Ishq Qaid by Rimsha Hussain

آج مہرماہ کو کالج جانا تھا اس لیے وہ جلدی سے تیار ہںوکے گھر سے نکلنے لگی تو سارہ بیگم نے آواز دی۔
مہرو ناشتہ تو کرتی جاٶ
امی جان کینٹين سے کجھ لے کر کھالوں گی ابھی میں جلدی میں ہںوں۔خدا حافظ ۔مہرو کہتی نکل گٸی۔اور گاڑی میں بیٹھ کر ڈراٸیور کو جلدی گاڑی چلانے کہا۔
توبہ ہںے یہ لڑکی ذرہ جو کوٸی کام آرام سے کرے۔سارہ بیگم بڑبڑاتی ہںوٸی کچن کی طرف گٸی۔
مہرو کالج پہنچی تو سامنے ہی اس کو اپنی دوستیں کھڑی نظر آٸی جو شاید اس کے انتظار میں تھی۔
مہرو صاحبہ اتنی جلدی کیوں آگٸی کجھ اور دیر سے آتی آپ کو کس نے کجھ کہنا تو نہیں تھا۔وہ جیسے ہی ان کے پاس آٸی۔اس کی دوست مونا نے طنزیہ کہا۔
بکو نہیں اور چلو کلاس میں پہلا لیکچر شروع ہںوگیا ہںوگا۔مہرماہ اس کو گھوری سے نوازتی کہنے لگی۔
ہاں چلو ہم بس تمہارا انتظار کر رہںے تھے۔ثانيہ جو خاموش کھڑی تھی۔ان کو دیکهہ کر کہا پھر تینوں اپنی کلاس کی جانب بڑه گٸ
زیب تم کالج کیوں نہیں گٸے تمہارے بابا کو پتا لگا نہ تو غصہ کرے گے۔سارہ بیگم نے موبائل پہ Pubgکھیلتے شاہزیب سے کہا جو بہت سنجيدگی سے موبائل پہ گیم میں اپنے دشمن کو ایسے مار رہا تھا جیسے سچ میں کسی جنگ میں ہںو اس کے چہرے کے تاثرات ہی ایسے بن جاتے تھے یہ گیم کھیلتے ہںوۓ۔
امی جان کل پکا جاٶں گا آپ بس بابا جان کو نہ بتانا۔شاہزیب نے بنا ان کی طرف دیکهے منت بھرے لہجے میں کہا۔
اگر کل نہ گٸے تو میں نے ان کو آفس سے یہی بولانا ہںے اور کہنا ہںے کے تمہارا موبائل تم سے لے اور جو آۓ پیڈ ہںے وہ بھی اور باہر جانے کی اجازت بھی بند۔سارہ بیگم نے آرام سے اس کے سر پہ بم گرایا شاہزیب کے لیے تو یہی تھا۔سارہ بیگم نے بھی چن چن کے اس کی دکھتی رگ پہ ہاتهہ ڈالا تھا جس پہ شاہزیب اپنا گیم بند کرتے تڑپ کے اپنی ماں کو دیکهہ کر بولا۔
ایسا ظلم نہ کرنا امی جان میں تو آج بھی جاتا پر بس وہ دیر ہںوٸی تو نہ جاسکا ورنہ آپ کو پتا ہںے میں کبهی اسکول کالج مس نہ کرتا۔
سب پتا ہںے اس لیے پہلے سے ہی خبردا کیا ورنہ اگر بات نہ مانی تو آپ کی اگلی پیشی اپنے بابا کے پاس ہںوگی۔
سارہ بیگم نے اپنے بیٹے کو دیکهہ کر مزے سے کہا۔
نہیں ہںوگا اب ایسا آپ کہے تو ابھی چلا جاٶں۔شاہزیب مصنوعی مسکراہٹ اپنے چہرے پہ سجا کر کہا۔
نہیں کل سے اب اتنا بھی ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں۔سارہ بھی کہتی وہاں سے اٹهتی کمرے کی طرف گٸی۔
اُف اللہ۔شاہزیب نے ان کے جانے کے بعد صوفے پہ ٹیک لگا کر کہا۔پھر دوبارہ گیم کی طرف متوجہ ہںوا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *