Husan E Nikah by Haadi Khan NovelR50689 Husan E Nikah (Last Episode)
Rate this Novel
Husan E Nikah (Last Episode)
Husan E Nikah by Haadi Khan
“اٹھیں بشری…”ذیشان کی دھیمی سی آوازبشری کےکانوں میں پڑی تو اس نے آہستہ سےآنکھیں کھول دیں
“اٹھ جائیں فجرکاوقت ہو گیاہے…”
“آپ کیسے اٹھ گئے آج…” بشری مندی مندی آنکھوں سے پوچھنےلگی
“وہ میں نےروزہ رکھنا ہے…”ذیشان اپنی آستین چڑھاکربولا
“روزہ…روزہ کیوں؟” بشری نےحیرت سے وضاحت مانگی
“مجھےاک فضیلت کا معلوم ہوا ہے…”
“وہ کیا!” بشری نےجمائی
“وہ یہ کہ انسان کو اگر گناہوں سےبچناہو اوراچھا مسلمان بننا ہوتو روزہ رکھنا چاہیے…”ذیشان بشری کےمقابل بیٹھ گیا
“دونوں کام اک چیزسے کیسے…”بشری ناسمجھی سے بولی
“روزہ انسان کو عبادت کی طرف لاتاہے اوراگرانسان جھوٹ بولنے لگےتو روزے کےخیال سےنہیں بولے گا اوربھراس طرح وہ ہر برے کام سے پرہیزکرےگا، بس روزے کی حالت میں تسبیح نماز اورمسواک ہوتو انسان کی عبادت ایسےہی بن جاتی ہے…”
“واہ ذیشان اب توآپ میرے ٹیچربن گئے ہیں، بہت اچھی بات ہےیہ تو…” بشری خوش ہوکر بولی
“مختصر یہ کہ روزہ نفس کوتوڑدیتاہے…”
“بے شک”
“بس بشی! سب تمہاری وجہ سےہوا…” ذیشان کے لہجے میں تشکرتھا
اس سےپہلے بشری کچھ بولتی ذیشان نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا
“یہ سب کچھ صرف اورصرف آپ کی وجہ سے ممقن ہوا بشری!ورنہ میں اس قابل کہاں تھا، میں آپ سےوعدہ کرتاہوں آپ جیسا مجھے دیکھنےکی خواہش کرتی ہیں ہیں میں ویسابننے کی پوری کوشش کروں گا”ذیشان تشکر سےبولتاگیا
“یہ تومیری قسمت میں لکھاتھاکہ ہم دونوں اک دوسرے کی اصلاح کرے کے کامل ہوجائیں”بشری نے کہا
“جی بہتر…”
“میں ابھی تک اس پارک والی بات میں اٹکاہواہوں، یہاں توسارانظام ہی الٹا ہے…”ذیشان نے زمین کی طرف دیکھتےہوۓکہا
“بالکل صحیح کہا آپ نے، ہم نے ہمارے معاشرے نے نکاح کو بہت مشکل اور مہنگا بنادیا ہے…”بشری نے افسوس سےکہا
“ہاں یہی تومجھے سمجھ نہیں آتاایساکیوں ہے…”
“ذیشان ہم سب بھٹکے ہوۓہیں، جب اس پاک ذات نےرزق کاوعدہ کیاہوا ہے تو ہم پھرکیوں پہلے رزق جمع کرتے کرتے ہیں اورپھر نکاح کرتے ہیں…
“حضرت علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو اللہ کے دیےگئے تھوڑے رزق پر راضی ہوگیا، قیامت کے دن اللہ اس کے تھوڑے اعمال پربھی راضی ہوجاۓگا” بشری نے اک خوبصورت حوالہ دیا
“سبحان اللہ…!” ذیشان نےاونچی آواز میں کہا
“جیساکہ اب قرآن پاک میں بھی ارشاد باری تعالی ہے کہ
“”اورجس وقت نکلتےہیں اپنےآشیانوں(گھونسلوں)سے تو ان کےپیٹ خالی ہوتے ہیں اور جب شام کو واپس آتے ہیں تو ان کے پیٹ بھرےہوتے ہیں، اپنے لئےبھی روزی کھاآتے ہیں اوراپنےبچوں کیلئےبھی ساتھ لےکرآجاتے ہیں، حالانکہ کوئی پرندہ اپنے ساتھ روزی لےکرنہیں چل رہا، فرمایا اسےدیکھ کرتم سمجھ لو کہ اللہ پاک روزی رساں ہیں”” بشری نےآیت کاترجمہ پڑھ کر سنایا
ذیشان مبہوت سابشری کو دیکھ رہاتھا
“یہاں سب سےبڑا مسئلہ اس سے یہ ہوتاہے کہ لوگوں نےنکاح کومشکل بنادیا ہےجس سے ذنا عام ہوگیاہے اگرہم نکاح کوعام کریں گےتو ذناخودبخود ختم ہوجاۓگا…”بشری بولتی گئی اور ذیشان کی ٹھیک سےتسلی کروائی
“ذیشان اسکاچہرہ غور سےدیکھ رہاتھا
ذیشان آپ نے اس لڑکی کے کپڑوں پر غور کیا تھا کیا…..
اللہ پاک ناراض ہوتا ہے جب عورت اپنی نمائش کرتی ہے مرد کو خود ہی اپنی طرف بلاتی ہے تنگ لباس پہننے کا کیا مقصد ہے یہی کے لوگ دیکھیں آج کل کی نوجوان لڑکیاں ڈوپٹے کو گلے کا پھندا سمجھتی ہیں اور وہ یہ بھول چکی ہیں انکو یہ عبایا یہ حجاب ہی انمول بناتا ہے……..بشرا ایک سانس میں بولتی گئی.
“کیاہواایسےکیوں دیکھ رہے ہیں…”بشری اس کی محویت پر ہنس پڑی
“دل کرتاہےتمہارےپاس بیٹھارہوں اور تمہاری باتیں سنتارہوں…”ذیشان عشقیہ اندازمیں بولا
“اچھا اب میں وضو کرکے آتی ہوں…”
“ہاں جلدی جائیں میں تب تک جاۓ نماز بچھاتا ہوں”
ذیشان نے اک طرف ہوکر بشری کو سہارادےکر اٹھایااور پھرخودجاۓ نماز بچھا کربشری کاانتظار کرنےلگا.




























“ہاں ایسے کریں…کتناعرصہ ہوگیاہےبھلا؟”
آرتھوپیڈک سرجن نےہاتھ جانچتے ہوۓکہا
“13 دن ہوچکے ہیں ڈاکٹر صاحب!”ذیشان نے جواب دیا
“بھرتوبہت بہترہے، پلاسٹر کھول دیتے ہیں اب…” ڈاکٹرکی راۓسن کربشری کےطوطےاڑگئے..
“جی بہتر…”ذیشان بولا
دروازے پردستک ہوئی
“ہاں آجاؤ…”ڈاکٹر نے اجازت دی، دروازہ کھلاتو سفیدیونیفارم میں ملبوس اک نرس اندرآئی_
“وہ پلاسٹرکاٹنےوالی مشین اورباقی سارےایکویپمینٹس نکال کے رکھ دو…”ڈاکٹر نےنرس کو ہدایت کی بشری بوکھلاسی گئی اس کارنگ پیلاپڑگیا
ذیشان نےبشری کی جانب دیکھاتو اس کےہلتے ہونٹ دیکھ کرمسکرادیا
“کیاپڑھ رہی ہو…”اس نے ہاتھ سے اپنی جانب متوجہ کیا
“ذیشان مجھےڈرلگ رہاہے کہیں میراہاتھ ہی نہ کٹ جاۓ…”وہ خوفزدہ تھی
“کچھ نہیں ہوتابشی! میں ہوں ناتمہارے پاس…”ذیشان نے ہاتھ پکڑکر تسلی دی تو بشری کو ڈھارس ہوئی_
“آپ یہاں آکر اس سٹول پر بیٹھ جائیں…” ڈاکٹر نے بشری کو ہدایت دی.
ڈاکٹر نے مشین آن کی اور پلاسٹر پر رکھی تو اک تیز آواز آئی اورپلاسٹر دھواں سا ہوکرکٹ گیاتو بشری کی جان میں جان آئی کیونکہ کارنگ ذردپڑا ہواتھا خوف سے_




























وہ دونوں نمازپڑھ کر اک دوسرےکودیکھنےلگے
“ہم کل آپکاپلاسٹرکھلوانے جائیں گے…”
“کیوں کل کیوں، ابھی تو کل 13 دن ہوں گے…”بشری نے پریشانی سےکہا
“ہاں ناتو اب کھلوانےکاوقت ہوگیاہے…”
ذیشان نے اسکاہاتھ تھام کرکہا
“اگرپھرٹوٹ گیاتو…؟” بشری اندیشے کے پیش نظر بولی
“کیاآپ کولگتاہےکہ اللہ میری دعارد کرےگا…” ذیشان نے معصوم بن کر کہا
“توکیاآپ یہ دعامانگتےرہے ہیں…؟”
“جی ہاں بالکل، اورکل آپ
ان شاءاللہ ٹھیک ہوجائیں گی…”ذیشان کےلہجےمیں یقین بول رہاتھا
“اگراتنایقین ہےتو پھراسی خوشی میں میری اک خواہش بھی پوری کریں…” وہ مان سے بولی
“جی ہاں ویسے میں ابھی پوچھنےہی والاتھا…”ذیشان نےاس کی ہاں ملاتے ہوۓسرہلایا
“مجھے اسی سال آپ کے ساتھ حج پرجاناہے…”بشری نےخواہش کااظہار کیا
“جی جی کیوں نہیں ہم ضرور جائیں گے اور اسی سال ہی جائیں گے…” ذیشان خوشی میں بولا
“یہ میری بھی شدت سے خواہش تھی میں آپ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کا سفرکروں اور میں ہماری یہ خواہش ضرور پوری کروں گا ان شاءاللہ…”ذیشان نے یقین دلایا
“اللہ نےمیری ساری دعائیں سن لیں، بس اک رہ گئی ہے…”
“وہ کیا”
“یہی کہ جنت میں بھی آپکاساتھ چاہیے…”
“جی جی ان شاءاللہ ہم ادھربھی ساتھ ہی ہونگے…”ڈیشان پختہ یقین سے بولا
“ذیشان جو لوگ طلاق دیتے ہیں، یاخلع لیتے ہیں یاپھراپنی بیویوں کومار کر ان پرظلم کرتے ہیں، وہ درحقیقت اس رشتہ سے ناواقف ہوتے ہیں، وہ اس کی خوبصورتی سے نابلد کہلاتے ہیں…” بشری نے شک دورکیا.
“ہاں یہ بات بھی درست کہی آپ نے، اب دیکھیں نا شادی کے 3 ماہ تک میں
بھی سمجھ نہیں پایا اس پاک بندھن کو، مگر اب اچھےسےواقف ہوگیا ہوں، بس جب اللہ جب چاہے ہدایت فرماۓ” ذیشان نے بشری کی بات سےاتفاق کرتے ہوۓکہا
“اب توسب ٹھیک ہوگیانا، تو اب مت سوچیں وہ سب…”
“مگرمیں نےکیاکچھ بھی نہیں آپ کوبراتولگاہوگا…” ذیشان کے انداز میں شرمندگی تھی
“ذیشان عورت کادوسرانام صبرہے، عورت صبرکے احساس سےمالامال ہے، اللہ کابہت بڑا کرم ہے یہ، اگر عورت صبرکرناچھوڑ دےتو دنیاکےآدھے سےذیادہ رشتے اسی وقت ٹوٹ جائیں …” بشری نے اس کو شرمندگی کےاحساس سے باہرنکالا
“جس دن عورت کےصبر کا پیمانہ لبریز ہوجاۓ اس دن یہ مقدس بندھن بھی ٹوٹ جاتےہیں، صبر کا دامن چھوڑ کرجس دن عورت مرد کےآگےبولتی ہے اس دس اس کودو انعام ملتے ہیں، پہلا مرد کا تھپڑ اور دوسرا جب وہ ننگے پاؤں اور بناچادر کےاپنے ماں باپ کےگھرجاتی تب اس کےپیچھے جو طلاق کاتحفہ بھیجاجاتاہے…”بشری افسوس سے بولتی گئی
اب کہ ذیشان بشری کاچہرا غور سےتک رہاتھا
“اگرکسی مرد کوبعد میں یہ احساس ہوکہ اس نے غلط کیاہے اور اپنی بیوی سےصلح کاارادہ رکھتاہو تو وہ اناکامارہ اپنی بیوی کے پیچھے کچھ لوگوں کو بھیجتاہے اس کو واپس لانےکیلیے اور الزام پھربھی عورت کو ہی ملتے ہیں چاہے کتنی ہی باوفاہو، اپنے منہ پرتھپڑ کےنشان ہوں یا گردن پر گلا گھونٹے کے عورت ہر ہر زخم کو سہہ کر دنیا سے چپھاکر پھرسے اپنے مرد کو سرتاج کہنا شروع کردیتی ہے…”بشری کی باتیں ذیشان بہت غور سے سن رہاتھا
“آپ کوپتاہےعورت کامان کب ٹوٹتاہے…”
“ہوں…؟” ذیشان نے ہنکارا بھرا
“جب وہ مردمیں کچھ نہیں دیکھتی نہ اس کی شکل نہ اس کی ذات سے وابستہ اچھی بری سرگرمیاں، نہ اپنے اندر کے خالی پن کو اور چپ چاپ ماں باپ بھائیوں کی عزت
کی چادر کوخود پہ لپیٹ کر کسی اور کے آنگن کو مہکانے کیلیے رخصت ہوجاتی ہے پھر اس گھر جاکر شوہرکے ماں باپ کو اپنے ماں باپ، بھائی کو اپنابھائے جیسا اور بہن کو اپنی بہن کی طرح عزت دیتی ہے ہزاروں جتن کرکے بھی عورت کو بہو ہی سمجھاجاتاہے ناکہ بیٹی …”
ذیشان کی آنکھیں اسکی باتوں پرکھلی رہ گئیں
“پھرجب اسی کاشوہر کسی اورکی باتوں میں آکر اپنی بیوی کوغلط سمجھتا ہے اس پر شک کرتاہے، مارکٹائی کرتا ہے وہی وقت ہوتاہے جب عورت کامان ٹوٹتاہے…”بشری کے آواز بھراگئی
“جب عورت کے منہ پرپڑتا ہے بظاہر تو نشان منہ پر پڑتاہے مگر عورت کی روح پرجو ذخم لگتے ہیں وہ اس سے ذندہ رہنے کا ہوصلہ چھین لیتےہیں، مگر وہ اپنی اولاد اپنی ماں باپ کی عزت کو سب برداشت کرلیتی ہے”بشری دکھ سے بولتی رہی اس کی آنکھوں سےآنسو بہہ رہےتھے.
“بشری مجھےتو یہ باتیں سن کرترس آتاہے ان بدقسمت مردوں پر جو اس رشتےکی خوبصورتی سے ناواقف ہیں…”ذیشان نے آہ
بھری
“بےشک نکاح تو محبت کرنا سکھاتاہے اور یہی اصل محبت ہی تو حسن نکاح ہے…”بشری نےآنسو صاف کیے
“بےشک…”ذیشان نے ہاں
میں سرہلاکرتائید کی.
“الحمداللہ اللہ ہمارے درمیان ایک دوسرے کے لیئے بہت ساری محبت پیدا کرےایک دوسرے کو سمجھنے کا شعور دے ہمیں ہمیشہ ایک ساتھ خوش رکھے”….آمین… ذیشان نے بلند آواز میں دعا مانگی “الہی آمین ثم آمین”…. بشرا نے بھی محبت بھرے لہجے میں جواب دیا..
