Iffat Ki Pasbaan by Raiha Mariyam NovelR50430 Last updated: 9 December 2025
Rate this Novel
Iffat Ki Pasbaan by Raiha Mariyam
گھر آکر زمل اپنی ماما سے کچھ نہ کہہ پائی اور دونوں نے بڑی مہارت سے ایک دوسرے کا پردہ رکھ لیا ۔
آج زمل کو اپنے ماما اور بابا کے ساتھ رفیق صاحب کے کسی دوست کے بیٹے کی شادی میں جانا تھا ۔ اور ان کی تیاریوں سے لگ رہا تھا کہ ان کی دوستی کافی گہری ہے۔
” تحریم بی بی جلدی کرو .........زمل کہاں رہ گئی ......اچھا اس کو بول دو کہ دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھ لینا.........آج کل کی لڑکیوں میں تو جیسے شرم و حیا ہی ختم ہو گئی ہے.......... دوپٹہ لینا تو جیسے بھلا ہی دیا ہے سب نے.......... میری پشاوری چپل مت نکالنا......... یہ ہمایوں ابھی تک رکشہ لے کر کیوں نہیں آیا...........“
اور زمل کی سننے کی قابلیت جواب دے گئی تو اس نے دروازے کو ٹھوکر لگا کر بند کیا جس سے رفیق صاحب کی آواز خاصی کم ہو گئی ۔ پھر اس نے شیشے میں اپنا سراپا دیکھا جیسے دیکھ رہی ہو کہ کچھ رہ تو نہیں گیا ۔
کالے رنگ کا گھٹنوں تک آتا فراک تھا جس پر سنہری تلے کا کام اس کو نہایت خوبصورت بنا رہا تھا ۔ بازو بھی چوری دار تھے لیکن زمل نے ان میں کالے اور گولڈن امتیاز کی کچھ چوڑیاں پہن رکھیں تھیں ۔ اس نے ایک نظر اپنے کمر تک آتے بالوں کو دیکھا پھر ہنس کر خود کو سراہا اور بالوں کا جوڑا بنا کر کیچر لگا دیا ۔ کیونکہ کھلے بالوں کی اجازت کبھی نہ ملی تھی نہ ملنی تھی ۔ پھر اس نے سلیقے سے اپنے دوپٹے کا حجاب بنایا اور بڑی سی چادر لےکر باہر آگئی جہاں ہمایوں رکشہ لے آیا تھا ۔ زمل نے چادر سے ہی نقاب کیا اور تحریم کے ساتھ باہر آگئی ۔
