Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qaid (Episode 02)

Ishq Qaid by Rimsha Hussain

شام میں جب شاہ میر اپنے گھر کے اندر داخل ہںواتو آیان بھاگتے ہوۓ اس کے پاس آیا اور ناراضگی سے کہا۔

آپ چچا جان کے پاس اکیلے چلے گٸے ہمیں بھی جانا تھا۔آپ کے سامنے ہی تو صبح بات ہںوٸی تھی۔

میرا ایسے اچانک موڈ بنا جانے کو اور تم آپی کے ساتهہ آجاتے ۔شاہ میر نے بیٹھتے ہںوۓ آیان کا پھولا منہ دیکهہ کر بولا۔

انہوں نے انکار کردیا کہا کہ پھر کبهی موم ڈیڈ کے ساتهہ چلے گے۔آیان نے اپنے نہ آنے کی وجہ بتائی ۔

اچها کوٸی پھر تم جانا ان کے ساتهہ ابھی میں بہت تھکا ہںوا ہںوں بعد میں بات کریگے۔شاہ میر نے اس کو مذید بحث کرنے سے پہلے کہا تو وہ بھی چپ ہںوگیا۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

شاہزیب مہرماہ کے لیے آٸسکریم لایا تھا پر جب وہ مہرماہ کے کمرے میں گیا تھا۔تو مہرماہ کو گہری نیند میں دیکها تو واپس باہر آگیا اور کچن میں جاتے فرج میں آسکریم رکھ دی اور اپنے کمرے میں آگیا۔وہ لیٹنے والا تھا جب دروازہ نوک کرتی سارہ بیگم اس کے کمرے میں آٸی۔شاہزیب نے اپنی ماں کو دیکها سیدھا ہںوکے بیٹھا۔

زیب تم صبح کے گٸے تھے اور اب آۓ ہںو؟سارہ بیگم نے تفتيش والے انداز میں کہا۔

وہ امی جان ہم کرکیٹ کھیل رہںے تھے پھر ایسے باہر گھومے تو وقت کا پتا نہیں لگا۔شاہزیب نے اپنی ماں کا ایسا انداز دیکهہ کر گھبڑاکر بولا۔

ابھی تو چھوٹے ہںو زیب اس لیے شام کے بعد تم کہیں باہر نہیں جاٶ گے اور اگر باہر ہںوۓ تو شام ہںونے سے پہلے واپس آجاٶ گے ٹھیک ہںے۔سارہ بیگم نے اب آرام سے اس کو سمجھاکر کہا۔

جی امی جان ایسا ہی ہںوگا۔شاہزیب نے تابعداری سے کہا۔

شاباس میرا بچہ۔اور آپ نہیں تھے نہ تو شاہ میر آیا تھا انتظار کیا تمہارا پر وہ بعد میں چلاگیا وہ آپ سے چھوٹا نہ اور وہ یہاں کجھ وقت رہنے آۓ ہںے تو آپ ان کو وقت دے اور ان کے ساتهہ کھیلے ان کو گھماۓ تاکہ وہ بور محسوس نہ ہںو۔سارہ بیگم نے شاہزیب کو سمجھایا۔

جی ایسا ہی کروں گا اور شاہ میر کے آنے کی بات پہ کجھ حیرت ہںوٸی۔شاہزیب نے ان کی بات پہ کجھ حيران ہںوکر کہا۔

ابھی بچہ ہںے اس لیے ایسے ہںے اور پہلی دفعہ ہم لوگوں سے ملا ہںے اور ابھی کم عمر ہںے اس لیے بس خاموش طبيعت سا ہںے۔میں تم سے بس یہی کہنے آٸی تھی تم بھی اب سوجاٶ اور اتنی دیر تک باہر نہ رہا کرو ۔سارہ بیگم کہتی کمرے سے نکل گٸ۔شاہزیب بھی پھر سوگیا۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

مہرماہ جب صبح اٹهی تو اپنا پیر کجھ ٹھیک لگا اور زیادہ درد بھی محسوس نہيں ہںورہا تھا وہ تو خوش ہںوگٸ اور آہستہ آہستہ اپنا پاٶ ہلانے لگی تو کجھ درد ہںوا پر کل سے کم تھا۔اس لیے وہ اٹهتی الماری سے اپنے لیے آج کے پہننے کا ڈریس منتخب کرنے لگی۔انگلی ٹھوڑی پہ رکھے وہ پرسوچ نگاہوں سے اپنے کپڑوں کو دیکهہ ری تھی۔پھر مہرون رنگ کا کُرتا پاجامہ لیا اور واشروم کی طرف بڑه گٸ۔وہ مرر کے سامنے اپنے بالوں کی چوٹی بناتی ان آگے رکھتی وہ باہر کی جانب بڑه گٸ

مہرو ہم میں سے کسی کو بولا لیا ہوتا ایسے اگر پھر گِر جاتی تو۔سارہ بیگم نے اس کو ناشتے کی ٹيبل پہ آتے بیٹھتے دیکها تو خفگی دیکها کر کہا۔

امی جان آج تو میرا پیر بہت ٹھیک ہںے بس ہلکا سا ہی درد اب محسوس ہںورہا تھا آپ پریشان نہ ہںو۔مہرماہ نے اپنے لیے کرسی گھسیٹ کر بیٹھتی اپنی ماں کہ ہاتهہ پہ ہاتهہ رکھ کر مسکراکر تسٸلی کرواٸی۔

ہاں جی آپ سے تو درد بھی پناہ مانگتا ہںے۔اس کی بات سنتے شاہزیب نے ٹوسٹ منہ میں ڈال کر اپنا بولنا ضروری سمجھا۔

تمہارا بولنا لازمی ہںے؟ مہرماہ نے طنزیہ پوچها

جی بہنا میری اگر میں نہ بولوں تو لگتا ہںے کہ جیسے دنيا خاموش ہںوگٸ ہںے۔اور یہ خاموشی محسوس کرکے مجھے لگتا ہںے کے یہ خاموشی میرے بولنے کا انتظار کر رہی ہںے۔شاہزیب نے مہرماہ کو اور غصہ دلانے کو بولا۔

مجھے لگتا ہی نہیں ہںے کہ میں اس سے بڑی ہںوں۔مہرماہ نے روہانسے لہجے میں اپنے باپ کو دیکهہ کر کہا۔

زیب نہ تنگ کرو میری بیٹی کو ناشتہ ٹھیک سے کرنے دو۔سکندر خان نے مہرماہ کی ایسی شکل دیکهہ کر شاہزیب سے سنجيدہ لہجے میں کہا۔

جی بابا جان ۔شاہزیب نے فورن کہا۔جب کہ مہرماہ نے اپنے باپ سے چھپ کر شاہزیب کو زبان دیکهاٸی۔جس سے شاہزیب نے اشارے سے بعد میں دیکهہ لوں گا کہا۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

اماں جان میں چاہتا ہںوں کے اب آپ ہمارے ساتهہ چلے سکندر کے ساتهہ بہت رہ لیا میرا بھی تو حق ہںے نہ آپ پر۔حيدر خان نے ستارے بیگم کا ہاتهہ تھام کر بولے۔

حیدر میں اس لیے تو تمہيں یہاں واپس آنے کا کہتی ہںوں۔اور تم آۓ بھی تو کجھ وقت کے لیے اور وہ بھی دوسرے گھر میں رہ رہںے ہںو۔میں اب کہاں اس عمر میں دوسرے دیس جاکے رہںوں گی۔ستارے بیگم نے ان کو انکار کرتے کہا اور واپس یہاں رہنے کے لیے منانا چاہا۔

اماں جان آپ ایک بات کیوں لے کر بیٹھی ہںے میں نے آپ سے کہا تو تھا جلد ہی میں اپنا بزنس یہاں سيٹ کردوگا پر ابھی مجھے کجھ وقت درکار ہںے۔حيدر خان نے ہر دفعہ والا جملا دُھرایا۔

بس بیٹا جلدی کرنا اس سے پہلے میری آنکهيں ہمیشہ کے لیے بند ہںوجاۓ۔ستارے بیگم نے آہ بھر کر کہا۔

اللہ نہ کرے اماں جان اللہ آپ کو ہماری عمر بھی لگادے ایسا تو نہ کہے۔ان کے ایسا کہنے پہ حيدر خان نےدُھل کر کہا۔

بس بیٹا یہ تو دنیا کا دستور ہںے۔کوٸی آتا ہںے اور کوٸی جاتا ہںے۔ستارے بیگم نے نرمی سے ان کو کہا۔

یہ لے گرما گرم چاۓ۔ہانم بیگم ملازمہ کے ساتهہ چاۓ کی ٹرے لاتے ان سے کہا

شکریہ بیگم ہمیں بھی طلب ہںورہی تھی۔حیدر خان نے مسکراکر ان سے کہا۔

اچها بہوں بچے کہاں ہںے دِکھ نہیں رہںے ؟ ستارے نے گھر میں خاموشی محسوس کرکے ان سے پوچها

اماں جان پری اور آیان ڈراٸیور کے ساتهہ باہر گٸے ہںے۔میں نے ڈراٸیور سے کہا کے ان کہ ساتهہ رہںے اور ان کو گھماۓ پھیراۓ۔ہانم بیگم نے ان کو بتایا۔

اچها کیا۔اور میر وہ کیوں نہیں گیا ان کے ساتهہ۔ستارے بیگم نے شاہ میر کو یاد کرکے کہا۔

میں کہا پر اس نے کہا میں گھر میں ٹھیک ہںوں۔ہانم بیگم نے چاۓ کا گھونٹ بھر کر کہا۔

پتا نہیں میر کیوں اتنا خاموش طبيعت ہںے۔ورنہ اس عمر کے بچے تو بہت شرارتی ہںوتے ہںے۔اب اپنے زیب کو ہی دیکهہ لوں سارا دن بس وہ اور مہرو شرارت میں لگے رہںتے ہںے۔وہ تو کجھ میر سے بڑے ہںے پھر بھی۔ستارے بیگم نے ان کی بات پہ کہا۔

ہاں اماں جان بس میر کجھ مختلف ہںے باقیوں سے بس وہ ان کھیلوں میں زیادہ نہیں پڑتا۔اس بار حیدر خان نے ان کی بات پہ جواب دیا۔

اماں جان میں تو بس اب میر کو بھی مہرو اور زیب سے زیادہ قریب کروں گی تاکہ وہ بھی ان کے جیسا شرارتی بن جاۓ۔ہانم بیگم نے مزاقً کہا۔

ہاں کیوں نہیں جب تک یہاں ہںے ان کے ساتهہ تو رہںے گے نہ بچے پھر دیکهنا کیسے دن میں تارے دیکهاتے ہيں ان کی بات پہ ستارے بیگم ہنس کر بولی۔

Hi,Everyone

شاہ میر ان کے پاس لاٸونج میں آتا سلام کیا اور اپنی ماں کے قریب بیٹھ گیا۔

میر بیٹا یہ ہاۓ باۓ نہیں بولتے جب کسی سے ملتے ہںے تو اسلام وعلیکم“ کہتے ہںے۔ ستارے بیگم نے شاہ میر کو پیار سے سمجھایا۔

پر مجھے ایسے بولنے کی عادت ہںے۔شاہ میر انہيں دیکهہ کر بتایا۔

تو اب ڈال لوں ثواب ملتا ایسے کہنے پر۔ستارے بیگم نے دوبارہ سے کہا۔

جی ۔شاہ میر نے مختصر جواب دیا۔

اچها میں آج سکندر کے گھر جاؤ گی۔بچوں کی یاد آ رہی ہںے۔اور دیکهہ لوں اتنے دنوں سے میں یہاں ہںوں پر ذرہ تو توفيق ہںوٸی ہںو ان کو میرے حال پوچهنے کی سکندر اور سارہ سے تو فون پہ بات ہںوتی ہںے۔مہرو یہاں نہیں آسکتی درد ہںوگا اس کے پیر میں پر زیب اس کو اپنی دادی تھوڑا سا خیال نہیں یاد نہیں آٸی ویسے سارا دن کہتا رہتا ہںے دادی مجھے آپ سے پیار ہںے۔ستارے بیگم نے ان کو اپنے جانے کا بتایا اور ساتهہ ہی اپنے غصے کا اظہار بھی کیا۔ان کی باتوں پہ حيدر خان اور ہانم بیگم ہنس دیٸے جب کے شاہ میر کی نظروں کے سامنے مہرماہ کا مسکراتا چہرہ آگیا۔

اماں جان آپ بھی حد کرتی زیب کی عمر ہی کتنی ہںے دماغ سے نکل گیا ہںوگا۔اور آپ ان سے مل آٸیے گا۔آپ کی باتوں سے لگ رہا ہںے ان کی بہت یاد آرہی ہںے۔حيدر خان نے اپنی ہنسی روک کر کہا۔

یاد تو آۓ گی نہ بیٹا وہاں تو سارا دن ان کو لڑتے دیکهہ کر گزر جاتا ہںے۔اور یہاں پری کی معصوم باتيں اور آیان کے معصوم سوالات سے دن گزر جاتا ہںے۔پر بس ایسے ہی وہاں جانے کا سوچ رہی تھی۔ستارے بیگم نے حيدر خان کی بات پہ اتفاق کرتی بولی۔

ہاں تو اماں جان ہم اتوار کو جاۓ گے نہ تب آپ بھی چلنا آج رہنے دے۔ہانم بیگم نے ان سے کہا۔

یہ بھی ٹھیک ہںے۔ستارے بیگم نے رضامندی دے کر کہا۔

میر تم نے صبح کی نماز پڑھی تھی ؟حيدر خان نے خاموش بیٹھے شاہ میر سے سوال کیا۔

نو ڈيڈ خيال نہیں آيا۔شاہ میر نے ان کی بات پہ کہا۔

میر ہم نے آپ کو بتایا تھا نہ کہ بارہ سال کی عمر کے بعد ہر مسلمان انسان پہ نماز پڑھنا فرض ہںوتی ہںے تو یہ کیا کہنا ہںوا کہ خيال نہیں آیا۔حيدر خان نے شاہ میر کے اس طرح آرام سے انکار کرنے پہ کجھ سختی سے کہا

سوری ڈيڈ۔شاہ میر نے سر جھکاتے کہا۔

آٸندہ خيال رکھنا۔حيدر خان نے اب کی آرام سے کہا۔جس پہ شاہ میر نے اپنا سر اثبات میں ہلایا۔جب کہ ستارے بیگم اور ہانم بیگم ان کے بیچ میں نہ بولی۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

مہرماہ اپنے کمرے میں لگے شلف پہ ناولز سیٹ کر رہی تھی جب شاہزیب اس کے کمرے میں آکر بولا۔

چڑیل میں کہ

زیب بڑی بہن ہںوں تمہاری ۔اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی مہرماہ گھور کر کہا۔

ایک سال بس اور مجھے بتایا نہ کرو پتا ہںے مجھے۔شاہزیب اس کی بات سنتا بیزاری دیکهاتے بولا

اچها کہو کیا کہنے آۓ ہںو ؟ مہرماہ نے کہا۔

وہ مجھے نوڈلز بنا کرتو دو سچی بڑا دل کررہا ہںے نوڈلز کھانے کا۔شاہزیب اس کے بیڈ پہ لیٹتا زبان ہںونٹوں پہ پھیرتا بولا۔

کون نوڈلز بناۓ ؟مہرماہ کو لگا اس کو سننے میں غلطی ہںوٸی ہںے اس لیے تصدیق کے لیے دوبارہ پوچها ۔

تم اور کون اکلوتا بھاٸی ہںوں تمہارا کیا میرا اتنا حق نہیں تم پہ ۔شاہزیب نے ایموشنلی انداز اپناتے کہا۔

اچها اٹهو میرے بیڈ سے اور کمرے سے باہر جاٶ۔مہرماہ نے اس کی بات نظرانداز کرکے اٹهنے کا کہا۔

مہرو شرم کرو اتنے دنوں بعد کوٸی کام کرنے کا کہا ہںے وہ بھی جو پانچ منٹ میں ہںوجاۓ گا اور تم ایسے انکار کر رہی ہںو۔شاہزیب معصومیت کے تمام رکارڈ توڑتا اس سے بولا۔

حد ہںے ویسے مجال ہںے جو تمہارے ہںوتے ایک پل سکون کا جی سکوں۔مہرماہ کمرے سے باہر نکلتی ہںوٸی بولی.

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔جواب میں شاہزیب نے اونچا قہہقہ لگایا۔

مہرو کچن میں آٸی تو سارہ بیگم پہلے کچن میں کھڑا پایا۔

امی جان آپ کیا کر رہی ہںے کھانا تو کُک بناتا ہںے نہ

مہرماہ ان کے پاس آکر کہا۔

ہاں وہ بس تمہارے بابا جان نے کہا تھا کہ رات کے کھانے میں ان کے لیے بریانی میں بناٶ تو بس اس لیے۔سارہ بیگم نے مصروف انداز میں بتایا۔

اچها ۔مہرو اتنا کہا اور نوڈلز کے دو پیکٹ نکالنے لگی۔

زیب نے کہا ہںوگا نوڈلز کا۔سارہ بیگم نے اس کے ہاتهہ میں دیکهہ کر پوچها۔انہيں پتا تھا شاہزیب کو نوڈلز بہت پسند ہںے اور وہی کہتا تھا وہ بھی بس مہرماہ سے۔

جی ان صاحبزادے کا ہی فرمان ہںے کے ان کی خدمت میں نوڈلز پیش کیے جاۓ۔مہرماہ ان کی بات سنتی جلے دل سے بتایا۔

توبہ ہںے مہرو کبهی کبهی تو کہتا ہںے بیچارہ۔سارہ بیگم اس کے اس طرح بتانے پہ تاسف سے اس کو دیکهہ کر کہا۔

بیچارہ تو نہ کہے امی۔مہرماہ نےفورن کہا۔

خير چھوڑو اتوار کو تمہارے چچا والے آۓ گے تو تم اپنی کسی دوست کی طرف نہ چلی جانا۔سارہ بیگم نے اس کو پہلے سے ہی اطلاع دی۔

پر امی مجھے تو ثانيہ کی طرف جانا تھا۔مہرماہ نے ان کی بات پہ پریشانی سے اپنی دوست کا نام بتاکر کہا۔

مہرو کالج جب جاٶ تم مل لینا یہاں کسی اور دن پر اس بار اتوار کو نہیں تمہارے چچا والے اتنے عرصے بعد یہاں آۓ ہںے اور بھی کم وقت کے لیے اس لیے تم لوگوں کو چاہٸیے کے ان کو وقت دو ورنہ وہ کیا سوچیں گے ۔تم تو ان سے ملی بھی نہیں ورنہ تمہارے پیر کا درد جیسے ٹھیک ہںوا مل کے آنا چاہٸیے تھا۔سارہ بیگم نے اس کو سمجھایا۔

امی جان سوری مجھے واقعی ان کی طرف جانا چاہٸیے تھا۔پر بس اگلی دفعہ خیال کروں گی۔مہرماہ نے شرمندگی سے کہا۔

ہاں صحيح پر تم اتنا بھی شرمندہ نہ ہںو میں نے بس ایسے ہی تمہيں ابھی سے سمجھایا ورنہ تم اتنی بڑی بھی نہیں ہںوکے وہ بُرا مانے پر تمہيں ابھی سے احساس ہںونا چاہٸیے تاکہ بڑی ہںوجاٶ تو ان سے ملنے اور بات کرنے ہچکچاہٹ نہ ہںو۔سارہ بیگم نے مہرماہ کی شرمندگی محسوس کرکے کہا۔

جی امی جان شکریہ آپ کا۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔

شکریہ کی کیا بات ہںے ماں تمہاری اگر میں نہیں سمجھاٶگی تو کون سمجھاۓ گا۔سارہ بیگم نے کہا۔

ہاں یہ بھی ہںے۔مہرماہ نے ہنس کر کہا۔

اچها امی جان شاہ میر کتنا خوبصورت ہںے نہ ابھی تو اتنا چھوٹا سا ہںے۔پھر بھی جب بڑا ہںوگا تب تو پتا نہیں کیسا ہںوگا اور زیادہ خوبصورت ۔مہرماہ کو شاہ میر کا خیال آیا تو سارہ بیگم سے کہا۔

ماشاءَاللہ کہو کتنی دفعہ بتایا ہںے کے جب کسی کی تعریف کرو یا کوٸی چیز پسند آۓ تو ماشاءَاللہ کہتے ہںے۔سارہ بیگم نے مہرماہ کو ٹوک کر کہا۔

کہوں گی امی جان پر میری نات کا جواب تو دۓ نہ ۔مہرماہ نے اپنی بات پہ زور دے کر کہا۔

ہاں میر ماشاءَاللہ سے بہت پیارا بچہ ہںے اللہ اس کو لمبی اور صحتمند زندگی دے۔سارہ بیگم نے اس کی بات پہ مسکراکر کہا اور شاہ میر کو دعا بھی دی۔

آمین۔مہرماہ نے جوابن کہا۔

ویسے پری اور آیان بھی پیارے ہںے۔پر شاہ میر ان کی نسبت کافی خاموش طبيعت کا مالک ہںے ہانم بتا رہی تھی زیادہ کسی سے بات نہیں کرتا اگر کرے بھی تو بس مختصر اور خود سے مخاطب کرنا تو وہ گناہ سمجھتا ہںے ابھی سے جب بڑا ہںوجاۓ گا تو یہ بھی نہ بولے شاید ۔سارہ بیگم کو اس دن شاہ میر کا چپ رہنا یاد آیا تو کہا اور ساتهہ میں ہانم بیگم کی کہیں بات بھی۔

اچها پر مجھ سے تو بہت اچهے سے بات کر رہا تھا۔مہرماہ نے بتایا۔

اس کو پتا ہںوگا نہ تم کزن سسٹر ہںو اس کی اس لیے۔سارہ بیگم نے مسکراکر کہا۔

ہاں یہ تو ہںے۔مہرماہ نے ان کی بات پہ اتفاق کرتے کہا۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥
💥

آج اتوار کا دن تھا۔مہرماہ اور شاہزیب اپنے چچا کے آنے کے انتظار میں تھے مہرماہ تو لان کے چکر بھی لگا کے آگٸ تھی پر انہوں نے دیر کی تھی۔جب کے سارہ بیگم کچن میں کُک کو کھانے میں ہدایات دے رہی تھی کہ سب ٹھیک کرنا اور سکندر خان لاٸونج میں بیٹھے اخبار پڑھ رہںے تھے۔جب مہرو اور شاہزیب بھاگ کر ان کو بتانے لگے چچا والے آگٸے۔پھر وہ ان کی طرف آۓ۔

اسلام وعلیکم۔حيدر خان اپنے بھاٸی سے گلے مل کر بولے اور ہانم بیگم سارہ بیگم سے ملی۔جب کی مہرو شاہزیب پری آیان ساٸیڈ میں کھڑے تھے۔

آۓ اندر چلے۔سکندر خان نے ان کو لاٸونج کی طرف آنے کا کہا پھر وہ بیٹھے تو شاہزیب بولا۔

چچا جان دادی اور شاہ میر نہیں آۓ کیا ؟

نہیں وہ بس آتے ہی ہںوگے اماں جان کا چشمہ نہیں مل رہا تھا تو میر ان کی مدد کرنے لگا اور ہمیں کہا آپ لوگ جاۓ ہم آتے ہںے۔حیدر خان نے شاہزیب سے کہا۔

اچها صحيح ۔شاہزیب نے مسکراکر کہا۔

اور بتاۓ آپ لوگ ٹھیک ہںے ؟ سارہ بیگم نے ان سے پوچها ۔

الحمداللہ سب ٹھیک ہںے۔حيدر خان نے کہا۔

مہرو بیٹا آپ کیسے ہںو ؟ ہانم نے دور بیٹھی مہرماہ سے کہا جو پری کی کسی بات پہ مسکرا رہی تھی۔

چچی جان اللہ کا شکر ہںے میں ٹھیک ہںوں اور آپ بتاۓ پاکستان اتنے عرصے بعد آکر کیسا لگ رہا ہںے۔مہرماہ نے ان کی بات کا جواب دے کر سوال کیا۔

محسوس تو بہت اچها ہںورہا ہںے ۔ہانم بیگم مسکراکر بولی۔تبھی ستارے بیگم اور شاہ میر بھی وہی آۓ تو سکندر خان اور سارہ بیگم مہرو شاہزیب اٹهہ کر ان سے احترام سے ملے اور بعد میں شاہ میر سے ۔

تم لوگ بیٹھو میں ذرہ اپنے کمرے میں جارہی ہںوں۔ستارے بیگم نے ان سے کہا۔

اماں جان ابھی سب مل کے باتيں کر رہںے ہںے آپ کیوں اندر جارہی ہںے۔سکندر خان نے ان کی بات پہ کہا۔

وہ بس ایسے ہی بیٹا۔ستارے بیگم نے سادگی سے کہا۔

دادی جان صاف صاف کیوں نہیں کہتی کہ آپ کو اپنے کمرے کی یاد آرہی ہںے۔مہرماہ نے ستارے بیگم کی بات پہ شرارت سے کہا۔

چپ کرو شریر کہیں کی۔ستارے بیگم نے اس کی بات پہ فورن سے کہا۔جب کے سب کے قہقہقہ نکل گٸے مہرماہ کی بات پہ سواۓ شاہ میر کے جو مہرماہ کو دیکهہ رہا تھا جس نے آج ریڈ کلر کا فراق پہنا ہںوا تھا اور بالوں کی چوٹی بناۓ آگے کو رکھی تھی۔

آپ تو بُرا ہی مان گٸی میں تو مزاق کررہی تھی آۓ میں آپ کے ساتهہ کمرے تک چلتی ہںوں۔مہرماہ نے ہنس کر کہا اور ان کو لیے ان کے کمرے کی طرف چلی گٸی۔جب کے بڑے لوگ آپس میں باتوں میں مصروف ہںوگٸے اور شاہزیب ایک طرف شاہ میر پری اور آیان کے ساتهہ باتيں کر رہا تھا اور ان کے سوالوں کے جواب بھی دے رہا تھا۔اور کبهی کبهی شاہ میر سے بھی کوٸی بات کرلیتا جو بس مختصر جواب دے کر خاموش ہںوجاتا۔

مہرماہ دوبارہ لاٸونچ میں آٸی اور ایک خالی صوفے پہ بیٹھ گٸ شاہ میر اس کو اکیلا بیٹھا دیکهہ کر اس کے پاس آیا اور صوفے پہ اس کے ساتهہ بیٹھ کر کہا۔

آپ کے پیر کا درد کیسا ہںے اب تو چلنے میں درد نہیں ہںوتا نہ ؟

نہیں اب تو بلکل ٹھیک ہںوگیا ہںے اور اس بات کو کافی دن ہںوگٸے ہںے۔مہرماہ جو اس کو اپنے ساتهہ بیٹھتا دیکهہ کر مسکرا رہی تھی اس کے سوال پہ ان نے نرمی سے اس کے پھولے گال کھینچ کر کہا۔

اچها یہ تو بہت اچهی بات ہںے۔شاہ میر نے مسکراکر کہا۔

اوہ۔ماشاءَاللہ آپ مسکراتے بھی ہںے وہ بھی اتنا پیارا مجھے تو پتا بھی نہیں تھا۔مہرماہ نے پہلی دفعہ اس کو مسکراتا دیکها تو کجھ حیران ہںوٸی کیوں کی جب پہلے اس سے بات کی تھی تو وہ ذرہ بھی نہیں مسکرایا تھا اس لیے حيرانی سے نکل کر اس نے شرارت سے پوچها ۔

نہیں بس وہ کبهی کبهی۔شاہ میر مہرماہ سے اپنی تعریف سن کے شرما سا گیا۔

ہاہاہاہاہاہاہاہا۔تم تو شرما رہںے ہںو۔مہرماہ ہنس کر بولی۔

وہ کیا ہںوتا ہںے؟ شاہ میر نے تعجب سے پوچها

کیا تمہيں نہیں پتا۔مہرماہ کجھ حیران ہںوٸی۔

نہیں تو پتا ہںوتا تو آپ سے کیوں پوچهتا۔شاہ میر نے کندھے اُچکا کر کہا۔ایسے کرتے ہںوۓ وہ مہرماہ کو اور پیارا لگا۔پھر اس نے کہا۔

رہنے دو پھر۔

آپ مجھ سے دوستی کرے گی۔شاہ میر کجھ پل خاموش ہںوکر اس کو دیکهہ کر بولا۔

ہاں میں تمہاری کزن سسٹر ہںوں تو دوست بھی ہںوٸی ۔مہرماہ اس کے معصومیت سے پوچهنے پر مسکراکر بولی

نہیں پکی والی دوست میں زیادہ تر دوست نہیں بناتا اور نہ بات پر آپ مجھ سے دوستی کرے وہ بھی پکی والی اور مجھ سے ڈھیر ساری باتيں کیا کرے اور میں بھی۔شاہ میر اس کی بات پہ نفعی میں سر ہلاتا بولا۔

اچها پر اُس حساب سے تو میں آپ سے بڑی ہںوں نہ عمر میں ۔مہرماہ نے بچوں جیسی شکل بناکر اس سے کہا۔

تو کیا ہںوا دوستی عمر دیکهہ کر تھوڑٸی کرتے ہںے۔شاہ میر نے سمجھداری سے کہا۔

ارے واہ آپ تو کافی سمجھدار ہںے۔مہرماہ نے اس کی بات پہ حيرت سے کہا۔

آپ بتائيں نہ کرے گی مجھ سے دوستی۔شاہ میر اس کی بات نظرانداز کرتا دوبارہ سے پوچهنے لگا۔

ہاں کیوں نہیں اتنے پیارے کیوٹ بچے سے کون دوستی نہیں کرےگا۔مہرماہ نے پیاری سی مسکراہٹ سے کہا۔

اچها تو Friends ۔شاہ میر نے اپنا چھوٹا سا ہاتهہ اس کے سامنے کرتے پوچها ۔

بلکل۔مہرماہ نے اس سے ہاتهہ ملاکر کہا۔جس سے شاہ میر کی آنکهوں میں چمک آگٸی۔مہرماہ نے شاہ میر کی آنکهوں میں چمک دیکهی تو مسکرادی اس کو لگا کے شاید وہ اس سے دوستی کرنے پہ خوش ہںے۔

مہرو کچن سے Milk shacks کے گلاس لاکر بچوں کو دو ان کو پسند ہںے۔سارہ بیگم نے مہرماہ سے کہا۔

جی اچها ابھی لاتی ہںوں۔مہرماہ ان سے کہہ کر اٹهتی کچن کی طرف جانے لگی۔تو شاہ میر بھی اس کے ساتهہ اٹهہ گیا سب نے حیرت سے شاہ میر کو مہرماہ کے ساتهہ جاتا دیکها۔پھر ہانم بیگم بولی۔

میر کو شاید مہرو کی کمپنی ہم سے زیادہ اچهی لگی۔

ہاں میری بیٹی باتيں اتنی اچهی کرتی ہںے کہ ہر کوٸی اس کو سننا چاہے۔سکندر خان ان کی بات پہ محبت سے مہرو کا ذکر کرتے کہا۔

یہ تو اچهی بات ہںوۓ ایسے میں میر کو بھی مہرو کی طرح بولنے کی عادت ہںوجاۓ گی۔سارہ بیگم ہنس کر بولی۔

اللہ کرے میں تو میر کی طرف سے بہت پریشان رہتی ہںوں۔ہانم بیگم افسردہ لہجے میں کہا۔

پریشان نہ ہںوتم۔سارہ بیگم نے کہا۔

مہرماہ کچن میں آکر ٹرے میں Milk shacks کے گلاس رکھنے لگی تو شاہ میر بولا۔

پری آپی یہ نہیں پیتی یہ بس آیان کو پسند ہںے پری آپی ایپل جوس پیتی ہںے بس۔

اچها کیوں۔مہرماہ نے پوچها

دوده ان کو پسند نہیں اور باداموں سے ان کو الرجی ہںے۔شاہ میر نے بتایا۔

اچها ہںوا بتا دیا میں ابھی اس کے لیے ایپل جوس نکالتی ہںوں۔مہرماہ نے اس کی بات سن کر کہا۔

ویسے تم اس کو آپی بولتے ہںو ؟ مہرماہ نے اچانک سے پوچها۔

جی وہ مجھ سے دو سال بڑی ہںے نہ تو موم ڈیڈ نے کہا تھا کہ آپی کہنا ہںے۔شاہ میر نے بتایا۔

ٹھیک ہںے تم مجھے بھی آپی بول سکتے ہںو میں تو تم سے چار سال بڑی ہںوں۔مہرماہ نےمسکراکر کہا۔

وہ تو بہن ہںے اور آپ دوست ہںے۔شاہ میر نے فرق بتایا۔

تو کیا ہںوا کزن سسٹر بھی تو ہںوں۔مہرماہ نے کہا۔

آپ میری دوست ہںے اور دوستوں کو اس کے نک نیم سے بولاتے ہںے۔شاہ میر کو اس کا کزن سسٹر کہنا اچها نہیں لگا۔اس لیے کہا۔

اچها بابا نہیں کہنا تم بھی مجھے باقیوں کی طرح مہرو کہنا۔مہرماہ نے اس کا انکار سن کر ہلکی سے مسکراہٹ سے کہا۔

مہرو تو آپ باقیوں کے لیے ہںے میں تو آپ کو ماہ کہوں گا بس میں اور کسی کو بولنے نہیں دوگا۔شاہ میر کا لہجہ آخر میں ضدی سا ہںوگیا۔

ماہ ٹھیک ہںے یہ بھی تم مجھے یہی کہنا۔مہرماہ نے اس کا کہا لفظ دُھراکر کہا۔

جی اور آپ بھی یہ کسی اور کو کہنے کی اجازت نہ دینا۔

شاہ میر نے کہا۔

نہیں دوگی اجازت خوش۔مہرماہ نے ہنس کر کہا۔

تو پھر میں تمہيں شاہ کہوں گی۔کجھ دیر بعد مہرماہ بولی۔

ضرور ۔شاہ میر نے خوشی سے کہا۔

اچها اب آٶ ۔مہرماہ نے ٹرے پکڑ کر کہا۔

مہرماہ سب کو گلاس تھماکر پری اور آیان کے بیچ میں بیٹھ گٸ۔

آپ کو کیسے پتا کے میں ایپل جوس پیتی ہںوں۔پری نے تجسس سے مہرماہ کو دیکهہ کر پوچها ۔

شاہ نے بتایا۔مہرماہ نے اُسے دیکهہ کر بتایا۔

آپ کا مطلب میر ؟پری نے پوچها

جی بلکل۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔

آپ کو پتا ہںے ہم نہ یہاں پہلے سے آنا چاہںتے تھے پر میر بھاٸی پہلے جب آۓ تھے نہ تو ہمیں بنا بتائے ہی آگٸے تھے۔آیان نے مہرو کہ کان میں رازدانہ انداز شاہ میر کو دیکهہ کر بولا جو بات شاہزیب سے کر رہا تھا پھر دیکهہ ان کو ہی رہا تھا۔

شاہ کو تو آپ کو بتانا چاہٸیے تھے اور اپنے چھوٹے سے معصوم اور پیارے بھاٸی کو لانا بھی چاہٸیے تھا۔مہرماہ نے اس کے اِس طرح بتانے پر پیار سے اس کو دیکهہ کر کہا اور اپنی گود میں بیٹھا لیا۔

ہاں نہ آپ ان کہٸے گا کہ اگلی بار ایسا نہ کرے۔آیان خوش ہںوتا اس کی گود آرام سے بیٹھتا بولا۔

ہاہاہاہاہاہاہا۔آیان تمہاری بات کرنے کا انداز کتنا کیوٹ ہںے۔مہرماہ ہنس کر کہتی اس گال پہ بوسہ دیا۔

وہاں ان کے ساته بیٹھے؟ شاہ میر کو مہرماہ کا آیان سے اتنا ہنس کر بات کرنا پسند نہیں آرہا تھا اور نہ اس کی گود میں مزے سے بیٹھا آیان اس لیے اس نے شاہزیب سے ان کی طرف اشارہ کرتے کہا۔

ہاں کیوں نہیں آٶ۔شاہزیب خوشدلی سے کہتا اپنے سے کجھ دور مہرماہ کے صوفے پہ آیا۔شاہزیب پری کی ساٸیڈ پہ آیا جب کی شاہ میر پہلے ہی مہرماہ کے پاس بیٹھا جہاں پہلے آیان تھا۔

تم کیا چھوٹے بچے کی طرح ماہ کی گود میں بیٹھےہںو ٹیبل یا صوفے کم ہںے۔شاہ میر نے جب آیان کو اٹهتا نہ دیکها تو کہہ پڑا۔

شاہ ایسے تو بات نہ کرو آیان سے دیکهو کتنا خاموش ہںوگیا ہںے تمہاری بات پہ اور آیان کو میں نے خود بیٹھایا ہںے۔اتنا چھوٹا بچہ تو ہںے۔شاہ میر کی کی بات پہ مہرماہ نے اس کو کہا۔شاہ میر پھر اس کی بات سن کر اٹهہ کر دوسری طرف بڑوں کی ساٸیڈ پہ آگیا۔

بھاٸی کو شاید غصہ آگیا۔آیان نے مہرماہ سے کہا۔

اچها اتنی سی بات پہ ۔مہرماہ نے پریشانی سے پوچها

ہان نہ مہرو آپی ان کو غصہ بہت جلدی آجاتا ہںے ایسا سمجھ کے بس وہ غصہ ہی کرتے ہںے۔آیان نے معلومات دینے والے لہجے میں اس کو بتایا۔

پر یہ تو کوٸی بات نہ ہںوٸی ایسے اٹهنے کی۔مہرماہ خفگی سے کہا۔

ہاں تو کیا ان کو منانا آپ۔آیان نے ہنس کر کہا۔

بہت بدمعاش ہںو آپ۔مہرماہ نے اس کو گُدگدا کے کہا۔

میر آپ اتنے چپ کیوں ہںوگٸے پہلے تو صحيح تھے۔سکندر خان نے شاہ میر کو اپنے قریب کرکے پیار ی سے پوچها ۔

کجھ نہیں چچا بس ایسے ہی۔شاہ میر نے ان کے پاس بیٹھتا بولا۔

اچها یہ بتاٶ تمہيں اپنی مہرو آپی کیسی لگی ان سے بات کرکے اچها لگا ناں۔سکندر نے بات بدل کر مسکراکر پوچها باقی تینوں بھی اپنی باتيں چھوڑے ان کو دیکهہ رہںے تھے۔

وہ میری آپی نہیں ہںے۔اور میں نے ان سے دوستی کی ہںے تو میں ان کو ماہ کے نام سے بولاٶں گا۔شاہ میر ان کی بات سنتا تیزی سے کہا۔

میر یہ کس ٹون میں بات کر رہںے ہںوتم اور وہ تمہاری دوست ہںے بھی تو آپ کو ان سے تہمیز سے بولانا ہںوگا تمہيں بڑی آپ سے۔ہانم نے غصے سے اس کو دیکهہ کر کہا۔

بھابھی پلیز بچہ ہںے ذرہ آرام سے بات کرے۔سکندر خان نے کہا۔

بھاٸی صاحب وہ سب تو ٹھیک پر اب ہم نہیں سمجھاۓ گے تو یہ تو ایسے ہی شرمندہ کرواتے رہںے گے۔اور مہرو کو کتنا بُرا لگے گا۔ہانم نے ان کی بات سن کر آرام سے کہا

ان کو بُرا نہیں لگے گا۔میں نے ان کو بتادیا تھا اور اعتراض نہیں ان کو بلکہ انہوں نے بھی کہا کہ وہ اب مجھے شاہ کہہ کر پُکارے گی۔شاہ میر ان کی آخری بات سنتا آنکهوں میں چمک لیکر بتایا۔

دیکهہ لے آپ مہرو کو برا واقعی میں نہیں لگے گا کیوں کی اس کو تو بچے بہت پسند ہںوتے ہیں۔سکندر خان نے ہنس کر ان سے کہا تو وہ بھی مسکرادیٸے۔جب کی حیدر خان تو شاہ میر کی آنکهوں کی چمک دیکھ رہںے تھے جو پہلے کبهی نہیں دیکهی تھی۔پر وہ نظرانداز کرتے اپنے بھاٸی کی طرف متوجہ ہںو گٸے۔

باتيں تو ہںوتی رہ گی ابھی آپ لوگ کھانے کی ٹیبل پہ چلے۔کھانا تیار ہںوگیا۔سارہ بیگم نے مسکراکر کہا تو سب ڈراٸنگ روم کی طرف بڑھے۔جب کی مہرماہ ستارے بیگم کے کمرے کی طرف چلی گٸی ان کو لینے۔

سربراہی کرسی کو چھوڑے وہ سب اپنی جگہ پہ جاکر بیٹھے جو ٹیبل کی ایک ساٸيڈ پہ جہاں چار کرسیوں کی قطار تھی وہاں پہلا سکندر خان اور سارہ بیگم بیٹھی اور پھر حيدر خان اور ہانم بیگم اور ان کی گود میں آیان جب کی دوسری ساٸیڈ پہ بھی چار کرسیوں کی قطار تھی جہاں شاہزیب ایک مہرماہ کی کرسی چھوڑے دوسری پہ بیٹھا تھا اور پھر پری اس کے بعد شاہ میر۔ مہرماہ جب ستارے بیگم کو لے آٸی تو ان کے بیٹھتے ہی سارہ بیگم نے کلثوم بی اور دوسری طرف کک کو کھڑے دیکهہ کر کھانا Serve کرنے کا اشارہ کیا۔

مہرماہ نے اپنی جگہ پہ پری کو بیٹھایا اور خود اس کی جگہ پہ آٸی۔جو شاہ میر کے قریب تھی۔شاہ میر مہرماہ کو اپنے قریب بیٹھتا دیکهہ کر خوش ہںوگیا تھا۔

کیا لوں گے تم ؟ مہرماہ نے شاہ میر سے پوچها ۔

میں بس چاول لوں گا۔شاہ میر نے اس کی بات پہ ملازمہ کی طرف اشارہ کرتے کہا جو بریانی دوسری پلیٹ میں ڈال رہی تھی۔

اچها میں ڈال کے دیتی ہںوں تمہيں ۔مہرماہ نے مسکراکر کہا۔اور ٹبیل پہ بریانی کے ڈونگے سے اس کے لیے لیتی اس کی پلیٹ میں ڈالے جو شاہ میر نے اشارے سے تھوڑا کہا۔

اور کجھ نہیں لوں گے بریانی کے علاوہ باقی بھی تو بہت کجھ ہںے۔مہرماہ نے اس سے کہا۔

نہیں ابھی میرا بس یہی کھانے کو دل کررہا ہںے۔شاہ میر نے جواب دیا۔

چلو ٹھیک ہںے۔مہرماہ کہتی اپنے لیے کباب اٹهانے لگی۔

آپ کوٸی روٹی کیوں نہیں لے رہی۔شاہ زیب نے پوچها ۔

ایسے ہی میرا بس یہی کھانے کو دل کررہا تھا۔مہرماہ نے اس کا جواب واپس دے کر کہا۔تو شاہ میر کے چہرے پہ مسکراہٹ آگٸی۔پھر اس نے کہا۔

ایسا کرتے ہںے پھر کے آپ میری پلیٹ سے بریانی لے اور میں آپ کی پلیٹ سے کباب پھر دونوں مل کر کھاٸینگے۔

ہاں کیوں نہیں۔مہرماہ نے اس کی بات مان کر کہا۔پھر اپنے کباب میں سے شاہ میر کی پلیٹ میں ڈالا اور شاہ میر نے اپنی بریانی کی پلیٹ سے بریانی نکل کر دوسری پلیٹ میں ڈال کر مہرماہ کو دی۔

میر آج تم کیسے جھوٹا کھانے لگے۔تمہيں تو ہمارا بھی پسند نہیں ہںوتا۔ہانم بیگم جو جگ سے پانی نکال کر آیان کو دے رہی تھی ان پہ نظر پڑی تو حيرانکن لہجے میں بولی۔تو باقی بھی مسکراکر اپنا کھانا چھوڑ کر ان کی طرف دیکھا۔جب کے شاہزیب نے کسی بات کا نوٹس نہ لیا اور اپنے کھانا کھانے میں مگن رہا تھا۔

اچها کیا سچ میں۔مہرماہ نے بھی شاہ میر کو دیکهہ کر حيرت سے کہا۔جب کی شاہ میر کا پورہ دھیان مہرماہ کے جھوٹے کباب کھانے پہ تھا۔

ہاں مہرو میرا یہ بیٹا ایسا ہی ہںے ناجانے کس پہ گیا اور اب شاید آپ لوگوں سے مل کر شاید ٹھیک ہںوجاۓ۔ہانم بیگم نے مسکراکر کہا۔پھر کھانے کے بعد وہ واپس لاٸونچ ميں آۓ دوپہر کے وقت سب مرد مسجد کے لیے نکل گٸے نماز پڑھنے کے لیے آیان بھی ان کے ساتهہ گیا۔سارہ بیگم اور ہانم بیگم نے گھر کے ہال میں ہی نماز ادا کی اور ستارے بیگم اپنے کمرے میں اور مہرماہ پری کو لے کر اپنے کمرے کی طرف گٸی تھی۔سب لوگ جب نماز ادا کرنے بعد ایک ساتهہ بیٹھے تو ہانم بیگم بولی۔

پری کہاں ہںے سو تو نہیں گٸی؟

ارے نہیں نہیں ہانم وہ تو مہرو کے کمرے میں نماز پڑھنے گٸی تھی پھر مہرو کا تو آپ کو پتا ہںے وہيں باتوں میں اس کے ساتهہ لگ گٸی ہںوگی۔سارہ بیگم نے بتایا۔جب کے شاہ میر کی نظر سیڑھیوں پہ ٹک گٸی۔

اچها پری آپ کیا کرتی ہںے۔لنڈن میں تو آپ کی بہت سی دوستیں ہںوگی۔مہرماہ نے پری سے پوچها جو اس کے کمرے کو اشتیاق بھری نظروں سے دیکهہ رہی تھی۔

جی مہرو آپی ہںے تو بہت لڑکیاں وہاں پہ پر میری بس دو دوست ہںے وہاں باقی لڑکیاں مسلمان نہیں ہںے تو ہم ان سے بات نہیں کرتے زیادہ میر کا بھی بس پورے لنڈن میں ایک ہی دوست ہںے۔باقی پڑھاٸی کے حساب سے جو ان کا گروپ ہںے تو بس ان سے بات چیت ہںوجاتی ہںے۔اس کی بھی باقی آیان کا میں کیا بتاٶں ابھی سے ہی اپنی پڑھاٸی کے لیے اتنا پاگل ہںے کے نہ پوچهے۔پری نے اس کی بات پہ سمجھداری سے سب بتایا۔

اچها پر جو مسلمان نہیں ان سے آپ کیوں بات نہیں کرتے ؟مہرماہ نے سوال کیا۔

بس ایسے ہی دوستی نہیں کرتے ورنہ باتيں ہںوجاتی ہںے موم کہتی ہںے کہ ابھی اتنے دوست بنانا ٹھیک نہیں اور بعد پھر انسان پڑھاٸی سے زیادہ اپنی دوستوں میں لگ جاتا ہںے۔پری نے بتایا۔

اچها ٹھیک ہںے۔مہرماہ نے مسکرا کر کہا۔اور وہ دونوں نیچے آگٸے۔جہاں بڑے چاۓ سے لُطف انگیز ہںو رہںے تھے۔

جب کی بچے شاید لان میں تھے۔مہرماہ پری کو لان میں چھوڑے وہاں سے جا رہی تھی تو شاہ میر اس کے پیچھے آتے بولا۔

آپ کہاں جارہی ہںے ؟

میں بس اندر لاٸونچ میں کیوں کوٸی کام تھا۔مہرماہ نے جواب دے کر پوچها

کام تو نہیں بس مجھے آپ کے سوا بیٹھنے میں مزا نہیں آرہا ۔شاہ میر نے صاف گوٸی سے کہا۔

اوہ تو یہ بات ہںے۔مہرماہ نے گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ کر مسکراکر کہا۔

ہاں نہ اور میرا قد اتنا چھوٹا بھی نہیں ہںے۔شاہ میر نے گھاس پہ بیٹھ کر کہا۔تو مہرماہ بھی ٹھیک سے بیٹھنے لگی۔اور پھر اس سے کہا۔

مطلب تمہيں خود کو چھوٹا کہلوانا پسند نہیں؟

بلکل نہیں پسند ۔شاہ میر فورن بولا۔

صحيح اب میں نہیں بولوں گی پھر۔مہرماہ نے اس کے گال کھینچ کر کہا اس کو شاہ میر کے گلابی پھولے گال بہت پسند آۓ تھے جو بلکل نرم تھے۔اس کے ایسے کرنے پہ شاہ میر دوبارہ شرمانے لگا تھا اور اس کے گال گلابی سے لال ہںوگٸے تو مہرماہ مسکرانے لگی پر کہا نہیں۔

کیا کبهی کبهی میں آپ کے گال کھینچ سکتا ہںوں۔شاہ میر کجھ دیر بعد بولا۔

میرے کیوں تمہارے تو اس لیے کوٸی تم چھوٹے سے ہںوتو مجھے پسند آۓ اس لیے کیا۔مہرماہ ہنس کر بولی۔

ہاں پر مجھے آپ خود بہت پسند آٸی ہںے صرف گال نہیں۔شاہ میر نے کہا تو عام لہجے میں پر جانے کیوں مہرماہ کو اس کا عام انداز میں جنونیت محسوس ہںوٸی پر اپنا وہم سمجھ کر نظرانداز کیا کہ بچہ ہںے۔

اچها آپ کرسکتے ہںے کبهی کبهی ۔مہرماہ نے اجازت دے کر کہا۔جس پہ شاہ میر کے چہرے کے ساتهہ ساتهہ آنکهيں بھی مسکرانے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *