Husan E Nikah by Haadi Khan NovelR50689 Last updated: 17 May 2026
Rate this Novel
Husan E Nikah by Haadi Khan
"چلو چلتےہیں جوجولیناہے لے لینا"
"نہیں ذیشان مجھےکچھ بھی نہیں چاہیے ابھی توآپ لےکرگئے تھےمجھے" بشری نےانکارکردیا
"یہ کیابات ہوئی بھلااب..."ذیشان کےماتھےپربل پڑ گئے
"سب لڑکیاں توشاپنگ کا نام سن کر ایسے خوش ہوتی ہیں جیسے شدید بھوک میں کھانا کھلنےکا اعلان ہو" ذیشان نے ہنس کرکہا
"افسوس ہے ان عورتوں پر جوفضول خرچےپر خوش ہوتی ہیں، ان کو چاہیے جو مل جاۓ اس پرقناعت کریں اور جو نہ ملےاس پرصبرکریں..."بشری نے آہ بھر کرکہا
"مگرکیا شوہراگراپنی مرضی سےلےجاناچاہے تو اس کومنع کر کے ناراض کرنا چاہیے...؟"ذیشان اداس سے لہجےمیں شکوہ کرنے لگا
"نہیں میرا یہ مطلب تو نہیں تھااب، مگرجو چیز میسرہوتو مزید لےکر کیا کرنا ہے..." بشری فضول خرچی سےپرہیز کرتی تھی
"شایدپھرآپ نے وہ حدیث نہیں سنی ہوگی..."ذیشان بولا
"کون سی..."
"میاں بیوی پرخرچ کرنا"
"میرے علم میں نہیں"بشری نےکہا
"ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اک دینار وہ ہےجوتم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اک دینار وہ ہےجس سےتم نے اک غلام آزادکروایا، اک دیناروہ ہےجوکسی مسکین کو تم نے صدقے کےطور پر دیا، اک دیناروہ ہےجو تم نےاپنی بیوی پرخرچ کیا، ان میں سے سب سے ذیادہ اس دینارکاہے جوتم نے اپنی بیوی پرخرچ کیا_(مسلم)" ذیشان نےپوری حدیث بیان کی_
"واہ ذیشان ماءشااللہ سے آپ کےپاس توبہت علم ہے..."بشری پہلےتو حیران سی رہ گئی پھر اس نے ذیشان کو کھلے دل سے سراہا
"توآپ کوکیالگتاہےمجھے بس روائیتی مردوں کی طرح 4 شادیوں کےاحکام ہی یادہونگے...؟"ذیشان نے منہ پھلاکرکہاتوبشری کی ہنسی نکل گئی
"نہیں نہیں اب میں نے ایسابھی نہیں کہا"وہ اپنی ہنسی روکتےہوۓبولی
"اچھاچلیں یہ بتائیں مرد کو4 شادیوں اور عورت کو صرف اک کاہی حکم کیوں ہواہے، برابری کیوں نہیں ہے..."ذیشان کےسوالوں کی کتاب کھل چکی تھی
"یہاں پر اسلام نےیہ حکم اس لئےدیاکیونکہ دنیامیں عورتوں کی تعداد مردوں سےذیادہ ہے اور اس کی دوسری اہم وجہ یہ کہ اگر عورت بھی اک وقت میں مردکی طرح دو شادیاں کرتی تو بربادی ہوتیں..."
"بربادی کیسی...؟"
"اگرعورت دوشوہر رکھتی اک وقت میں تو اپنے بچے کو نام کس کا دیتی کیونکہ مرد کو بچے کی ماں کا پتاہوتاہے مگرعورت کو بچے کےباپ کا کیسے پتاچل سکتاہے اس طرح نسلیں، وراث خراب ہوتی اور یہ مسئلہ بہت بڑا ہوتاپھر..."
"درست کہابےشک اسلام ایک کامل دین ہے..."ذیشان نےتفصل سےآگاہ کیاتو بشری کےمنہ بےاختیارنکلا
"اور مجھے فخرہے تم جیسی بیوی پر..."وہ اظہار تشکرسے بولا
"اور مجھے بھی کہ آپ جیسا بیوی کو سمجھنے والاشوہر میرانصیب ہے... بشری نے بھی پرسکون ہوکر کہا
"اچھاچلوپھر چلتےہیں میری خوشی کی خاطرہی سہی..."ذیشان نےاک بار پھر منانےکی کوشش کی
"اچھاجی میں عبایہ پہن کرآتی ہوں پھر..." بشری اسکی محبت کےآگےہارگئی
"جلدی آناتیاریوں میں نا لگ جانا..."ذیشان نے آواز دے کر کہا
"اچھا جی میں بس ابھی آئی..." بشری کہہ کر کمرے میں چلی گئی
"بھائی دوآئسکریم تو دینا ذرا.."ذیشان نے آئسکریم کے ٹھیلے کےپاس موٹر بائیک روکی
"کون سی والی بھائی..؟" ٹھیلے والے نےپوچھا
"کون سی سی ہیں..؟ذیشان نے مینیوپوچھا
"کارنیٹو، اومورکاچاکلیٹ فلیور، قلفہ، فیسٹ اور میگنم..." ٹھیلے والے پیشہ ورانہ انداز میں فلیورز گنواۓ
ذیشان بشری کودیکھنےلگا "مجھےکیادیکھ رہے ہیں آپ کوجوپسند ہے لےلیں..." بشری نے بات اسی پر ڈال دی
"بھائی دوکارنیٹو دے دو..." ذیشان نےکہااور پیسےدےکردونوں اک قریبی پارک میں آکربیٹھ گئے
بینچ پربیٹھ کر ذیشان نے بشری کو اک کارنیٹو تھمائی
"کھالو اب کیاٹھنڈاہونے کاانتظارکررہی ہو..."ذیشان نےاک دم بےاختیاری میں چاۓکا ذہن میں رکھ کرکہہ دیاتو یاد آنےپر دونوں ہنسنےلگ گئے
ذیشان نے بشری کو جانب اپناہاتھ بڑھایا اوراس کے ہاتھ کی طلب کی...
بشری نے شرماتے ہوۓ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا...
اب ذیشان کی انگلیوں نے بشری کےنرم و نازک ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں سمیٹ لیا...
وہ دونوں شادی کےبہت کم عرصے میں ہی اک دوسرےکی محبت میں گرفتارہونےلگےتھے
""محبت کرنےکیلئے "نکاح" جیسا جائز رشتہ ہوناضروری ہے، محبت تو اچھی ہی محرم کے لئے لگتی ہے، محبت کی خوبصورتی ہی اسی میں ہے کہ اس جذبے کووہاں بنایا جاۓ جہاں اس کا جائز حق ہو، محرم کی محبت میں ہی دلی سکون ملتاہے اور اللہ کی رضابھی اسی میں ہوتی ہے
