تو ایک سال تک ہم کوٸی رسم نہیں کرۓ گے۔کیوں کی اتنی جلدی ٹھیک نہیں سال بعد مہرو اٹهارہ کی ہںوگی تب کرے گے اور میں حیدر سے بھی بات کرلوں جب سے وہ گیا ہںے تو اس سے بات ہی نہیں ہںوٸی۔سکندر خان نے ایک ہی دفعی میں ان سے کہہ دیا
میں مہرو سے بات کرکے بتاٶگی ۔سارہ بیگم نے مطمئن ہںوکر کہا۔
















سارہ بیگم نے مہرماہ سے بات کرلی تھی جس سے اس نے اپنی رضامندی کا اظہار کردیا تھا پھر انہوں نے سکندر خان کو بھی بتادیا اور کال پہ حمیرا سے بھی کہہ دیا پر منگنی کا ایک سال کا وقت مانگا جو انہوں نے خوشی خوشی دے دیا۔سکندر خان نے حيدر خان کو بھی مہرماہ کے رشتے کا بتایا پر ابھی منگنی نہیں کی یہ بھی جسے سنتے حيدر خان کجھ پل تک تو کجھ نہ بولے پھر انہوں نے کہا کہ اچها کیا کہ مہرماہ کا رشتہ اس کی رضامندی سے کر دیا پھر ایسے ہی انہوں نے حال احوال کر کے بات ختم کردی تھی۔حيدر خان نے مہرماہ کے رشتے کی بات اپنے گھر میں کسی کو نہیں بتاٸی۔ایسے ہی وقت گزرتا جارہا تھا شاہ میر جو پہلے بارہ سال کا تھا اب چودہ سال کا ہںوگیا تھا ان دو سالوں میں شاہ میر میں بہت بدلاٶ آیا تھا جم ہر روز جانے کی وجہ سے اس کا جسم مضبوط ہںوگیا تھا۔اس کے زیادہ نہیں تو کجھ مسلز بھی بن چُکے تھے شاہ میر اب پہلے کی طرح بچہ نہیں رہا تھا اب اس کو کوٸی دیکهہ کر نہ یہ کہہ سکتا تھا اور نہیں بچہ سمجھ کر اس کی بات نظرانداز کرسکتا تھا۔شاہ میر اور ریان نے بھی اب کالج کی زندگی میں قدم رکھا تھا۔ریان کی حرکتوں میں کمی ذرہ بھی نہیں آٸی تھی۔ایسے ہی آج وہ لنڈن کی سڑکوں پہ آوارہ گردی کر رہںے تھے کہ شاہ میر کو اپنی طبيعت اچانک خراب محسوس ہںوٸی۔
ریان مجھے بہت گبھراہٹ ہںورہی ہںے۔شاہ میر نے اپنے سینے پہ ہاتهہ رکھ کر ریان سے کہا۔
میر کیا ہںوا تمہاری طبيعت نہیں ٹھیک تو بیٹھو یہاں ۔ریان اس کی بات پہ پریشان ہںوتا پاس پڑے بینچ پہ اس کو بیٹھایا اور اس کے ماتھے پہ ہاتهہ رکھ کے چیک کیا۔
میر میں انکل کو کال کرتا ہںوں۔ریان فکرمند ہںوتا بولا۔پر شاہ میر کو کجھ سمجھ نہیں آیا تھا دل میں عجیب سی بے چینی اور گھبراہٹ سی ہںوگٸ تھی۔جیسے کجھ بُرا ہںونے والا تھا۔ریان نے حيدر خان کو کال کرکے شاہ میر کا بتایا تو انہوں جگہ کا پوچها تو ریان نے بتایا۔ریان نے جب شاہ میر کو دیکها تو اس کی چیخ نکل گٸ کیوں کی شاہ میر بے ہوش ہںوچکا تھا۔
میر۔میر آنکهيں کھولو انکل بس آنے والے ہںوگے۔ریان نے شاہ میر کو جگانے کی کوشش کی پر وہ نہ اٹها ریان نے پریشانی سے دوبارہ حيدر خان کو کال کی اور بتایا۔حيدر خان نے آتے ہی شاہ میر کو گاڑی میں لیٹایا۔اور ہںوسپٹل کی طرف گاڑی بڑھادی ریان بھی ان کے ساتهہ تھا۔ہںوسپٹل میں آتے ہی جب شاہ میر کو وارڈ روم لے گٸے تو آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر نے واپس آکر ان سے کہا
آپ کے مریض کے دل کی دھڑکن آہستہ آہستہ چل رہی ہںے اور یہ کیوں ہںے ہم سمجھ نہیں پارہںے وہ ہںے بھی کم عمر آپ دعا کرے کے ان کی ہارٹ بیٹ نارمل ہںوجاۓ
یہ آپ کیا کہہ رہںے ہیں دل کی دھڑکن آہستہ کیوں وہ تو بلکل ٹھیک تھا اور آپ تو ڈاکٹر ہںے کیسے جان نہیں پارہںے کہ کیا مسلا ہںے۔حيدر خان نے ان کی بات پہ پریشانی سے کہا۔
ہم اپنی طرف سے کوشش کر رہںے۔پر کجھ خاص معلومات نہیں ہںوٸی یہ کجھ عجيب سا کیس ہںے ڈاکٹر نے کہتے ہی وہاں سے نکلے جب کی حيدر خان بینچ پہ گرنے کے انداز میں بیٹھ گٸے۔
انکل میر ٹھیک تو ہںوجاۓ گا نہ ۔ریان نے پریشانی سے ان سے پوچها ۔وہ کجھ کہتے کے ان کا موبائل رنگ کرنے لگا دیکها تو پتا چلا پاکستان سے تھی انہوں نے سانس بھر کر کال اٹهالی۔
حیدر کہاں مصروف ہںو میں کب سے تمہيں کال کررہا تھا۔سکندر خان نے ان سے کہا۔
کہیں نہیں آپ بتائيں خيریت ہںے سب۔انہوں نے پوچها
ہاں آج مہرو کی منگنی تھی آج تو میں چاہتا تھا کہ تم سب لوگ اسکاٸپ پہ بات کرتے۔سکندر خان کی بات پہ انہوں نے اپنی آنکهيں زور سے بند کرکے کھولی پھر کہا۔
بہت مبارک ہںو مہرو کی منگنی کی میں کجھ مصروف تھا بعد میں بات کرینگے حيدر خان نے اپنی بات کہہ کر کال کٹ کردی۔حيدر خان کو آج اپنا شک درست لگا وہ جو ہر دفعہ نظرانداز کر دیتے تھے کہ ایسا نہیں ہںوگا پر آج وہ اس بات سے چاہ کر بھی منہ نہیں موڑسکے کہ ان کے میر کو کم عمری میں ہی عشق ہںوگیا ہںے۔اس کو بھلے پتا نہ ہںو پر دل کو پتا لگ گیا تھا کہ اس کا عشق آج کسی اور کے نام ہںوگیا تھا۔حيدر خان ایک مضبوط مرد ہںوکر بھی اپنے بیٹے کے لیے رو پڑے اور ریان جو پہلے ہی پریشان تھا اب اور زیادہ ہںوگیا تھا۔
ساری رات گزر گٸ تھی پر شاہ میر کی دھڑکن نارمل اسٹیج پہ نہیں آٸی تھی۔حيدر خان نے ہانم بیگم سے بہانا کردیا تھا کہ ابھی وہ اور شاہ میر کجھ دن تک نہیں آۓ گے باقی باتيں وہ گھر آکر کرینگے جب کی ریان کو بھی انہوں نے اپنے گھر بھیج دیا تھا۔دن کے بارہ بج گٸے تھے جب ڈاکٹر نے شاہ میر کے خطرے سے باہر آنے کی خبر دی تھی کہ اب اس کی دھڑکن نارمل ہںوگٸ ہںے اور اب آپ کجھ دیر بعد مل سکتے ہںے یہ بھی کہ وہ اتنے بڑے ڈاکٹر ہںوکر بھی یہ جان نہیں پاۓ کے شاہ میر کو ہںوا کیا تھا ان کو کوٸی مرض معلوم نہ ہںوسکا۔پر حيدر خان نے اپنے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ان کے میر کو نٸی زندگی دی تھی۔
عمر نہیں تھی عشق کرنے کی
ایک چہرہ دیکها اور گناہ کر بیٹھے۔
