Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Husan E Nikah (Episode 03)

Husan E Nikah by Haadi Khan

خوشی فرش پر ہو گی

اور چاند ارش پر ہو گا

اک سنت ادا ہو گی

اک فرض ادا ہو گا

ستاروں میں چمک ہو گی

چاند بھی چمکتا ہو گا

واللہ کیا خوشی ہو گی

جب ہمارا نکاح ہو گا

⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐

“اٹھ اوۓ…”صداقت علی نےحسن کودھکادیاتووہ زمین پرگرگیا..

زمین پرگرتےہی حسن سہم گیا

ذیشان اوربشری آواز کا پیچھاکرتےاس طرف مڑ گئے

“کیاچل رہاہےیہ…؟” شفیق احمد نےرعب دار آوازمیں گرج کرکہا

“ک…ک…کچھ بھی نہیں ہم توبس بیٹھےتھے…”حسن کانپتے ہونٹوں سے بولا

“یہ کیاطریقہ ہےبات کرنےکا؟ آپ لوگوں کوتمیزنہیں ہےکیا…؟” ثمن تپ گئی

“اووووہ بی بی….! ذیادہ اڑمت تجھ سےابھی بات نہیں کی…” شفیق احمد نے ہاتھ سےاس کی طرف اشارہ کیااور حسن کی طرف ہوا..

“ہاں اوۓ!توبتایہ تیرے باپ کاگھرنہیں فیملی پارک ہے.. کھلے عام باہیں اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر بیٹھے ہو شرم نام کی کسی چیزسےواقف ہو یا نہیں؟ یہ جومعصوم بچے ہر طرف کھیل رہے ہیں ان پرکیااثرپڑےگا ہےکوئی اندازہ اس بات کا؟” صداقت علی نےحسن کو خوب جھاڑپلائی

“آپ پولیس والےتوبس وردی کی آڑمیں غنڈہ گردی کرناجانتےہو، یہی کام ہےبس آپ….”

“اوۓ چوراہوں کےعاشق! توہمیں ہماراکام مت سکھا…” صداقت علی حسن کی بات کاٹ کربولا

“ابھی جوانی کاجوش ہے صاحب جی! ابھی ان کی ساری خماری اترجاۓ گی…” شفیق احمد مونچھوں کوتاؤ دےکربولا

“چلو”وااااہ! ابھی مونچھیں تک نہیں اگیں اور یاریاں منانےچلے ہیں…” شفیق احمد نے پھرسےاپنی مونچھوں پرہاتھ پھیرا

اپناشناختی کارڈ دکھاؤ…”صداقت علی ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا

“نکاح نامہ بھی دکھاؤاور گھرکاپتابھی بتاؤ …” شفیق احمد مزید تفتیشی اندازمیں بولا

“نکاح نامہ تو نہیں ہے، یہ میراآئی_ڈی کارڈ…” حسن نے جیب سے آئی_ڈی کارڈ نکال کرہاتھ بڑھایا

“اوووہ بی بی! اب آپ کے لئےکیاصدرمملکت کا آرڈر آۓگاتو شناختی کارڈ دکھاؤ گی…؟” صداقت علی ثمن کی طرف غصے میں دیکھ کربولا

“اس کاابھی بنانہیں…”حسن نےصفائی پیش کی

“مطلب ابھی بنانہیں اور زبان چلنےبھی لگ گئی..؟”

“شفیق احمد اب یہ تین ماہ جیل کی ہواکھائیں گے تو ہی عقل ٹھکانےآۓگی اور بلاؤ ان کےبے خبرماں باپ کوبھی جنہوں نےجوان اولاد آوارہ کتوں کی طرح چھوڑی ہوئی ہے …” اب کہ صداقت علی بڑھک اٹھا

“یہ آپ کس بیس پہ ہمیں اریسٹ کررہےہیں…؟ ثمن نےبھی غصےسےکہا

“سیکشن 284 کےتحت پبلک پلیس پربنانکاح کے بیٹھنا، اک دوسرےکاہاتھ پکڑنا یاایسی نامناسب حرکتیں کرنا جو یہاں بیٹھی پبلک پرناگوارگزریں، اورپولیس آفیسرحاضرہوں تو ان کےساتھ ذبان درازی کےجرم میں قانون پاکستان کےمطابق 3 ماہ کےلئے جیل میں ڈالاجاتا ہے…” صداقت علی نےثمن کی آنکھوں میں دیکھ تفصیل بتائی

“ہم آزادہیں، اپنی مرضی کاحق رکھتےہیں..آپ کون ہوتےہیں ہم پرقانون نافذ کرنےوالے؟” ثمن نے بھی دوٹوک جواب دیا

“جب تم جیسےاپنی مرضی

کےمالک بن جاتےہیں نا تو والدین کانا تو سراٹھتا ہے نا نظریں، وہ جھکےسر اور نیچی نظریں کئےبس تھانےکےچکرکاٹتے رہ جاتے ہیں…” شفیق احمد نے اپنی ٹوپی سنوارتےہوۓکہا

“رضیہ اوہ رضیہ! بس کر اور کتناکھاۓگی، اس بی بی کو قانون کی کتاب پڑھا آکر…” شفیق احمد نے قریبی ٹھیلےپرکھڑی لیڈی پولیس آفیسرکوآوازدی

رضیہ نے اک دم سے سب کچھ رکھااوردوڑی چلی آئی…

“جی صاحب جی…”

“ان کوقانون کی اک دو کلاس دو ان کو سمجھاؤ یہ ملک کیا ہے، یہاں کیا کیا جائز ہےاور کیاکیا ناجائز…” صداقت علی نےثمن کی جانب دیکھ کررعب دارآواز میں کہا

“چلو اوۓ دونوں لگو آگے…”

“سرپلیزایسے نہیں کریں، ہم عزت دارگھرانے سے تعلق رکھتے ہیں،ہمارے پیرنٹس کی بدنامی ہوجاۓ گی…”حسن ہاتھ جوڑکربولا

“یہ سب پہلےسوچناتھا اور تم کیاجانوعزت کس چڑیا کانام ہےجواک باراڑجاۓ تو واپس نہیں آتی پھر…” صداقت علی کی نگاہیں ثمن پرتھیں

“سرپلیز بچے ہیں، غلطی ہوگئی معاف کردیں آئیندہ ایسانہیں ہوگا…”حسن نے اک باربھرسے التجاکی

“بچوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں ہی بچوں کو چاروں شانےچت کردیتی ہیں، لےجاؤ ان کو شفیق احمد اوربندکردوجیل میں…”صداقت برہم ہوکر بولا

ذیشان اوربشری نےاک دوسرےکودیکھاوہ ابھی تک حیران تھے

“دونوں میں اگرسچی محبت ہے تو وہ نکاح کےبعد کی ہے…”صداقت نےذیشان اوربشری کی طرف دیکھا

“یہ دونوں بھی اک دوسرے کاہاتھ پکڑےہوۓ تھےاورتم دونوں بھی، کیا تم بھی ان کی طرح ہو جو اس طرح سےسرعام محفل کو نظارہ دکھارہے تھے؟”صداقت نے اب ان دونوں سےپوچھاتو ڈر کے مارے ذیشان اور بشری نے

اپنا اپنا آئی_ڈی کارڈ نکال کردکھایا

“ذیشان رحمت، عمر 25 سال،، بشری ذیشان، عمر24 سال…” صداقت نے دونوں کےکارڈز دیکھ کر واپس کردیے..

“میرےخیال میں تم دونوں میاں بیوی ہو…” صداقت مسکراکربولا

“جی ہاں ہماری شادی کو 3 ماہ ہوچکے ہیں…”ذیشان نےتصدیق کی

“بہت بہت مبارک ہو اور آپ کو اور آپ لوگ ڈرونہیں ہم پولیس والے عوام کی خدمت کےلئے ہوتےہیں نہ کہ ان کوڈرانے کیلئے…” صداقت علی نے مسکراتےہوۓدونوں سے کہا

“ج..ج..جی دیکھاہم نے…” بشری کانپتےہونٹوں سے بولی

“یہ لوگ آج غلط فیصلہ لے رہےہیں کل کو اس کا ذمہ دار کون ہوگا پتاچل جاۓ گا..یہ پولیس کواک جیسا سمجھتے ہیں جب کہ ساری پولیس بےضمیرنہیں ہوتی..” صداقت افسوس سےبولا

“جولوگ نکاح سےبہلے رشتوں کوآگے بڑھاتے ہیں اور پاکیزگی کےسارےپردے گرادیتے ہیںوہ ساری ذندگی رسوائیوں، پچھتاؤں اور رنجیدگی کا ہی پھل پاتے ہیں…”

“جی ہاں درست کہا آپ نے یہ لوگ اک وقتی سکون کیلئے نامحرم سے تعلق بنا کردنیاوی خوشیوں کے مزے لوٹتے ہیں ایسے لوگوں کاٹھکانہ ہی جہنم ہے دنیا ان کو نہ عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے نا اپناتی ہے…”بشری نے اپناسر ذیشان کے کندھے پررکھ دیا

“آج کل تو اک نامحرم کے ساتھ تعلق رواج بن گیا ہے، شوق بن گیاہے…” صداقت بولتاگیا

“خیرمیں چلتاہوں، آپ لوگ

انجواۓکرو،، اللہ نگہبان…!”

وہ کہہ کر آگےبڑھ گیا

⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐

قریب بیس منٹ تک کپڑے دیکھتے رہنے تک آخر کار ذیشان کو اک سوٹ پسند آہی گیاوہ بھی کافی بحث کے بعد..

“تم یہ سوٹ ٹرائی کرو…” ذیشان نے بشری سےکہا

“افففف اللہ… اتناڈارک کلر میں نہیں پہنتی ایسے کلرز…”بشری نے بدک کرکہا

“مجھےتو پسند آیاہے تم پر اچھابھی لگےگا…”

“نہیں یہ رنگ میری آنکھوں میں چبھتےہیں اوریہ تو ہے بھی سرخ، آپ کوئی اوردیکھ لیں ذیشان پلیز…”وہ مسلسل انکاری تھی

“ہاں دیکھ لیں بوڑھی اماؤں والےرنگ خود ہی، مجھے نہیں دیکھناکوئی اب…” ذیشان تنک کربولا

“بہن جی! آپ بھائی کی بات مان لیں، اچھا لگےگا یہ رنگ آپ پر…”دکان دار اب خودبھی ان کی بحث سے تنگ آگیاتھاتوبول پڑا.

“ہاں دیکھامیں نےکہاتھا ناکہ اچھالگےگا…”ذیشان پھربولا

“بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ آتے ہیں اوراپنی پسند بتاتے ہیں…”دکانداربظاہرتو ان کاحوصلہ بڑھارہاتھا مگر اصل میں اپنی دکانداری چمکارہاتھا_

وہ من ہی من بہت خوش ہورہاتھاکہ اس نے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اک اور گاہک بہکالیا

“مگرمیں ایسے کلرکبھی نہیں پہنتی…”بشری شرمندگی سےبولی

“مگر میری پیاری بہن آپ پری لگو گی اس میں، ہماری نہیں توان کی بات ہی مان لیں…” وہ پھر میٹھی چھری بنا

حقیقت میں تو ان دکانداروں کواپنے نفع نقصان سے مطلب ہوتا ہے اس کیلئےچاہےان کو جھوٹی تعریفوں کےپل باندھنےپڑیں، وہ اپنی باتوں کےجال میں گاہک کو پھنسانےکےبعد یہی کہتے

ہیں کہ “ایسےبیوقوفوں کا بھی اللہ ہی حافظ ہے”

“ذیشان لےلیں یہ ہی والا…” بشری نےحامی بھرہی لی توذیشان کے چہرے پر چمک آگئی

لیکن ذیشان سےذیادہ خوشی دکاندارکوہوئی_

اب حساب کتاب کاوقت آیا تو آخراس نےاپنی اتنی محنت کاصلہ تووصول کرنا تھا

“بھائی یہ آپ پیک کردیں…”ذیشان نےکہا

“جی بھائی ابھی کردیتا ہوں…” دکاندارچمک کربولا

“یہ سوٹ ہماری دکان پر ابھی کل آیاتھا اور دس سوٹ تھے اور یہ آخری پیس ہےبس، مجھےامید ہے کہ آپ کوپسند آۓگااور جچےگابھی بہت…” وہ کپڑوں کوتہہ لگانےکے ساتھ ساتھ باتیں بھی خوب بنارہاتھا_

“ویسےاس کی قیمت کتنی ہے…”بشری نےجھجک کرپوچھا

“لو اب یہ بھی کوئی پوچھنےکی بات ہے…”ذیشان بولا

“ارے بہن قیمت کاکیاکرنا ہےآپ کوپسند آگیا یہ ہی کافی ہے…”وہ مزید اپنی باتوں میں الجھانےلگا

ذیشان اوربشری اٹھے تو اس نےجلدی سےسوٹ پیک کرکے بشری کےہاتھ میں تھمادیا

اس طرح سےان کو یہ فائدہ ہوتاہےکہ اگر بیویوں کے ساتھ شوہر ہوں تو وہ پیسےکم ہونےکےباوجود بیوی کو یہ نہیں کہتےکہ سوٹ واپس کرواورناہی انا کےمارےدکاندارسےبحث کرتےہیں_

“جی بھائی ہمارا جرمانہ …” ذیشان نےاپناوالٹ نکالا

“نہیں بھائی آپ سےکیسے پیسے…”دکاندارہاتھ ملتے ہوۓبولا

کہہ توایسےرہاتھاجیسے سچ میں اپنی طرف سے دےرہاہو

“نہیں بھائی آپ کی محنت ہے آپ بتائیں…” ذیشان نے کہا

“ویسے تو 2800 کاہے آپ کو 2500 کا دیں گے…”

“نہیں بھائی ہمیں اتنا مہنگاسوٹ نہیں لینا…”بشری نے اک دم سے سوٹ والا شاپنگ بیگ واپس دکاندارکی طرف بڑھایا

“کیوں نہیں لینا…”ذیشان کو غصہ آیا اس کی غیرت جاگ گئی اس نے پورے 2500 روپےوالٹ سے نکال کر اس کے ہاتھ میں دیے اوربشری کا ہاتھ پکڑکر دوکان سےباہر نکل گیا

⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐
⭐

ضرورت ہی کیا تھی اتنا مہنگا سوٹ لینے کی…… بشرا منہ بناتے ہوئے بولی……تو کیا اتنی مشکل سے پسند کروایا اور وہ چھوڑ دیتا کیا اور پھر دوسرا پسند کرتے ہمیں پورا شہر گھومنا پڑتا….. ذیشان نے بائیک کو سٹینڈ پر کھڑا کرتے ہوئے کہا…… یہ فضول خرچی ہے……. نہیں یہ ثواب ہے اپنی بیوی پر خرچہ کرنے کا…….. آپ بھی نہ ذیشان حد کرتے ہیں جب مجھے اتنا مہنگا سوٹ نہیں چاہیئے تو نہیں چاھیئے……. بشرا نے رونے والا منہ بنالیا……..تو کیا اب مجھ سے تم ایک ایک روپے کا بھی پوچھو گی……. مجھ پر کی گئی ایک ایک فضول خرچی کے بارے میں پوچھوں گی باقی آپ جہاں بھی خرچ کریں میں نہیں پوچھوں گی…..اب اس میں کیا لوجک ہے…… میں نےحسنِ نکاح کی بہترین مثال میری امی میرے ابو کو دیکھا ہے…..بشرا نے تبسم سے کہا……حسنِ نکاح!!! وہ کیا ہے…..ذیشان نے مشکل سے لفظ پر غور کیا……نکاح کا اصل حسن کیا ہے میں دیکھ چکی ہوں اپنی زندگی میں میری زندگی گزارنے کے لیئے کافی مثالی واقعات ہیں……بشرا نے اگے کو چلتے ہوئے کہا…..

کیسے واقعات….

اپکو پتا بہترین مثال میرے والدین کی میرے لیئے کیا ہے……

جی وہ کیا…

اپکو تو پتا ہے کے میرے ابو نے اپنی زندگی کے تیس سال سعودیہ عرب میں گزارے ہیں مگر آج تک میری امی نے کبھی بھی ایک بار تک نہیں پوچھا کے وہاں پیسے کہاں کہاں لگائے ….

ہییییں مطلب کے ایسا بھی ہوتا ہے….. ذیشان حیرت کی وادیوں میں کھو گیا.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *