405.1K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Iffat Ki Pasbaan Episode 4

Iffat Ki Pasbaan by Raiha Mariyam

باہر قدم رکھا تو ویرانی نے اس کا استقبال کیا ۔ باہر کوئی گاڑی نہیں تھی ، بلا اختیار موبائل پر موصول ہونے والا پیغام دیکھا ۔

” گلی تنگ ہونے کی وجہ سے میری گاڑی نہیں آسکی ، میں بالکل گلی کے کارنر پر ہوں ۔ ۔ ۔ ۔“ زمل نے کوئی جواب نہ دیا ۔ وہ گلی کے آخر تک جانے کیلیے چل پڑی ۔ ہاتھ میں اٹھایا بیگ اسے اس وقت بہت وزنی لگ رہا تھا ، بار بار آنکھوں میں آنسو آجاتے جن کو وہ بڑی مشکل سے روکے ہوئے تھی ۔

ایک لمحہ بھی نہ سوچا کہ کسی ایسے شخص پر اعتبار کرنا ٹھیک ہو گا بھی یا نہیں جس کا اصل نام تک وہ جانتی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس وقت اپنی گلی اسے پل سراط جیسی لگی ، اپنی ساری زندگی وہ اپنی آنکھوں کے سامنے چلتی دیکھ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور صرف ایک سوال اس کے ذہن میں تھا ۔

” کیا وہ صحیح کر رہی ہے ؟“

گلی سے گزرتے وقت زمل کی نظر ایک بھکاری پر پڑی جو کے سنسان گلی میں ٹھٹھر رہا تھا ، ناجانے کیوں زمل کو اسے قریب سے دیکھنے کا اشتیاق ہوا ، زمل نے دو تین قدم اس بھکاری کی طرف بڑھائے تو معلوم ہوا کہ وہ بھکاری اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ اس کی چھ سات سالہ بیٹی بھی تھی جو کہ دنیا بھر کا سکون چہرے پر سمیٹے ایک گندی سی چادر میں ارد گرد سے بے خبر مزے سے سو رہی تھی ، زمل ناجانے کتنی دیر ان دونوں کو دیکھتی رہی ۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب وہ ایک مرتبہ بیمار ہوئی تو رفیق صاحب رات کے ڈھائی بجے اسے لیے سڑکوں پر پھرے تھے ، اسے وہ وقت بھی یاد آیا جب وہ سیڑھیوں سے گری تھی تو اس کے زخم دیکھ کر رفیق صاحب کی آنکھیں بھی آنسووں سے بھر گئیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آنکھیں تو زمل کی بھی برسنا شروع ہو گئی تھیں ، اور اب وہ ایک تلخ فیصلہ کر چکی تھی ۔اس کی سوچوں کے تسلسل کو موبائل فون کی زوں زوں نے توڑا ۔ اس نے اپنا موبائل سامنے کیا تو “زی کالنگ” لکھا آرہا تھا ۔ زمل نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل اٹھایا ۔

” چندہ تم کہاں ہو ؟ میں انتظار کر رہا ہوں ۔“ دوسری جانب زی کی پریشان آواز سنائی دی ۔

” زی ۔ ۔ ۔“ بمشکل بول پائی ۔

” زی ۔ ۔ ۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔“

” زمل تم ٹھیک تو ہو نا اور کیا گلی میں ہو ، میں آؤں ؟“ زی نے پوچھا ۔

” نہیں زی ، مت آنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں آسکتی ۔ ۔ ۔ ۔“ زمل نے رونا شروع کر دیا ۔ دوسری جانب خاموشی ہی رہی ۔

” زی مجھے بابا کی محبت نے روک لیا ، وہ میرے بابا ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں کیسے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیسے آسکتی ہوں ان کو دھوکا دے کر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے معاف کر دینا زی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن میں نہیں آسکتی ۔ ۔ ۔ ۔ آئی ایم سوری ۔ ۔ ۔ آئی رئیلی ایم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ دوسری جانب اب بھی خاموشی ہی تھی ۔

” زی !“

” ہاں ۔“

” کچھ کہو گے نہیں ؟“

” کیا یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے ؟“

” ہ ہ ہا۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔“ زمل رو دی ۔

” پھر رو مت ، پلیز مجھے تکلیف ہوتی ہے ، میں دعا کروں گا کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کہ تم جس کے ساتھ بھی رہو ۔ ۔ ۔ خوش رہو ۔“ زی کی آواز بھیگی ہوئی تھی ۔ زمل کو لگا جیسے وہ بھی رو رہا تھا ۔ وہ بمشکل کہہ پائی ۔

” اللہ حافظ ۔“

” اللہ حافظ ۔“ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمل نے فون بند کیا ، اس میں سے سم اور میموری کارڈ نکال کر توڑا ، وہ موبائل اس بھکاری کی جھولی میں ڈال دیا اور خالی ذہن لیے واپس پلٹ آئی ۔ اپنے گھر میں داخل ہوتے ہوئے اسے لگا جیسے پہلی مرتبہ وہاں قدم رکھ رہی ہو ۔

اندر آکر باہر کا دروازہ بند کیا ، ہمایوں کو اس کے کمرے میں دیکھا اور اپنے کمرے میں آگئی ، آہتسہ آہستہ قدم اٹھاتی وہ الماری کے پاس آئی اس میں بیگ رکھا ، واش روم سے وضو کر کے آئی اور جائے نماز بچھا لیا ۔ اس پر کھڑے اور نماز پڑھتے ہوئے زمل کو احساس ہوا کہ وہ زندگی میں پہلی بار نماز پڑھ رہی ہے ، جیسے اس کی زندگی شروع ہی اب ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جیسے پہلی زندگی ایک سراب تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمل کو اپنی ساری زندگی کبھی نماز پڑھتے رونا نہیں آیا تھا نہ ہی کبھی دعا کے دوران آنسو اس کی آنکھوں سے چھلکے تھے لیکن وہ اس کی پہلی نماز تھی ، جس میں آنسووں سے اس کی آنکھیں خشک نہ ہوئیں ۔ وہ پہلی نماز تھی جس میں وہ ہچکیوں سے روئی اور وہ پہلی دفعہ تھا جب دعا مانگتے ہوئے زمل کے آنسو برابر کے شریک تھے ۔

” الله ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الله ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے سکون دے دیں ۔ ۔ پلیز الله ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتی میں نے جو کیا ۔ ۔ ۔ ۔ جو میں ابھی کر آئی وہ ٹھیک تھا یا نہیں ، میں نہیں جانتی وہ بھکاری ، اس کی بیٹی ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سب آپ کی طرف سے کوئی اشارہ تھا یا ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتی کہ میں نے آج ہی اس کو وہاں کیوں دیکھا ۔

الله مجھے سکون دے دیں ، میرے اندر برپا طوفان کو تھما دیں ۔“ زمل کی ہچکیاں دعا میں رکاوٹ بن رہی تھیں لیکن اس وقت وہ الله کے نزدیک پسندیدہ دعا کے طریقوں میں سے ایک اپنائے ہوئے تھی ۔

” الله مجھے اس گناہ کیلیے معاف کر دیں جس کا میں نے ارادہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الله میرا پردہ رکھیئے گا ، الله زی کی محبت کو میرے دل سے نکال دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پلیز الله ۔ ۔ ۔ ۔ پلیز مجھ سے ایسے نہیں جیا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔مجھے سکون دے دیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“ اور اسی طرح آنسو بہاتے ہوئے وہ سجدے کی حالت میں سو گئی ۔

اگلی شام تحریم اور رفیق صاحب آئے تو زمل کو بخار میں تپتا ہوا پایا ، تحریم تو صحیح معنوں میں پریشان ہو گئیں ۔ زمل کو ہاسپٹل میں داخل کرنا پڑا ، تین دنوں کے بعد اس کی حالت کچھ سمبھلی ۔ اتنے میں صبور شاہ اور ان کے گھر والوں کی طرف سے بھی رشتہ منظور ہو گیا ، انہوں نے اتوار کی شام کو رفیق صاحب کو اپنے گھر کھانے پر بلوا لیا ۔ زمل اس سب کے دوران خاموش سامع کا کردار ادا کرتی رہی شاید اسے سکون مل ہی گیا تھا ، تحریم نے اس خاموشی کو اس کی ذندگی میں آنے والی تبدیلی سمجھا اور ان کو امید تھی کہ زمل شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گی ۔

***************

اس وقت وہ سب لوگ صبور شاہ کے گھر کھانے پر مدعو تھے ، تحریم ضارون کے بالکل سامنے تھیں اور رفیق صاحب اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ تحریم کو ضارون بہت پسند آیا تھا ، وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے رفیق صاحب کی کسی بات کا جواب دے رہا تھا جب زارا بولیں ،” ہم اتنی لیٹ آپ لوگوں کو آگاہ کرنے پر معذرت خواہ ہیں ، دراصل پچھلے ہفتے ضارون کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا ، جیسے ہی اس کی حالت بہتر ہوئی ہم نے آپ سے رابطہ کیا ۔“ اتنے میں رفیق صاحب بولے ، ” نہیں معذرت والی تو کوئی بات نہیں ہے ، اس طرح کے کاموں میں دیر سویر تو ہوہی جاتی ہے ۔“

”ضارون بیٹا ! اب آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟“ تحریم نے ضارون کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ۔

” الله کا شکر ہے پہلے سے بہتر ہے ، بس ٹانگ میں وقفے وقفے سے درد ہوتا ہے لیکن پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے ۔“ ضارون نے سلجھے ہوئے لہجے میں جواب دیا ۔

” اب زمل کی طبیعت کیسی ہے تحریم ؟ بخار ٹھیک ہوا اس کا اب ؟“ زارا نے تحریم سے پوچھا تو ضارون کی آنکھیں زارا سے ہوتے ہوئے تحریم تک آئیں ان آنکھوں میں پریشانی تھی جسے تحریم نے جواب دیتے ہوئے محسوس کیا ۔

” اب زمل بہت بہتر ہے ، اس دن گھر میں صرف وہ اور ہمایوں تھے ، ڈر گئی تھی وہ اس لیے بیمار پڑ گئی ، دراصل اکیلے رہنے کی عادت نہیں ہے اسے ۔“ تحریم نے انہیں تفصیل سے آگاہ کیا ۔ ہمایوں ضارون کی چھوٹی بہن کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا ۔ ضارون کی بہن کا نام ہنال تھا وہ میڈیکل کے پہلے سال میں تھی ۔

” بھائی آپ ہمایوں کو پیرٹس دکھا لایں گے ؟“ ہنال نے ضارون سے پوچھا جو کہ اب پریشان دکھائی دے رہا تھا ، اس نے ہمایوں کو دیکھا جو کہ اسے ہی دیکھ رہا تھا تو مسکرا کر اضطراب کم کرنے کی کوشش کی اور ہمایوں کو لے کر باہر چل دیا ۔

” ضارون کو طوطے پسند ہیں کیا ؟“ رفیق صاحب نے صبور صاحب سے پوچھا ۔

”پہلے تو نہیں تھے لیکن یہ پچھلے پانچ مہینوں سے ہی شوق ہوا ہے اسے ، بہت لگاؤ سا ہو گیا ہے ہم سب کو ہی ان سے ۔“ صبور صاحب نے بتایا ۔ پھر اس کے بعد ضارون اور زمل کے نکاح کی تاریخ طے کی گئی ، کیونکہ رفیق صاحب کے نزدیک منگنی کی کوئی شرعی حیثیت نا ہونے کی وجہ سے انہوں نے صاف صاف کہا کہ وہ لوگ نکاح کریں گے ، اس بات کو صبور صاحب نے بھی سراہا ۔

طے ہوا کہ اگلے ہفتے دونوں کا نکاح کر دیا جائے اور پھر اس کے ایک مہینے کے بعد رخصتی کی تاریخ بھی طے کر دی گئی ۔ جب تحریم گھر آئیں تو وہ مطمئن تھیں کہ ان کی بیٹی بہت اچھے لوگوں میں بیاہ کر جارہی ہے ۔

گھر آکر وہ سب سے پہلے زمل کے کمرے میں گئیں ۔ وہ بیڈ پر بیٹھی ڈائری لکھ رہی تھی ۔ اس کے پاس جا کر اس کا ماتھا چوما اور اپنے ساتھ لگا لیا ۔ زمل کو لگا کہ شاید رشتے سے انکار ہو گیا ہے ، امید کی ایک کرن سی جاگی ۔

” میری زمل تو اب بس کچھ ہی ہفتوں کی مہمان ہے یہاں ، زمل بیٹا میرا یقین کرو وہ لوگ بہت اچھے ہیں ، خاص طور پر ضارون مجھے بہت پسند آیا ہے ۔ دونوں طرف سے رضامندی کے بعد تمہارے بابا نے کہا کہ جلد شادی کرنی ہے تو وہ بھی بولے کہ کوئی اعتراض نہیں ہے ۔“ زمل چپی کا کلمہ پڑھے ان کے ساتھ لگی رہی ۔

” زمل اگلے ہفتے تمہارا نکاح ہے ۔“ زمل نے سر اٹھا کر تحریم کو دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

” پھر اگلے مہینے کی سات تاریخ کو رخصتی ہے ۔“ اب کی بار زمل باقائدہ ان سے لپٹ کر رونا شروع ہو گئ ۔ تحریم نے بمشکل اسے چپ کروایا ۔

” آپ آج یہاں میرے پاس سو جائیں ماما پلیز ۔“

ۭ” میں کپڑے بدل کر آتی ہوں ۔“ وہ جب چلی گئیں تو زمل نے ڈائری دراز میں رکھ دی اور سر پیچھے ٹکا کر آنکھیں موند لیں ۔

” الله مجھے دل سے اس رشتے کو قبول کرنے کی ہمت اور توفیق عطا کر دیں ۔ ۔ ۔ آمین ۔“ دل ہی دل میں وہ یہ دعا کرتی کب سو گئی اسے پتا نہیں چلا ۔

**************

نکاح کا فنکشن ایک میرج ہال میں ترتیب دیا گیا تھا ۔ لڑکے والوں کی طرف سے تو بہت سارے مہمان تھے لیکن لڑکی والوں کی طرف سے صرف زمل کے گھر والے اور زمل کے ایک ماموں تھے ۔ زمل برائیڈل روم میں لمبی سی آف وائیٹ کام والے بڑے گھیرے والی میکسی میں نہایت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ، آج سے پہلے اتنا میک اپ نا کرنے کی وجہ سے بھی اس کے حسن میں بہت نکھار آیا تھا ۔ لیکن اس کا دل اتنا ہی ویران تھا اور یہی ویرانی آنکھوں سے چھلکتی ہوئی اس کے چہرے کو مزید دلکش بنا رہی تھی ۔

نکاح کے وقت زمل کو لگا اس کا دل بند ہو جائے گا ، لیکن جب اس نے ” قبول ہے” کہا تو کچھ نہ ہوا ۔ دستخط کرتے وقت زمل کے ہاتھ کانپ رہے تھے ، لیکن دستخط بھی ہو گئے ۔ اب سب لوگ ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے ، کسی نے زمل کو گلے لگایا تو کسے نے ماتھا چوما ، لیکن وہ خالی ذہن لیے وہیں چپ چاپ بیٹھی رہی ۔ آہستہ آہستہ سب لوگ باہر چلے گئے کیونکہ مہمانوں کیلیے کھانے کا انتظام دیکھنا تھا ، جبکہ ہنال کمرے میں زمل کے پاس ہی رک گئی ۔

” زمل بھابھی ! بھائی آج اتنے خوبصورت لگ رہے تھے کہ ہال میں آنے سے پہلے تک تو میں شیور تھی کہ آج میرے بھائی سے زیادہ اچھی کسی کی پرسنیلیٹی نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن آپ کو دیکھنے کے بعد تو مجھ پر عیاں ہوا کہ بھائی تو حسن میں پیچھے رہ گئے آپ سے ۔ ۔ ۔“ ہنال کی باتوں پر زمل بےاختیار مسکرا دی ، ” والله آپ مسکراتے ہوئے بہت خوبصورت لگتی ہیں ، اسی طرح مسکراتی رہا کریں ۔” زمل کو سمجھ نہ آئے کہ وہ اب کیا کہے تو بولی ”شکریہ ۔“

” پتا کیا بھابھی ! ضارون بھائی نے آپ کی تصویر دیکھی تو کہا بس ڈیڈی لڑکی آپ نے کر لی پسند اب جلدی سے شادی کر دیں میری ۔ آپ کے بابا نہ کہتے تو ڈیڈی نے جلدی شادی کا کہہ دینا تھا ، اور دیکھو تو بھائی کو ۔ ۔ ۔ مجھے تصویر نہیں دکھائی تھی ، بولا کہ براہ راست دیکھنا ۔“

زمل کی مسکراہٹ ایک دم مانند پڑ گئی ۔

” اور دیکھیں اب مجھے کہہ رہے ہیں کہ کمرے سے باہر آو ۔ ہنہ ۔“ ہنال نے منہ پھلا کر کہا ۔

” کیوں ۔ ۔ ؟“ زمل نے بمشکل آواز نکالی ۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی ، زمل سیدھا ہو کر بیٹھ گئی ، جبکہ ہنال آنکھوں میں شرارت لیے دروازے کی طرف آئی ۔

” کون ہے ؟“ ہنال نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا ۔

” ہنال دروازہ کھولو میں ہوں ۔“ زمل نے ضارون کی گھمبیر آواز سنی ۔

” میں تو کسی “میں” کو نہیں جانتی ۔ نہ ہی میرا کوئی دوست “میں” ہے ، نہ ہی فیملی میں۔ ۔ ۔“

” ہنال اب کھول بھی دو دروازہ لوگ دیکھ رہے ہیں ۔“ ضارون کی آواز سے غصہ چھلکنے لگا ۔

” نہ نہ بھائی ، پہلے اتنی پیاری بھابھی کی تصویر نہیں دکھائی اور اب بھی ٹھیک سے ملنے نہیں دیا ۔“ ہنال نے کسی غصے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کہا ۔

” ہنال مل تو لیا ہے اپنی بھابھی جان سے ، اب جاکر کھانا کھاؤ ۔“ ضارون نے لفظ بھابھی جان پر زور دیا ۔

” بھائی جان ہم یہاں کھا چکے ہیں ۔“ ہنال نے بھی اسی طرح لفظ جان پر زور دیا ، جس پر ضارون کا ہلکا سا قہقہ سنائی دیا ۔

” اچھا بتاؤ کہ کیا کروں تو آنے دو گی اندر ؟“ ضارون نے جیسے ہار مانتے ہوئے کہا ۔

” آپ پہلے پرمٹ دکھائیں ۔“ ہنال نے ہنسی دبائے کہا ۔

” ہنال میری جان ، میرے خیال سے ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھ غریب کا ہی نکاح ہوا ہے ۔“ ضارون نے ہنسی دبائے کہا ۔

”کیا ثبوت ہےآپ کے پاس ۔“ ہنال نے اسے مزید تنگ کرنا چاہا ۔

” ثبوت تو اس وقت ڈیڈ کے پاس ہے ، بلکہ تمہارے ساتھ کمرے میں جیتا جاگتا ثبوت بھی ہے ۔“ ضارون کا اشارہ سمجھتے ہوئے ہنال نے قہقا لگایا جبکہ زمل کا دل سینہ پھاڑ کر باہر آنے کی تیاریوں میں تھا ، وہ چاہ کر بھی مسکرا نا سکی ۔

” اچھا چھوڑیں ثبوت کو ایک ڈیل کرتے ہیں ۔“ ہنال نے نئی تجویز دی ۔

” بولو ۔” ضارون بھی گھٹنے ٹیک چکا تھا ۔

” ایک ڈائمنڈ نیکلیس ۔“ ہنال نے فرمائش کر ڈالی ۔

” تم اب زیادہ مہنگی نا پڑو ۔“ ضارون نے مصنوعی خفگی سے کہا ۔

” ٹھیک ہے اگر آپ کو بھابھی سے نہیں ملنا تو ۔ ویسے آج آف وائیٹ میں وہ لگ کمال کی رہی ہیں ۔“ ہنال نے مزید تنگ کیا ۔

” ڈائیمنڈ نیکلس کے ساتھ ایک رنگ بھی ،اب خوش ۔“ جیسے ہی ہنال کی فرمائش ڈن ہوئی کلک کی آواز آئی اور ضارون کے قدموں کی آواز سنائی دی ۔ زمل کو لگا کہ اس کا دل بند ہونے کو ہے ۔ وہ اس وقت برائڈل روم کے صوفے پر بیٹھی تھی ، ضارون کے اندر آنے پر وہ مزید سکڑ گئی ، ضارون نے آنکھ کے کونے سے منظر دیکھا اور محظوظ ہوا ۔

ۭ” بھابھی آپ گواہ رہئیے گا بھائی کے اس وعدے کا ۔“ ہنال نے اتنا کہا اور باہر چل دی ۔ اس کے جانے کے بعد ضارون نے دروازہ لاک کیا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا زمل کے عین سامنے کھڑا ہو گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔. چند لمحوں کی خاموشی کے بعد زمل نے ایک آواز سنی جس کو سننے کے بعد اس کی دنیا تھم گئ ، یہ وہ آخری آواز اور الفاظ تھے جن کو سننے کا تصور وہ آج کر سکتی تھی ۔

” السلام علیکم چندا !!!!“