Husan E Nikah by Haadi Khan NovelR50689 Husan E Nikah (Episode 04)
Rate this Novel
Husan E Nikah (Episode 04)
Husan E Nikah by Haadi Khan
تیری محبت دی خاطر تن من وار دیاں گا
زمانہ جس دی مثال دےاتناپیار دیاں گا
توں اک واری میری زندگی چ آکےویکھ
میں تینوں اپنے دل داسارا گلزار دیاں گا
تیری زندگی دیاں سنسان راہواں نوں
اپنےپیار نال کر برگ و بہاردیاں گا
زندگی توں زیادہ تینوں پیار دے کے
تیرےاحساناں دابوجھ اتار دیاں گا









جی ہاں یہ سچ ہے ذیشان آپ آج کل کے دور میں دیکھ لیں نکاحجیسے رشتے کی سب سی بڑی کمزوری یہی ہے کے آج کل شوہر کام سے پانچ منٹ لیٹ آجائے تو بیوی گھر میں گھستے ہی سوال
کی بارش اس پر کر دیتی ہے…..
آپ خود سوچیں ایک انسان کب تک جھیلے گا کام سے تھکے ہوئے آئے اور اگے سوالوں کا بورا باندھا ہو اور اسکے کندھوں پر لاد دیا جائے….. بشرا بولتی گئی یہ تو شوہر گھر آ کر سکون کا سانس نہیں لے سکتا…… آج کل کی بیوی شوہر سے ایسے حساب مانگتی اور ایسے بات کرتی ہے جیسے وہ اسکی بیوی نہیں ماں ہع اور آج کل کی عورت صبر کھو چکی ہے ہماری تباہی اور بردبادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے آج کل کا شادی شدہ شوہر اپنی مرضی سے تو اپنے بھائیوں کی بہنوں کی غمی شادیوں میں کھل کر تاون بھی نہیں کر سکتا بیوی سے اجازت لیئے بغیر…..
ایک عورت کا کام گھر جوڑنا ہوتا ہے نا کے توڑنا….
ذیشان سوچتے سوچتے کہیں خیال میں ڈوب گیا…..
“مگر ایک اور جو میری یاداشت میں واقعہ آتا ہے”…..بشرا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا… “اچھا اور وہ کیا” “جب میری منگنی ٹوٹی تھی چاچو نے منع کر دیا تھا اپنے بیٹے کا رشتہ کرنے سے تو”….آنسو بشرا کی آنکھوں کی دہلیز پار کر چکے تھے…. “ارے رو کیوں رہی ہو پاگل خود ہی تو کہتی ہو میں اپکے لیئے پرفیکٹ ہوں پھر میں مل گیا تو اب ایسے کیوں کر رہی ہو”…. ذیشان نے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا…. “ذیشان رونا اس بات کا نہیں بلکہ رونا تو اس بات کا ہے کہ جب چاچو کو نہ کرنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ملا تو انھوں نے اپنی سگی بھتیجی پر وہ الزام لگائے جس سے بابا ٹوٹ سے گئے تھے”…. بشرا ذیشان کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی…. ذیشان نے سر پر ہاتھ پھیرا اور چپ کروانے کی کوشش کی…. تھوڑی دیر بعد بشرا سنبھل گئی اور ذیشان کو دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں بشرا کے لیئے ہمدردی تھی….. گونگی آنکھوں نے بول کر سہارا دیا تھا…. ذیشان نے آنسو بہا کر اسکے غم میں برابر کا شریک ہونے کی ضمانت دی…. بشرا پھر سے کہنے لگی…. “ابا نے گھر آتے ہی امی کو ڈانٹنا شروع کر دیا” “ناجانے کیا کچھ بول رہے تھے ایک گھنٹے تک مسلسل بولتے گئے”…. “شاید وہ بھائی جو ان سے بڑا تھا اسکے سامنے نہیں بول سکے اور اپنا غصہ انھوں نے امی پر اتارا یہ بڑے بھائی کے اپنی بیٹی پر لگائے الزام کا جواب نہ دے سکے اس لیئے بولتے گئے”…… “امی کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا”….. “میں اس واقعے کی چشمدید گواہ ہوں”….. “اور جب ابو نے چیخ چیخ کر کہا جواب دو تو امی نے کہا اس وقت آپ غصے میں ہیں میں کیا کہوں فلحال میں اپکو کچھ بھی کہوں چاہے وہ سچ ہو یا جھوٹ اپنے یہی سمجھنا ہے میں اپکو جواب دے رہی ہوں تو ابھی رہنے دیں صبح سب ٹھیک ہو جائے گا میں اپکو سب بتا دوں گی”….. “امی نے بہت معصومیت سے کہا تو ابو کس سارا غصہ ایک دم سے اتر گیا اور وہ خود سے نظریں چرانے لگے”…… ذیشان یہ سب سن کر ایک بار پھر لاجواب ہو گیا…..




























“دو جاۓنمازبچھائیں اس جانب قبلہ رخ ہے…”بشری نےقبلہ کی نشاندہی کی
“پتاہے…اب اتنابھی ناسمجھ نہیں ہوں…”ذیشان نےمنہ بناکر کہا
“اچھابتائیں نمازمیں کیا نہیں آتا آپکو…” بشری نے سنجیدگی سےبوچھا
“آتی ہےمجھےنماز میں نے ایسےہی کہاتھا، بس مجھ میں جوکمی ہےوہ پوری کریں آپ…”ذیشان نے جھکی نظروں سےکہا
“بس تو پھر کیا ہے کچھ تعلیمات ہیں وہ میں آپ کو سیکھا دوں گی”….. بشرا نے اپنی مسکراہٹ کو ہونٹوں تلے دبا لیا…. “مجھے سب سے پہلے نکاح کے بارے میں بتانا ہے آپ نے”…… ذیشان نے بات کو بڑھایا….. “نکاح کے بارے میں”!!! “مطلب میاں بیوی کے حقوق اور یہ سب کچھ جو اسلام ہمیں سیکھاتا ہے بیوی سے کیسا رویہ ہونا چاہئیے…. ذیشان جھکی نگاہوں سے معصومانہ انداز میں بولا..
“اچھا جی!آپ اب نماز پڑھیں پھرمجھےآپ سے کچھ مانگناہے”
پھردونوں نےاک ساتھ نیت باندھ کر تکبیرکےلئےہاتھ بلند کیے.
دونوں اک ساتھ رکوع و سجود کررہے تھے
اک شخص کے لئے اس کی ذندگی بھرکاخوبصورت عمل اس سےبڑھ کر کیاہوسکتاہےبھلا…
نماز پڑھ کردونوں نے اک ساتھ دعاکیلیے ہاتھ اٹھاۓ..
بشری کے من کی ساری خواہشات اب پوری ہورہی تھیں اس کی خوشی کی
کوئی انتہانہیں تھی..
وہ دعامانگتےذیشان کو تکتی جارہی تھی آج ذیشان کتنےعرصےبعد اپنے رب کی بارگاہ میں آیاتھا اس کی آنکھیں نم ہوگئیں
“یااللہ میں بہت گنہگارتھا پھربھی تونےمجھے ایسی بیوی سےنوازہ ایسی نعمت عطاکی جس کے میں خاک برابربھی قابل نہ تھا. یااللہ پاک میں کیسے تیراشکراداکروں، یامیرے مولا! مجھےبشری کے قابل بنادے..
یارب! مجھےبالکل ویسابنا دےجیسےاس کاتصورہے، مجھےاپنےرشتےکااحساس ہونے لگاہے مجھے اسے خوش اسلوبی سےنبھانے کی توفیق عطافرما میرے مولا ہم دونوں کے درمیان بےانتہا محبت اور عقیدت پیدافرما…” ذیشان نے کافی دیر تک دل میں دعا مانگی اور پھر بلندآواز میں آمین ثم آمین کاوردکرنے لگا..
“یارب العلمین! مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے بس ذیشان کاساتھ جیسے اس جہاں میں نصیب فرمایا ایسے ہی اس جہاں میں بھی عطافرمانا…” اس کے ساتھ بشری نےبھی دعا مانگ کرمنہ پرہاتھ پھیرتے ہوۓآمین کہا




























چہرےسےہاتھ ہٹاتے ہی اسےمحسوس ہواکہ ذیشان اسےمحبت بھری نظروں سےتک رہاہے، اب کہ وہ دونوں ہی اک دوسرے کو
عقیدت بھری نگاہوں سے
دیکھنےلگے
“ایک بار حضور پاکؐ گھر دیر سے آئے اور گھر کے باہر ہی سو گئے وہ حضرت عائشہؓ کو جگانا نہیں چاہتے تھے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کے دروازے کی دوسری طرف حضرت عائشہؓ انکے انتظار میں بیٹھی سوگئیں”….. بشرا نے اخلاص سے بیان کیا….. “سبحان اللہ!!!”… ذیشان کے منہ سے بلند آواز میں یہ کلمات ادا ہوئے…
مجھ میں کتنی ہی خامیاں تھیں مگر تم کیوں نہیں باقی عورتوں کی طرح اکتائی مجھ سے…. ذیشان نے توجہ حاصل کی…. یہاں اصل کھوٹے کھرے کا پتا چلتا ہے نا یہی تو اصل امتحان ہے…..بشرا کچھ سوچنے لگی…..
ایک برے شوہر کے ساتھ اچھی بیوی وقت گزار لیتی ہے, ایک اچھا شوہر ایک بری بیوی کے ساتھ وقت گزار لیتا ہے مگر امتحان تو یہاں یہ ہے کہ برے کے ساتھ وقت گزارنا پڑ جائے اللہ پاک صبر آزماتے ہیں کے کون کس حد کو پار کرے گا پہلے شوہر تھپڑ مارے گا یا بیوی کس حد کے بعد میکے چلی جائے گی…….ہاں یہ تو ہے اللہ پاک ایک نعمت دیتا ہے تو اس پر آزماتا بھی ہے آیا کہ یہ انسان اس قابل بھی ہے کہ نہیں……..اور انسان خود بتاتا ہے کہ وہ کہاں تک اس نعمت کی قدر کرسکتا ہے……….ذیشان نے مزید گہرائی میں جاتے ہوئے کہا……کتنا پیارا رشتہ ہے میاں بیوی کا لیکن جب تھوڑی سی لڑائی ہو جائے تو بیوی میکے چلی جائے….. بس دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیئے شروع ہو جاتے ہیں عورت تو یہی کہتی ہے کہ مجھے گھر سے مار کر نکالا گیا اور پاؤں میں چپل تک نہیں پہنے اور نا سر پر ڈوپٹہ لینے دیا…… اس پر مرد حضرات بھی چپ نہیں بیٹھتے دوستوں میں خاندان والوں میں یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں میں نے تو کچھ کہا بھی نہیں کپڑے وغیرہ پیک تھے سامان سارا بندھا ہوا تھا میں بس گھر آیا میری ماں کی شکایتیں لے کر شروع ہوگئی میں نے بس کہا چپ ہو جاؤ اٹھایا سامان اور نکل گئی………یہ ہمارے معاشرے کی حقیقت ہے پل میں سب بھول جاتے ہیں اس بیوی نے ہمارے سارے گھر گو سنبھالا ہوتا ہے…..ذیشان افسوس کرتے ہوئے بولا بس پل میں ہم وہ بھی سب بھول جاتے ہیں شوہر سارا دن کام کرتا ہے اور پورے گھر کے بوجھکو کندھوں پر اٹھایا ہوتا ہے اس کی برائیاں کرنے لگ جاتے ہیں……بشرا نے بھی افسوس کرتے ہوئے کہا……..
“اچھااب مجھےبتاؤ مجھ میں کون کون سی کمی ہےجومیں پوری کروں…” ذیشان نےاشتیاق سےپوچھا
“میری پہلی اور سب سےبڑی اورآپ کی شخصیت کومکمل کرنے خواہش پتا کیاہے….؟”بشری کےچہرے پرچمک تھی
“ہاں ہاں بتاؤکیاہے؟”
“آپ تھوڑی سی داڑھی بڑھالیں…”بشری نےخواہش کااظہارکیا
“ان شاءاللہ بشری میں آپ کومایوس نہیں کروں گا…”ذیشان نےحامی بھر لی
“اوردوسری کیاخواہش ہے آپکی…”ذیشان نے پھرپوچھا
“میری خواہش توآپ نےتو کہاتھاجومجھےاچھالگے…” بشری نےبات کاپوسٹ مارٹم کیا
“میں اگرآپ کوکوئی کام کہوں گاتوآپ کروگی یانہیں…؟ذیشان نےسوال کیا
“بالکل کروں گی، وہ بات تو میرےاسلام نےواجب کردی ہے…”بشری نے بلاشبہ جواب دیا
“توکیامیری شریک حیات مجھ پر اتنا حق بھی نہیں رکھتی کہ وہ مجھ سے کسی خواہش کااظہارکر سکے، کیااسلام نےاس کی اجازت نہیں دی؟”
“بشری کچھ بولتی کہ ذیشان اس سےپہلےہی بول پڑا
“نہیں ایساتواسلام نہیں کہتا بلکہ اک دوسرےکی
بات ماننے سےثواب ملتا ہے”بشری بولی
“توبس پھرجب کوئی بات آپکی خواہش سےوابستہ ہوئی تو میرے لیے لازم ہوئی نا…”ذیشان بےصبری سےبولا
اب کہ بشری اپنی باتوں میں پھنس گئی
ذیشان نےکچھ کہےبغیر اسےسہارادےکراٹھاناچاہا
“ٹھہریں میں خود کوشش کرتی ہوں…”بشری نےہمت کرکےخود اٹھناچاہامگر کوشش ناکام رہی
پھرذیشان نےسہارادےکر خودہی اٹھادیااورجاۓنماز تہہ کرکےصوفہ پررکھااور بشری کےپاس آکربیڈ پربیٹھ گیا..
“آج مجھے اک بات بری لگی” ذیشان نےمنہ پرہاتھ پھیرتےہوۓکہا
“کون سی بات؟ میری کوئی بات بری لگی کیا…؟”بشری بےچین ہوگئی
“نہیں نہیں…وہ پارک میں آج جو ہوا…”ذیشان نے تصیحح کی
“یہ ہمارےمعاشرےکاسب سےبرازاویہ ہے، ہم فقط اک وقتی سکون کےلئے ناجائز رشتہ جوڑ کرکتنابڑا گناہ کربیٹھتےہیں…”ذیشان کےلہجےمیں افسوس تھا
“اوراب یہ ساراگناہ ماں باپ کےسرلکھاجاۓگا…”بشری افسردہ سی بولی
“ان کے توبےچارےوالدین کوپتابھی نہیں ہوگا…” ذیشان بشری کی بات پر حیران ہوا
“ہمارے پیارےآقاۓدوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےکہ جب بچہ اور بچی بالغ عمرکوپہنچ جائیں تو والدین پرلازم ہےکہ فورا ان کانکاح کردیں…”بشری نےحدیث پاک کاحوالہ دیا
“ہیں…اتنی کم عمرمیں کیوں…؟”وہ حیران ہوا
“کیونکہ اس سے انسان بہت سےگناہوں سےبچ جاتا ہے، ہم اگرنکاح نہیں کریں گےتوبےحیائی یوں ہی سر عام ہوگی…”بشری نےنکاح کی اہمیت اورتقدیس بیان کی
“پرماں باپ کاکیاقصور وہ توجانتےبھی نہیں ہونگے کیاہورہاہے…”ذیشان کو بات
اب بھی واضح طورپر سمجھ نہیں آئی تھی
“یہ ہی توغلطی ہےان کی کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پرنظرنہیں رکھتےاور نکاح بھی کرتے ہیں توبچے گناہ کرجاتے ہیں پھراس گناہ میں والدین برابرکےشریک ہوتے ہیں…”بشری افسوس سے بولی
“اب اگراجازت ہوتو میں سوجاؤں…؟”
“جی جی سوجائیں…”بشری نےکہاتو ذیشان شب بخیرکہہ کہ منہ دوسری جانب کرکےلیٹ گیا
