Iffat Ki Pasbaan by Raiha Mariyam NovelR50430

Iffat Ki Pasbaan by Raiha Mariyam NovelR50430 Iffat Ki Pasbaan Episode 5 (Last Episode)

405.1K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Iffat Ki Pasbaan Episode 5 (Last Episode)

Iffat Ki Pasbaan by Raiha Mariyam

زمل کا دل یکدم بند ہو گیا ۔ حیرانی سے اس نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا ۔ تو وہاں وہ مکمل مردانہ وجاہت لیے کھڑا تھا ، وہ بالکل اس کے سامنے تھا ۔۔۔۔۔ ہاں وہ وہی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ زمل کے دل نے گواہی دی کہ وہ ” زی“ ہے ۔

” ز۔ ۔ ۔ ۔ ز۔ ۔ ۔زی۔ ۔ ۔ ۔ی۔ ۔ ۔ ۔“ آواز نے زمل کا ساتھ چھوڑ دیا ، بمشکل اتنا کہہ پائی ، آنکھوں میں بے یقینی ، حیرانی اور پتا نہیں کیا کچھ تھا ۔

اس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلا دیا ۔ زمل اپنے ہوش سے بیگانا ایک جھٹکے سے اٹھی اور اٹھ کر زی کے دونوں ہاتھ تھام لیے ۔

ۭ” زی ۔ ۔ ۔ ۔ زی مجھے یہاں سے لے جاو ، یہ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ یہاں ۔ ۔ ۔ انہوں نے میرا نکاح کر دیا زی ، مجھے یہاں سے لے جاو ۔“ زمل نے روتے ہوئے زی کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا ، زی مسلسل مسکرا رہا تھا لیکن زمل نے دیہان ہی نہیں دیا ۔

”زی ۔ ۔ ۔ ۔ تم سن رہے ہو نا ؟“ زمل کو لگا کہ وہ یہاں نہیں ہے بلکہ زمل کا گمان ہے ، تو اس نے یقین کرنا چاہا ۔

” ہاں میں سن رہا ہوں ؟“ یہ وہی آواز تھی ، زی کی آواز ، وہ اس کے اتنے پاس کھڑا تھا ۔

” زی مجھے یہاں نہیں رہنا ، میں نے اس دن نہ آکے غلطی کی تھی ، مجھے لے جاو ۔ ۔ ۔ مجھے ابھی لے جاو ۔“ زمل نے اس کے ہاتھوں پر اپنی گرفت مضبوط کی ۔

” خدا کا خوف کرو چندا ! تم وہ پہلی بیوی ہو جو کہ اپنے ہی شوہر سے کہہ رہی ہے کہ اسے بھگا کے لے جائے وہ بھی نکاح والے دن ۔“ زی نے ہنستے ہوئے کہا ، اب کی بار زمل جیسے ہوش میں آئی ، کئی لمحے وہ ضارون کو پلکیں جھپکائے بغیر دیکھتی رہی ۔ ضارون نے بھی آنکھیں نہ جھپکائیں جیسے وہ اس کے شک کو یقین میں بدل رہا ہو ۔

” ا۔ ۔ ا۔ ۔ آ۔ ۔ ۔ ۔ آپ ضارون ہی ۔ ۔ ز۔ ۔ ۔ زی ہیں ؟“ ناجانے کس طرح یہ سوال کیا ۔

” ہاں چندا ! میں ہی ضارون ، تمہارا زی ۔“ ضارون نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا ، زمل ابھی تک بغیر پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہی تھی ، جیسے آنکھیں بند کر کے کھولے گی تو وہ غائب ہو گا ۔

” ویسے مجھے اچھا لگے گا اگر تم مجھے زی ہی کہو ، وہ کیا ہے نا اپنی چندا کے منہ سے زی سننے کی عادت سی ہو گئی ہے ۔“ ضارون ایک بار پھر بولا لیکن زمل اسی طرح ہنوز چپ تھی ، ” اچھا تو مجھے اس وقت تمہارا یوں اپنے ہاتھوں کو پکڑنا بھی لگ رہا ہے ۔“ ضارون نے اپنے ہاتھوں کو تھوڑا سا بلند کرتے ہوئے کہا ۔ پھر جیسے زمل ہوش میں آئی اور جھٹکے سے ہاتھ پیچھے کر دیے جن کو ضارون نے نہایت آہستگی سے دوبارہ تھام لیا ، دونوں کو ساتھ ملا کر اپنے ہونٹوں تک لے کر گیا اور ان کو نہایت نرمی سے چوما ، پھر دونوں کو نیچے اپنے دل پر رکھا ۔ اس سب کے دوران وہ زمل کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔ زمل کے ہواس جیسے لوٹے وہ ضارون کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔ ضارون پہلے تو گبھرا گیا ۔ اسے خود سے لپٹا لیا اور مسلسل اس کی کمر پر تھپکی دیتے ہوئے اپنے ہونے کا یقین دینے لگا ۔

آہستہ آہستہ جب زمل کی ہچکیاں کم ہوئیں تو ضارون بولا ، ” آج کے دن واٹر پروف میک اپ نے بچا لیا ، ورنہ ڈر کر میں تو ضرور بھاگ جاتا ۔“

اس کی بات کا مطلب سمجھ کر زمل ہنس دی ، جس پر ضارون نے شکر کا سانس لیا ۔

” آپ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ زی کیسے ۔ ۔ ۔ ؟“ زمل نے ضارون سے الگ ہوتے ہوئے کہا ۔

” یہ سوال واقعی بہت اچھا ہے لیکن اس کا جواب بہت لمبا ہے ۔ ۔ ۔ سو یہ پھر کبھی بتاوں گا ۔“ ضارون نے سوچنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا ، ” ابھی تو مجھے ملاقات کے دس منٹ ملے تھے جن میں سے سات آلریڈی گزر چکے ہیں ، اب تم اپنا تحفہ لے لو ۔“

” کون سا تحفہ ؟“ زمل نے نا سمجھی سے پوچھا ۔

” ہائے۔ ۔ ۔ ۔ لگتا ہے دوبارہ نکاح کروانا پڑے گا تاکہ تمہیں یقین تو آئے ، نکاح کا تحفہ ۔“ ضارون نے مصنوعی خفگی سے کہا ، جس پر زمل نے قہقہا لگایا اور سر اثبات میں ہلانے لگی ۔ ضارون نے مسکرا کر زمل کا ایک ہاتھ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے کوٹ کی جیب سے ایک ڈائیمنڈ بریسلیٹ نکال کر زمل کو پہنائی ۔

” یہ ۔۔ یہ بہت خوبصورت ہے ۔“ زمل نے اپنائیت بھرے لہجے میں تعریف کی ۔ ضارون نے دوبارہ ہاتھوں کو بلند کر کے بریسلیٹ پر بوسہ دیا ۔

” چلو آنکھیں صاف کرو ، اب ان آنکھوں میں آنسو نہ آئیں ۔“ ضارون نے اس نے سر کو ہلکا سا تھپک کر کہا ۔

اتنے میں دروازہ پر دستک ہوئی اور ضارون نے جاکر اسے کھولا تو تحریم اندر آئیں ۔ زمل کی طرف بڑھتے ہوئے انہوں نے اس کی آنکھوں کو ہلکا سا گلابی دیکھا تو پریشان ہو گئیں ۔

” زمل تم روئی ہو ۔“ زمل کے قریب آتے ہوئے انہوں نے پوچھا ۔

” ارے نہیں آنٹی ، پلک کا ایک بال آنکھ میں چلا گیا تھا ، میں نے نکال دیا تھا ، بھلا میرے ہوتے ہوئے یہ رو سکتی ہے ۔“ ضارون نے بات سمبھال لی ۔ تحریم نے زمل کو دیکھا تو وہ بھی مسکرا کر نیچے دیکھنے لگی ۔ تحریم نے اتنے عرصے کے بعد زمل کے ہونٹوں پر حقیقی مسکراہٹ دیکھی تو وہ بھی مطمئن سی ہو گئیں ۔

*************

زمل کو لاکر سٹیج پر ضارون کے ساتھ بٹھایا گیا ۔ سب لوگ ہی اس جوڑے کی بہت تعریف کر رہے تھے ۔

” چندا !“ ضارون نے تھوڑا سا جھک کر کہا ۔ زمل ہچکچاتے ہوئے تھوڑا سا جھکی ۔

” جی ۔“

” واپسی پر تم میری گاڑی پر گھر جاؤ گی ۔“ ضارون نے بم پھوڑا ۔

” لیکن آج رخصتی نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔“ زمل نے ناسمجھی سے کہا ۔ ضارون نے پہلے ایک بھرپور نگاہ ڈال کر اسے دیکھا پھر بولا ” وہ کیا ہے آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو تو میں نے سوچا کیوں نہ انکل سے رخصتی کا کہہ دوں ۔“ ضارون نے اداکاری میں جھنڈے گاڑتے ہوئے کہا ۔

” پھ ۔ ۔ ۔ پھر ؟“ زمل کی آواز کانپی ۔

” پھر کیا وہ مان گئے ۔“ ضارون نے ایسے کہا جیسے بہت آسان کام تھا ۔ مگر زمل روہانسی ہو گئی ۔

” ایسا کیسے کر سکتے ہیں بابا۔ ۔ ۔ ۔ اور ماما ۔ ۔ ۔“ پھر وہ سٹیج پر تحریم کو ڈھونڈنے لگی جب ضارون بولا ، ” ہاہاہا یار مذاق کر رہا ہوں ، تمہارے گھر ہی چھوڑوں گا ابھی لیکن واپسی پر تم میرے ساتھ جاؤ گی ۔“ زمل پہلے اسے دیکھتی رہی پھر غصے سے اپنی ہیل کی نوک اس کے پاؤں پر ماری لیکن ضارون کو فرق نہیں پڑا ۔

” اچھا چلو نکال لیا غصہ ، اب بتاو چلو گی ؟“

” آپ ماما سے پوچھیں ۔“ زمل نے آہستہ سے کہا ۔ دراصل وہ خود ضارون سے بات کرنا چاہتی تھی ۔

” تحریم آنٹی سے میں نے پوچھ لیا ، انہوں نے کہا ۔ ۔ ۔ اس طرح مت دیکھو واقعی پوچھا تھا ، وہ کہہ رہی تھیں اگر تم مان جاو تو کوئی اعتراض والی بات نہیں ۔“ اتنے میں زارا آکر زمل کے پاس بیٹھ گئیں ۔

” زمل بچے ! ضارون کہہ رہا تھا کہ فنکشن کے بعد آپ دونوں لانگ ڈرائیو پر جا رہے ہو ۔“ زارا نے سوالیہ نظروں سے زمل اور ضارون کو دیکھا ۔

”جی مما ، کیوں سب ٹھیک ہے؟“ ضارون نے فکر مندی سے پوچھا ۔

” ارے ہاں سب ٹھیک ہے ، میں بس کہنا چاہ رہی تھی کہ اگر آپ لوگوں نے جانا ہے تو ابھی چلو ، تا کہ تھوڑا جلدی گھر آ جاؤ ۔“ زارا نے زمل کے بالوں کی ایک لٹ کو کان کے پیچھے اڑساتے ہوئے کہا ۔

” جی مما ، آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔ میں ذرا ڈیڈ سے مل لوں ۔“ ضارون یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔

” زمل میری جان اتنے خوبصورت لگ رہے ہو تم دونوں کہ بیان سے باہر ہے ، بس اسی طرح ہنستے مسکراتے رہو ہمیشہ ۔“ زارا نے کھلے دل سے تعریف کی اتنے میں عالیہ سٹیج پر آگئی ۔ پہلے وہ زمل کے گلی لگی ، اسے مبارک دی پھر بولی ، “ضارون بھائی بہت ہی نائیس ٹائیپ کے انسان ہیں ۔“ زمل نے ناسمجھی سے اسے دیکھا کیونکہ وہ عالیہ کا ضارون سے رشتہ نہیں جانتی تھی ۔

” ضارون بھائی ، سفیان بھائی کے دوست ہیں ، ان کی شادی پر بھی آئے تھے ۔ میرے خیال سے انہوں نے وہیں تمہیں دیکھا ۔ بہر حال بہت بہت مبارک ہو ، اب ہم لوگ بھی بس جانے والے ہیں ۔“ یہ کہہ کر وہ تو چلی گئی لیکن زمل سفیان کی مہندی کی رات ہونے والے واقعے میں اتنا کھو گئی کہ دوبارہ ضارون کے آنے کی خبر نہ ہو سکی ۔

” کہاں کھو جاتی ہو بار بار چندا ؟“ ضارون نے چٹکی بجاتے ہوئے پوچھا تو وہ واپس لوٹی ۔

”ایسے مت دیکھو یار ، نہیں تو قسم سے ابھی تمہارے گھر چھوڑنے کی بجائے اپنے گھر لے چلوں گا ۔“

”آپ نے مجھے سب سے پہلے کہاں دیکھا تھا ؟“ زمل نے سپاٹ چہرہ لیے پوچھا ۔

” آپ نے کہا تھا کہ آپ نے مجھے کہیں دیکھا ہے ۔ کہاں دیکھا ہے یہ نہیں بتایا ۔“

” ارے یار اس بارے میں پھر بات ہو گی ، ابھی تو چلو سب باہر گاڑی کے پاس ویٹ کر رہے ہیں ۔“ زمل نے نگاہ دوڑائی تو واقعی وہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا ۔ زمل کھڑی ہو گئی ۔

” مجھے ابھی بتائیں ۔“ اس نے ضد کی ۔

” زمل بے جا ضد نہیں کرو ، چلو اب شاباش ۔“ پہلے تو وہ تھوڑا تیز بولا لیکن پھر اس نے زمل کا ہاتھ تھام لیا اور اسے اپنے ساتھ لے کر چلا گیا ۔

” آپ مجھے سب بتائیں گے ، سچ سچ ۔“ زمل نے سرگوشی کی ، ضارون محفوظ ہوا اور پھر اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔

” سچ سچ ۔“ لیکن یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر عجیب سے احساسات تھے جن کو زمل پہچان نا پائی ۔ ہال کے باہر سب لوگوں نے ان کو گاڑی تک چھوڑا ۔ اور جب ضارون کی گاڑی چل پڑی پھر سب نے اپنے گھروں کی راہ لی ۔

*************

” ہاں جی جناب ، کیا کھائیں گی اب آپ ؟“ ضارون نے زمل کو تھوڑا ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جو کہ تب سے سپاٹ چہرہ لیے بیٹھی تھی ۔

” آپ مجھ سے بات مت کریں ۔“ زمل نے ونڈو کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔

” وہ کیوں ؟“ ضارون نے انجان بنتے ہوئے کہا ۔

”کیونکہ میں آپ سے ناراض ہوں ۔“ زمل نے اسی طرح کہا ۔

” اچھا ۔ ۔ چلو پھر بتاؤ کہ مانو گی کیسے ؟“ ضارون نے محفوظ ہوتے ہوئے کہا ۔

” ابھی سوچنے دیں مجھے کہ میں کیسے مانوں گی ۔“ زمل کی اس بات پر ضارون کا قہقہہ گاڑی میں سنائی دیا ۔

” اچھا چلو سوچ لو ۔“

” آپ مجھے آئیس کریم کھلا دیں ۔“زمل نے حل بتایا ۔

” میں صرف تمہیں آئیس کریم نہیں بلکہ سنیکس بھی کھلاوں گا ۔“ اس نے ضارون کو کہتے سنا تو اسے دیکھنے لگی ، ” مجھے پتا ہے کہ تم نے کھانا نہیں کھایا میں نے بھی نہیں کھایا ۔“

” مجھ سے کھایا ہی نہیں گیا ۔“

” جانتا ہوں ۔“ پھر ان دونوں نے ڈونٹس لیے اور ساتھ میں ضارون نے کولڈکافی لی جبکہ زمل نے آئیس کریم ۔ واپسی پر وہ دونوں لائٹ سا میوزک سنتے رہے اور دونوں میں کوئی بات نا ہوئی ، جب گاڑی گھر کے قریب پہنچی تو ضارون نے ایک ڈائری زمل کی جانب بڑھائی ۔

” زمل میں ڈائری نہیں لکھتا لیکن یہ میں نے لکھی اور صرف تمہارے لیے ، کیونکہ میں ان سب سوالوں کے جواب آمنے سامنے کبھی نہیں دے سکتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے لگا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو گا ۔“

زمل نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر ڈائری لے لی ۔ زمل کو گھر چھوڑا تو رفیق صاحب نے اسے چائے کیلیے روک لیا ۔ زمل وہاں نہیں رکی ۔ اسے جلدی تھی کہ وہ ڈائری پڑھے لہذا وہ کمرے میں آگئی ۔ کمرے میں آکر اس نے کپڑے تبدیل کیے اور اچھے سے منہ پر سے سارا میک اپ اتارا ۔

اتنے میں تحریم اندر آئیں ، وہ ضارون سے ملنے کے بعد سے لے کر زمل کے چہرے پر مسکراہٹ کو دیکھ کر مطمئن تھیں ۔

” آج میری بیٹی بہت خوبصورت لگ رہی تھی ، لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ وہ ہی زمل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس اب الله میری بچی کے نصیب کو ہی اتنا ہی خوبصورت بنا دے ۔“ دعا کرتے آخر میں وہ رو دیں ، تو زمل ان کے پاس آئی اور ان کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر بولی ۔

” ماما آپ روئیں تو نہیں نہ ۔“ اور تحریم نے اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا اور بولیں ،” مجھے معاف کر دینا زمل میں نا کبھی خود اپنے لیے ہمت کر پائی اور نا ہی تمہارے معاملے میں کبھی تمہارے بابا کے آگے بول پائی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ضارون بہت اچھا لڑکا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تمہارے بابا جیسا نہیں ہے ۔“

” ماما ایسا مت بولیں ، میں خوش ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ آپ پلیز معافی مت مانگیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے آپ کا فیصلہ قبول ہے ۔ ۔ ۔ بابا کا فیصلہ بھی دل سے قبول ہے ، اور ہاں ضارون اچھے ہیں ، وہ بہت اچھے ہیں ۔“ زمل نے ہر ممکن ان کو اطمینان دلانا چاہا اور وہ مطمئن ہو بھی گئیں ۔ ان کے جانے کے بعد زمل نے دھڑکتے دل کے ساتھ ڈائری کھولی اور اسے پڑھنا شروع کیا ۔

*****

السلام علیکم چندا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ایک گزارش ہے کہ یہ ڈائری پڑھنے کے دوران کوئی ختمی رائے مت دینا جب تک مکمل نا ہو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ تو سنو بھئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سفیان کی شادی پر میرا جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ، مجھے آفس میں کام تھا ۔ لیکن اس کے بے حد اسرار پر میں چلا گیا ۔ اور وہاں جاکر میں بور ہی ہو رہا تھا جب میں نے مین گیٹ سے ایک سیاہ لباس میں ملبوس بڑی سی چادر لیے ایک لڑکی کو ایک عورت کے پیچھے پیچھے چلتے دیکھا ، بے شک وہ پہلی لڑکی نہیں تھی جسے میں چادر میں دیکھ رہا تھا ۔لیکن ہاں وہ پہلی لڑکی تھی جو کہ لائٹنگ کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے کوئی سات آٹھ ماہ کا بچہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ اس کو شاید پتا چل گیا کہ میں دیکھ رہا ہوں تو رک کر ارد گرد دیکھنے لگی لیکن میں نے رخ دوسری طرف کر لیا ۔ اس کے اندر چلے جانے کے بعد میرا دل کیا کہ اسے دوبارہ دیکھوں ، عجیب سا لگ رہا تھا ۔ میں اندر چلا آیا ، ارد گرد نگاہ دوڑائی تو وہ سفیان کے دوستوں اور کزنز کے دمیان یوں بیٹھی نظر آئی جیسے کوئی ہرن کا بچہ شیروں کے جھرمٹ میں ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اسے ہی دیکھ رہا تھا کہ ملازم مجھ سے ٹکرا گیا اور مجھ پر جوس گر گیا ۔ شگفتہ آنٹی نے مجھے واش روم کے باہر گندی شرٹ لیے انتظار کرتے دیکھا تو بولیں ۔

” سفیان کے روم میں چلے جاو بیٹا یہاں رش میں کہاں انتظار کرو گے واش روم کے فارغ ہونے کا ۔“ میں اوپر سفیان کے کمرے میں آگیا ۔ شرٹ صاف کرنے کے بعد میں وہیں کمرے میں بنے ٹیرس پر کھڑا سموکنگ کر رہا تھا جب دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی ، میں نے بلا اختیار اندر کو جھانکا تو چند لمحے یقین نا کر پایا کہ وہ وہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔. ہاں وہ وہی تھی ، وہ اپنا حجاب اتار رہی تھی ، یقیناً وہ یہاں میری موجودگی سے بے خبر تھی ، میں اسے ہی دیکھ رہا تھا جب نیچے لان میں گانا بدلا تو میں نے اسے ڈانس کرتے دیکھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں کئی لمحے نظر نہیں ہٹا سکا ، ہاں وہ پہلی لڑکی نہیں تھی جسے میں ڈانس کرتے دیکھ رہا تھا ، ہمارے گھروں کی شادیوں میں یہ عام بات ہے لیکن ہاں وہ پہلی لڑکی تھی جسے میں نے حجاب میں دیکھا اور بعد میں وہ ڈانس کر رہی تھی ۔ مجھے اشتیاق ہوا کہ اسے قریب سے دیکھوں ، میں جیسے ہک آگے بڑھا تو پاس رکھے گملے سے میرا پاؤں ٹکرا گیا اور درد کی شدت کی وجہ سے ہلکی سی آواز آئی ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن جب دوبارہ سامنے دیکھا تو وہ لڑکی اپنا حجاب درست کر رہی تھی ، وہ بہت جلدی میں دکھائی دی اور پھر وہ اپنا موبائل بھی وہیں بھول کر نیچے چل دی ۔ اور میں وہیں بیٹھا رہا سب سے پہلے میں نے اس کے موبائل سے اپنے موبائل پر بیل کی اور اس کی چند تصویریں اپنے موبائل میں ٹرانسفر کیں ، میں نہیں جان سکا میں نے ایسا کیوں کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہی لڑکی آدھے گھنٹے کے بعد آئی وہ شاید اپنا موبائل ڈھونڈ رہی تھی ۔ وہ اندر آئی تو میں نے پہلے دروازہ بند کیا اور پھر لائٹ ، میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھے پہچانے ، مجھے صرف اس کا نام جاننا تھا ۔ وہ بھاگنے لگی تو میں نے اسے بازو سے کھینچ کر دیوار کے ساتھ لگایا ، ایک بازو میں نے اس کی گردن پر رکھ کر اس کی آواز کو دبانا چاہا اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے میں نے اسے دیوار کے ساتھ لگائے رکھا ۔ وہ بالکل رونے والی تھی ، مجھ سے ان آنکھوں میں زیادہ دیر نا دیکھا گیا ۔ نام پوچھنے پر اس نےاپنا نام ” زمل ” بتایا ۔ میں نے اسے آخری وارننگ دی اور ٹیرس سے ہوتے ہوئے ساتھ والے کمرے کے ٹیرس اور پھر نیچے چلا گیا ۔ پھر چند دن بعد میں نے تمہیں میسج کیا ، پہلے تو ریپلائے نا آیا لیکن جب آیا تو وہ بھی کیا کہ رحماء مجھے چندا مت کہا کرو ۔ ۔ ۔ ۔ تم مجھے اپنی دوست سمجھ کر باتیں کرتی رہی اور میں نے بھی نا بتایا ، لیکن خیر جب تمہیں پتا چلا کہ میں رحماء نہیں کوئی اور ہوں تو ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ کتنی قسمیں دی تھی تمہیں کہ بندہ میں شریف ہوں ، ہاں اس شریف بندے نے تمہیں اپنا اصل نام نہیں بتایا کبھی ۔ مجھے اچھا لگتا تھا کہ تم مجھے “زی” کہو ۔ پھر جب ایک ہفتہ تم سے بات نا ہو پائی وہ وقت کافی برا تھا میرے لیے ، میں کافی چڑچڑا ہو گیا تھا ان دنوں ، سفیان نے یہ بات نوٹ کی تو میں نے بتایا ۔

” زمل میسج کا ریپلائے نہیں کر رہی ۔“

” وہ اس لیے کیونکہ رفیق انکل نے اس کا موبائل توڑ دیا ہے ۔“ سفیان نے بتایا ۔

” وہ کیوں ؟ “ میں نے پہلی بار سنا کہ کسی باپ نے اپنی بیٹی کا موبائل توڑ دیا اور وجہ سننے پر تو مجھے اور غصہ آیا کہ وہ مارکس اچھے نہیں لے سکی ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے سفیان سے پوچھا ، ” تمہیں کیسے پتا ہے ؟“

” رفیق انکل نے خود ڈیڈ کو بتایا ہے ، رات میں ڈنر کے وقت گھر پر یہ ٹاپک بھی ڈسکس ہوا تو چل گیا پتا ۔“

” سفیان ایک کام کرو گے ؟“

” کیا ؟“

” زمل تک موبائل پہنچاو کسی بھی طرح ۔“

” دیکھو ضارون زمل میری بہن جیسی ہے ، تم اس کے ساتھ سیریس ہو تو باقائدہ رشتہ بھیجو اس کیلیے ۔“

اس نے میری تمہارے لیے بدلتی حالت دیکھ لی تھی ۔ پہلے تو میں سنجیدہ نہیں تھا پر پھر ہو گیا ۔

میں نے جھوٹ بولا تھا کہ وہ موبائل میں نے کسی پلمبر کے ہاتھوں بھجوایا ہے ، وہ سفیان نے رکھا تھا جب وہ تمہارے گھر آفس کی کوئی بات کرنے انکل سے ملنے آیا تھا ۔

اور پھر ” مجھے تم سے محبت ہو گئی“ تم سے بات نہ ہوتی تو پریشان ہو جاتا تھا پھر جس دن انکل نے حد کر دی مجھے لگا اب بس ہو گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر تم مان گئی میرے ساتھ چلنے کو ، مجھے لگا میری دنیا مکمل ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس رات تم نہیں آئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے انتظار کیا تم نے منع کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں محبت کرتا تھا تم سے سو تمہارے فیصلے کو مان لیا ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ دل نہیں مانا یار واپس جانے کی بجائے رات ٢ بجے تک وہیں بیٹھا رہا پھر واپسی پر ایکسیڈنٹ ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تین دن بعد گھر آیا میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔وہ پہلی رات تھی جب میں نے الله سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعا مانگی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگلے دن ممی نے کہا کہ وہ میرے لیے لڑکی دیکھ چکی ہیں ، میں نے کچھ نا کہا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے سمجھا شاید تکلیف کی وجہ سےمیں کچھ بول نہیں پارہا ، وہ تمہاری تصویر ٹیبل پر رکھ کر چلی گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں میں تھا تکلیف میں لیکن وہ تکلیف جسمانی نہیں تھی وہ دل کی تھی ۔ناجانے کس دل سے تصویر اٹھائی ، میں پھاڑنے ہی والا تھا لیکن وہ سیدھی رکھی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ پہلی تصویر نہیں تھی جو مجھے مما نےکسی لڑکی کی دکھائی لیکن ہاں وہ اس لڑکی کی پہلی تصویر تھی جس سے مجھے محبت ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمل الله نے ہمیں یوں ہی ملانا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم بنی ہی میرے لیے تھی ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تمہیں کسی اور کو کیسے سونپ دیتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور زمل ہم انشاءالله شادی کے بعد حج کرنے جائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس رب کا شکر ادا کرنے جس نے ہمیں عزت کی راہ پر چلا دیا ۔ ۔ ۔ ۔ جب تم نے کہا کہ تم نہیں آؤ گی مجھے لگا زندگی ختم ہو گئی ، لیکن بے شک الله بہتر کرنے والوں میں سے ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اب میں اس رات تمہارے نہ آنے کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شکریہ زمل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

” تمہارا زی “

******

۔

ڈائری پر سیاہ تحریر ختم ہوئی تو زمل کا چہرہ آنسوں سے بھیگا ہوا تھا ، وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی وہ الله کا جنتا شکر ادا کرتی وہ کم تھا ۔ وہ دبے قدموں کمرے سے نکلی ، اس وقت ڈھائی بج رہے تھے ۔ ۔ ۔ بنا آواز پیدا کئے وہ فون سیٹ تک آئی اور ضارون کا نمبر ملایا ، اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ اس وقت جاگ رہا ہوگا یا نہیں لیکن وہ اس وقت ہی اس سے بات کرنا چاہتی تھی ، دوسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا ۔

” السلام علیکم چندا ! “دوسری طرف فون اٹھاتے ہی زی نے سلام کی ۔

” آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں ہوں ؟“ زمل نے آہستہ سے پوچھا ۔

” میرے پاس تمہارے گھر کا نمبر سیو ہے اور اس وقت اور کوئی فون کرنے سے تو رہا ۔“ ضارون نے کہا ۔

” ضارون ! “

” جی مسز ضارون ۔“

” مجھے ایک بات پوچھنا یاد ہی نہیں رہا ۔“

” کیا بات ؟“

” آپ کیسے ہیں ؟“

” میں ۔ ۔ ۔ ۔ میں بالکل ٹھیک ، مجھے کیا ہونا ہے ۔“ ضارون کیلیے سوال غیر متوقع تھا ۔

” آپ کی ٹانگ کیسی ہے اب ، درد تو نہیں ہو رہا ۔“ زمل نے فکر مندی سے پوچھا ۔

” اوہ ۔ ۔ ۔ ٹانگ ۔ ۔ ۔ اب بالکل ٹھیک ہے ۔“ دوسری طرف خاموشی ہی رہی ۔

” چندا ! اور کیا پوچھنا ہے ؟“ ضارون نے نہایت آہستگی سے پوچھا ۔ اور اسے بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی کہ وہ کس طرح اس کے دل کی بات جان گیا ہے ۔

” زی آپ نے الله سے کیا دعا مانگی تھی ؟“

” ہم م م م پہلے تم بتاو ، اس رات واپس جاکر کیا کیا تھا تم نے ؟“ ضارون نے الٹا سوال کیا ۔

” میں نے آکر نماز پڑھی تھی اور لگا کہ وہ پیدا ہونے کے بعد میری پہلی نماز ہے ۔“ زمل نے بتانا شروع کیا ۔

” اور ؟“

” اور میں نے الله سے دعا کی تھی ۔“

” کیا دعا کی تھی ؟“ ضارون نے پوچھا ۔

” م م م مجھے یاد نہیں ۔“ زمل نے کترانا چاہا ۔

” پھر یاد کرکے بتاو ، کیا دعا کی تھی ۔“ ضارون تو جان چھوڑنے والوں میں سے تھا ہی نہیں اور زمل جان گئی لہذا بولی ، ” میں نے دعا کی کہ الله مجھے سکون دے دیں ۔“

دوسری جانب طویل خاموشی کے بعد ضارون نے کہا ، ” میں نے دعا کی تھی کہ الله مجھے “زمل” دے دیں۔“

*************

دو سال بعد

زمل حیان کو اٹھائے ایک کان سے موبائل لگائے اور دوسرے میں دو فیڈرز لیے کمرے میں داخل ہوئی تو وہاں پر ضارون کو دیکھا جوکہ زیان کو اٹھائے چپ کروانے میں مصروف تھا ۔ باہر کا درجہ حرارت منفی تین تھا جبکہ کمرے میں ہیٹر کی وجہ سے سکون کا احساس ہوا ۔

” جی ماما زیان اب ٹھیک ہے ۔ اب تو اس کے پیٹ میں بھی درد نہیں ۔ ۔ نہیں اب تنگ نہیں کرتا۔ ۔ ۔ ۔“ ضارون کے پاس آکر ایک فیڈر اسے دیا ، حیان سو چکا تھا اسے ضارون کو دیا اور ضارون سے زیان کو لے لیا ۔

” جی ماما ضارون بھی ٹھیک ہیں ، میرے سامنے ہی بیٹھے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تک تو سیٹ کنفرم نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ انہی سے پوچھ لیں ۔“ زمل نے موبائل ضارون کو دیا جوکہ اب بیڈ پر بیٹھ چکا تھا اور حیان کے اوپر کمبل درست کر رہا تھا ۔ زمل کمرے میں چکر لگاتے ہوئے زیان کو دودھ پلانے لگی ۔

” جی آنٹی پرسوں کی سیٹ بک ہوئی ہے ۔“ زمل نے تشکر بھری نظروں سے ضارون کو دیکھا جو کہ اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔

” آنٹی یہاں لندن میں تو بہت سردی ہے اور اوپر سے حیان اور زیان کم دوڑیں تو نہیں لگواتے ، کیا تھا جو زمل پر چلے جاتے کم از کم معصوم تو ہوتے لیکن نہیں ممی کہتی ہیں یہ دونوں مجھ پر ہیں ۔“

” بالکل ابھی ہے دونوں ایک سال کے اور نخرے ان کے ساتویں آسمان پر ہیں ۔“

زمل آہستہ سے چلتی ہوئی بیڈ پر ضارون کی گود میں آکر بیٹھ گئی جبکہ زیان ابھی بھی زمل کی گود میں ہی تھا ، ضارون نے اس کے گرد بازؤں کا بند بنایا اور زیان کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔ وہ زمل کو لے کر پچھلے ایک مہینے سے لندن لے کر آیا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمل کو برف باری دیکھنے کا شوق تھا اور اب وہ لوگ واپس جانے والے تھے کیونکہ زیان کی طبیعت تھوڑی خراب ہو گئی تھی ۔

” اوکے جی الله حافظ آنٹی ۔ ۔ ۔ ۔ جی ٹھیک ہےاللہ حافظ ۔“ اب ضارون سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا کیونکہ زمل بالکل اس کی گود میں تھی ، ضارون نے موبائل بند کیا اور زمل کو اپنے بازؤں کا گھیرا تنگ کیا ۔

” کیا ہوا ہے میری چندا کو ؟“ اس کے ماتھے پر سے بالوں کو ہٹاتے ہوئے بولا ۔

” کچھ نہیں ۔“

” کوئی فرمائش ہے ؟“

” ابھی تک تو نہیں ۔“

” پھر ؟“

” وہ ۔۔۔ مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا ۔“

” اوہ ۔۔۔ اچھا کہو پھر ۔“

” مجھے آپ کو تھینک یو کہنا تھا ۔“

” چلو کہہ دو ۔“ ضارون نے مسکراہٹ دبائے کہا ۔

” تھینک یو ۔“ زمل نے سر ضارون کے کندھے پر ٹکاتے ہوئے کہا ۔

” ویسے یہ تھینکس تھا کس لیے ؟“

” ہر چیز کیلیے ۔ ” زمل نے اسے بتایا ۔

” چلو پھر میں بھی تمہیں تھینکس کہتا ہوں ۔“

” وہ کس لیے ؟“ زمل نے سر اونچا کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا ۔ ضارون تھوڑا جھکا ، اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولا ” ہر چیز کیلیے ۔“ زمل نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔

” اچھا آؤ چندا ایک سیلفی لیں ۔“ ضارون نے اپنا موبائل نکالتے ہوئے کہا ۔

”زیان بھی سیلفی لے گا ۔ زیان آپ لو گے سیلفی ؟“ زمل زیان کو گود میں بٹھاتے ہوئے بولی ۔

” تو پھر حیان کے ساتھ کیسے لیں گے پک ۔“ اب یہ مسئلہ بن گیا ۔

” فکر نہیں کرو چندا ، اس اینگل پر آو ۔“ ضارون نے حل بتاتے ہوئے موبائل کے فرنٹ کیمرے کو اس اینگل پر سیٹ کیا جہاں پر سے وہ چاروں باآسانی تصویر میں آسکتے تھے اور پھر اس نے کلک کیا اور ایک خوبصورت سے لمحے کو اپنے موبائل میں قید کر لیا بالکل اسی طرح جس طرح وہ پہلے بہت سے لمحات کو قید کر چکے تھے اور بہت سے لمحات ان کے منتظر بھی تھے ۔

” چندا ایک بات کہوں ۔“ زمل جب کھینچی جانے والی تصویریں دیکھ رہی تھی تو ضارون بولا ۔

” جی کہیں ۔“

” باہر پھر برف گر رہی ہے ۔“

” کیا واہ ۔ ۔ ۔ ۔ چلیں آئیں ٹیرس پر چلتے ہیں ۔“ زمل نے زیان کو بیڈ پر لٹاتے ہوئے کہا ۔

” نا بھئی ، سردی بہت ہے ، میں یہیں ٹھیک ہوں ، بلکہ تم بھی یہیں رہو ۔“ ضارون نے جان چھڑوانی چاہی ۔

” مجھے نہیں رکنا یہاں اور ویسے بھی پرسوں تو ہم واپس جارہے ہیں ۔“

” تم ہو آؤ ۔“

” پکا آپ نہیں آرہے ؟“ زمل نے وارننگ دینے والے انداز میں کہا ۔

” پکا ۔“ ضارون کو لگا کہ وہ ساتھ چلنے کو منائے گی ، لیکن وہ ” ٹھیک ہے“ کہہ کر چل دی ۔

ٹیرس میں کھڑے وہ شہر کی روشن زندگی کو دیکھنے لگی ۔ برف کے چھوٹے چھوٹے گالے گر رہے تھے ، زمل ان کو پوروں پر رکھنے کی کوشش کرنے لگی ، وہ جانتی تھی کہ ضارون ضرور باہر آئے گا اور وہ آبھی گیا ۔