405.1K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Iffat Ki Pasbaan Episode 2

Iffat Ki Pasbaan by Raiha Mariyam

رحماء پچھلے آدھے گھنٹے سے زمل کو چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس پر کوئی اثر ہو تب نا ۔ اور زیادہ تر باتیں جو وہ رونے کے دوران کر رہی تھی ان میں ”اگر کوئی وہاں آجاتاتو ۔“

” آیا تو نہیں نا زمل ۔“

” اگر کوئی مجھے وہاں ایسے دیکھ لیتاتو ۔“

” دیکھا تو نہیں نا زمل ۔“

” اس نے کہا تھا کہ اگر میں نے کسی کو بتایا تو وہ میرے ساتھ اچھا نہیں کرے گا ۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے رحماء ۔“

رحماء نے ایک بار پھر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لئے اور بولی ، ” اس کو پتا نہیں چلے گا زمل بلکہ کسی کو بھی پتا نہیں چلے گا ۔ الله کا شکر ادا کرو کہ اس نے بہت بڑے نقصان سے میری دوست کو بچا لیا ہے ۔ پتا نہیں وہ شاید کوئی چور تھا اور کچھ چرانے آیا ہوگا ۔ زمل بس الله کا شکر ادا کرو اور اس پر معاملہ چھوڑ دو ۔“

رحماء نے خلوص سے اسے سمجھایا تو اس کا رونا دھونا سوں سوں میں بدل گیا ۔ رحماء نے سکون کا سانس لیا کہ اب زمل بہتر ہوئی ہے ۔

وہ ایک ایسے گھر سے تعلق رکھتی تھی تھی جو کہ اس کے بابا کی دقیانوسی سوچ پر چلتا تھا ۔ وہ گھر میں مکمل چپ رہنے والی لڑکی تھی جو اپنے دن کو کالج میں ہی جی لیتی لیکن اب مسلہ یہ تھا کہ اس کا تعلیم کا یہ آخری سال تھا ۔ جیسے تیسے رفیق صاحب نے بی ایس سی کی اجازت دی تو ساتھ ہی کہہ دیا ۔

” اس کے بعد یہ لڑکی مجھے نہ کہے کے آگے پڑھنا ہے ۔ بچیاں گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں ۔ اور تم کالج جاتے وقت برقع لو گی اور اگر مجھے کبھی کسی بھی ایسی بات کا پتا چلا جو مجھے پسند نا آئی تو اسی دن تمہارا گھر سے باہر نکلنا بند ……… آئی سمجھ ۔“

درحقیقت جو کچھ سالار صاحب کی طرف ہوا رحماء ابھی بھی وہی سوچ رہی تھی کہ کوئی ایسا کیوں کرے گا لیکن مطمعن تھی کہ اب زمل اس واقعے کو بھلا دے گی ۔

*************

” السلام علیکم چندا !“

زمل جب کالج سے گھر آئی تو اپنے موبائل پر موصول ہونے والے غیرشناسہ نمبر سے آئے میسج پر حیران رہ گئی ۔

” یہ کس کا میسج ہو سکتا ہے بھلا ؟“ وہ صرف سوچ کے ہی رہ گئی ۔ کیونکہ اس کے جاننے والوں میں سے کوئی بھی اسے “چندا” نہیں کہتا تھا ۔ جب وہ جی بھر کے حیران ہو لی تو اس سوچ میں پڑ گئی کہ یہ کون ہو سکتا ہے ۔

” ہو سکتا ہے کہ رحماء نے نیا نمبر لیا ہو ۔“

” لیکن وہ مجھے چندا تو کبھی نہیں کہتی ۔“

” تو کیا کسی نے غلطی سےکر دیا ہے ۔“

” لیکن اگر وہ چندا کہہ رہا ہے تو مطلب جس کو میسج کیا ہے اسے جانتا بھی ہے ۔“

جب اپنی سوچوں سے تنگ آگئی تو جھنجھلا کر موبائل بیڈ پر پٹخ دیا ” بھاڑ میں جائے جو بھی ہے ۔“

***************

جب وہ رات کا کھانا کھا رہے تھے تو بالکل خاموشی تھی اور رفیق صاحب کے ہاتھ میں زمل کا موبائل تھا ۔ جسے وہ ابرو اچکا کر چیک کر رہے تھے جیسے اس میں انڈین آرمی کے بلوپرنٹس ہوں اور وہ پاکستانی انجینئیر ….. ہنہ ۔

زمل نے اپنی سوچوں کو جھٹک کر کھانا کھانے پر فوکس کیا ۔

” یہ کیا بیہودگی ہے ؟“ رفیق صاحب کی آواز پر اس نے سر اٹھا کے دیکھا ۔ اسے لگا کہ ہمایوں نے پھر کوئی شرارت کی ہے لیکن وہ تو اس کی ہی طرف دیکھ رہے تھے تو وہ گڑبرا گئی ۔

”ک ۔ ۔ ۔ کیا ہوا بابا ؟“ وہ ابھی تک سمجھ نہیں پائی کہ اس پر کیوں غصہ ہو رہے ہیں جبکہ زمل نے تو ایسا کچھ کیا ہی نہیں ۔ تو انہوں نے موبائل سکرین زمل کی جانب کر دی جس پر صبح موصول والا میسج جگمگا رہا تھا ۔ ایک لمحے کیلیے تو زمل کا سر ہی گھوم گیا لیکن بظاہر خود پر قابو پاتے ہوے بولی ۔

” بابا۔۔۔۔ یہ ۔۔۔۔ یہ رحماء کا نیا نمبر ہے آج وہ یونی نہیں آئی تھی اس لیے کام پوچھنے کیلیے فون کیا ۔“ اور آج پہلی دفعہ جھوٹ بولتے ہوئے آخری دفعہ اس کی آواز کپکپائی ۔

” اس سے بول دو تم کہ آئیندہ ایسے القاب سے تمہیں نا بلائے ۔ زہر لگتی ہیں مجھے وہ لڑکیاں جن کو بات کرنے کی تمیز بھی نا ہو ۔ یہ پڑھتے ہو تم لوگ اداروں میں ۔ یہ تمیز سکھائی جاتی ہے وہاں ۔ یہ سب پڑھنا ہوتا ہے تو پھر بیٹھو ………“ زمل نے سب باتوں کو سنا ان سنا کیا اور جلدی سے کھانا کھا کر کمرے میں آگئی ۔ آج خلافِ معمول موبائل اس کے پاس تھا ۔

اپنے کمرے میں آ کر زمل نے غصے سے دروازہ بند کیا اور لمبے لمبے سانس لےکر اپنا غصہ کم کرنے کی سعی کرنے لگی ۔ اسی غصے کے زیرِاثر زمل نے میسج کا جواب دیدیا ۔

”کون ہے؟“ اور موبائل کو بیڈ پر پٹخ کر کتابیں لے کر بیٹھ گئی ۔ ابھی پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ جواب آگیا۔

” وعلیکم السلام !“

” میں نے پوچھا ہے کہ کون ہے ؟“ غصے سے کہا ۔

” سلام کا جواب دینا فرض ہے ۔“

زمل نے پڑھا تو اسے لگا کہ رحماء ہے کیونکہ رحماء ہمیشہ اس کی اس غلطی کو ٹوک دیا کرتی تھی ، تو جواب دیا ۔

” رحماء آج یونی کیوں نہیں آئی ؟ یاد کیا تم کو میں نے ۔“ زمل نے بغیر تصدیق کئے جواب دےدیا ۔

” آج طبیعت خراب تھی اس لیے ۔“

موصول ہونے والے جواب نے اس کے شک کی تصدیق کر دی کہ وہ رحماء ہی ہے ۔

” مت کیا کرو یوں چھٹی ۔“ محبت سے گلہ کیا گیا ۔

” اوکے جناب اب نہیں کروں گی ۔“ ساتھ ہی جواب آگیا ۔

”اور ہاں رحماء مجھے میسیجز پر “چندا” مت کہا کرو ۔ آج بابا نے اتنی باتیں سنائی ہیں ۔“ زمل کا غصہ نکل ہی گیا……اور وہ رات کافی دیر تک اس انجان شخص کو رحماء سمجھ کے باتیں کرتی رہی ۔

************

**** چھہ مہینے بعد ****

زمل نے رات کو اپنے کمرے کا دروازہ کھولا تو ایک عجیب سی خوشی اس میں سرایت کر گئی ۔ ہونٹوں پر بناوٹی مسکراہٹ کی جگہ حقیقی مسرت نے لے لی ۔ وہ اپنی کپڑوں کی الماری کے سامنے آئی اور اس کو کھول کر اندر سے کپڑوں کی تہہ کے نیچے سے ایک موبائل نکال لیا …….. اس کو دیکھ کر ہمیشہ کی طرح زمل کو یاد آیا کہ کس طرح اس کا پہلا موبائل بابا نے توڑ دیا تھا ۔ بات یہ تھی کہ اس کے ایک ٹیسٹ میں ٧٠% سے کم نمبر تھے جس پر وہ غصہ تھے اور دوسرا ان کو پتا چل گیا تھا کہ زمل رات کے وقت موبائل اپنے پاس رکھتی ہے ۔

” بابا ٹیسٹ میں کم مارکس بخار کی وجہ سے آئے تھے , قسم لے لیں آئیندہ ایسا نہیں ہو گا ۔“ زمل نے روتے ہوئے ان سے کہا لیکن وہ اس کی آنکھوں میں چھپی سچائی کو نہ دیکھ پائے ۔ زمل کو ٹیسٹ والے دن واقعی بخار تھا لیکن انہوں نے موبائل کو ہوا میں بلند کیا اور ایک جھٹکے سے اسے ذمین پر دے مارا ۔ وہ موبائل کسی اچھی کمپنی کا تھا بھی نہیں لہذا کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا ۔

اس دن صرف موبائل نہیں تھا جو ٹوٹا تھا بلکہ اس دن زمل کا اپنے بابا کے ساتھ مان کا جو رشتہ تھا وہ بھی ٹوٹ گیا تھا ۔

” مجھے آئیندہ اس لڑکی کے ہاتھ میں یہ خرافات نظر آئی تو میں اس کے ہاتھ تو توڑدوں گا ۔ ساتھ تمہارے پاوں بھی توڑ دوں گا تحریم ! تمہارے کہنے پر میں نے اس کو یہ لے کر دیا تھا ….. ایسی ہوتی ہیں اچھے گھروں کی لڑکیاں….“ زمل نے ایک نظر ان ٹوٹے پرزوں کو دیکھا اور اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی ۔ اس عزم کے ساتھ کہ آئیندہ کبھی رفیق صاحب کو مخاتب نہیں کرے گی ۔

یہ اس دن کے ایک ہفتے کی بات ہے جب وہ رات میں کمرے میں سونے آئی تو تکیے کے نیچے سے “زوں زوں ” کی آواز پر چونک گئی ۔ اس نے تکیہ ہٹا کر دیکھا تو وہاں ایک خوبصورت سا موبائل تھا ۔ زمل تو اسے دیکھ کر سکتے میں آگئی ۔ دوڑ کر نیچے تحریم کے پاس آئی ۔

” ماما میرا موبائل ۔۔۔۔“ وہ حسبِ معمول باورچی خانے میں ہی تھیں جب زمل نے پوچھا ۔

” زمل میری جان …… تمہارے بابا کا غصہ ختم ہونے میں نہیں آرہا ۔ میں ابھی ان کو نئے موبائل کیلیے نہیں کہہ سکتی ۔“

زمل کئے لمحے ٹکٹکی باندھے تحریم کو دیکھتی رہی پھر بولی ، ” نہیں ماما مجھے موبائل نہیں چاہئیے ۔ ویسے بھی پیپرز قریب ہیں ۔ آپ بابا سے مت کہیے گا ، ابھی ضرورت نہیں ۔“

یہ کہہ کر وہ اوپر کمرے میں آگئی ۔ آکر دروازہ اچھی طرح سے بند کیا ۔ بیڈ پر آگئی ۔ اب موبائل وائبریٹ نہیں کر رہا تھا ۔ اس نے اپنے ہاتھ میں موبائل پکڑا اور اسے دیکھنے لگی ۔ ابھی وہ اس کو پلٹ کر دیکھ ہی رہی تھی کہ وہ پھر سے وائبریٹ کرنے لگ گیا ۔ زمل نے ڈرتے ڈرتے کال اٹھا لی ۔

وہ ” زی” کی کال تھی وہ اس سے پوچھ رہا تھا کہ وہ کیسی ہے ؟ اس کو بتا رہا تھا کہ اس نے پلمبر کے ہاتھوں موبائل وہاں رکھوایا ہے (زمل نے یقین بھی کر لیا) وہ اسے بتا رہا تھا کہ زمل سے ایک ہفتہ بات نہ کر کے وہ بے سکون رہا تھا ۔ اور اس وقت زمل کو وہ اپنا سب سے بڑا غم گسار لگا ۔

آج بھی الماری سے موبائل نکالتے ہوئے زمل کو وہ پہلی رات یاد آئی جب اس کو موبائل دیا گیا تھا ۔ زمل نے مسکرا کر موبائل آن کیا تو ڈھیروں تحریری اطلاعات کو اپنا انتظار کرتے پایا ۔ جو کہ اس بات کی گواہ تھیں کہ “زی” اس سے کافی ناراض ہے ۔ زمل نے کال ملائی تو دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا گیا ۔

” السلام علیکم ! “ زمل نے بہت خوشگوار موڈ میں کہا تو زی کو تو آگ ہی لگ گئی ۔

” کیا مطلب السلام علیکم ؟ اتنے دنوں کے بعد تم نے کال کی ہے اور میں جو کہ مرنے کے قریب ہوں اسے تم سلامتی کیسے بھیج سکتی ہو ….اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہو زمل ؟“ زی کا زمل کو نام سے بلانے کا مطلب تھا کہ وہ اس سے ناراض ہے ورنہ وہ اسے کہتا ہی “چندا ” تھا ۔ زمل نے کئی مرتبہ منع بھی کیا تھا لیکن وہ کہتا کہ مجھے یہ نام پسند ہے میں تو یہ ہی کہوں گا ۔

” زی ! آپ کو پتا ہے کہ میرے فائنلز تھے ۔“ زمل نے بہانہ گڑھا ۔

” میرے خیال سے زمل بی بی آپ کے امتحان تین دن پہلے ختم ہو چکے تھے ۔“ زی بھی باخبر تھا ۔ جب وہ اس کے گھر میں فون رکھوا سکتا تھا تو امتحانات کی آخری تاریخ پتا کروانا تو بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔

” ام م م وہ ….. دراصل……“ زمل سے بہانہ نہیں بن پا رہا تھا ۔

” جھوٹ مت بولنا زمل ۔“ زی نے وارنگ دی ۔

” میں ماما کے ساتھ گاوں شادی پر گئی ہوئ تھی ، شادی چونکہ چچا ابو کے بیٹے کی تھی تو پھر ٹھہرنا پڑا ۔ موبائل پاس نہیں تھا ، لے کر جانا یاد نہیں رہا ۔“ زمل نے اقرار کر ہی لیا ۔

” پورے سات دن کیلیے ۔“ زی کو ابھی بھی یقین نہیں آیا ۔

” ہم…..“ زمل نے آہستہ سی آواز میں کہا ۔

” اچھا چلو پھر تصویریں تو لی ہوں گی نہ ؟“

” جی !“ زمل نے جیسے ہی کہا ، کہہ کر پچھتائی ۔

” چلو پھر دکھاو مجھے……“ ساتھ ہی زی نے وہ فرمائش کر دی جس سے وہ بچنا چاہتی تھی ۔

” آپ جانتے ہیں زی ………. “ زمل نے آہستہ سے کہا ۔

” کیا……؟“ زی جانتا تھا لیکن اس کے منہ سے بار بار سننا اچھا لگتا تھا ۔

” میں پردہ کرتی ہوں ۔“ ہلکی سی معصوم آواز میں اس نے دفاعی پُل باندھا ، جانتی تھی یہ کام کر جائے گا ۔

” میں جانتا ہوں ۔“

” پھر بھی بار بار پوچھتے ہیں ۔“ زمل نے گلہ کیا ۔

” کیونکہ مجھے بار بار سننا اچھا لگتا ہے ۔“

زمل خاموش ہی رہی ۔

” تم حجاب کیوں کرتی ہو چندا ؟“ ( چندا کہنے کا مطلب تھا کہ اب وہ ناراض نہیں ہے لیکن آج سے پہلے اس نے ایسا سوال نہیں کیا تھا )

زمل نے سوچنے کیلیے چند لمحے لیے اور بولی ۔

” میں حجاب اس لیے کرتی ہوں تاکہ میں خود کو اس کے احترام کے نتیجے میں باحیا رکھ سکوں ۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی میری طرف بری نگاہ سے دیکھے یا نہیں ، کیونکہ بہت بار ایسا ہوا ہے کہ آپ نقاب کر کے بھی لوگوں کی غلیظ نگاہوں سے محفوظ نہیں رہ پاتے ۔ لیکن میں صرف اپنی نظر کی حفاظت کی جوابدہ ہوں…..“

” اور جب میں حجاب کر کے باہر جاتی ہوں تو خود بخود نظریں جھک جاتیں ہیں ، کیونکہ اگر میں حجاب کر کے بھی اپنی نظر کی حفاظت نا کر پاوں تو مجھے لگتا ہے کہ دہرا گناہ ہو گا ، ایک پردے کی بےحرمتی کرنے کا اور دوسرا نگاہ کی حفاظت نہ کرنے کا ۔“ اور آج بھی ہر مرتبہ کی طرح زمل نے زی کو خاموش کروا دیا ، وہ واقعی کئی لمحے بول نہ سکا ۔

” تم اچھی لڑکی ہو زمل ، اب سو جاو ، اچھی لڑکیاں زیادہ دیر تک جاگا نہیں کرتیں ۔“ زمل نے مسکرا کر ہاں میں ہاں ملائی اور فون رکھ دیا ۔ زمل نے فون تو رکھ دیا لیکن کافی دیر تک یہ سوچتی رہی کہ اسلامی بنیادوں پر لیے جانے والے ملک کی زیادہ تر شادیوں میں حجاب قبول کیوں نہیں کیا جاتا تھا ؟ وہ حال ہی میں جس شادی سے لوٹی تھی بلا شبہ وہ ایک گاوں میں تھی لیکن وہاں پر بھی دوپٹے کو سر کی زینت بنانے کی بجائے گلے کا ہار بنایا جا رہا تھا…….اور بات صرف یہاں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ جب تک حجابی لڑکیوں کو طنز بھری کی نگاہوں سے دیکھ نہ لیا جائے یا ان کی حجاب پر سوال نہ کر لیا جائے خود کو ماڈرن خیال کرنے والی لڑکیوں کا مقصد پورا نہیں ہوتا ….. اور تو اور افسوس زیادہ ان لڑکیوں کے حصے میں آتا ہے جو حجاب لینا صرف اس لیے چھوڑ دیتی ہیں کہ ”لوگ کیا کہیں گے؟“

اور اس معاملے میں زمل رحماء کو بھی قائل نہیں کر پائی تھی ۔

یہ ان کی الوداعی تقریب کی بات تھی , جب رحماء سٹیج پر کھڑی الوداعی غزل پڑھ رہی تھی :

” سرِشام سورج کے ڈوبنے پر

آج عجب سی اداسی چھائی ہے

ہوا کے جھونکوں کی مانند

آج پھر تیری یاد آئی ہے

تم مانو یا نہ مانو میری دوستو

وجہ اداسی تیری جدائی ہے “

وہ چند لمحے رکی پھر بولی ، اب شاعرہ خنساء کی زبانی میں اپنی دوستوں سے کہنا چاہوں گی :

” بس اتنا ہی تھا ساتھ ہمارا

ناممکن سا لگتا ہے یہ

کہ

دوستی کو میں بھول جاؤں

وہ دن جب ساتھ تھے سارے

تھیں چھوٹی چھوٹی شرارتیں بھی

بے وفا نکلے کچھ دوست

چھوڑ کے تنہا بچھڑے کچھ دوست

بس یادیں ہیں اور اداس شام

یادیں بھی سرمایہ ہیں

بچھڑے کچھ دوستوں کی

باتیں بھی سرمایہ ہیں

باتیں بھی سرمایہ ہیں “

سارا ہال تالیوں کی گونج میں جھوم اٹھا ۔ رحماء نے دوبارہ آکر اپنی نشست سنبھالی ۔ وہ ہمیشہ سے غیر نصابی سرگرمیوں میں مہارت رکھتی تھی ۔ زمل نے بھی سر جھکا کر اسے داد دی ۔ جسے رحماء نے مسکرا کر وصول کیا ۔

زمل کو آج جو واحد بات پسند نہیں آئی تھی وہ یہ تھی کہ رحماء جس نے کالج کے چار سال سر سے دوپٹہ نہیں اتارا تھا آج بال کھولے پھر رہی تھی ۔ اور کئی اساتذہ اور وہاں کام کرنے والے بھی مڑ مڑ کر اسے دیکھ رہے تھے ۔

” رحماء ایک دوست ہونے کے ناطے میں تمہیں یہ بتانا اپنا حق سمجھتی ہوں کہ تم نے مجھے آج مایوس کیا ہے ۔“

” زمل میں نے جب یونس بھائی کی شادی پر سکارف لیا تھا تب سب نے کتنا مزاق اڑایا تھا ……. اس لیے آج میں نے …“ رحماء نے ہلکی سی آواز میں کمزور سی دلیل دی ۔ جس پر زمل تو غصہ ہی ہو گئی اور بولی ۭ، ” مطلب حد ہے کہ آپ شادیوں میں صرف اس لیے حجاب نا کریں کہ لوگ کیا کہیں گے ، اور کھلے بال اس لیے چھوڑ دیں کیونکہ لوگ کچھ نہیں کہیں گے …….. لوگ لوگوں سے ڈرنا کب چھوڑیں گے …..“

زمل نے اس سے زیادہ رحماء سے کچھ نہیں کہا ۔ بلکہ اس کے بعد اس سے ہلکی پھلکی باتیں کرتی رہی کیونکہ وہ اس خاص دن کو خراب نہیں کرنا چاہتی تھی ۔

***************

اگلی صبح زمل باورچی خانے میں ایک نئی ترکیب سے کباب بنا رہی تھی ، جب پلیٹ سجا لی تو شریر سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی ایک تصویر کھینچی کہ رات میں زی کو بھیج کہ اس کا دل جلائے گی اور پھر ساتھ ہی موبائل کو بند کر کے سویٹر کی اندرونی جیب میں چھپا لیا ۔ ابھی وہ پلیٹ لے کر اپنے دوپٹے سے بے خبر باورچی خانے سے نکلی ہی تھی کہ باہر لاونچ میں ہارون کو کھڑے دیکھا ، وہ ہمایوں کا دوست تھا اور اس سے کتاب لینے آیا تھا ، زمل کے ہاتھ میں کباب دیکھ کر بولا ، ۭ”زمل باجی آج گھر میں کوئی دعوت ہے کیا ؟“

تو وہ ہنس کر بولی ” نہیں ، نہیں دعوت تو نہیں ہے ۔ لیکن تم بڑے خوش قسمت ہو ، ادھر ہی رکو میں پلیٹ میں لے کر آتی ہوں ۔“

جب وہ دوبارہ باورچی خانے میں آئی اور دروازے پر لٹکا دوپٹہ دیکھا تو اپنی بے خبری پر خود کو جی بھر کے کوسا ، پھر دوپٹہ ٹھیک کر کے پلیٹ میں ہارون کے لیے کباب نکال کر اسے دیے اور اس کے کھانے تک وہیں بیٹھی رہی ، کیونکہ ابھی ہمایوں گھر پر نہیں تھا ، پھر جب وہ چلا گیا تو زمل بھی اپنے کمرے میں واپس جانے لگی کہ رفیق صاحب کی غصے سے بھر پور آواز نے اس کے قدم روک دیے ۔

” زمل !!!! “ زمل کا ہاتھ بے اختیار اپنی جیب پر گیا جس میں موبائل تھا ، وہ آج رفیق صاحب کے گھر پہ ہی ہونے سے بے خبر تھی ۔ وہ وہیں رک گئی ، پھر مڑی اور رفیق صاحب کو غصے سے سیڑھیاں اترتا دیکھ کر ان کی جانب بڑھی ۔

” بابا یہ چکھ کر دیکھیں ، میں نے کباب بنائے ہیں آج ہی دیکھے ۔۔۔۔۔۔“ زمل کی بات ابھی بیچ میں ہی تھی کہ رفیق صاحب نے ہاتھ مار کر پلیٹ گرادی ۔ جو کہ سیڑھیوں میں گرتے ہی چکنا چور ہو گئی ، زمل ابھی حیرانی سے ان کی طرف دیکھ ہی رہی تھی کہ انہوں نے ہاتھ ہوا میں بلند کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے زمل کے بائیں گال پر انگلیوں کے نشان چھوڑ گیا ، تکلیف کی لہر اس کے وجود میں سرایت کر گئی ۔

زمل نے بے اختیار اپنا ہاتھ گال پر رکھا جہاں اب اس کے آنسو ابل ابل کر گر رہے تھے ، رفیق صاحب کچھ بولتے کہ اس سے پہلے تحریم آگئیں اور انہوں نے زمل کو اپنی بانہوں کے حسار میں لے لیا ۔

” کیا کر رہے ہیں آپ ؟“ زمل پر اٹھتا ہاتھ دیکھ کر ان کا کلیجہ ہی کٹ گیا ۔

” پوچھو اپنی اس بے حیا بیٹی سےکیسے غیر مردوں کے سامنے دندناتی پھر رہی تھی وہ بھی بغیر دوپٹے کے ، کسی باہر والے نے دیکھا تو کیا کہے گا یہ تربیت دی ہے میں نے اپنی بیٹی کو ، میری محلے میں ایک عزت ہے ، میں کہتا ہوں رشتا دیکھو اس کا اور اپنے گھر کا کرو اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ وہ تو جانے اور کیا کیا بولتے لیکن تحریم بول پڑیں ۔

” میں سمجھا دوں گی اسے ، آپ ۔۔ آپ فکر نا کریں ۔ ” ” فکر نہ کروں ، میں تو جان سے مار دوں گا اسے اگر دوبارہ اس طرح دیکھا بھی تو ، اور تم ۔ تمہیں بھی ذندہ نہیں چھوڑوں گا میں ، تم نے ہی ایسی تربیت کی ہے اس کی ۔۔۔۔۔۔ “ زمل اس ساری گفتگو کے دوران خاموش سامع کا کردار ادا کرتی اپنے گال پر ہاتھ رکھی سسکیاں لیتی رہی ، تھپڑ کی تکلیف سے کہیں زیادہ تکلیف ان الفاظ کی تھی جو وہ اپنے لیے اپنے باپ کے منہ سے سن رہی تھی ، اور اسی غم و غصے میں اس نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے بابا سے ان کی عزت کا غرور اور تکبر چھین لے گی ، پھر چاہے اس کیلیے اسے کسی بھی حد سے گزرنا پڑے ۔