Iffat Ki Pasbaan by Raiha Mariyam NovelR50430 Iffat Ki Pasbaan Episode 3
Rate this Novel
Iffat Ki Pasbaan Episode 3
Iffat Ki Pasbaan by Raiha Mariyam
تحریم کے پہلو سے نکل کر زمل چلتی ہوئے اپنے کمرے تک آئی ، اندر آکر اس نے موبائل نکالا اور زی کو کال ملائی ، اس وقت اس کا دماغ بالکل کام کرنا چھوڑ چکا تھا ، دوسری ہی بیل پر زی نے فون اٹھا لیا ۔
” زہے نصیب ، آج سورج کہیں جنوب یا شمال سے تو نہیں نکل آیا کیونکہ خبر تو قیامت سے بھی بڑی ہے ۔“ زی اپنی ہی دھن میں بولے جا رہا تھا اور زمل کا دل کیا کہ ساری دنیا تھم جائے اور وہ بس اسی کی آواز سنتی رہے ،وہ یوں ہی بولتا رہے ۔
ۭ” زمل ! تم فون پر ہو ، زمل ! ۔ ۔ ۔ ۔؟“ اب وہ صحیح میں پریشان ہوا کیونکہ وہ کچھ بول ہی نہیں رہی تھی ۔
” ہ ہ ہ ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زی ۔“ زمل نے روتے ہوئے اتنا کہا ، کیونکہ اس تھپڑ کے ساتھ کہے گئے جملوں کی تکلیف کم ہو ہی نہیں رہی تھی ۔
” چندہ ہوا کیا ہے ؟ اور اور تم رو کیوں رہی ہو ؟ کیا ہوا ہے ؟“ جب دوسری طرف سے کوئی جواب نا ملا تو وہ پھر بولا ۔ ” زمل ! خدارا کچھ تو بولو ، کیوں میری جان سولی پر اٹکا رہی ہو؟ ۔۔۔۔۔ زمل !!!!“ اب کی بار زمل بولی ”میں جینا نہیں چاہتی زی ، مجھ تک کوئی بہت اچھا زہر بھجوا دو پلیز۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔“
” بکواس بند کرو اپنی ، خبردار آئیندہ جو کبھی اپنی جان لینے کی بات سوچی بھی تو ، ہوا کیا ہے بتاو مجھے ۔“ اچھا خاصہ ڈانٹ کر وہ آخر میں نرم ہو گیا ۔
” زی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ بابا ۔ ۔ ۔ ۔ بابا نے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتی تحریم دروازہ ناک کیے بغیر اندر آگئیں ، زمل نے دیکھا تو گڑبڑا کر موبائل تکیے کے نیچے رکھ دیا ۔
” زمل بات کیا ہوئی ہے ، اور تمہارے بابا اتنے غصے میں کیوں گئے ہیں ؟“ تحریم نے زمل کا گھبرانا نوٹ نہیں کیا اور اس کے پاس آکر بیٹھ گئیں ۔
” زمل ! کچھ بتاؤ گی مجھے کہ نہیں ؟ کون ہے وہ لڑکا ؟ کس لڑکے کی بات کر رہے تھے رفیق ؟“ لیکن ان کے سوال پر اس کا ضبط جواب دے گیا اور وہ دھاڑ کر بولی ، ”وہ لڑکا !! لڑکے کا پوچھ رہی ہیں امی ۔ آپ !! یہ آپ پوچھ رہی ہیں تو سنیں وہ لڑکا ہارون تھا ۔“
” ہارون !!؟“ تحریم بھی حیران رہ گئیں ۔
” جی ہاں ہارون ، ہمایوں کا دوست ، میرے چھوٹے بھائی جیسا ہے وہ امی ۔ ۔ ۔ ۔ اور جان بوجھ کر نہیں گئی تھی میں وہاں بلکہ وہ میرے سامنے آگیا تھا ، جب پتا چلا کہ دوپٹہ باورچی خانے میں ہے تو لے لیا تھا میں نے ۔ ۔ ۔ لیکن نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ امی ایک کام کریں ۔ ۔ ۔ خدارا ۔ ۔ ۔ خدارا مجھے زہر دے دیں ۔“ تحریم نے آگے بڑھ کے اسے سینے سے لگا لیا تو اس نے ان کو جھٹک دیا ۔
” نہیں چاہیئے یہ سب مجھے ، مجھے آپ کی ندامت بھی نہیں چاہیئے ، امی نہیں رہا جاتا اب مجھ سے اس طرح ، پہلے تو وہ صرف بے جا روک ٹوک کرتے تھے اور میں صرف یہ سوچ کر کہ وہ بابا ہیں میرے ، کچھ نہیں کہتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن امی اب بس ۔ ۔ ۔ ۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میں بے حیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے کیا کیا ہے امی ۔ ۔ ۔ ۔ ؟“ زمل روتے ہوے ان کے ساتھ لگ گئی ۔
” مجھے میرا گناہ بتا دیں ۔۔۔۔۔ مجھ سے ایسے گھٹ گھٹ کے جیا نہیں جاتا ، میں آپ کے اور لوگوں کے سامنے خوش رہنے کی اداکاری کر کر کے تھک چکی ہوں ، مجھے اس طرح کی زندگی نہیں چاہیے ۔“
انہوں نے زمل کو خود سے الگ کیا ، اٹھیں اور دروازہ بند کر کے نیچے چلی گئیں ، حقیقت میں آج وہ بھی اپنی بیٹی سے نظریں نہیں ملا پارہی تھیں ۔ جب وہ چلی گئیں تو زمل اٹھی اور آکر دروازے کو کنڈی لگا کر دوبارہ بیڈ پر آگئی ۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل نکالا تو جس بات کا ڈر تھا وہ ہی ہوئی ، زی نے فون ڈِسکنیکٹ نہیں کیا تھا ۔ مطلب کہ وہ زمل اور تحریم کی ساری باتیں سن چکا ہے ۔ اور اب اس نے ڈرتے ڈرتے فون کان سے لگایا ، دوسری طرف وہ زمل کے سانس لینے سے پہچان گیا کہ یہ زمل ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چند لمحوں کے بعد زی کی آواز گونجی ۔
” مجھ سے شادی کرو گی چندا ؟“
**************
زمل کو تو جیسے اب چپ سی لگ گئی تھی ، سب کام وہ اُسی طرح کرتی جیسے پہلے کرتی تھی ، لیکن وہاں کے رہنے والے زمل کی آواز سننے کو ترس گئے ۔ وہ زی سے بھی بات نہیں کر رہی تھی ۔ رفیق صاحب تو حسبِ معمول اپنی زندگی میں گم تھے لیکن زمل کی چپ کو انہوں نے بھی محسوس کیا تھا ۔ مگر وہ ازلی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔
سچ بات تو یہ ہے کہ والدین کا اعتماد اولاد کے کردار کی بلندی کیلیے ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ زیادہ تر جو بچے بغاوت کرتے ہیں ان میں اکثریت اپنے والدین کے بےجا رویے کی وجہ سے یہ انتہائی قدم اٹھاتی ہے ۔ لیکن اس کے برعکس جو والدین اپنی اولاد کو یہ حوصلہ دیں کہ ہاں ان کو اپنے بچوں پر اعتماد ہے تو پھر وہ اولاد بھی اپنی ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ ان کی وجہ سے ان کے والدین کا سر شرم سے نا جھکے ۔
لیکن رفیق صاحب جیسے والد یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آج کا دور ان کے دور سے قطعی مختلف ہے ، آج کے دور میں بچوں پر سختی کرکے ان کو دبانا بہت مشکل کام ہے ۔ عقلمندی تو یہ ہے کہ والدین اپنے اور اپنی اولاد کے درمیان دیوار کو گرا دیں اور ان کیلیے اپنے وقت میں سے وقت نکالیں ، ان کی زندگی کی ترجیحات کو سمجھیں اور پھر ان کی راہنمائی کریں ۔
**************
” آپی مجھے یہ والا سوال بھی کروا دو ۔“ ہمایوں دسویں کی حساب کی کتاب لے کرصوفے پر خاموش بیٹھی زمل کے پاس آیا ، تو اس کی سوچوں کا تسلسل توٹا ۔
” ا۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ دکھاو ۔“ ہمایوں نے کتاب اور کاپی اس کے سامنے رکھی اور اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ زمل نے جب سوال سمجھا دیا تو بولی ، ”اب اس مشق کے باقی تین سوال کر کے دکھاو مجھے ۔“
” جی اچھا ۔ پتا ہے کیا آپی ؟“ ہمایوں نے کتابیں اپنی گود میں رکھتے ہوئے کہا ۔
” کیا ؟“
” ہارون کہہ رہا تھا کہ اس دن جو کباب آپ نے بنائے تھے وہ بہت مزے کے تھے ، اگر دوبارہ بنائے تو ان کو ضرور بلوائیے گا ۔“ یہ سن کر زمل کا زخم پھر سے ہرا ہو گیا ۔ پھر سے رفیق صاحب کے الفاظ ذہن میں گردش کرنے لگ گئے ۔ جب اس کی آنکھیں بھیگ گئیں تو اٹھ کے باورچی خانے میں چلی آئی ۔
تحریم جو ابھی باورچی خانے میں آئیں تو اس کو وہاں کھڑے آنسو بہاتا دیکھا ۔
” زمل میری جان آخر کب تک اس طرح رہو گی ، اب شاباش اپنا موڈ ٹھیک کر لو ۔“ تحریم نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے کہا ۔
” میں ٹھیک ہوں ماما ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے گندے برتن دھونا شروع کردیے ۔
” زمل تمہارے لیے تمہارے بابا کے دوست کا رشتہ آیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔“ زمل کا برتن دھوتا ہاتھ تھما ، اور اس نے تحریم کی جانب دیکھا ۔
” اور انہوں نے ہاں کر دی ہے ، وہ لوگ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہفتے کی شب کو آئیں گے تمہیں دیکھنے ۔“ تحریم نے جب اپنی بات مکمل کی تو زمل کے ہاتھوں سے صابن لگی پلیٹ پھسل کر گر گئی ۔ چند لمحے وہ ان کی آنکھوں میں دیکھتی رہی کہ شاید ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کہہ دیں کہ میں مزاق کر رہی ہوں ۔ لیکن اس نے ان کی آنکھوں میں چھپی سچائی اور دکھ دیکھ لی ۔ ۔ ۔ ۔ پھر وہ ہنسی تو ہنستی ہی چلی گئی ، تحریم نے پریشانی سے اسے دیکھا ، ہنستے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
” زمل میری بچی ۔ ۔ ۔ میری جان ۔ ۔ ۔ ۔“ انہوں نے آگے ہو کر اسے اپنے ساتھ لگانے کی کوشش کی تو زمل نے جھٹک دیا ۔
ۭ” ماما مت کریں ایسا ۔۔۔ خدارا ایسا مت کریں ۔ مجھے کسی گائے بھینس کی طرح زبح مت کریں ، بلکہ ہاں ذبح کردیں لیکن ایسا سلوک مت کریں ۔ بابا نے ۔ ۔ ۔ مجھ سے پوچھنا تو بہت دور ۔ ۔ ۔ ۔ خود بتانا بھی گوارہ نہیں کیا ۔“ زمل ہچکیوں سے رو دی ۔
” زمل میری جان ! تمہارے بابا کہہ رہے تھے وہ بہت اچھے لوگ ہیں ۔ بہت بڑا گھر ہے۔ ۔ ۔ ۔ تم بہت خوش رہو گی وہاں پہ ۔“ زمل نے حیرت سے تحریم کی جانب دیکھا ، چند لمحے اپنے آپ کو قابو میں لانے کیلیے لیے پھر بولی ” ماما کافی دن پہلے میں نے ایک بیان سنا تھا : جب حضرت علی حضرت فاطمہ کا رشتہ لے کر آئے تو یہ جانتے ہوئے کہ رشتہ پہلے ہی آسمان پر بن چکا ہے ، آپؐ نے ہاں نہیں کی ، بلکہ کہا ان شاءاللہ ، اور اٹھ کر فاطمہ کے پاس آئے اور کہا “بیٹی علی رشتہ لے کر آیا ہے تو کہے تو ہاں کر دوں ؟” ماما کاش کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کاش کہ ۔ ۔ ۔کچھ نہیں ، آپ یہاں میری رائے لینے نہیں آئی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ابھی کیلیے پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔“ تحریم تو باورچی خانے سے باہر آگئیں لیکن زمل نے اگلا قدم اٹھانے کے متعلق سوچ لیا ۔ زمل کمرے میں آئی تو الماری میں سے موبائل نکال کر کافی دیر تک اسے دیکھتی رہی ، جو قدم وہ اٹھانے کا سوچ چکی تھی اس کو پائہ تکمیل تک پہنچانا آسان کام نہیں تھا ۔
گھر چھوڑ کے جانے کی جو ازیت ہے اسے وہی محسوس کر سکتا ہے جو اس پر سے گزرا ہے ۔ اور جو ایسا قدم اٹھاتے ہیں ان کے خلاف فتووں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں سوچا کہ آخر ایسے کیا حالات تھے ، ایسی کیا پریشانی تھی ، ایسی کیا مجبوری تھی جس نے بچی کو یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ۔لڑکی کے اپنے گھر میں ایسے کیا حالات تھے کہ اس نے باہر کی ننگی بھوکی دنیا کو ترجیح دی ، حقیقت یہ ہے کہ جب ہم تصویر کے دونوں رخ دیکھنا شروع کر دیں تو وہ لوگ جن سے ہم نفرت کرتے ہیں ان میں سے آدھے ہماری محبت کے حقدار ٹھہریں گے ۔
زمل نے دھڑکتے دل کے ساتھ زی کا نمبر ملایا ، بیل جا تو رہی تھی لیکن کوئی اٹھا نہیں رہا تھا ۔ زمل کی دھڑکن ہر گزرتی بیل کے ساتھ تیز ہوتی جارہی تھی ، آخرکار چھٹی بیل پر فون اٹھا لیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دونوں کئی لمحے کچھ بول ہی نہ پائے ، یہ اس دن کے بعد اب ان کی پہلی گفتگو تھی ۔
ۭ” زی!“ زمل نے بڑی ہمت کر کے بولا ۔
” بولو چندا ۔“ اور زمل بتا نہیں سکی کہ اس لفظ نے اسے کتنی ہمت دی تھی ۔
” زی ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے یہاں نہیں رہنا ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اب اس گھر میں نہیں رہنا ۔ ۔ ۔ ۔ مجھ سے ۔ ۔ ۔ ۔ مجھ سے نہیں ۔ ۔ ۔“ زمل زاروقطار رونا شروع ہوگئی ۔
” زمل ! ۔ ۔ ۔ ۔ میں کوئی لمبی چوڑی بات نہیں کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔ میں تمہارے ساتھ مخلص ہوں ۔ میں جھوٹ نہیں بولوں گا شروع میں میں نے تمہیں اپنے صرف اپنے لیے تفریح کا سامان سمجھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ میں خود حیران ہوں کہ آخر میں تم سے بات کئے ، تمہاری آواز سنے اور تمہاری خیریت جانے بغیر بے سکون کیوں رہتا ہوں ۔“
زمل منہ پر ہاتھ رکھے اس کو سن رہی تھی ، وہ اس لمحے خود کو کسی اور ہی جہان میں محسوس کر رہی تھی ، جیسے اس کی سانس لینے کی آواز سے بھی وہ طلسم ٹوٹ جائے گا ۔
” زمل میں ۔ ۔ ۔ ۔ میں تم سے بہت محبت کرنے لگا ہوں ، اگر ایک دو دن تک تمہاری کال نہ آتی تو میں خود کر لیتا ۔ میں یہ جان کر بہت کرب میں ہوں کہ تم وہاں پر خوش نہیں ہو ، اگر تم کہو تو میں اپنا رشتہ بھجواوں ؟” زی نے پوچھا تو زمل گھبرا گئ کہ کیا کہے ۔
” زمل؟“
” زی ! بابا کبھی بھی نہیں مانیں گے ، وہ میرا رشتہ اپنے کسی دوست کے بیٹے کے ساتھ کر چکے ہیں۔“
” زمل !! میں اگر کہوں کے میرے ساتھ چلو ؟“
” کہاں ؟“
” اس سب سے بہت دور ۔ میں جاب کرتا ہوں ، ممی اور ڈیڈ اگر ناراض ہوئے بھی تو زیادہ دیر تک نہیں رہیں گے ، وہ جلد ہی مان جائیں گے ، ہم کسی دوسرے شہر میں شفٹ ہو جائیں گے یا کسی دوسرے ملک میں ۔۔۔ زمل ۔۔۔ تم سن رہی ہو نا چندا؟“
” ہاں ۔“
” تم چلو گی ؟“
” پتا نہیں ۔“ کتنی ہی دیر خاموشی چھائی رہی ، پھر زی نے کہا ، ”زمل یہ فیصلہ بہت بڑا ہے ، میں جانتا ہوں ، لیکن تم ایک مرتبہ سوچ لو پھر بتا دینا ۔“
”جی ۔“
”زمل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری طرف سے تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہو گی اس کی گارنٹی میں خدا کو گواہ بنا کر دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ( زمل کی آنکھوں میں آنسو آگئے ) مجھے تمہارے فیصلے کا انتظار رہے گا ۔“ یہ کہہ کر زی نے فون بند کر دیا اور زمل نے آنکھیں بند کر کے سر پیچھے کو لگا دیا ۔ زندگی کس دوراہے پر لے آئی تھی اسے ۔
**************
” زمل میں نے تمہارے رشتے کی بات کی تھی نا ، آج وہ لوگ تمہیں دیکھنے آرہے ہیں شام کو ، تمہارے بابا بھی وہیں پر ہوں گے ۔“ تحریم نے ہفتے کی صبح آکر اسے بتایا ، اس وقت وہ اپنا بستر درست کر رہی تھی ۔ جب زمل کی جانب سے کوئی جواب نہ ملا تو وہ پھر سے بولیں ، ” وہ لوگ تو لڑکے کو بھی ساتھ لانا چاہ رہے تھے ، تاکہ بچے ایک دوسرے کو جان لیں لیکن تمہارے بابا نے منع کر دیا ، وہ کہہ رہےتھے کہ پہلے ماں باپ پسند کر لیں تو پھر لڑکا بھی مل ہی لے گا ۔“ زمل نے حیرت سے اپنی ماما کی کی طرف دیکھا جو ایسے ظاہر کر رہی تھیں جیسے زمل نے خود کہا ہو کہ وہاں پر اس کی شادی کی جائے ۔
” ماما کیا ان کو منع کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ؟“ زمل نے جواب سے آگاہی ہوتے ہوئے بھی سوال کر ڈالا ۔
” زمل ! بچے ان سے مل تو لو ، ہو سکتا ہے وہ لوگ اچھے ہوں ۔۔۔۔۔“
” ماما میں جان گئی کہ وہ کتنے اچھے ہوں گے ، آخر پسند جو بابا کی ہے ۔“ وہ استہزانیہ ہنسی ۔
” آج تم اپنا وہ میرون سوٹ پہن لینا جو اپنی پارٹی پر پہنا تھا ۔“
” جی ٹھیک ۔“ زمل یہ کہہ کر پھر سے کام کرنے میں مصروف ہو گئی ، تو تحریم بھی نیچے باورچی خانے چلی آئیں ۔ زمل نے جب تصدیق کر لی کہ اب وہ دوبارہ نہیں آئیں گی تو اس نے موبائل نکال کر زی کو میسج کیا ۔
” میں آؤں گی ۔“
توقع کے عین مطابق اسی وقت جواب آگیا ۔
” میں کس آوں لینے ؟“
” آج ۔“
” آج ؟“ تصدیق کرنا چاہی ۔
” ہاں آج رات میں ، شام میں لوگ مجھے دیکھنے آرہے ہیں ۔ ان کے جانے کے بعد ماما اور بابا کو خالہ کی برسی میں شرکت کیلیے مظفر آباد جانا ہے ۔ تقریباً دس بجے میں باہر آجاوں گی ۔“ زمل نے اسے ساری ترتیب بتائی ۔
” ٹھیک دس بجے تمہارے گھر کے باہر ایک سفید کورولا موجود ہو گی ۔ میں انتظار کروں گا ۔“ زی نے بھی ہامی بھر لی ۔
”زی ؟“
” ہاں ۔“
” مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔“ زی کو لگا جیسے کوئی معصوم سا بچہ اندھیرے سے ڈر گیا ہو ۔
” ابھی ڈر لگنا فطری ہے ، میں کوشش کروں گا کہ اس ڈر کو کم کرنے میں تمہارا بھر پور ساتھ دوں ۔“ زی نے اسے تسلی دی ۔
” زی ؟“
” ہاں ۔“
” آج تو اپنا پورا نام بتا دیں ؟“ زمل کو وہ وقت یاد آیا جب پہلی بار وہ اس کے نام پوچھنے پر بولا کہ اس کا نام زی ہے تو وہ جی بھر کے حیران ہوئی ۔
” یہ میرا نک نیم ہے مجھے اچھا لگتا ہے کہ تم مجھے اس نام سے بلاو ۔“
زی بلا اختیار ہنسا پھر جواب دیا ۔
” اب نکاح کے وقت ہی بتاؤں گا ، رات تک کا انتظار کرو ۔“
اور زمل بھی مسکرا دی ، کافی دنوں بعد سہی لیکن آج وہ پر سکون تھی ۔
*************
شام میں جب وہ لوگ اسے دیکھنے آئے تو وہ خاموشی سے تیار ہو کر ان کے درمیان بیٹھ گئی ۔ اس نے کسے بھی چیز میں دلچسپی نہ دکھائی ، نہ ہی تب جب زارا ( لڑکے کی ماں) نے اسے اپنے ساتھ لگایا اور بولیں ، ” بھئی بھائی صاحب میں نے اپنی بہو نہیں بلکہ بیٹی چن لی ہے ، آج ہی ضارون کو سرپرائز دیں گے کہ اس کی ہونے والی بیوی مل گئی ۔“
نہ ہی تب جب صبور شاہ نے اس کے ہاتھ پر چند ہزار ہزار کے نوٹ رکھ دیے تو اس نے منع کرنا چاہا لیکن مزاہمت کام نہ آئی ۔ پھر جب صبور شاہ نے اسے اپنے پاس بٹھاتے ہوئے یہ پوچھا، ” زمل یہ رشتہ آپ کی مرضی سے تو ہو رہا ہے نا ؟“
تو یک دم زمل کے ہاتھ پاؤں پھولنا شروع ہو گئے ، وہ اس سوال کی توقع نہیں کر رہی تھی لہذا اس نے جھوٹ بولنے سے بہتر وہاں سے اٹھ کر اندر چلے جانا زیادہ مناسب سمجھا ۔ اپنے پیچھے اس نے رفیق صاحب کی آواز سنی ، ”زمل کی رضامندی شامل ہے اس رشتے میں ، تحریم نے خود پوچھا تھا اس سے ، تبھی تو یوں شرما گئی ہے ۔“
ان لوگوں کے جانے کے بعد رفیق صاحب اور تحریم بھی مظفر آباد جانے کیلیے تیار ہونے لگے ۔ زمل ہی ان دونوں کو دروازے تک چھوڑنے آئی ، رفیق صاحب نے اس کے سر پر پیار دیا جو کہ اس بات کی نشانی تھا کہ اب وہ اس سے ناراض نہیں ہیں ۔ وہ بے اختیار تحریم سے لپٹ کر رو دی ( شاید آج کے بعد آپ سے کبھی نہ مل سکوں ) انہوں نے اسے خود سے پیار سے الگ کیا اور اس ماتھے پر بوسہ دیا اور بولیں ، ” بہادر بنو ، ہمایوں ساتھ ہی ہے تمہارے ، اسے دیکھ لینا رات میں ڈر جاتا ہے ، اور ہم لوگ کل شام تک آنے کی کوشش کریں گے ۔“ انہوں نے محبت سے دوبارہ زمل کو ساتھ لگایا اورٹیکسی میں بیٹھ گئیں جہاں رفیق صاحب پہلے ہی ان کا انتظار کر رہے تھے ۔ اس کے بعد زمل کا دل بھر آیا ۔ ناجانے کس طرح وہ اپنے کمرے تک گئی پھر جاکر ایک بیگ نکالا ، اس میں چند عام سوٹ رکھے ، ایک ڈائری ساتھ لی اور ایک بڑی سی چادر لیے باہر آگئی ( کسی بھی قسم کی رقم یا جیولری ساتھ لانے سے زی نے سختی سے منع کیا تھا ) ۔
گھر کی دہلیز پر قدم رکھے تو وہ من من کے محسوس ہوئے ۔ ایک آخری نگاہ اپنے گھر پر ڈالی اور پھر باہر قدم رکھ دیا ۔
