Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Husan E Nikah (Episode 01)

Husan E Nikah by Haadi Khan

تیری انگلی میں جو پہنایا میں نے رشتہ پیار کا

رب سے یہی دعا ہے میرے ہاتھ سے نہ چھوٹے کبھی ہاتھ میرے یار کا……..

⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐

“ذیشان مجھے یہ جاۓ نماز بچھادیں” بشری نے سادگی سے منہ بناتے ہوۓ کہا….

ذیشان کے کانوں میں ہلکی سی آواز پڑی اس نے تصویروں کے البم سے سر اٹھایا اور ایک ہاتھ سے کانوں سے ہیڈ فون ہٹا کر بشری کی طرف دیکھا….

“پلیز….” بشری نے التجائی انداز میں کہا….

ذیشان کڑوا سا منہ بنا کر بیڈ سے اترا….

“یہ یوں قبلہ رخ بچھا دیں…” بشری نے قبلہ رخ کی درستگی کی….

“جب نہیں پڑھ سکتی تو کیوں کرتی ہو کوشش” ذیشان برہم ہوکر بولا….

“بس کچھ ہی دن کی بات ہے پھر میرا پلستر اتر جاۓ گا اور آپ کی اس کام سے چھٹی ہوجاۓ گی” بشری نے اسے امید دلائی….

“اگر اس سب سے تمہارا ہاتھ خراب ہوا تو پھر مجھے مت کہنا” ذیشان نے اسے تنبیہہ کی…..

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے بھلا، ایسا ممکن ہی نہیں” بشری نے وثوق سے کہا…..

“کیوں نہیں ہوسکتا ایسا، شاید خدا تم سے ناراض ہو اور اس لیے اس نے تمہیں تکلیف دی ہو کہ تم اس کے قریب نہ آؤ…..” ذیشان نے بےدردی سے کہا تو وہ چپ ہوگئی اور تھوڑے توقف سے بولی…..

“نہیں ذیشان اگر وہ پاک ذات کسی سے ناراض ہو بھی تو وہ کسی کا رزق بند نہیں کرتا نہ ہی اس کی استطاعت سے زیادہ کوئی مشکل یا پریشانی دیتا ہے، بس وہ اس سے سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے” بشری نے تفصیل بتائی….

“تو کیا ایک زخمی اور بیمار کے لیے کوئی رعائیت نہیں کہ وہ اس حالت میں نماز نہیں پڑھ سکتا” ذیشان نے سوال کیا…..

“نماز کی اسلام میں بہت اہمیت ہے ذیشان! حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم پانی میں ڈوب رہے ہو اور نماز کا وقت ہورہا ہو تو نماز کی نیت کرلو” بشری نے اہمیت سمجھائی…..

“مگر ایسا بھی کیا ہے کہ تم رات کے اس پہر اٹھ کھڑی ہوئی ہو نماز پڑھنے…” ذیشان نے وجہ کی پڑتال شروع کردی…..

“مجھے اس خالق پاک کا شکر ادا کرنا ہے کیونکہ میری دعا قبول ہوئی ہے…” بشری نے تسکین کی سانس لی……

“واہ بھئی ایسی بھی کون سی دعا قبول ہوگئی تمہاری، کیا مانگا تھا تم نے؟” ذیشان نےحیرت سےبولا…..

“میں نے ایک ہمسفر مانگا تھا جو میری ہر جائز خواہش پوری کرے، میرا خیال رکھے اور سب سے پڑھ کر میری عزت کرے…” بشری الفت سے بولی….

“لیکن یہ تو…..”

“اچھا اب میں نماز پڑھ لوں وقت نکل رہا ہے پھر پوچھ لیجئے گا…” ذیشان ابھی اور جرح کرنے لگا تو بشری نے اسے خاموش کرادیا……

وہ دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گیا اور ہیڈ فون پھر سے کانوں میں اڑس لئے مگر اس نے اب کوئی گانا نہیں چلایا اور بظاہر تصویری البم کی طرف متوجہ ہوگیا جب کہ دھیان پورا بشری کی طرف تھا، وہ اپنی مد میں اسے یہ باور کروانے کی کوشش کررہا تھا کہ اسے بشری کی کوئی پرواہ نہیں”

بشری نے ایک ہاتھ اٹھا کر تکبیر پڑھی اور ہاتھ باندھ لئے پھر ایک ہی ہاتھ کی مدد سے بمشکل رکوع بھی کیا……

سجدہ کرتے وقت بھی کچھ دقت ہوئی مگر بشری نے بنا کسی تکلیف کو ظاہر کئے سجدہ کرلیا…..

ذیشان اسکی بندگی اور محبت و خلوص کو بڑے غور سے بھانپ رہا تھا……

ایک ہی ہاتھ اٹھا کر دعا کرتی بشری کو دیکھ اسے کچھ عجیب تو نہیں لگا مگر بشری کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہنے لگے…..

ذیشان ایک دم اس کو حیرانگی سے تکنے لگا……

بشری نےدعا مانگ کر ہاتھ منہ پر پھیرا……

ذیشان نے ایک دم سے نظریں البم پر گاڑھ لیں……

“ذیشان مجھے اٹھادیں…” اس بار بشری کےمنہ سےالفاظ نکلنے سے پہلے ہی ذیشان لپک کر اس کے پاس گیا اور دونوں ہاتھوں سے سہارا دے کر اسے احتیاط سے اٹھایا اور بیڈ پر بٹھادیا…..

“تو تم آج دعا کرتے وقت رو کیوں رہی تھی…؟” ذیشان نے جاۓنماز تہہ کرتے ہوۓ پوچھا……

“وہ بس ایسے ہی…” بشری نے آنکھیں ملتے ہوۓ کہا

“بتاؤ تو کچھ خاص ہے کیا؟”

ذیشان نے اصرار کرتے ہوۓ پوچھا….

“کہتےہیں دعا کسی کو نہیں بتانی چاہیئے، یہ بندے اور اس کے رب کے آپس کی باتیں ہیں…”بشری نے پھر انکار کرتے ہوۓ کہا…….

“نا بتاؤ، مجھے بھی کوئی شوق نہیں…!” ذیشان ایک دم برہم ہوکر بولا…..

“اچھا نا اس میں ناراض ہونے والی کونسی بات ہے اب، ناراض تو مت ہوں نا، بس کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بندے اور اسکے خالق پاک کے درمیان ہی رہنی چاہئیں کسی کو بتا کر پھر دعا قبول نہیں ہوتی” بشری نے پھر سے درخواست کی……

تم اور تمہارا فلسفہ…” ذیشان کی بات پر وہ مسکرادی….

“دعا نہیں بتاؤ بس یہ بتادو کس کے لئے مانگی ہے…”ذیشان نے پھر اصرار کیا……

“مطلب آپ جان کر ہی دم لیں گے…”

“میں نے آج تک کسی کو اتنی شدت سے دعا کرتے نہیں دیکھا،اس لئے دل کیا پوچھوں…”ذیشان نے وضاحت دی…..

“میں نے اللہ سے آپکی اور اپنی زندگی کی دعا مانگی

ہے کیونکہ میں اپنی زندگی کا ایک لمبا عرصہ آپ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں…”بشری نے عقیدت سے اس کے چہرے پر نگاہیں جما کر کہا…..

“ارے یار! تم مجھے کیسے جھیل لیتی ہو، میں نے تو تم سےسیدھے منہ بات ہی نہیں کی کبھی…”وہ اس کی اس خوبصورت منطق پر حیران ہوا……

“اللہ پاک نے قران پاک میں 90 دفعہ صبر کی تلقین کی ہے، تو اس لئے صبر کرنا اور بہتری کی امید رکھنا ہم پر فرض ہے…”جواب ملنے پر وہ کچھ نہیں بولا….

“شب بخیر…” بشری نے کہا اور لیمپ بجھادیا…….

⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐

“یہ ایسا سوچتی ہے؟ اور میں تو اسے مصیبت کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتا، یہ ضرور اسکی بناوٹی باتیں ہیں، ایاز لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں باتیں بنانا تو کوئی عورت سے سیکھے، یہ اپنی باتوں اور بھولی صورت سے مرد کو قابو کرلیتی ہے…”ذیشان بری صحبت کا گند سوچ رہا تھا…..

فجر کے وقت بشری کی آنکھ کھلی تو اس کی نظر دائیں جانب جاگتے ہوۓ ذیشان پر پڑی……

“ذیشان آپ سوۓ نہیں اب تک؟”بشری اٹھ کر بیٹھ گئی……

“ہاں بس نیند نہیں آرہی تھی سر میں درد ہےکچھ…”ذیشان بےترتیبی سے بولا…..

“میں ابھی آپکو ٹیبلیٹس لا کر دیتی ہوں…”بشری نے پریشانی سے کہا……

“نہیں اسکی ضرورت نہیں بس ایک کپ چاۓ بنادو…”

“جی بس میں ابھی بناتی ہوں…”بشری نے اپنے نازک سے پاؤں جنوری کی ٹھنڈ سے ٹھٹھرتی زمین پر رکھے اور کچن کی جانب لپکی…..

یہ لمحہ ذیشان کیلئے لمحہ فکریہ تھا، یہاں اس کے دوستوں کا تجربہ غلط ثابت ہوا تھا…….

⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐

“ذیششش….!” بشری چاۓ بنا کر آئی اور اس نے ذیشان کو آواز دینی چاہی لیکن ذیشان سوچکا تھا اس لیئے اسکی آواز منہ میں ہی رہ گئی.

وہ آہستہ سے آگے بڑھی اور چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھ کر سوۓ ہوۓ ذیشان کے بکھرے بالوں پر ہاتھ پھیر کر خود فجر پڑھنے چل دی……

ذیشان سو کر اٹھا تو وہ ایک طرف کروٹ لے کر لیٹا ہوا تھا…. اس نے ایک جمائی لی تو سامنے ہی ٹیبل پر چاۓ کا کپ پڑا نظر آیا جو اپنی بربادی کا جشن منارہا تھا…. اب ذیشان کو ملال نے گھیر لیا کہ اس نے فجر کہ وقت بشری کو چاۓ کا کہا تھا اور اس کا انتظار کیے بنا ہی سوگیا تھا…..

اس وقت اسے وہ چاۓ چاۓ نہیں لگ رہی بلکہ اس وقت وہ چائے کا کپ اس کی نظر میں بشری کی محبت، چاہت اور خلوص کا منہ بولتا ثبوت تھا…..

اس نے ٹھنڈی چاۓ پر نظریں جماۓ ایک نتیجہ اخذ کیا کہ اس کے دوستوں کی سوچ کتنی غلط ہے اور اس کے ساتھ خود کو بھی ملامت کیا کہ وہ بھی ان کی باتوں میں آکر اپنی بیوی کہ بارے میں اتنی جاہلانہ سوچ پال رہا تھا…

وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنے گھٹنوں کے گرد ہاتھ باندھ لیے….. اب وہ اپنے بشری سے کیے گئے سلوک کےبارے میں سوچ سوچ کر شرمندہ سا ہورہا تھا ایک پچھتاوے کا احساس اسے جکڑ رہاتھا…….

“ارے ذیشان! اٹھ گئے آپ…؟” بشری کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی…..

اب کیسی طبعیت ہے آپکی…”

“ہاں بہتر ہے…”ذیشان بولا….

“اچھا میں ناشتہ لاتی ہوں…”

“رکو بشری…”

“جی”ذیشان نے آواز دی تو وہ پلٹی

“رات کو میں سوگیا تھا تو جگایا کیوں نہیں…” وہ شرمندہ ہو کر بولا….

“میں کیوں جگاتی جبکہ آپ گہری نیند میں تھے…”بشری کہہ کر کچن کی جانب پلٹ گئی اور وہ پھر سے سوچوں کہ جہاں میں غرق ہوگیا…..

⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐

“ایاز بهائی آپ کیوں اداس ہیں” ہاشم نے چاۓ کا کپ اٹهاتے ہوۓ کہا…..

“کچه بهی نہیں یار بس اس زندگی سے تنگ آگیا ہوں” ایاز نے ایک آہ سی بهری…..

“کیا ہوا بهائی آپ کو…..”

“کچھ نہیں یار! اس کمینے نے پهر میمونہ باجی کو مار کر بهیج دیا ہے” ایاز نے پوری محفل کو اپنی پریشانی کی وجہ بتائی…..

“پهرسے…?” بات ہاشم کے منہ میں ہی ره گئی….

“بهائی اس بار تو اس کو پکڑ کر مرچوں کا دهواں دیتے ہیں” جاوید غصے سے بولا…..

“ارے نہیں یار تم لوگ سمجھ نہیں رہے بہن کا معاملہ ہے……” ایاز سر جهکا کر بولا…..

“بهائی کب تک ہماری بہن یوں مار کهاتی رہے گی” ہاشم نے سوال کیا…..

“ہم مانتے ہیں کہ ہم آپکے دوست ہیں مگر وہ ہماری بهی بہن ہی ہے, ہمیں بهی دکھ ہوتا ہے یہ سب سن کر…” جاوید غصے سے بولا……

اور ذیشان ان سب کی باتیں بڑے غور سےسن رہا تها….

“اگر آپ اجازت دیں تو اس کا ہاتھ ہی توڑ دیتے ہیں تاک…ہ وہ دوبارہ ہاتھ ہی نا اٹها پاۓ…” ہاشم نے مزید بات بڑهائی

“نہیں تم سب کو تو پتا ہے کہ بہنوں کے معاملے میں بهائی بےبس ہوتے ہیں” ایاز نےکہا تو ایک خاموشی سی چهاگئی ….

“تم لوگ تو میرے اپنے ہو احساس کرتے ہو میں تو بهائی ہوں سوچو مجھ پر کیا گزتی ہوگی الله نے ساری مشکلات ہی میرے سر ڈالی ہیں…” ایاز افسردگی سے بولا…..

“بس بهائی یہ ہی ایک مشکل ہے یہ بهی الله حل کردے گا” ہاشم نے بلند آواز میں کہا…..

“ارے یار ایک مسئلہ ہو تو بتاؤں …”

“اب اور کیا ہوگیا بهائی…”جاوید بےصبری سےبولا….

“اب اگر میں تهکا ہارا گهر آؤں تو سامنے ایک بهیانک سی عورت مجھ پر سوالوں کی بارش شروع کردیتی ہے” ایاز اپنی بیوی کی پوچھ تاچھ کی عادت سے بہت تنگ تها اور وہ ہی اب دوستوں کو بتارہا تها…..

“میں تو اس کو منہ ہی نہیں لگتا, جاۓ میری طرف سے میکے میں مرے…اب وہ غصے سے بولا….

“کیوں اب بهابھی نے کیا کردیا…”جاوید ایک دم سے بولا….

“ان عورتوں کا تو کوئی حال نہیں ہر وقت بس لڑنے کو تیار رہتی ہیں, ابهی شوہر گهر آتا ہی ہے تو اپنی دن بهر کی بهڑاس نکالنا شروع کردیتی ہیں بس شوہر کو مرنے کی بدعائیں دیتی رہتی ہیں ” جاوید عورتوں کی خامیاں بتانے لگا……

“کیا پتا سب عورتیں ایک جیسی نہ ہوتی ہوں” ذیشان نے سب کی توجہ اپنی طرف کی……

ذیشان تو رہنے دے تیری نئی نئی شادی ہوئی ہے اس لیے سب اچها لگ رہا ہے بعد میں پوچهوں گا تجھ سے” جاوید نے اپنی طرف مخاطب کر کے کہا…..

“جب تم گهر آؤ ہزاروں سوال کیے جائیں, شک کیا جاۓ…”

“اگر اس سب کی نوبت ہی نہ آۓ…” ذیشان نے اس کی بات کاٹتے ہوۓ کہا…..

“ایسا ہو ہی نہیں سکتا عورت تو نام ہی تباہی اور فساد کا ہے…” اب کی بار ایاز نے عورت کی تعریف کو چار چاند لگادیے……

“نہیں نہیں میرے بهائیو! ایسا نہیں ہے آپ لوگوں نے عورت کو اب تک سمجها ہی نہیں” ذیشان نے بات کا دوسرا رخ دکھایا……

“اب ہم سے زیادہ پتا ہے کیا تجهے ہماری شادیوں کو 5 سالوں جتنا عرصہ ہوگیا ہے اور تیری شادی کو تو ابهی بس 3 ماہ ہوۓ ہیں, تو کیا جانے عورت کس فساد کا نام ہے” ہاشم نے چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکهتے ہوۓ کہا…….

“ہاں میں نہیں جانتا یہ سب مگر ایک بات ضرور جانتا ہوں کہ عورت ایک جاہل جنس ہے”ذیشان سوچتے بولا….

“یہ ہوئی نا بات اب کی تو نے مردوں والی بات عورت کی اوقات ہی کیا ہےکہ مرد کے آگے بولے…”ہاشم نے داد دی…

“ہاں عورت واقع ہی ایک جاہل جنس ہے جو اپنا گهر چهوڑ کر اپنے ماں باپ کو چهوڑ کر نکاح کر کے آتی ہے…” ذیشان ہاشم کی آنکهوں میں دیکھ کر بولا….

“وہ اس پر لازم ہے، چھوڑ کرآتی ہے تو آکر کون سا احسان کرتی ہے یا کون سا تیر مار لیتی ہے، بس جینا حرام کرتی ہے اور گھر کو جہنم بنادیتی ہے” ہاشم نے بحث کو جاری رکھتے ہوۓ کہا……

“اگر اتنا ہی برا رشتہ ہے نکاح کا تو پھر کرتے کیوں ہو”ذیشان اب کہ تھوڑا برہم ہوا….

“تو کیا کپڑے میری ماں دھوتی رہے گی ساری عمر، روٹی پکاتے بوڑھی ہوگئی، اب کون کرے گھر کے ہزاروں کام….” ایاز نے بھی اپنی گھٹیا سی سوچ بیان کی……

((جاری ہے))

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *